جمعیۃ علماء ہند: مصلحت کی سیاست یا ملت سے انحراف کا المیہ؟

از قلم ✍️ افتخار احمد قادری

 ہندوستان کی معاصر مسلم سیاست ایک ایسے پُر آشوب دور سے گزر رہی ہے جہاں حقائق اور بیانیے کے درمیان فاصلہ روز بروز وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی تنظیمیں بسا اوقات اپنے کردار و عمل سے ایسے تضادات کو جنم دیتی ہیں جو نہ صرف ان کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ملت کے اجتماعی شعور کو بھی انتشار کا شکار کر دیتے ہیں۔ انہی پیچیدہ حالات میں بعض قدیم و با اثر تنظیموں کا طرزِ عمل سنجیدہ سوالات کو دعوت دیتا ہے کہ آیا وہ واقعی ملت کی پاسبانی کر رہی ہیں یا سیاسی مصلحتوں کے تانے بانے میں الجھ کر اپنی اصل روح سے دور ہو چکی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند: مصلحت کی سیاست یا ملت سے انحراف کا المیہ؟
جمعیۃ علماء ہند: مصلحت کی سیاست یا ملت سے انحراف کا المیہ؟

   جمیعۃ علماء ہند کا نام برصغیر کی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کے قیام کا مقصد بلاشبہ دینی تشخص کا تحفظ، علماء کی قیادت کو منظم کرنا اور شریعت کے وقار کو برقرار رکھنا تھا لیکن تاریخ کے اوراق جب باریک بینی سے کھنگالے جاتے ہیں تو ایک ایسا منظرنامہ ابھرتا ہے جس میں اصولی استقامت کے بجائے سیاسی مصلحتوں کا غلبہ زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے تنقید کی ایک مضبوط بنیاد قائم ہوتی ہے۔ آج جب اسدالدین اویسی جیسے سیاسی رہنما کو فرقہ پرستی کے الزام سے نوازا جاتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اصطلاح کی تعریف آخر کس کے ہاتھ میں ہے؟ کیا نظریاتی اختلاف کو فرقہ پرستی کا نام دینا علمی دیانت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے یا یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے اپنی داخلی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی سعی کی جا رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اختلافِ رائے کسی بھی زندہ قوم کی علامت ہوتا ہے مگر جب اختلاف کو کردار کشی میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ فکری دیوالیہ پن کی علامت بن جاتا ہے۔ تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو جمعیۃ کے اندر ابتدا ہی سے دو فکری دھارے موجود رہے۔ ایک وہ جو سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کو وقت کی ضرورت سمجھتا تھا اور دوسرا وہ جو اصولی خودمختاری کا قائل تھا۔ یہی اختلاف بعد ازاں ایسے رخ پر گامزن ہوا جہاں بعض شخصیات نے کانگریس کے ساتھ اس حد تک قربت اختیار کی کہ مسلم سیاسی خودمختاری کا تصور پس منظر میں چلا گیا۔ یہ سوال آج بھی تشنہ ہے کہ آیا یہ حکمت عملی تھی یا مجبوری، یا پھر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی ایک خاموش خواہش؟ مزید برآں حالیہ دہائیوں میں جمعیۃ کے طرزِ عمل نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا یہ تنظیم واقعی عوامی جذبات کی ترجمان ہے یا ایک محتاط مبصر بن کر رہ گئی ہے۔ جب ملک میں شہریت سے متعلق قوانین، آئینی دفعات اور اقلیتوں کے حقوق جیسے حساس مسائل زیرِ بحث آئے تو قوم کو ایک جری اور بے باک قیادت کی ضرورت تھی مگر اس موقع پر جو خاموشی یا مبہم موقف اختیار کیا گیا اس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ کشمیر کے مسئلے پر اختیار کیا گیا رویہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ جب زمینی حقائق چیخ چیخ کر حالات کی سنگینی بیان کر رہے تھے، ایسے میں اطمینان اور سکون کا بیانیہ پیش کرنا نہ صرف حیران کن تھا بلکہ اس نے عوامی احساسات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے اور تاریخ انہی لمحات کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی ہے۔ مزید یہ کہ دیگر مسلم شخصیات اور تنظیموں کے ساتھ برتاؤ بھی ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے یا بدنام کرنے کی کوشش ایک ایسے مزاج کی عکاسی کرتی ہے جو جمہوری اقدار سے ہم آہنگ نہیں۔ اگر کوئی تنظیم خود کو ملت کی نمائندہ کہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اختلافِ رائے کو وسعتِ قلبی سے قبول کرنا ہوگا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قوم کے اندر ایسے عناصر کی نشان دہی کی جاتی رہی ہے جو بظاہر مسلمانوں کے نمائندے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے مفادات کہیں اور وابستہ ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں جب جمعیۃ کے بعض اقدامات کو دیکھا جاتا ہے تو ناقدین کے خدشات مزید گہرے ہو جاتے ہیں کہ کہیں یہ تنظیم بھی اسی زمرے میں شامل نہ ہو رہی ہو۔ تاہم یہ کہنا بھی یکسر درست نہیں ہوگا کہ تمام تر ذمہ داری ایک ہی تنظیم پر عائد کر دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملت کے زوال میں مجموعی قیادت، مختلف مکاتبِ فکر اور داخلی انتشار سبھی کسی نہ کسی درجے میں شریک ہیں لیکن چونکہ جمعیۃ ایک تاریخی اور بااثر ادارہ ہے اس لیے اس سے توقعات بھی زیادہ وابستہ ہیں اور اس کی کوتاہیاں بھی زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانانِ ہند جذباتی وابستگیوں کے بجائے شعوری بیداری کا مظاہرہ کریں۔ اندھی تقلید کے بجائے قیادت کے کردار، بیانات اور عملی اقدامات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ جو تنظیم یا شخصیت واقعی ملت کے مفاد میں کام کر رہی ہو اس کا ساتھ دیا جائے اور جو محض نعروں اور مصلحتوں کے سہارے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہو اس سے فاصلہ اختیار کیا جائے۔ بدرالدین اجمل کے خلاف جاری کردہ نوٹس جیسے اقدامات بھی اسی تناظر میں دیکھے جانے چاہئیں۔ جب قانونی جواز کمزور ہو اور اخلاقی بنیادیں متزلزل ہوں تو ایسے اقدامات اپنی وقعت خود کھو دیتے ہیں۔ قوم اب اتنی سادہ نہیں رہی کہ ہر بیانیے کو بلا تحقیق قبول کر لے۔ آخرکار یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی رہتا ہے کہ کیا جمعیۃ علماء ہند اپنے تاریخی ورثے کے شایانِ شان کردار ادا کر رہی ہے یا وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے واپسی کے لیے جرات مندانہ احتساب کی ضرورت ہے؟ اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ تاریخ کا فیصلہ نہایت سخت اور ناقابلِ تردید ہوگا۔

  جب اس قضیے کو نہایت سنجیدگی، فکری دیانت اور تاریخی تناظر کے ساتھ سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایک ایسی حقیقت پوری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے جس سے صرفِ نظر کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ وہ یہ کہ ملت کی قیادت کے نام پر قائم بعض ادارے ایک طویل عرصے سے ایسے اسلوبِ سیاست کے خوگر ہو چکے ہیں جس میں ظاہر و باطن کے مابین ایک خلیج حائل ہے۔ الفاظ میں خیرخواہی، بیانات میں حکمت اور دعووں میں اخلاص کا رنگ ضرور جھلکتا ہے لیکن جب انہی دعووں کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو معاملہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سنجیدہ قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ سب کچھ واقعی ملت کی فلاح کے لیے ہے یا ایک ایسی سیاست کا تسلسل جس میں عوام کو مطمئن رکھنا اور اقتدار کے ایوانوں سے تعلقات استوار رکھنا اصل ہدف بن چکا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے طرزِ عمل کو اگر وقتی فیصلوں کا مجموعہ سمجھ لیا جائے تو شاید اس کی توجیہ ممکن ہو لیکن جب اسی طرزِ عمل کو ایک تسلسل کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک خاص نوع کی حکمتِ عملی واضح ہونے لگتی ہے۔ یہ حکمتِ عملی بظاہر تصادم سے گریز، مفاہمت کی جستجو اور حالات کے ساتھ چلنے کا نام ہے مگر اس کے پس منظر میں ایک ایسی خاموش مصلحت کار فرما دکھائی دیتی ہے جو عوامی جذبات کو منظم کرنے کے بجائے انہیں منتشر رکھتی ہے۔ یہ وہی طرزِ فکر ہے جس کے تحت بڑے سے بڑا مسئلہ بھی الفاظ کے گورکھ دھندے میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ نہ تو کوئی واضح مؤقف سامنے آئے اور نہ ہی کوئی ایسی صورتِ حال پیدا ہو جس سے قیادت کو کسی عملی امتحان سے گزرنا پڑے۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب بھی ملت کو ایک دوٹوک، بے باک اور غیر مبہم آواز کی ضرورت پیش آئی اس وقت احتیاط اور مصلحت کے نام پر خاموشی کو ترجیح دی گئی۔ شہریت کے قوانین ہوں، آئینی تحفظات کا معاملہ ہو یا علاقائی خودمختاری جیسے نازک موضوعات ہر موقع پر ایک ایسا لب و لہجہ اختیار کیا گیا جو بظاہر متوازن مگر درحقیقت غیر مؤثر ثابت ہوا۔ اس طرزِ عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو کوئی سمت نہ مل سکی اور قیادت اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی۔ یہی وہ مہذب خاموشی ہے جسے اکثر حکمت کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ اس کے نتائج ایک طویل مدتی بے سمتی اور فکری انتشار کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ مزید غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے یا کمزور کرنے کی ایک غیر مرئی کوشش بھی جاری رہتی ہے۔ جو آوازیں اس طرزِ سیاست سے اختلاف کرتی ہیں انہیں یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر ان کی نیت پر سوالات اٹھا کر انہیں غیر مؤثر بنانے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ رویہ کسی بھی جمہوری اور فکری روایت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مکالمہ محدود ہوتا ہے بلکہ ایک صحت مند فکری ارتقاء کا راستہ بھی مسدود ہو جاتا ہے۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ عوام دشمنی ہمیشہ کسی واضح اور جارحانہ شکل میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ ایک نرم، مہذب اور خاموش انداز میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ جب قیادت عوامی مسائل کو پوری شدت کے ساتھ اٹھانے سے گریز کرے، جب اہم مواقع پر مبہم بیانات دے کر اصل مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور احتجاج کے بجائے مصالحت کو ہر حال میں ترجیح دی جائے تو یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی فضا قائم کرتے ہیں جس میں عوام کے حقیقی مسائل دب کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ باریک مگر نہایت خطرناک پہلو ہے جسے عام لوگ فوری طور پر محسوس نہیں کر پاتے لیکن اس کے اثرات نسلوں تک مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے بالمقابل اگر اسدالدین اویسی کے طرزِ سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو وہاں ایک مختلف انداز نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے بیانیے سے اختلاف اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے مسلم مسائل کو جس صراحت، جرات اور تسلسل کے ساتھ اٹھایا وہ موجودہ منظرنامے میں ایک منفرد مثال بن چکا ہے۔ پارلیمان کے ایوان میں ہو یا عوامی اجتماعات میں انہوں نے نہ صرف آئینی نکات کو مدلل انداز میں پیش کیا بلکہ ایک ایسی آواز بھی بلند کی جو خوف کے سائے سے آزاد دکھائی دیتی ہے۔ ان کی سیاست کا بنیادی وصف یہی ہے کہ وہ ابہام سے گریز کرتے ہیں اور اپنے مؤقف کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا باشعور طبقہ اس تقابل کو شخصیات کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف طرزِ سیاست کے درمیان دیکھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ سیاست ہے جو احتیاط، مصلحت اور خاموشی کے گرد گھومتی ہے اور دوسری طرف وہ سیاست ہے جو جرات، وضاحت اور عوامی مسائل کی کھلی ترجمانی پر یقین رکھتی ہے۔ فیصلہ اب ملت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس راستے کو اختیار کرتی ہے۔ وہ راستہ جو وقتی سکون تو فراہم کرتا ہے مگر طویل مدتی نقصان کا باعث بنتا ہے یا وہ راستہ جو مشکلات سے بھرپور ضرور ہے مگر عزت اور خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ آج کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمانانِ ہند جذباتی وابستگیوں اور روایتی تقدیس کے حصار سے نکل کر ایک سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ احتساب کا آغاز کریں۔ قیادت کو اس کے دعووں کے بجائے اس کے اعمال کی بنیاد پر پرکھا جائے اور ہر اس طرزِ سیاست کو مسترد کر دیا جائے جو عوامی مفادات کے بجائے ذاتی یا جماعتی مصلحتوں کو ترجیح دیتا ہو۔ کیونکہ اگر آج بھی حقیقت کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والا وقت اس غفلت کی ایسی قیمت وصول کرے گا جس کا ازالہ ممکن نہ ہوگا اور تاریخ اپنے بے رحم فیصلے میں کسی رعایت کی قائل نہیں ہوگی۔

Leave a Reply