اضطرابِ جاں کی کہانی
اسلم رحمانی
زندگی کے وسیع و عریض صحرا میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو محض نسبت نہیں بلکہ سراپا رحمت، مکمل پناہ اور ہمہ گیر سکون کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ ان ہی میں سب سے مقدس، سب سے لطیف اور سب سے بے بدل رشتہ ماں کا ہے۔وہ ہستی جس کے وجود سے کائناتِ حیات میں بہار کا سا سماں رہتا ہے، جس کی شفقت سے دل کے ویران گوشے آباد رہتے ہیں، اور جس کی دعاؤں کی چھاؤں میں زندگی کی ہر تپش بے اثر ہو جاتی ہے۔مگر یہی ہستی جب رخصت ہو جائے تو گویا حیات کے گلشن پر ایسی خزاں اترتی ہے جس کی یلغار سے کوئی شگوفہ سلامت نہیں رہتا، کوئی کلی مسکرا نہیں پاتی، اور کوئی نسیمِ امید دل کو تازگی نہیں بخشتی۔13؍رمضان المبارک 1447ھ مطابق 3؍ مارچ 2026ء کا وہ المناک لمحہ میرے لیے اسی قیامتِ صغریٰ کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جب والدہ کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ یکایک یوں محسوس ہوا جیسے سر پر تنا ہوا آسمان سکڑ کر کہیں دور چلا گیا ہو، اور میں ایک بے کراں، سنسان اور بے مہر صحرا میں تنہا کھڑا رہ گیا ہوں جہاں نہ کوئی سایہ ہے، نہ کوئی آسرا، نہ کوئی صدا جو دل کے ٹوٹے ہوئے ساز کو سہارا دے سکے۔یہ محض ایک فرد کی جدائی نہ تھی، بلکہ ایک پوری کائنات کا بکھر جانا تھا؛ ایک ایسا چراغ گل ہونا تھا جس کی روشنی میں میرے شب و روز کی راہیں منور تھیں۔ ان کے اٹھ جانے سے گویا وقت کی روانی بھی بدل گئی ہے—ہر لمحہ بوجھل، ہر ساعت سوگوار، اور ہر احساس ایک انجانے خلا میں معلق نظر آتا ہے۔اب زندگی اپنے تمام تر مظاہر کے باوجود ادھوری سی محسوس ہوتی ہے، جیسے کسی مکمل نغمے سے اس کی سب سے دلنشیں لے جدا کر دی گئی ہو؛ جیسے کسی باغ سے اس کی مہک چھین لی گئی ہو۔ ماں کی کمی محض ایک احساس نہیں، بلکہ ایک مسلسل درد ہے—ایسا درد جو سانسوں کے ساتھ چلتا ہے، اور ہر دھڑکن کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دل اب تک اس حقیقت کو قبول کرنے سے قاصر ہے کہ وہ سراپا رحمت ہستی اب اس عالمِ فانی میں موجود نہیں۔ گویا شعور اس سانحے کو تسلیم کر چکا ہے مگر دل اب بھی انکار کی کیفیت میں مبتلا ہے۔دل کی کیفیت اس ٹوٹے ہوئے آئینے کی مانند ہے جس میں ہر عکس بکھرا ہوا، ہر منظر دھندلا اور ہر یاد ایک چبھتا ہوا شیشہ بن گئی ہے۔اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی کی اس خاموشی میں ابھی موبائل کی گھنٹی بج اٹھے گی، وہی مانوس ارتعاش دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو جائے گا، اور اسکرین پر وہی نام جگمگا اُٹھے گا جو کبھی میرے لیے اطمینان و تسکین کا استعارہ تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے ایک تلخ حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ اب وہ گھنٹی کبھی نہیں بجے گی اب وہ کال کبھی نہیں آئے گی۔ پہلے یہی موبائل محبت کی صدا کا وسیلہ تھا؛ اس کی ہر گھنٹی ایک بشارت، ہر کال ایک دعا، ہر گفتگو ایک تسکین کا مرہم ہوا کرتی تھی۔ مگر اب اس کی خاموشی میں ایک ایسا کرب پوشیدہ ہے جو ہر لمحہ دل کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔

وہ آواز جو کبھی میرے لیے سایۂ رحمت تھی، اب محض ایک بازگشت بن کر دل کی ویران وادیوں میں گونجتی رہتی ہے۔ اور میں، اس خاموش موبائل کو تھامے، اُس گمشدہ صدا کے انتظار میں ہوں جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔اسی داخلی اضطراب اور یادوں کے ہجوم میں گھرا ہوا جب29/ مارچ 2026 کو میں مظفرپور سے سفر طے کرکے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ہاسٹل جھیلم میں داخل ہوا، تو یکایک دل کے نہاں خانے سے ایک مانوس جذبہ ابھرا امی کو اطلاع دینے کا، ان سے اپنی خیریت بیان کرنے کا، ان کی دعاؤں کی طلب کا۔ یہ وہی عادت تھی جو برسوں سے میرے وجود کا حصہ بن چکی تھی۔ مگر جیسے ہی حقیقت کا سنگین بوجھ یاد آیا، دل پر ایک قیامت سی ٹوٹ پڑی۔ آنکھیں اشکبار ہو گئیں، اور روح پر ایک ایسا سکوت طاری ہو گیا جس میں چیخوں کی بازگشت بھی سنائی نہ دے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان اپنی بے بسی کی انتہا کو چھو لیتا ہے—جب چاہت اور حقیقت کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل ہو جاتی ہے جسے کوئی آنسو، کوئی فریاد منہدم نہیں کر سکتی۔
اسی طرح گزشتہ شب جب میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کی جانب سے ملنے والے ایم۔سی۔ایم کے لئےفارم پُر کررہا تھا اور تدریجاً ایک ایک خانہ پُر کرتا ہوا اُس کالم تک جا پہنچا جو والدہ کے دستخط کے لیے مخصوص تھا، تو یکایک ایسا محسوس ہوا جیسے وقت کی روانی تھم گئی ہو اور ساعتوں کی گردش نے اپنے قدم روک لیے ہوں۔ قلم جو اب تک رواں تھا، اچانک انگشتانِ لرزاں میں اس طرح ساکن ہو گیا جیسے کسی بے جان شے کو حیاتِ مستعار سے محروم کر دیا گیا ہو۔وہ معمولی سا کاغذ، جو بظاہر محض چند سطروں اور خانوں پر مشتمل تھا، یکایک ایک ہولناک منظرنامے میں تبدیل ہو گیا۔گویا دشت کربلا کا کوئی پُرآشوب گوشہ ہو جہاں ہر لفظ ایک تیر، ہر سطر ایک نیزہ، اور ہر خانہ ایک تازہ زخم کی مانند دل میں پیوست ہوتا چلا جا رہا ہو۔ اس لمحے دل کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے حضرت یعقوبؑ کی بینائی فراق یوسفؑ کے غم میں جاتی رہی ہو، اور ہر سمت بس ہجر کی دھند چھائی ہوئی ہو۔جب میں نے دستخط کی جگہ ٹھہر کر یہ الفاظ رقم کرنے کا قصد کیا کہ "والدہ کا انتقال ہو چکا ہے”، تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے وجود کی رگ رگ اس جملے کے بوجھ تلے کراہ رہی ہو۔ قلم کی نوک کاغذ سے یوں ٹکرائی جیسے کسی سنگ دل پر فریاد کی دستک دی جا رہی ہو، اور ہر حرف کی تحریر گویا دل کے نہاں خانے سے ایک آہِ سوزاں کو کھینچ کر صفحۂ قرطاس پر ثبت کر رہی ہو۔
یہ چند الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک عہد محبت کے اختتام کی مہر تھی؛ ایک ایسی صداقت کا اعتراف تھا جس سے دل اب تک دامن بچاتا پھر رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا گویا میں اپنے ہی ہاتھوں اپنے ماضی کے روشن چراغ گل کر رہا ہوں، اور یادوں کے اُس گلستان پر خزاں کی آخری مہر ثبت کر رہا ہوں جہاں کبھی ان کی مسکراہٹیں بہار بن کر مہکتی تھیں۔اس ایک جملے نے یکایک یادوں کے بند دریچوں کو وا کر دیا۔ ان کی شفیق نگاہیں، جو ہمیشہ میرے حال پر سایہ فگن رہتی تھیں؛ ان کے لبوں کی وہ نرم مسکراہٹ جو ہر غم کو تحلیل کر دیتی تھی؛ ان کی دعائیں جو میرے لیے حصارِ امن بنی رہتی تھیں سب کچھ ایک ہجومِ خیال کی صورت دل و دماغ پر یلغار آور ہو گیا۔ یوں لگا جیسے ماضی کی تمام ساعتیں بیک وقت لوٹ آئی ہوں اور ہر لمحہ اپنی پوری شدت کے ساتھ سینے پر دستک دے رہا ہو۔ان کی یاد ایک ایسی لَو بن کر بھڑک اٹھی جو نہ بجھتی ہے نہ مدھم پڑتی ہے؛ ایک ایسا استعارہ جو زندگی کے ہر گوشے میں اپنی معنویت ثبت کیے ہوئے ہے۔ ان کی محبت کسی سائبان کی طرح تھی جس کے سائے میں دنیا کی ہر تپش بے اثر ہو جاتی تھی، اور اب جب وہ سائبان اٹھ گیا ہے تو حیات کا ہر لمحہ دھوپ کی تمازت سے جھلسا ہوا محسوس ہوتا ہے۔وہ لمحہ محض ایک رسمی خانہ پُر کرنے کا نہ تھا، بلکہ ایک عہدِ حیات کے اختتام اور ایک نئے، کٹھن باب کے آغاز کا اعلان تھا ایسا باب جس میں ماں کی دعا کا سایہ محسوس تو ہوتا ہے، مگر نظر نہیں آتا؛ جس میں ان کی آواز کی بازگشت سنائی تو دیتی ہے، مگر وہ خود کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ اور یہی احساس دل کو بار بار ایک ایسے کرب میں مبتلا کر دیتا ہے جسے نہ لفظوں میں سمیٹا جا سکتا ہے اور نہ آنسوؤں میں بہایا جا سکتا ہے۔تاہم اس کرب و ابتلا کی کیفیت میں ایک سہارا جو دل کو ٹوٹنے سے بچائے ہوئے ہے، وہ قرآن و سنت کی وہ تعلیمات ہیں جو صبر، رضا اور توکل کا درس دیتی ہیں۔ یہی وہ چراغ ہیں جو اس تاریک رات میں روشنی کا احساس دلاتے ہیں۔ دل چاہے کتنا ہی مضطرب کیوں نہ ہو، ایمان کی یہ روشنی اسے مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے نہیں دیتی۔ یہ یقین کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، دل کو کسی نہ کسی حد تک قرار عطا کرتا ہے۔
میں اس غم جانکاہ کے باوجود صبر کا دامن تھامے ہوئے ہوں، اور زندگی کے اس کارواں کو آگے بڑھانے کی سعی کر رہا ہوں۔ اگرچہ ہر قدم پر ماں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، مگر یہی احساس مجھے مزید مضبوط بھی بناتا ہےکہ ان کی دعاؤں کا اثر اب بھی میرے ساتھ ہے، کہ ان کی تربیت میرے لیے مشعلِ راہ ہے، اور کہ ان کی یاد میرے وجود کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔اللہ رب العزت سے یہی دعا ہے کہ وہ میری والدہ کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ آمین۔
٭٭٭






