حضرت قمر شمسی کی ضیا پاشی اور ہماری محرومی

ساجد حسن رحمانی

           ہردور اور ہر زمانے میں دوطرح کے لوگ رہتے ہیں ، ایک وہ جن میں شہرت وناموری کی خواہش کوٹ کوٹ کر بھری رہتی ہے اور گمنامی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکل کر شہرت وناموری کی ظاہری چمک دمک والی دنیا میں قدم رنجہ ہونے اور پھر اس میں اپنا دائمی نقش ثبت کرنے کے لیے مختلف قسم کے شہرت بخش حربے ، آلات اور طریقہ ہائے کار بروئے کار لا تے ہیں ، جن میں سے بعض طریقۂ کار تو شہرت بخشتے ہیں ، لیکن عزت وناموس کو تار تار بھی کردیتے ہیں ، نیز ان شہرت کے طلبگار لوگوں میں بعض وہ ہوتے ہیں جو واقعتاً اس کے حقدار ہوتے ہیں ، لیکن یہ دنیا انہیں ان کا حق دینے سے انکار کررہی ہوتی ہے ، تو وہ بزور بازو اپنے عقل وخرد کو استعمال کرکے اپنا حق حاصل کرنے کی بھر پورکوشش کرتے ہیں اور بعض تو وہ ہوتے ہیں جو علم وحکمت ، اوصاف کمال وجمال اور خصائل حمیدہ وغیرہ سے خالی ہوتے ہیں ، لیکن پھر بھی شہرت و ناموری کے بھوکے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں میں سے بعض شہرت کے حصول کے لیے غیر معقول اور نازیبا ہی نہیں بلکہ انسانیت کو شرمسار کردینے والی حرکات وسکنات تک کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں –

حضرت قمر شمسی کی ضیا پاشی اور ہماری محرومی
حضرت قمر شمسی کی ضیا پاشی اور ہماری محرومی

        دوسرے قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو علم ومعرفت، پاکبازی ، رحم دلی ونرم خوئی ، شیریں کلامی ، عاجزی وانکساری ، نیک طینت ، اعلی اخلاق اور مختلف قسم کے گوناگوں اوصاف کمالات اور خصائل حمیدہ کا مرقع ہونے کی وجہ سے عزت و احترام اور شہرت وناموری کے مکمل حقدار ہوتے ہیں ، لیکن پھر بھی وہ فانی دنیا کی ہر طرح کی پر فریب چمک دمک ، ظاہری زیبائش وآسائش اور نام ونمود کو عارضی اور ناپائیدار سمجھ کر ان مذکورہ بالا چیزوں کی خواہشات کو اپنے دل سے نکال پھینکتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول کی دائمی محبت سے اپنے دل کی دنیا کو معمور کرکے گمنامی کی ہی دنیا میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے اور پسند کرتے ہیں اور اسے وہ اپنے لیے قابل افتخار قیمتی اثاثہ بھی سمجھتے ہیں ، اور اس طرح کے لوگوں کی تعداد ماضی میں بھی کم رہی ہے اور عصر حاضر میں تو اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر بآسانی گنا جاسکتا ہے – ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ولی کامل اور عالم باعمل *حضرت الحاج سید مولانا مظاہر عالم قمر شمسی صاحب دامت برکاتہم العالیہ* ، رکن امارت شرعیہ ، پٹنہ و سابق پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ،ویشالی بھی ہیں –

         مجھے اپنے شعور و آگہی کے ابتدائی دور میں جن بزرگوں اور اولیاء عظام کو دیکھنے اور سننے کی سعادت حاصل ہوئی ، ان میں سر فہرست حضرت دامت برکاتہم العالیہ کی ذات گرامی ہے ، میں ابھی چھ سال کا ہی تھا کہ مجھے میرے دادا حافظ مجیب الرحمٰن مرحوم اپنے ساتھ مدرسہ احمد یہ ابابکر پور حصول علم کے لیے لے گیے ، چوں کہ دادا مرحوم اس مدرسہ میں استاد تھے اور مجھ سے پوتا نہیں ، بلکہ اکلوتابیٹا کی طرح بے پناہ محبت کرتے تھے ، جہاں بھی جاتے مجھے اپنے ساتھ ضرور لے کر جاتے تھے اور اسی لیے ہردن وہاں کے کسی نہ کسی استاد کے پاس بیٹھنے اور ان کے دلار و پیار کو بٹورنے کا موقع ملتا رہتا اور میں بھی تمام اساتذہ سے بے تکلفی سے بات کیا کرتا تھا سوائے ایک استاد کے ، اور وہ حضرت دامت برکاتہم العالیہ ہی کی ذات گرامی ہے ، حضرت کے پاس جوں ہی جاتا اور ان کے بارعب اور چمکدار چہرہ پر میری معصومانہ نظر پڑتی کہ مجھ پر ہیبت وحیرت دونوں طرح کی کیفیت طاری ہوجاتی ، ہیبت تو ان کے رعب دار چہرہ کو دیکھ کر اور حیرت ان کے چہرہ کی چمک اور نورانیت کو دیکھ کر کہ بڑھاپا میں بھی کسی کا چہرہ جھریوں اور سلوٹوں جیسے حسن کو زائل کرنے والے عیب سے پاک اور صاف وشفاف خالص چاندی کے مثل چمکتا دمکتا ہوسکتا ہے اور آج بھی الحمدللہ حضرت دامت برکاتہم العالیہ کا چہرہ ذکر الٰہی اور یاد الٰہی کی برکت سے پچاسی سال کے قریب کی عمر میں بھی ایسا دلربا اور منور دکھتا ہے کہ پچیس سال کا خوبصورت اور حسین وجمیل نوجوان ان کو دیکھ اپنی خوبصورتی پر ناز کرنا بھول جائے –

         دوسال میں مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں زیر تعلیم رہا، لہٰذا دوسال تک برابر ان کی زیارت و دیدار کا موقع ملتا رہا اور پھر میرے دادا مرحوم ریٹائر ہوکر گھر آگیے اور میری کمسنی اور مدرسہ ہٰذا کے میرے گھر سے دور ہونے کی وجہ سے گھر والوں نے بغیر کسی سرپرست کے وہاں بھیجنے کو غیرمناسب سمجھ کر قریب کے ایک مدرسہ میں میرا داخلہ کروادیا ، جس کی وجہ سے حضرت کی زیارت وملاقات کا سلسلہ رک گیا ، پھر بارہ/ تیرہ/ سال کے لمبے عرصے کے بعد مفتی ثناء الہدی قاسمی صاحب ، نائب ناظم امارت شرعیہ ، پٹنہ کے گھر پر ان کے والد مرحوم کی حیات وخدمات پر لکھی گئی کتاب ” کتاب زندگی ” کے رسم اجراء کے موقع پر حضرت کی دید و شنید کا شرف حاصل ہوا ، دیکھتے ہی دل باغ باغ ہوگیا ، حضرت سے وابستہ بچپن کی وہ تمام یادیں اور باتیں ذہن میں ایک ایک کرکے اس طرح آنے لگیں ، جس طرح سیریل کیسیٹ کو چلانے سے اس میں موجود تمام مواد اسکرین پر یکے بعد دیگرے نظر آنے لگتاہے –

      پروگرام اور رسم‌ اجراء کی تکمیل کے بعد حضرت سے تنہائی میں جاکر ملا ، دیکھتے ہی حضرت پہچان گئے اور پھر انہوں نے دادا مرحوم ( جو اس وقت بقید حیات تھے) اور اہل خانہ کے دیگر افراد کے تعلق سے حال و احوال دریافت کیا ، اس موقع پر مجھے ان کے قوت حافظہ پر حیرت و استعجاب ہوا کہ تقریبا تیرہ سال بعد ملاقات ہوئی ، میرا جسم نشو ونما پاکر متغیر ہوگیا اور آواز میں بھی نمایاں تبدیلی آگئی ، پھر بھی وہ بغیر کسی شک و تردد کے کہہ رہے ہیں کہ تم‌ حافظ مجیب الرحمٰن کے پوتا ہو – جبکہ وہیں کے دوسرے بہت سے اساتذہ نے (جن‌ سے میرا واسطہ بھی حضرت کے بالمقابل زیادہ پڑا) مجھے ابتداءا پہچاننے سے انکار کردیا اور پھر جب میں نے اپنا تعارف کرایا اور انہوں نے بھی اپنے ذہن پر بہت زور ڈالا تب جاکر پہچاننے کے تعلق سے کسی طرح اثبات میں سر ہلایا –

           ایک عالم باعمل اور ولی کامل کے اندر جتنی خوبیاں اور کمالات ہوتی ہیں ، حضرت مولانا دامت برکاتہم العالیہ میں بھی تقریباً وہ تمام کمالات اور اوصاف حمیدہ پائی جاتی ہیں، جن کو اگر بالتفصیل ذکر کیا جائے تو ایک مکمل کتاب تیار ہوجائے گی ، جبکہ سردست راقم الحروف کا مقصد بشکل مضمون مولانا کے تعلق سے ایک مختصر تاثراتی مضمون قلمبند کرنا ہے ، لہذا اختصار کے ساتھ صرف ان ہی خوبیوں کے ذکر پر اکتفاء کیاجائے گا ، جس کا میں نے ان کے اندر بذات خود مشاہدہ کیا اور جس نے مجھے متاثر بھی کیا ہے-

           حضرت مولانا کی ایک اہم خوبی عاجزی وانکساری ہے ، آپ سادات خاندان سے ہونے کے ساتھ ایک عظیم باپ کے عظیم فرزند ارجمند ہیں – آپ کے والد حضرت مولانا سید محمد شمس الحق صاحب ویشالوی رحمۃاللہ علیہ تقریباً چالیس سال تک مسلسل بہار کے مشہور ومعروف ادارہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں شیخ الحدیث کے باوقار عہدہ پر فائز رہے اور ہزاروں طالبان علوم نبوت کو علوم حدیث سے مستفید کیا ، نیز آپ بھی باعمل ہونے کے ساتھ باصلاحیت عالم دین ہیں اور چالیس سال تک مسلسل ویشالی ضلع کے ام المدارس مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں مختلف علوم وفنون کی ابتدائی کتب سے لے کر انتہائی کتب تک کا درس بھی دیا ،مختلف دینی پروگراموں کے اسٹیج کی زینت بنتے رہے اور آج بھی بنتے ہیں ، پڑھنے، پڑھانے کے ساتھ ساتھ نثر و نظم ہر دو صنف سخن میں خامہ فرسائی کا نفیس ، ستھرا اور اعلی ذوق رکھتے ہیں ، اور اپنے خیالات وافکار کو بشکل نظم یا نثر انتہائی سادہ ، سلیس اور ٹکسالی زبان ، خوبصورت اسلوب اور دلچسپ و دلکش طرز بیان میں اس طرح ڈھال دیتے ہیں کہ وہ ایک اعلی درجہ کا ایسا ادبی شہ پارہ بن جاتاہے جو قارئین‌ کی پہلی پسند ہونے کے ساتھ ان‌ سے خوب داد وتحسین بھی وصول کرتاہے ، چنانچہ نعتیہ قصیدہ ، سہرا اور قطعات تاریخ وفات وغیرہ پر مشتمل ایک مجموعہ ” انوار قمر” کے نام سے منظر عام پر آکر قارئین سے خوب داد وتحسین وصول کرچکاہے ، سینکڑوں علمی ، ادبی ،مذہبی اور سوانحی مضامین اخبارات ورسائل کی زینت بن چکے ہیں ، اس کے علاوہ درجنوں کتابوں پر لکھے گیے تقاریظ، دعائیہ کلمات ، تاثرات اور تحقیقی وتنقیدی تبصرے ہیں ، جنہیں اگر مرتب کرکے کتابی شکل میں شائع کیا جائے تو کئی جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب منظر عام پر آسکتی ہے ، خلاصہ یہ کہ آپ نے حوائج بشریہ سے فارغ اوقات شب وروز کو اوراد و وظائف ، مطالعہ کتب اور مختلف موضوعات پر علمی،ادبی ، مذہبی اور سیرت وسوانحی نوعیت کے مضامین لکھنےاور شعر وشاعری کے میدان میں طبع آزمائی کرنے کے ساتھ خاص کررکھا ہے ، لیکن اس کے باوجود خواص ہی نہیں بلکہ عوام الناس میں سے بھی کوئی کسی بھی ٹائم پہلے سے اطلاع دیئے بغیر ان کے دولت کدہ پر جاکر ان سے ملاقات اور گفت و شنید کرسکتا ہے اور ان کے سامنے اپنے مسائل بیان کرسکتا ہے ، یہی حال ٹیلی فون کال کا بھی ہے کہ اوقات شب وروز میں سے جس وقت بھی جو چاہے انہیں کال کرسکتا ہے ، وہ کال ریسیو کرنے کے بعد مصروف و مشغول لوگوں کی طرح بے وقت کال کرنے کی وجہ سے نہ تو غصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی زجز وتو بیخ کا شکار بناتے ہیں ، بلکہ انتہائی خوشگوار موڈ میں ہم کلام ہوکر تجربات پر مبنی ہدایات ، انمول نصیحتوں اور دین ودنیا کی ہرطرح کی بھلائیوں کے تعلق سے دعاؤں سے نوازتے ہیں ، خود راقم بھی جب کبھی اداسی کی کیفیت محسوس کرتا ہے تو کبھی اپنے والدین میں سے کسی سے بات کرلیا کرتاہے اور کبھی حضرت مولانا کو بلا جھجھک کال کردیتا ہے ، جوں ہی حضرت کی محبت آمیز و مشفقانہ لہجہ والی یہ آواز ” عزیزم کیسے ہیں ” پردۂ سماعت سے ٹکراتی ہے ، یکلخت ساری اداسی خوشی ومسرت کی کیفیت میں تبدیل ہوجاتی ہے ، حال و احوال دریافت کرتے ہیں ، پھر علم وعمل اور دینی ودنیوی ہر طرح کی ترقیوں سے ہم کنار و بہرہ ور ہونے کی دعاؤں سے نوازتے ہیں ، اللہ پاک اپنے فضل وکرم سے ان کی تمام دعاؤں کو راقم الحروف کے حق میں قبول فرمائے – آمین

          حضرت مولانا کی خوبیوں کے زمرے میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ اسباب مہیا ہونے کے باوجود جھگڑا، لڑائی ، گالم گلوج اور باہمی بحث وتکرار سے حددرجہ اجتناب کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج تک نہ تو راقم نے خود دیکھا اور نہ ہی کسی سے سنا ہے کہ حضرت کی کسی سے کسی بات پر لڑائی ہوگئی ہے یا آپ نے کسی سے کسی بات کو لے کر بحث وتکرار کیا ہے ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مدرسہ کے طالب علمی کے زمانہ سے لے کر آج تک جس سے بھی حضرت مولانا کے تعلق سے بات ہوئی ، کبھی بھی کسی کو بھی حضرت مولانا کی بداخلاقی ، بد مزاجی ، فطری کجی ، تلخ کلامی ، ترش روئی ، حسد ، جلن ، بغض وعداوت ، کینہ پروری اور عجب و غرور حتی کہ کسی بھی طرح کی کوئی برائی کرتے نہیں سنا ، بلکہ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں کسی نہ کسی حوالے سے حضرت کی تعریف میں رطب اللسان نظر آیا ، اگر آپ کو میری ان مذکورہ باتوں پر یقین نہ آرہا ہو تو آپ بھی حضرت سے مل کر اور ان کے زیرِ سایہ حسنہ یا رابطہ میں چند سالوں تک رہ کر دیکھ سکتے ہیں –

       حضرت مولانا کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دوستوں ، شاگردوں اور عزیزوں کا حد درجہ خیال رکھتے ہیں ، چاہے ان کا شاگرد ان سے رابطہ و تعلق رکھے یا نہ رکھے – ابھی چند ایام قبل کی بات ہے کہ اچانک حضرت کے نمبر سے رات میں میرے پاس کال آئی ، موبائل سائلنٹ ہونے کی وجہ سے مجھے پتا نہ چلا ، جب دیر رات موبائل کھولا اور حضرت کا مس کال دیکھا تو میں گھبرا گیا کہ کہیں حضرت کے ساتھ کوئی سانحہ یا ناگوار حادثہ تو پیش نہیں آگیا کہ جس کی اطلاع دینے کے لیے مجھے کال کیا گیا ہے ، لیکن آدھی رات یعنی بارہ بج جانے کی وجہ سے اپنی طرف سے لوٹانا بھی مناسب نہیں سمجھا ، لیکن کافی دیر تک میرے ذہن میں ان کے تعلق سے مختلف قسم کے خیالات و خدشات گردش کرتے رہے ، خیر ! کسی طرح رات کی تاریکی صبح کی سفیدی میں تبدیل ہوگئی ، میں بستر استراحت سے بیدار ہوا اور سب سے پہلے حضرت کو کال کیا ، حضرت نے کال اٹھا کر وہی جملہ ” عزیزم کیسے ہیں ” دہرایا تو اضطرابی کیفیت سکون و طمانیت میں تبدیل ہوگئی اور بے پناہ خوشی بھی حاصل ہوئی ، پھر فرمایا : مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی کی طرف سے وہاں کی سوسالہ تاریخ کی ترتیب کا کام آخری مرحلے میں ہے ، کل مولانا قمر عالم ندوی میرے پاس مسودہ دکھانے کیلئے لے کر آئے تھے ، میں نے از ابتداء تا انتہا دیکھا ، لیکن اس میں نہ تو میرے رفیق خاص حافظ مجیب الرحمٰن مرحوم کا کہیں کوئی تذکرہ تھا اور نہ ہی میرے لائق وفائق شاگر آل حسن کا ، لہذا میں نے قمر عالم صاحب سے کہاہے کہ ان دونوں کا تذکرہ اس میں ہر حال میں آنا چاہیے ، پھر میرے ذہن میں دادا اور ابو کی حیات وخدمات پر لکھے گیے آپ کے تاثراتی مضامین کا خیال آیا تو میں نے قمر عالم سے کہا کہ ان دونوں کے تعلق سے عزیزم ساجد کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے کو لےکر اس میں شامل کرلو ، لہذا سردست میں نے آپ کو اس لیے کال کیا ہے کہ وہ دونوں سوانحی خاکے / تاثراتی مضامین آپ یاد سے انہیں بھیج دیجیے ، میں شام کو قمر عالم صاحب سے کال کرکے پوچھوں گا کہ عزیزم ساجد نے وہ تاثراتی مضامین آپ کو ارسال کیا یا نہیں – آپ یقین جانیے کہ حضرت مولانا کے پچاسی سال کے قریب کی عمر میں اپنے شاگردوں اور عزیزوں کا اس درجہ خیال رکھنے کی وجہ سے جہاں مجھے خوشی ہوئی ، وہیں حیرت بھی، کہ اس کبر سنی میں بھی حضرت مولانا نے دائمی طورپر بچھڑگیے اپنے دوست اور شاگرد کو دل میں بسا رکھا ہے ، اور یہی وہ خوبی ہے ، جس کی وجہ سے ہر چھوٹا ، بڑا اور عالم وجاہل سب ان کا مداح نظر آتاہے ، یقیناً ایسے اشخاص تاریخ کے اوراق میں تو ملتے ہیں ، لیکن انسانوں کے غول میں بسیار تلاش کے بعد بھی بمشکل اکا دکا ملتے ہیں-

        حضرت مولانا خوش اخلاق ، ملنسار ، عملی نفاق اور ریا کاری و نام ونمود سے کوسوں دور ہیں – جس طرح آپ کے اساتذہ ، بالخصوص عظیم والد بزرگوار نے پوری کوشش اور محنت کرکے آپ کو ظاہری اوصاف وکمالات کا مجموعہ بنایا ، اسی طرح تزکیۂ باطن کے ذریعہ احسان وسلوک اور تصوف و معرفت کے میدان کا بھی شہسوار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کی زبان چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ذکر الہی سے تر اور قلب یاد الٰہی سے معمور رہتا ہے ، لیکن ان کے کسی قول وعمل سے آپ کو اس کا ذرہ برابر بھی احساس نہ ہوگا کہ ان کا تصوف کے کسی سلسلہ سے تعلق ہے اور انہیں اس سلسلے میں مرید کرنے اور خلافت دینے کی مکمل اجازت حاصل ہے ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کا نورانی اور منور چہرہ اس بات کی مکمل گواہی دیتا نظر آتاہے –

         لیکن افسوس کہ آج کی دنیا ان عمل سے خالی چالاک و عیار اور مکار ودغاباز مولویوں اور پیروں کو اپنا مصلح و دینی راہنما اور پیر و مرشد مان کر ان کے پیچھے چلنے لگتی ہے اور ان کا پرچارک بھی بن جاتی ہے ،جو اپنی چال بازیوں اور ریاکاریوں کے ذریعہ دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کی نظر میں خود کو ولی کامل باور کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، اور حضرت مولانا جیسے خدا رسیدہ بزرگ اور ولی کامل حین حیات جس قدر دانی کے مستحق ہوتے ہیں ، اس کا عشر عشیر بھی ان کے حصے میں نہیں آپا تاہے – اس لیے علم دوست اور اولیاء اللہ کی صحبت سے فیض یابی کے خواہشمند احباب کی خدمت میں درج ذیل شعر پیش کرنے کو ناگزیر سمجھتا ہوں، شاید کہ اتر جائے تیرے دل‌ میں میری بات :

      ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

     تعبیر ہے جس کی حسرت وغم اے ہم نفسوں وہ خواب ہیں ہم

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply