تخلیقیت اور تخلیقی عمل
پروفیسر غضنفر علی
انسان اپنی سیمابی جبلّت کے سبب ہر لمحے اور ہر قدم پر کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔کچھ ایسا کہ جس سے اس کے آس پاس کی صورتِ حال بدل جائے۔کچھ نیا پیدا ہوجائے ۔پرانا نیاہوجائے ۔ماحول میں تازگی بھر جاۓپژمردگی شگفتگی میں تبرل ہو جائے۔آنکھوں میں رنگ و نور ابھر جاۓ۔سماعتوں میں سنگیت اتر جائے۔ انسانی رگ و ریشبے میں رس گُھل جاۓ حواس میں انبساط کا درکھل جاۓ۔,لب و رخسار پر پھول کھل جاۓ ۔دل ودماغ کو کیف و نشاط مل جاۓ۔اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں بھی بہار آجاۓ۔ شخصیت میں نکھار آ جاۓ۔ اضطراب کو قرار آ جائے۔انسان کی یہی خواہش،اس کے اندرون کی یہی رو اور اس خواہش اور رو کا اظہار اس کی تخلیقیت ہے۔

انسان کی اسی تخلیقیت کے اظہار لیے ادب و فنون پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کے انعکاس کے لیے ساز ایجاد ہوتے ہیں۔ مضراب معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ رنگ اور برش تلاش کیے جاتے ہیں ۔بھاؤ بناۓ جاتے ہیں ۔حرف وصوت اور لفظ و معنی ہم آہنگ کیے جاتے ہیں۔
تخلیقیت کا دائرہ ادب و فن تک ہی محدود نہیں۔اس کی حدیں ان کے پرے بھی جاتی ہیں ۔یعنی صرف فنون لطیفہ کو تخلیق کرنا ہی تخلیقیت نہیں ہے بلکہ تخلیقیت کی دوسری صورتیں بھی موجود ہیں۔ زندگی کی الجھنوں کو سلجھانے ، گتھیوں کے سروں کو تلاش کرنے,فطرت اور کائنات کو سمجھنے اور سمجھانے، معاشرے میں امن و آتشی برقرار رکھنے اور انسانوں کے ذہنی و قلبی اطمینان اور ان کے کیف و نشاط میں اضافہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے کام بھی تخلیقیت کے مظہر ہوسکتے ہیں۔مثلاً کسی اداس آدمی کو ہنسادینا، کسی کے بوجھ کو ہلکا کردینا، کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو راہ دکھادینا، کسی لاچار اور بے بس انسان کی مددکردینا، کسی مسئلہ کو سلجھادینا یا سلجھا نے میں ہاتھ بٹا دینا یہ سارے کام بھی تخلیقی روکے تحت ہی ہوتے ہیں۔تخلیقی رو کے زیرِ اثر ہی اظہار کے نت نئے وسیلے وجود میں آئے۔ زبان بھی اسی کے زیرِاثر پیدا ہوئی اور پھر وہ زبان ادب و فن کے اظہار کا وسیلہ بنی۔
زبان تخلیقیت کے اظہار کا شاید سب سے اہم اور موثر وسیلہ ہے ۔اس لیے کہ زبان میں تخلیقیت بولتی ہی نہیں بلکہ سنائی بھی دیتی ہےاور کانوں میں موسیقی بھی گھولتی ہے ۔یعنی لفظ کسی خیال یا بات کو صرف بیان ہی نہیں کرتے بلکہ فنِ موسیقی کی طرح اس میں جھنکا ربھی پیدا کرتے ہیں مصوری کی مانند نقش و نگار بھی بناتے ہیں
اور فن رقص کی صورت جذبات واحساسات کی صورتیں بھی گڑھتے ہیں۔
گویا تخلیقیت جب زبان میں ڈھلتی ہے تو کہانی بن جاتی ہے،شاعری ہوجاتی ہے، ناول کا روپ لے لیتی ہے، ڈرامے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔سفرنامہ ، خاکہ ، سوانح حیات وغیرہ بھی بن جاتی ہے۔ زبان فکر و خیال کے اظہار میں جادو بھر دیتی ہے ،اس کی معنویت کووسعت و گہرائی عطا کردیتی ہے اور اس طرح ایک معمولی نکتہ بھی زبان میں ڈھل کر کہا ں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔قطرہ دریا بن جاتا ہے اور ذرہ آفتاب میں بدل جاتا ہے۔
ایک بات یہاں قابلِ ذکر یہ ہے کہ وہ زبان جو تخلیقیت کے اظہار کا وسیلہ بنتی ہے وہ عام زبان سے مختلف ہوتی ہے۔یعنی تخلیقی زبان اور عام زبان میں فرق ہوتا ہے۔عام زبان میں صرف معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں جبکہ تخلیقی زبان میں معلومات کے ساتھ ساتھ لطف وانبساط بھی فراہم کیا جاتا ہے۔مثلاً جب یہ کہا جائے کہ’’میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جسے سن کر تم چونک پڑو گے‘‘ تو یہ ایک عام زبان کی مثال ہوگی اور اسی بات کو جب منٹو اپنی کہانی’’نیا قانون‘‘ میں یہ کہتا ہے’’لا ہاتھ دے‘‘ایسی خبر سناؤں کہ تری گنجی کھونپڑی پر بال اُگ آئیں۔‘‘تو یہ تخلیقی زبان کی مثال بن جائے گی۔
زبان میں تخلیقیت یوں نہیں ظاہر ہوتی بلکہ اس کے لیے خاص طور سے دو قوتیں:قوتِ متخیّلہ اور قوتِ ممیّزہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔قوتِ ممیّزہ لفظوں کے انتخاب اور ترتیب میں مدد کرتی ہے اور قوتِ متخیّلہ اس میں تشبیہ ، استعارہ ، علامت اور دوسری شعری صنعتوں کی مددسے رنگ بھرتی ہے۔اسی انتخاب اور ترتیب کی بدولت موزونیت پیدا ہوتی ہے جس سے موسیقی پھوٹتی ہے اور اسی سے محا کات بھی پیدا ہوتی ہے جس سے کوئی خیال یا جذبہ تصویر کی شکل اختیار کرتا ہے۔مثلاً
پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سار جانے ہے
اس شعر میں لفظوں کے انتخاب اور ان کی مخصوص ترتیب سے ہی موسیقی کی سی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔اسی طرح میر ؔ کے اس شعر ؎
رات محفل میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ
میں اس انتخاب اور ترتیب سے تصویر اُبھاری گئی ہے۔
تخلیقیت زبان کے وسیلے سے بہت ساری صورتوں میں ظاہر ہوئی۔
اس زبان میں گیت بنے۔ اس میں جذبات ڈھلے۔ احساس داخل ہوا۔لفظوں کی ترتیب اور زیرو بم سے ایک آہنگ پیدا ہوا ، پھر وہ آہنگ تحریر میں ڈھل گیا۔اس تحریر کی دو صورتیں پیدا ہوئیں۔ ایک روز مرہ کی بات چیت کے اظہار والی سادہ سی صورت اور دوسری وہ صورت جو احساس کی حدت ، جذبات کی شدت اور تخیل کی رنگ آمیزی سے گڑھی گئی ۔
صورت تخلیقی زبان کہلائی ۔ تخلیقی زبان دراصل وہ زبان ہے جس میں احساس ڈھلتا ہے ، جذبہ رقص کرتا ہے اور تخیل اُڑان بھرتا ہے۔ یعنی جس میں شاعری کی جاتی ہے کہانی لکھی جاتی ہے اور دوسری افسانوی اصناف کی تخلیق ہوتی ہے۔۔تخلیق خواہ کسی بھی صنف میں ظاہر ہو,اسے ایک پروسیس سے گزرنا ہوتا ہے۔اس پروسیس کو تخلیقی عمل کا نام دیا جاتا ہے۔
یعنی وہ عمل جس سے گزر کر کوئی تخلیق معرضِ وجود میں آتی ہے۔ تخلیقی عمل کہلاتا ہے۔ ہرلکھنے والے کا تخلیقی عمل ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو ایک ہی تخلیق کار اپنی مختلف تحریروں میں الگ ا لگ عمل سے گزرتا ہے۔ یعنی تخلیقی عمل طے شدہ نہیں ہوتا، کبھی تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے کوئی تخلیق وجود میں آجاتی ہے۔ اور کبھی خیال کو پیش کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنایا جاتا ہے۔
اردو میں تخلیقی عمل اور اس کے اظہار کو دو اصطلاحوں کے حوالے سے جانا اور پہچانا گیا ہے۔ یہ دو اصطلا حیں ہیں : ’آمد‘ اور د’آورد‘
آمد وہ تخلیقی عمل ہے جو فطری انداز میں کسی فن پارے کو جنم دیتا ہے۔ اس میں فن کار کو کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شے اپنے آپ لفظوں میں ڈھل گئی ہو۔
آورد وہ تخلیقی عمل ہے جو فطری نہ ہو کر تقلیدی ہوتاہے۔ جس میں لکھنے والے کے ارادے کا دخل ہوتا ہے۔ یعنی وہ باقاعدہ کسی منصوبہ کے تحت کد وکاش کے ذریعے کسی فن پارے کو معرض وجود میں لاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کوشش اور ارادے کے عمل سے پیش کی گئیں تخلیقات جذبے اور احساس کی شدت سے عاری ہوتی ہیں۔ اس میں تخلیقی حسن کی بھی کمی ہوتی ہے لیکن تخلیق کاروں کے تجربات اور ان کے بیانات بتاتے ہیں کہ تخلیقی عمل آمد اور آورد کے دائرے سے باہر ہوتا ہے۔ بعض فن پارے ایسے بھی ہیں جن کے پیدا ہونے میں آمد اور آورد دونوں کا امتزاج رہا ہے۔ یعنی فطری اظہار کے ساتھ ساتھ اس میں منصوبہ بندی کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ خاص طور سے فکشن خصوصاً ناول لکھنے میں منصوبہ بندی کا خاصاً عمل دخل رہتا ہے۔
تخلیقی عمل ایک پراسرار اور پیچیدہ عمل ہوتا ہےکہ اسے پورے طور پر لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ الگ الگ لوگوں کا تخلیقی عمل الگ الگ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ بھی ہوتا ہے کہ تخلیق کار جس بات کو بنیادی موضوع یا نکتہ سمجھتا ہے قاری اس کے بجائے کسی اور نکتے کو اس کا موضوع قرار دیتا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لکھتے وقت لکھنے والے کے ذہن میں جو دوسرے تجربات موجود ہوتے ہیں وہ بھی تخلیق عمل میں شریک ہوجاتے ہیں اور ان میں کوئی نکتہ جو مصنف کے خیال میں تو بنیادی حیثیت نہیں رکھتا مگر قاری کے ذہن میں زیادہ نمایاں ہو کر آجاتا ہے۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مصنف بعد میں قاری کی رائے سے اتفاق کرلیتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل واقعی ایک پیچیدہ اور پراسرار عمل ہے۔