اسلام کا معاشی تصور: توازن، عدل اور ذمہ داری

حمیرا اشرف

اسلام دراصل ایک مکمل اور ہمہ گیر دین ہے۔ قرآن اسے “ذٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ” (التوبہ: 36) کہتا ہے، یعنی مضبوط اور سیدھا نظام۔ یہ دین عبادات کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے ہر گوشے کو اپنے دائرے میں لیتا ہے۔ معیشت بھی اسی کا حصہ ہے۔ قرآن و سنت انسان کو یہ شعور دیتے ہیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ اجر سمیٹا جائے۔

اسلام کا معاشی تصور: توازن، عدل اور ذمہ داری
اسلام کا معاشی تصور: توازن، عدل اور ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق سے پہلے ہی اس کے معاشی وسائل پیدا فرما دیے:

“هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا” (البقرہ: 29)۔

یعنی زمین کی ساری چیزیں تمہارے لیے پیدا کی گئیں۔ ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ رزق اللہ کے پاس مقدر ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے سعی بھی ضروری ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں، بلکہ کوشش کے بعد اللہ پر بھروسا کرنا ہے۔

قرآن نے خرید و فروخت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا:

“وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (البقرہ: 275)۔

بیع ایک منصفانہ تبادلہ ہے، جس کی بنیاد رضامندی اور واضح شرائط پر ہے۔ اس کے برعکس ربا میں بلا عوض اضافہ لیا جاتا ہے۔ آج کا سودی نظام اسی اصول پر قائم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک کے تبادلے میں برابری اور دست بدست ادائیگی کی شرط رکھی۔ کمی بیشی کو ربا قرار دیا۔ اس ہدایت نے مالی ناانصافی کے دروازے بند کیے اور منڈی کو عدل کے قریب کیا۔

فقہائے امت نے واضح کیا کہ حرمتِ ربا کا تعلق ان اشیاء کی علت سے ہے۔ جہاں وہ علت پائی جائے گی، وہاں یہی حکم ہوگا۔ صحابہ کرامؓ سود کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط کرتے تھے۔ مقروض کا تحفہ بھی قبول کرنے میں تردد ہوتا۔ جب سود چھوڑنے کا حکم نازل ہوا تو مشرکین مکہ نے کہا: “اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا”۔ قرآن نے اس مغالطے کو رد کیا اور بیع و ربا کے فرق کو نمایاں کیا۔

ربا کا لفظ قرآن میں ایسے ناجائز مالی طریقوں کے لیے بھی آیا ہے جن میں ظلم شامل ہو۔ یہود کے بارے میں فرمایا گیا:

“وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ” (النساء: 161)۔

یعنی وہ منع کیے جانے کے باوجود سود لیتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے الگ بازار قائم کیا تاکہ تجارت دیانت کے ساتھ ہو۔ فتح مکہ کے بعد بھی بازار کی نگرانی کا انتظام فرمایا۔ حضرت عمرؓ کا قول تھا کہ ہمارے بازار میں وہی تجارت کرے جسے دین کی سمجھ ہو۔ تیرہویں صدی ہجری کے مالکی فقیہ محمد بن احمد الرہونیؒ نقل کرتے ہیں کہ مراکش میں محتسب دکان داروں سے سوال کرتا کہ سود کب شامل ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے۔ لاعلم شخص کو وہ تجارت کی اجازت نہ دیتا۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک چار سوالوں کا جواب نہ دے، جن میں ایک سوال یہ ہوگا کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ قاضی القضاۃ ابو یوسفؒ نے کتاب الخراج کے آغاز میں اس حدیث کو اسلامی معاشیات کی بنیاد قرار دیا ہے۔

قرآن فرماتا ہے:

“نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا” (الزخرف: 32)۔

یعنی ہم نے ان کے درمیان معیشت تقسیم کی۔ اس تفاوت کا مقصد تعاون ہے، نہ کہ استحصال۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے قیمتوں کے سرکاری تعین کی درخواست پر فرمایا کہ اصل قیمت مقرر کرنے والا اللہ ہے۔

اسلام مال کو زندگی کا سہارا قرار دیتا ہے:

“وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا” (النساء: 5)۔

مال کو نااہلوں کے حوالے کرنا درست نہیں۔ ساتھ ہی حکم ہے:

“وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ” (الجمعہ: 10)۔

رزق کی تلاش عبادت کا حصہ ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھا کہ انسان ایک دوسرے کی معاونت کے بغیر معاشی ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اسی سے مزارعت، مضاربت، اجارہ، شرکت اور وکالت کے طریقے وجود میں آئے۔ جب امانت میں خیانت اور ادھار میں ٹال مٹول کے واقعات بڑھے تو تحریر، گواہی، رہن اور ضمانت کی صورتیں سامنے آئیں۔ معاشی زندگی جوں جوں پیچیدہ ہوئی، باہمی تعاون کے طریقے بھی بڑھتے گئے۔

اسلام انسانی ضرورتوں کو درجہ بند کرتا ہے۔ بنیادی ضرورت پہلے، پھر حاجت اور اس کے بعد آسائش کا درجہ آتا ہے۔ دنیا سے بے رغبتی کا مطلب یہ نہیں کہ پاک اور حلال چیزوں سے منہ موڑ لیا جائے۔ قرآن کہتا ہے:

“كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ” (البقرہ: 172)۔

خرچ میں اعتدال مطلوب ہے:

“وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا” (الفرقان: 67)۔

اسراف اور تبذیر کی مذمت کی گئی ہے۔ علامہ ماوردیؒ کے مطابق مقدار میں حد سے بڑھنا اسراف ہے اور محلِ صرف میں حد سے بڑھنا تبذیر۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال روزی کمانا عبادت کے بعد اہم فریضہ ہے۔ امام سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ آج کے زمانے میں مال مومن کی ڈھال ہے، کیونکہ محتاجی انسان کو دین سے بھی دور کر سکتی ہے۔

معاشی نظاموں میں سرمایہ داری ذاتی ملکیت کو مطلق آزادی دیتی ہے، جبکہ اشتراکیت ذاتی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتی۔ اسلام ذاتی ملکیت کو مانتا ہے، مگر اس پر اخلاقی اور شرعی حدود عائد کرتا ہے۔ یہی توازن اسے جامع بناتا ہے۔

زکوٰۃ اور صدقات کا مقصد دولت کی گردش ہے:

“كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ” (الحشر: 7)۔

“وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ” (البقرہ: 219)۔

“لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (آل عمران: 92)۔

قرآن کہتا ہے کہ مال میں سائل اور محروم کا حق ہے (المعارج: 24-25)۔ زرعی پیداوار کے بارے میں حکم ہے:

“وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ” (الانعام: 141)۔

زمین کو آباد کرنا ذمہ داری ہے:

“أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا” (ہود: 61)۔

مہاجرین میں تجارت اور انصار میں زراعت غالب تھی۔ قرآن نے ان لوگوں کی تعریف کی جو تجارت کے باوجود ذکرِ الٰہی سے غافل نہیں ہوتے (النور: 37)۔

اسلامی شریعت کا اصول ہے کہ معاملات میں اصل چیز حلت ہے، جب تک حرمت کی دلیل نہ ہو:

“لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ” (النساء: 29)۔

عبداللہ بن مسعودؓ کے نزدیک “باطل” میں ہر ناجائز صورت شامل ہے، جیسے چوری، غصب، رشوت، سود اور جوا۔

اسلام دنیا سے کنارہ کشی نہیں سکھاتا بلکہ توازن کا سبق دیتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا” (القصص: 77)۔

انفاق فی سبیل اللہ میں قرضِ حسن، امانت اور ایثار سب شامل ہیں۔

“مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا” (الحدید: 11)۔

وراثت کے تفصیلی احکام بھی دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ہیں۔ قرآن صدقہ کرنے والوں کو بشارت دیتا ہے:

“الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ” (البقرہ: 274)۔

اسلامی معیشت کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال کمائی، دیانت دارانہ تجارت، معتدل خرچ اور محتاجوں کی خبر گیری اس کے ستون ہیں۔ مال مقصد نہیں، وسیلہ ہے۔ دنیا عارضی ہے، مگر اسی کے اندر رہ کر آخرت کی کامیابی حاصل کرنی ہے۔

اسلامی معیشت کا خلاصہ یہ ہے کمائی پاک ہو، لین دین صاف اور شفاف ہو، خرچ میں اعتدال ہو اور معاشرے کے کمزور طبقے نظر انداز نہ ہوں۔ مال کو مقصدِ حیات نہیں سمجھا گیا، بلکہ ایک امانت اور ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ انسان اس کا مالک بھی ہے اور جواب دہ بھی۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے، لیکن اسی عارضی زندگی میں اپنے مال کے درست استعمال سے دائمی کامیابی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply