حسن قرآن کا شناور : قاری نسیم احمد رحمۃ اللہ علیہ
اسلم رحمانی
مرکز علم و معرفت، مدرسہ اسلامیہ جامعُ العلوم چندوارہ، مظفرپور، بہار،یہ نام محض ایک ادارے کا نہیں، بلکہ ایک ایسی روایتِ نور کا عنوان ہے جس کی ضیاء میں لاکھوں قلوب منور ہوئے۔ اسی روایت کے درخشاں چراغوں میں ایک نام رئیسُ القرّاء، سابق نائب مہتمم، قاری نسیم احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہےوہ مرد درویش کہ جنہوں نے ۲۹؍جنوری ۲۰۱۸ء کو اس دار فانی سے رخصت ہو کر اہل دل کو یتیم کر دیا، مگر پیچھے ایسی علمی و روحانی وراثت چھوڑ گئے جو وقت کی گرد میں بھی ماند نہیں پڑتی۔قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت ایک ہمہ جہت مدرس کی تھی خاموش، متین، باوقار؛ مگر جب زبان کھلتی تو حروف میں تربیت بولتی، اور جب نظر پڑتی تو اصلاح کا چراغ جل اٹھتا۔ مسند درس حفظ پر بیٹھے ہوئے وہ محض سبق سنانے والے نہ تھے، بلکہ قرآن مجید کے ساتھ شاگرد کے رشتے کو ازسر نو مرتب کرنے والے معمار تھے۔ ان کے نزدیک حفظ، الفاظ کا بوجھ نہیں بلکہ معنی کی امانت تھا؛ اور تجوید محض قواعد کا مجموعہ نہیں بلکہ ادائے حق کلام الٰہی کا راستہ تھا۔

انہوں نے مدرسہ اسلامیہ جامعُ العلوم کی مسند حفظ کو ایک ایسے مرکز تربیت میں بدل دیا جہاں سے حفاظ و قرّاء کی ایک فوج تیار ہوئی۔ایسی فوج جو نہ تلوار سے مسلح تھی نہ جھنڈوں سے، بلکہ مخارج کی درستی، صفات حروف کی پاسداری، وقف و ابتدا کی نزاکت اور لحن قرآنی کی حلاوت سے آراستہ تھی۔ آج وہی تلامذہ ملک کے گوشے گوشے میں اور بیرون ملک بھی قرآن مجید کی خدمت انجام دے رہے ہیں؛ کہیں محرابوں میں تراویح کی قیادت، کہیں مدارس میں تدریس، کہیں مسابقات قراءت میں اعزازات یہ سب قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کی خاموش محنت کے ثمرات ہیں۔
طرز تدریس
ان کی تدریس کا خاص وصف کہنۂ مشق استادی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قرآن کی خدمت میں عجلت نہیں، تسلسل درکار ہے؛ نرمی نہیں، حکمت مطلوب ہے؛ اور سختی نہیں، استقامت لازم ہے۔ اس سلسلے میں آپ کے فرزند بہار قانون ساز کونسل کے رکن قاری صہیب کہتے ہیں کہ:
"سبق سنتے وقت ان کی سماعت صرف غلطی پکڑنے کے لیے نہ ہوتی، بلکہ طالبِ علم کی کمزوری تک پہنچنے کے لیے ہوتی۔ جہاں حروف دب جاتے، وہاں وہ سانس کی تربیت دیتے؛ جہاں لحن بگڑتا، وہاں وہ قلب کی یکسوئی پر توجہ دلاتے۔ یوں محسوس ہوتا کہ وہ قاری کو نہیں،قرآن کے حامل انسان کو سنوار رہے ہیں۔”
قواعد تجوید کی پابندی
قرآن کریم کی تلاوت، قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محض صوتی آہنگ یا خوش الحانی کا مظاہرہ نہ تھی، بلکہ وہ ایک عبادت تھی ایسی عبادت جس میں زبان، دل، سانس، سماعت اور بصارت سب یکجا ہو کر کلامِ الٰہی کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ ان کا یقین تھا کہ قرآن جب نازل ہوا تو وہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، محسوس کیے جانےکے لیے بھی آیا؛ اور یہی احساس ان کی تلاوت کی روح تھا۔وہ جب مسند درس پر بیٹھتے یا کسی جلسۂ عام میں تلاوت کے لیے کھڑے ہوتے تو ماحول میں ایک غیر مرئی سنجیدگی در آتی۔ مجمع خاموش ہو جاتا، جیسے ہر سانس کو اجازت درکار ہو۔ ان کی آواز میں نہ غیر ضروری بانکپن ہوتا، نہ تصنع کی آمیزش؛ ایک ٹھہراؤ، ایک وقار، اور ایک عجیب سی کشش ہوتی جو سامع کو اپنی گرفت میں لے لیتی۔ یوں محسوس ہوتا گویا حروف ان کے ہونٹوں سے نہیں، دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہوں۔جب وہ “الحمد للہ رب العالمین” کہتے تو حمد کا مفہوم آواز میں ڈھل جاتا؛ اور جب آیات وعید پر پہنچتے تو لہجہ خود بہ خود بوجھل ہو جاتا، جیسے الفاظ اپنے معنی کا وزن اٹھائے ہوئے ہوں۔ رحمت کی آیات میں نرمی، عذاب کی آیات میں ہیبت، اور دعا کی آیات میں ایسی گزارش کہ سننے والوں کی پلکیں بوجھل ہو جاتیں۔ بارہا ایسا دیکھا گیا کہ ان کی تلاوت کے دوران یوں محسوس ہوتا جیسے آنکھوں سے نہیں، بصارت سے پانی بہہ رہا ہو خاموش آنسو، بے آواز سسکیاں، اور لرزتے ہوئے دل۔یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ قواعدِ تجوید کی کامل پابندی کا عملی اظہار تھا۔ قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تجوید محض فنی علم نہیں، بلکہ قرآن کے ادب کا نام تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھےاور اپنی ہر تلاوت سے اس کی تصدیق کرتے تھےکہ
“قرآن کو اسی طرح پڑھا جائے جیسے اترا ہے: توقیر کے ساتھ، ترتیب کے ساتھ، اور تاثیر کے ساتھ۔”
مخارج کی درستی ہو یا صفات حروف کی ادائےگی، مد و قصر کا توازن ہو یا غنہ کی نزاکت وہ کسی ایک پہلو پر بھی سمجھوتہ کرنے کے قائل نہ تھے۔ ان کے نزدیک “چھوٹی غلطی” جیسی کوئی اصطلاح ہی موجود نہ تھی، اس لیے کہ وہ کہتے تھے:
“جب کلام اللہ ہو تو اس میں کوئی چیز چھوٹی نہیں رہتی۔”
درس حفظ میں وہ ایک ایک حرف پر رک جاتے، بار بار دہراتے، طالب علم کی زبان، سانس اور آواز تینوں کی اصلاح کرتے۔ کبھی ہلکی سی جنبش لب سے سمجھاتے، کبھی خاموشی سے دوبارہ سننے کا اشارہ کرتے، اور کبھی بس اتنا کہتے: “یہ حرف امانت ہے۔” اس ایک جملے میں قرآن کی عظمت بھی ہوتی اور طالب علم کی ذمہ داری بھی۔
جلسۂ عام میں ان کی تلاوت گویا تجوید کی زندہ تفسیر ہوتی۔ سننے والا اگر علم تجوید سے واقف ہو تو اسے قواعد کی عملی تصویر دکھائی دیتی، اور اگر ناواقف ہو تو بھی دل پر ایک غیر معمولی اثر مرتب ہوتا۔ یہی وہ تاثیر تھی جو ثابت کرتی تھی کہ صحیح تجوید محض کانوں کو نہیں، دلوں کو بھی منور کرتی ہے۔یہی احتیاط، یہی باریک بینی، اور یہی تقدیس ان کے شاگردوں کی شناخت بنی۔ آج جہاں کہیں ان کے تربیت یافتہ قراء قرآن پڑھتے ہیں، وہاں ایک خاص ٹھہراؤ، ایک خاص وقار، اور ایک خاص ذمہ داری جھلکتی ہے۔گویا استاد کی روح ہر صحیح ادا ہونے والے حرف کے ساتھ موجود ہو۔
درس حفظ
درس حفظ قرآن مجید اور علم تجوید کے استاد کی حیثیت قرآنِ کریم کی خدمت میں وہی ہے جو جسم کے لیے دل کی خاموش، مگر زندگی بخش؛ نظر نہ آنے والا، مگر ہر حرکت میں شامل۔ قرآن کو یاد کر لینا ایک مرحلہ ہے، مگر قرآن کو صحیح طریقے سے یاد کرانا ایک عمر بھر کی ذمہ داری ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں استاد کی اہمیت محض تعلیمی نہیں رہتی بلکہ روحانی اور اخلاقی بن جاتی ہے۔ حفظ اور تجوید کے استاد دراصل الفاظ نہیں،امانتیں منتقل کرتے ہیں۔ایسی امانتیں جن کا تعلق وحی سے ہے۔درس حفظ کا استاد طالب علم کی یادداشت ہی نہیں بناتا، وہ اس کے مزاج کو قرآن کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ کیسے بیٹھا جائے، کیسے سانس لیا جائے، کہاں رکا جائے، اور کہاں آواز کو تھام لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے اہل علم نے کہا ہے کہ حفظ کا اصل نصاب استاد کی ذات ہوتی ہے۔اس کا لہجہ، اس کا ضبط، اس کی آنکھ کی نگاہ، اور اس کی خاموش اصلاح۔ کتابیں رہنمائی دیتی ہیں، مگر قرآن استاد سے منتقل ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں اگر قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کی ذات کو دیکھا جائے تو وہ درس حفظ اور تجوید کے استاد کی کامل تصویر نظر آتے ہیں۔ وہ اس منصب کو ملازمت نہیں سمجھتے تھے، بلکہ امانتِ نبوی کا تسلسل جانتے تھے۔ ان کے نزدیک مسند درس محض ایک کرسی نہ تھی، وہ ایک ذمہ داری تھی جس پر بیٹھنے سے پہلے دل کو بھی وضو درکار ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے شاگردوں سے پہلے خود کو قرآن کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔
قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ جانتے تھے کہ حفظ کا پہلا سبق یاد کرانا نہیں، قرآن کا ادب سکھانا ہے۔ اس لیے ان کے حلقۂ درس میں داخل ہونے والا طالب علم سب سے پہلے خاموشی، توجہ اور احترام سیکھتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ جس زبان پر قرآن جاری ہو، اس زبان میں بے احتیاطی کی گنجائش نہیں؛ اور جس دل میں قرآن محفوظ ہو، اس دل میں غفلت زیب نہیں دیتی۔ اس تربیتی شعور نے ان کے شاگردوں کو محض حافظ نہیں بنایا، بلکہ حامل قرآن بنایا۔
علم تجوید کی تدریس میں ان کا اسلوب نہایت باریک اور عمیق تھا۔ وہ تجوید کو قواعد کی فہرست بنا کر نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ ہر قاعدے کو ایک روحانی معنی کے ساتھ جوڑ دیتے تھے۔ مخارج کی درستی ہو تو کہتے: “یہ زبان کی اصلاح ہے”، اور صفاتِ حروف کی پابندی ہو تو فرماتے: “یہ دل کی تہذیب ہے۔” اس طرح تجوید ان کے ہاں محض فن نہیں رہتی تھی، بلکہ تزکیۂ نفس کا ذریعہ بن جاتی تھی۔درس حفظ میں ان کی سختی دراصل شفقت کی ایک صورت تھی۔ وہ ایک ہی غلطی پر بار بار رکواتے، اس لیے نہیں کہ طالب علم کو شرمندہ کریں، بلکہ اس لیے کہ قرآن کی امانت میں رخنہ نہ آئے۔ ان کے نزدیک “چھوٹی غلطی” مستقبل کی بڑی غفلت کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ یہی اصول انہوں نے اپنے شاگردوں کے دلوں میں اتار دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے تلامذہ جہاں بھی گئے، وہاں ان کی قراءت اعتماد اور معیار کی علامت بن گئی۔قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ جانتے تھے کہ استاد کا اصل اثر درس گاہ سے باہر ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ شاگردوں کی قراءت کے ساتھ ساتھ ان کے کردار، ان کے مزاج اور ان کے تعلق بالقرآن پر بھی نظر رکھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ حافظ جب محراب میں کھڑا ہو تو اس کی آواز میں وقار ہو، اور جب لوگوں میں بیٹھے تو اس کے اخلاق میں قرآن بولے۔درس حفظ اور تجوید کے استاد کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کے سامنے کتنے طلبہ بیٹھے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد کتنے لوگ قرآن کے سچے خادم بن کر کھڑے ہوئے۔ اس معیار پر قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ایک روشن دلیل ہے۔ ان کی محنت نے ایک نسل نہیں، بلکہ نسلوں کو متاثر کیا؛ اور ان کی تربیت نے قرآن کی خدمت کے لیے ایسے افراد تیار کیے جو آج بھی جہاں کہیں قرآن پڑھتے یا پڑھاتے ہیں، وہاں استاد کا نام زبان پر آئے یا نہ آئے، اس کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔یوں قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ درس حفظ اور تجوید کے استاد کی اس زنجیر کی مضبوط کڑی ہیں جو عہدِ نزول سے آج تک چلی آ رہی ہے ایک ایسی کڑی جو خود نظر میں نہ آئے، مگر جس کے بغیر قرآن کی حفاظت اور اس کی صحیح ادائےگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ نے محبان قرآن کو یہ سبق دیا کہ قرآن کی تلاوت، اگر قواعد کی مکمل رعایت اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، تو وہ صرف سنی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے؛ اور یہی تلاوت دلوں کو بدل دیتی ہے، آنکھوں کو بھگو دیتی ہے، اور انسان کو اس کے رب کے قریب کر دیتی ہے۔قواعد تجوید محض قواعد نہیں، بلکہ قرآن کی تلاوت میں حسن و جمال پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ جو شخص ان اصولوں کو فہم و ذوق کے ساتھ اپناتا ہے، وہ نہ صرف قرآن کی لفظی درستگی کو یقینی بناتا ہے بلکہ دلوں پر اثر ڈالنے والی موسیقی بھی پیش کرتا ہے۔ قاری نسیم رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی اور تلاوت کے ذریعے اس حقیقت کی روشن مثال ہیں، جن کی آواز میں قواعد تجوید کا جمالیاتی ذوق ہر لفظ کو روحانیت سے بھر دیتا تھا۔ ان کی تلاوت نہ صرف علم کی علامت تھی بلکہ حسن بیان اور دلنوازی کا ایک زندہ تمثیل بھی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور ان کے فیوض و برکات کو جاری و ساری رکھے۔کہ قرآن کے خادم کبھی نہیں مرتے، وہ تو حروف میں سانس لیتے ہیں۔
٭٭٭






