تخلیقی زبان
پروفیسر غضنفر علی
ادب کی زبان وہ نہیں ہوتی جو کسی مضمون یاعلمی تحریر کی ہوتی ہے۔اس لیے کہ ادب کی زبان کا کام معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لطف و انبساط کی فراہمی ، بیداریِ احساس ، بالیدگیِ ادراک و شعور اور تزکیۂ نفس ہے۔اس کے لیے تخلیق کار کو وہ وہ کرنا پڑتا ہے جن سے علمی زبان میں بچنے کے لیے کہا جاتا ہے۔بچنے کے لیے اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کیا گیا جو ادب کی زبان میں کیا جاتا ہے تو علمی تحریر کے اظہار میں بیڑیاں پڑ جائیں۔اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا جائیں۔ اس کے ذہن کو لقوہ مار جاۓ۔اس کی زبان اینٹھن جاۓ۔ اور اس کا مقصد فوت ہو جاۓ۔

کیوں کہ علمی زبان یا مضمون کی زبان کا مقصد ہوتا ہے کہ معلومات کی ترسیل آسانی سے ہو جاے۔اس کی راہ میں کسی قسم کی کوئی اڑچن نہ آۓ۔ اگر یہاں تشبیہ استعارے اور صنائع بدائع کی پریاں اتر گئیں یا اتار دی گئیں تو موضوع و مواد کا آگے بڑھنا دشوار ہو جاۓ گا۔
اور اگر علامتیں شامل کر دی گئیں تو ممکن ہے ا ظہار کا کھلنا بھی دشوار ہوجاۓ۔
ادب کی زبان عام زبان نہیں ہوتی۔ وہ کسی اہم خبر کو اس طرح نہیں سناتی کہ
میں ایک چونکانے والی یا حیرت میں ڈالنے والی خبر لایا ہوں.
بلکہ یوں سناتی ہے:
” لا، ہاتھ دے ،ایسی خبر سناؤں تیری گنجی کھوپڑی پر بال اُگ آئیں۔ ”
تخلیقی زبان فکر مند، بیمار اور لاغر ابّا کو یہ نہیں کہتی کہ ابا دبلے پتلے ہوگئے ہیں بلکہ ان کی اس حالت کو اس طرح بیان کرتی ہے:
” ابا کتنے دبلے پتلے لمبے جیسے محرم کا علم ایک بار جھک جاتے تو سیدھے کھڑا ہونا دشوار تھا۔ ”
پریم چند کی تخلیقی زبان کفن کے بے درد، خود غرض اور بے حس کرداروں گھیسو اور مادھو کے بارے میں یہ نہیں
کہتی کہ وہ آلو کھا کر اطمینان اور بے فکری سے سو گئے بلکہ یہ کہتی ہے:
” آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے تھے جیسے دو بڑےاژدر کنڈلیاں مارے پڑے ہوں اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی۔ ”
اس زبان میں ان کی بے حسی اور بے فکری کا بیان ہی نہیں ہے بلکہ ان کی طینت کی سفاکی کی عکاسی بھی ہے اور ان کو
انسان سے سانپ بنا دینے والی صورت کی تصویر کشی اور معصوم عورت کی چھٹپٹاہٹ کی مصوری بھی۔
تخلیقی زبان کا حسن دیکھنا ہو اور اس حسن سے حواس میں حرکت و حرارت محسوس کرنا ہو تو ان نمونوں پر بھی نگاہیں مرکوز کیجیے :
” نام کی گوری تھی مگر کم بخت سیاہ بہت تھی، جیسے الٹے توے پر کسی پھوہڑیا نے پراٹھے تل کر چمکتا چھوڑ دیا ہو۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اس کی باہیں جو کاندھوں تک ننگی تھیں،پتنگ کی طرح پھیلی ہوئی تھیں جو اوس میں بھیگ جانے کے باعث پتلے کاغذ سے جدا ہو جاۓ۔دائیں بازو کی بغل میں شکن آلود گوشت ابھرا ہوا تھا جو بار بار مونڈنے کے باعث نیلی رنگت اختیار کر گیا تھا جیسے نچی ہوئی مرغی کی کھال کا ایک ٹکڑا وہاں پر رکھ دیا گیا ہے۔ ”
تخلیقی زبان جب آگے بڑھتی ہے تو اپنے پیچھے دھنک تانتی جاتی ہے۔شفق کی لالی اور پھولوں کی مہک چھوڑتی جاتی ہے۔
چلتی ہے تو اس سے پٹاخے پھوٹتے ہیں۔پھلجھڑیاں چھوٹتی ہیں۔
اس کی دھمک سے دھند چھٹتی ہے۔ بدلی پھٹتی ہے۔تیرگی ہٹتی ہے۔
تخلیقی زبان وہ آبشار ہے جس سے پگھلی ہوئی چاندی کی دھاریں اچھلتی ہیں۔رنگین پھوہاریں نکلتی ہیں۔اور فضائیں ٹھنڈک سے بھر جاتی ہیں۔
یہ وہ زبان ہے جس میں خوشبو دکھائی دکھائی دیتی ہے۔رنگ سنائی دیتا ہے۔
اس کی صوت و صدا کا لمس چھوتا ہے تو لہو میں لہریں اٹھنے لگتی ہیں۔ رگوں میں کیف و سرور کی نہریں بہنے لگتی ہیں۔مساموں میں لطف و نشاط موجیں لہر لینے لگتی ہیں۔
تخلیقی زبان یوں نہیں بنتی۔یہ تشبیہوں کے جمال،استعاروں کے کمال،صنعتوں کے خط و خال، علامتوں، اور لفظوں کے
تخلیقی استعمال سے خلق ہوتی ہے۔
یہ وہ آبشار ہے جس سے پگھلی ہوئی چاندی کی دھاریں اچھلتی ہیں۔رنگین پھوہاریں نکلتی ہیں۔
یہ وہ زبان ہے جس میں خوشبو دکھائی دیتی ہے۔رنگ سنائی دیتا ہے۔
اس کی صوت و صدا کا لمس چھوتا ہے تو لہو میں لہریں اٹھنے لگتی ہیں۔رگوں میں کیف و سرور کی نہریں بہنے لگتی ہیں۔مساموں میں لطف و نشاط کی موجیں لہریں لینے لگتی ہیں
تخلیقی زبان کو خلق کرنے میں تین قوتیں کام کرتی ہیں:
1- قوتِ تخلیق( تخلیقیت)
2- قوتِ احساس
3 – قوتِ متخیّلہ
4 – قوتِ ممیّزہ
انسان اپنی سیمابی جبلت کے سبب ہر دم،ہر پل،ہر گام پر کچھ ایسا کرنا چاہتا ہے کہ جس سے اس کے آس پاس کی صورتِ حال بدل جاۓ۔ کسی گوشے سے کچھ نیا نکل آۓ یا پرانا پن نئے پن میں تبدیل ہو جاۓ تاکہ زندگی میں نیا رنگ،نیا رس بھرتا رہے۔دل و دماغ کو تازگی کا احساس ہوتا رہے۔لطف و انبساط ملتا رہے۔انسان کی یہی خواہش،اس کے اندرون کی یہی رو اور ان دونوں کا اظہار اس کی تخلیقیت ہے۔اسی تخلیقیت سے فنونِ لطیفہ وجود میں آتے ہیں۔تخلیقی رو کے زیرِ اثر ہی ترسیل و ابلاغ کے نئے وسیلے پیدا
ہوۓ۔زبان بھی اسی کے زیرِ اثر معرضِ وجود میں آئی۔
قوتِ احساس اظہار پانے والے مواد میں شدّت پیدا کرتی ہے اور ترسیل و ابلاغ کو دھار دار بناتی ہے
قوتِ ممیزہ لفظوں کے انتخاب،درو بست اور ترتیب و تدوین میں تناسب و توازن پیدا کرتی ہے اور قوتِ متخیّلہ اس میں
تشبیہ،استعارہ،علامت،تمثال اور دیگر صنعتوں کی مدد سے رنگ بھرتی ہے۔
اسی ان تخاب اور ترتیب کی بدولت موزونیت پیدا ہوتی ہے جس سے موسیقی پھوٹتی ہے۔ مثلاً
خبرِ تحیٌرِ عشق سن نہ جنوں رہا,نہ پری رہی
نہ تو تؤ رہا ,نہ تو میں رہا,جو رہی تو بے خبری رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلی سمتِ غیب سیں کیا ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہال ِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتٌا پتٌا , بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلتے ہو تو چمن کو چلیے ,سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں,پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے جاں ,پھر جان ِ جاں ,پھر جان ِ جاناں ہو گئے
رفتہ رفتہ وہ مرے ہستی کے ساماں ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔
ان شعروں میں لفظوں کے انتخاب اور ان کی مخصوص ترتیب سے ہی موسیقی کی سی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔
تخلیقی زبان میں صرف سُر لہریاں ہی سنائی نہیں دیتیں بلکہ انسانی کیفیات کی
صورتیں بھی دکھائی دیتی ہیں : جیسے
رات محفل میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔
پوچھا جو میں نے چاند نکلتا ہے کس طرح
زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں
۔۔۔۔۔
شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم نم آئے تھے,دامن تر چلے
۔۔۔۔۔۔
انگڑائی بھی نہ لینے وہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ
تخلیقی زبان میں موسیقی اور مصوری کی یہ
صورتیں صرف شعر میں ہی نہیں نثری نگارشات میں بھی نظر آتی ہیں۔