بیگم مولانا مولانا محمدعلی جوہر کی خلافت ہاؤس میں تدفین

تکلف برطرف : سعید حمید

خلافت ہاؤس بائیکلہ کے کمپاؤنڈ میں ایک بے نام و نشان قبر ہے ،

اس سے غفلت بھی برتی گئی ہے ، اور اس کا بطور قبر بھی احترام نہیں کیا گیا کہ قبر کے اطراف پارکنگ ایریا بنا دیا گیا اور جب بھی خلافت ہاؤس میں شادی بیاہ کی تقریب ہوتی ہے تو قبر کے آس پاس میں ہی تیل کے پکوان تلنے کے لئے یہ جگہ استعمال کی جاتی ہے اور مزدور قبر کے اطراف لگائی ہوئی لوہے کی جالی کا استعمال تھیلیاں ، کپڑے اور سامان لٹکانے کیلئے استعمال کرتے ہیں ،عام دنوں میں لوگ اس میں کچرا ، کاغذ بھی پھینک دیتے ہیں ۔

بیگم مولانا مولانا محمدعلی جوہر کی خلافت ہاؤس میں تدفین 
بیگم مولانا مولانا محمدعلی جوہر کی خلافت ہاؤس میں تدفین

کیونکہ لوہے کی جالے سے گھری یہ قبر، یوں لگتا ہے ، جیسے پودوں کی کیاری ہے ، جس میں پودے بھی نہیں ہیں اور گویاجسے غفلت کا شکار بنا دیا گیا ۔

اس پر ایک بورڈ بھی نہیں لگایا گیا ہے ، کہ یہ ایک قبر ہے ، تاکہ لوگ اس کا احترام کریں ، کم از کم کسی مسلمان کی قبر ہی سمجھ کر ۔

کس کی قبر ہے یہ ؟ لا علم ، انجان اور نا اہل ٹرسٹی کہتے ہیں کہ انہیں بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ کس کی قبر ہے ؟

افسوس ایسے انجان ، لاعلم اور نا اہل لوگ خلافت ہاؤس جیسی تاریخی عمارت کے ٹرسٹ میں گھس پیٹھ کرکے بیٹھے ہیں ۔

ہم نے اس قبر کے متعلق کافی معلومات اکٹھا کی ، مشہور فلم رائٹر ، صحافی ، ادیب جاوید صدیقی صاحب نے تو یہ بتایا اور کنفرم کیاکہ یہ قبر بیگم محمد علی جوہر کی ہے ، اور انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے یہ قبر اس زمانے میں دیکھی تھی جب وہ خلافت ہاؤس میں رہا کرتےتھے ، اور انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے اس قبر پر کتبہ بھی لگا ہوا دیکھا تھا جس پر یہ لکھا تھا کہ یہ قبر امجدی بانو بیگم کی ہے( بیگم مولانا محمد علی جوہر کا نام امجدی بانو بیگم تھا )۔جاوید صدیقی مولانامحمد علی جوہر کے رشتہ دار ہیں ، اور ۱۹۵۹ ء میں وہ رام پور سے ممبئی آئے ، تو خلافت ہاؤس میں ان کا قیام ہوا ، خلافت اخبار میں انہوں نے کام کیا ، خلافت ہاؤس میں ہی ان کی شادی بھی ہوئی اور کم و بیش وہ بیس برس خلافت ہاؤس میں مقیم رہے ۔

خلافت ہاؤس میں جو قبر ہے ، وہ بیگم محمد علی جوہر کی ہی ہے ، اس بات کہ وہ ایک معتبر چشم دید گواہ ہیں ۔

افسوس ، کہ جو نا اہل افراد خلافت ہاؤس کے ذمہ دار بنے ہوئے ہیں ، وہ یہ ہی نہیں جانتے کہ اس تاریخی خلافت ہاؤس میں ان کی ناہلی ، کم علمی اور غفلت نے جس معروف مسلم خاتون فریڈم فائٹر کی قبر کو گم نام بنا دیا ہے ، اس پر ایک کتبہ تھا ، وہ بھی پتہ نہیں کہا ں غائب کردیا گیا، اور آج جب کہ اس قبر پر کوئی بھی ایک پھول تک چڑھانے والا ، فاتحہ کرنے والا موجود نہیں ہو ا کرتا ہے ، جب ان ( بیگم مولانا محمد علی جوہر ) کا انتقال ہوا ، تب یہاں کا اور بامبے شہر کا کیا ماحول تھا ؟

ہم اس کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

وہ جمعہ کا دن ، 28 مارچ ، 1947 ء کی تاریخ تھی ، بیگم مولانا محمد علی جوہر جو علاج کیلئے بامبے آئی تھیں ، اور اپنی بیٹی ، داماد ( زاہد شوکت علی ) کے گھر واقع خلافت ہاؤس میں مقیم تھیں ، تب رات میں ان کا انتقال ہو گیا ۔

یہ خبر رات میں ہی ممبیٔ کےآس پاس کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور رات ہی میں ہزاروں لو گ خلافت ہاؤس پہنچ گئے ، جن میں خلافت کمیٹی اور مسلم لیگ کے ممبران ہی نہیں دیگر پارٹیوں کے لیڈران ، ممبران اور عام مسلمان بھی شامل تھے ۔

بیگم مولانا محمد علی جوہر کوئی عام خاتون نہیں تھیں ، وہ صرف مولانا محمد علی جوہر کی بیوہ نہیں تھیں ، وہ خود ایک مقبول و معروف شخصیت تھیں ۔

۱۹۳۱ ء میں اپنے شوہر کے انتقال کے بعد سے خلافت کمیٹی ، آل انڈیا مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی سربراہ اور جنگ آزادی کی ایک معتبر قائد تھیں ، جس وقت ان کا انتقال ہوا ،تب وہ متحدہ یوپی صوبے کی ایم ایل اے تھیں ، ساتھ ہی ساتھ آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے آل انڈیا بورڈ کی واحد خاتون رکن تھیں ۔

آج خلافت ہاؤس میں ان کی قبرگم نام پڑی ہے ، لیکن ۲۸ مارچ ۱۹۴۷ ء کو ان کے یہاں اسی کمپاؤنڈ میں انتقال پر پورے ممبئی شہر میں کہرام مچ گیا تھا ۔

پورا شہر غم و الم کے سمندر میں ڈوب گیا تھا ، ان کے معتقدین کے لئے یہ صدمہ ٔجانکاہ تھا ، لوگ ان کے آخری دیدار کیلئے ، ان کی بیٹی ، داماد اور دیگر رشتہ داروں کو پرسہ دینے یا ان کے جنازہ کو کاندھا دینے کے لئے جو ق در جوق خلافت ہاؤس چلے آرہے تھے ، جہاں تل دھرنے کیلئے بھی جگہ نہیں تھی ، اور ہجوم سڑک تک جا پہنچاتھا ۔

لوگ جلوس جنازہ اور تدفین کے متعلق معلومات کرنا چاہتے تھے ، کہ آیا تدفین ممبئی میں ہوگی یا دہلی میں ؟ کیونکہ بیگم محمد علی جوہر دہلی کے قرول باغ میں مقیم تھیں اور بامبے صرف علاج کیلئے آئی تھیں ، لیکن مختصر علالت کے بعد خلافت ہاؤس میں ان کا انتقال ہوگیا ۔

ان کے اہل خانہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی تدفین بامبے میں اور بامبے میں بھی ناریل واڑی قبرستان میں نہیں ، بلکہ خلافت ہاؤس میں ہی ہوگی ۔

برٹش گورنمنٹ نے ہی بامبے میونسپل کارپوریشن کے قانون بنائے تھے ، جس کے تحت کسی بھی شخص کی تدفین صرف قبرستان میں ہی ہو سکتی تھی کسی پرائیوٹ جگہ نہیں ، یہ قانون آج بھی نافذ ہے۔

البتہ کسی خاص شخص کی قبرستان کے علاوہ کسی پرائیوٹ جگہ تدفین کیلئے کلکٹر اور میونسپل کارپوریشن کی پرمیشن ضروری تھی ۔

برٹش گورنمنٹ نے وہ پرمیشن بھی فراہم کیا اس لئے دوسرے دن یعنی سنیچر مورخہ 29 مارچ ، 1947 کے دن تدفین کا فیصلہ کیا گیا ،اس طرح تاریخ شاہد ہے ، اور دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیںکہ بیگم مولانا محمد علی جوہر کا انتقال بھی خلافت ہا ؤس میں ہوا اور ان کی تدفین بھی خلافت ہاؤس میں ہوئی ۔

لیکن لاکھوں کا مجمع جو خلافت ہاؤس پر رات سے اکٹھا ہو گیا تھا ، اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ بیگم مولانا محمد علی جوہر کے جنازہ کو کاندھے دے اور پھر انہیں قبر تک پہنچایا جائے ، ان معتقدین ین کی خواہشات کا کیا ؟

اس لئے ، دوسرے دن صبح دس بجے خلافت ہا ؤس سے جلوس جنازہ نکالنے ، اسے مدنپورہ ، ناگپاڑہ ، بھنڈی بازار کے مسلم اکثریتی علاقوں سے گذار کر واپس خلافت ہاؤس لانے اور پھر خلافت ہاو ٔس میں ہی مرحومہ بیگم محمد علی جوہر کی تدفین کا فیصلہ کیا گیا ۔

صبح ہوئی تو سارے مسلم علاقے بند تھے ، مسلمانوں نے اپنے کاروبار بند رکھے ، مسلم لیگ کے بامبے کے صدر مسٹر حسن اے شیخ نے بھی بامبے کے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ مرحومہ بیگم محمد علی جوہر کے سوگ میں تمام مسلم علاقوں میں ہڑتال کی جائے اور سارے کاروبار بند رکھے جائیں ۔

خلافت ہاؤس کے جن نا اہل ذمہ داروں نے آج جس قبر کو گم نام ، بے نام ، اوربے نام و نشان بنا دیا ہے ، وہ اس مسلم فریڈم فائٹرخاتون کی قبر ہے ، جس کے انتقال پر ۲۹ مارچ ۱۹۴۷ ء کو سوگ کے طور پر بامبے کے بائیکلہ ، مدنپورہ ، ناگپاڑہ ، بھنڈی بازار ، محمد علی روڈ ، کرافورڈ مارکیٹ ہی نہیں ، ماہم ، کرلا ، باندرہ اور مضافات کے مسلم علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال ہوئی ، مسلمانوں نے اپنے کاروبار بند رکھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جلوس جنازہ اور تدفین میں شریک ہو سکیں ۔

رات ہی میں یہ اعلان کیا جاچکا تھا ، کہ بیگم مولانا محمد علی جوہر کا جلوس جنازہ صبح دس بجے خلافت ہاؤس سے شروع ہوگا ۔

دس بجے جلوس جنازہ خلافت ہاو ٔس سے نکلا اور وہ اس راستے سے گذرتا رہا ، جس سے خلافت ہاؤس سے نکلنے والا جلوس عید میلاد النبی ﷺ نکلتا تھا اور نکلتا ہے ۔

خلافت ہاؤس کے لا علم اور نا اہل ذمہ داروں نے خلافت ہاؤس سے نکلنے والے جلوس عید میلادالنبی ﷺ کی تاریخ کا بھی کباڑہ کرکے رکھا ہوا ہے اور من گھڑت کہانی کو ، جس کا ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے ، کوئی دستاویز نہیں ہے ، جلوس کی تاریخ کے نام پر پھیلایا ہے ، حقیقت تو یہ ہے کہ خلافت کمیٹی کے پرچم تلے پہلا جلوس عید میلاد النبی ﷺ مولانا شوکت علی نے 1935ء میںخلافت ہاؤس سے نکالا تھا ، اور اس کی قیادت بھی مولانا شوکت علی نے خود کی تھی اور اس سے قبل ہی مولانا محمد علی جوہر کا انتقال ہو چکا تھا ، جن کی تدفین بیت المقدس میں ہوئی تھی ۔

مرحومہ بیگم محمد علی جوہر کاجلوس جنازہ بھی اسی روٹ سے نکلا اور لاکھوں لوگ اس روٹ پر موجود تھے ۔

لوگ کاندھا دینے کیلئے آگے بڑھے جا رہے تھے ، مسلم لیگ نیشنل گارڈ ، مسلم لیگ والنٹئر کور اور خلافت کمیٹی کے والنٹیرس ہجوم کو کنٹرول کرنے میں تعینات کئے گئے تھے ، اس طرح یہ کسی گم نام شخصیت کا جلوس جنازہ نہیںتھا ، ایسی مسلم فریڈم فائٹر خاتون کا جلوس جنازہ تھا ، جس نے جنگ آزادی میں اپنی ساس بی اماں ، اپنے شوہر مولانا محمد علی جوہر ، اپنے دیور ، مولانا شوکت علی کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا ۔

جلوس جنازہ پائید دھونی کی حمیدیہ مسجد پہنچا ۔ وہاں نماز جنازہ پڑھائی گئی جس میں طویل ترین قطاریں ہی قطاریں نظر آ رہی تھیں ۔

نماز جنازہ کے بعد جلوس جنازہ محمد علی روڈ پہنچا ۔ مرحومہ بیگم محمد علی جوہر کے شوہر کا انتقال ۱۹۳۱ ء میں لندن میں ہوا تھا اور ان کی تدفین بیت المقدس میں ہوئی تھی ، لیکن بامبے میونسپل کارپوریشن نے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ، اسی سڑک کا نام محمد علی روڈ رکھا تھا ، جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر دفتر تھا ۔

مرحومہ بیگم مولانا محمد علی جوہر کا جلوس جنازہ مسلم لیگ کے ہیڈ کوارٹر پر لے جایا گیا ، جہاں جنازہ کو مسلم نیشنل گارڈس نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور پھر یہاں سے یہ جلوس جنازہ ایک بار پھر اپنی منزل یعنی خلافت ہاو ٔس کی طرف روانہ ہوا اور واپسی کے راستہ میں بھی لاکھوں کا مجمع تھا ، سڑکیں لبا لب بھری ہوئی تھیں ، ٹرافک بند تھا ، ٹرام سروس روک دی گئی تھی۔

عمارتوں سے کھڑکیوں سے لوگ ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ، جھانک ہے تھے ۔

ایسا نظارہ بامبے شہر نے آج تک شائد ہی کسی خاتون مسلم لیڈر کا تو کیا ،کسی مسلم لیڈر کے جلوس جنازہ کا بھی نہیں دیکھا ہوگا ، جس کی قبر کو آج بے نام و نشان بنا دیا گیا ہے ، اسلئے اس کی قبر پر آج کوئی فاتحہ پڑھنے والا تک نہیں ۔ ؟

دوپہر دو بجے جلوس جنازہ واپس خلافت ہاؤس پہنچا اور اس کمپاؤنڈ میں بیگم مولانامحمد علی جوہر کی تدفین عمل میں آئی ۔

یہاں باقاعدہ مرحومہ کے شایان شان قبر بھی بنی اور اس پر کتبہ بھی لگایا گیا ، جس پر ان کا نام بھی تحریر تھا ۔

پھر اس مشہور زمانہ خاتون کی قبر ، بے نام و نشان اور گم نام کیسے ہوگئی ( یا بنا دی گئی )؟

اس کا جواب پوچھئے خلافت ہاؤس کے نااہل ، لاعلم ، انجان ذمہ داروں سے ۔

جس خاندان نے اور جن افراد و خواتین نے دیش کی آزادی کیلئے اپنی زندگی وقف کردی ، ان کے قائم کئے ہوئے خلافت ہاؤس میں ہی اس خاندان کی ایک عظیم ترین مسلم خاتون فریڈم فائٹر کی قبر کی یہ بے حرمتی ہوگی ؟ اور ان کی قبر کا ایسا حال کیا جائے گا ؟ کیا کوئی سوچ سکتا ہے ؟ کس قدر شرم کی بات ہے !!!

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare