شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

مولانا عبدالحمید نعمانی

پرانے شودروں اور نئے دلتوں کے ساتھ بھارت میں جو کچھ ہوتا رہا ہے،وہ انسانی تاریخ کا دردناک باب اور اذیت ناک داستان ہے، اسے بدلنے میں جیوتی با پھولے، ڈاکٹر امبیڈکر، سوامی پیری یار جیسی شخصیات کا بنیادی کردار ہے، ان کی جدوجہد سے ملک میں سماجی و سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ، مذہبی افکار و روایات میں بھی بدلاؤ اور برہمن وادی عناصر کی طرف سے مختلف طبقات کے لیے طے کردہ فرائض و مراسم کی بنیادیں بھی متزلزل ہو گئیں، صورت حال کی تبدیلیوں کے نتیجے میں خالی ہونے والی جگہوں کو پر کرنے کا تشویش ناک سوال، ان برہمن وادی عناصر کے سامنے کھڑا ہو گیا جو سماجی تقسیم و تفریق اور جذبہ تفوق کے احساس اورنفرت وعداوت کی ذہنیت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں، سماجی و تہذیبی تقدیس و تحقیر کے جذبے کے بنا زندگی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے کہ ان کی زندگی میں مثبت و تعمیری افکار و اعمال تقریبا فقدان ہے، خدمت گار دلتوں اور محنت کشوں کی بڑی تعداد، بدلتے حالات میں برہمن واد کی چاکری و محکومی سے باہر ہو گئی ہے اور گزرتے دنوں کے ساتھ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی تلافی، کل کے شودروں کی جگہ آج کے مسلمانوں کو لانے کی کوششوں کا آغاز، ملک کی آزادی کے بعد ہی تیز سے تیز تر کر دیا گیا تھا، اسی کا حصہ فرقہ وارانہ فسادات ہیں، لیکن مسلمان اس معاملے میں توقع سے زیادہ سخت جان با حوصلہ ثابت ہوئے ہیں، مولانا آزاد رح، مولانا مدنی رح وغیرہ کو اس کا شدت سے احساس تھا، اسی کے پیش نظر وہ نظریہ متحدہ قومیت کو فروغ دے کر تقسیم ہند کو ہر قیمت پر روکنا چاہتے تھے، حکومت ہند کے امور خارجہ کے سکریٹری اور بعد میں جمیعتہ علماء کرام کے شعبہ سکریٹریٹ کے ذمہ دار قاضی مسعود حسن میرٹھی نے تقسیم وطن کے فورا بعد مولانا آزاد رح سے ملاقات کی تھی، بات چیت میں مولانا آزاد رح نے کہا کہ میرے بھائی تقسیم ہند نے حالات کے رخ کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو شودروں کی جگہ لانے کی کوشش کی جائے گی، ہم لوگوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، حالات کا بصیرت و جرآت سے مقابلہ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن بصیرت پر جذباتیت اور فرقہ پرستی غالب آ گئی،

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم
شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

قاضی مسعود حسن مرحوم، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح سے بہت قریبی اور بیعت و اصلاح کا تعلق رکھتے تھے انہوں نے مرحوم سعید سہروردی اور ہمارے اصرار سے اپنی سرگزشت کو” کچھ یادیں، کچھ باتیں "کے نام سے مرتب کر کے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے، اس میں مولانا آزاد رح سے ملاقات و مکالمے کو بھی شامل کیا ہے، مسلمانوں کو، ان کی تذلیل و تحقیر کرتے ہوئے، شودروں سے زیادہ پست تر حالت و حیثیت میں پہچانے کی مختلف سطحوں پر کی جانے والی کوششوں پر بہت سے انصاف پسند غیر مسلم بھی اظہار خیال کرتے رہے ہیں، دلتوں، محنت کش طبقات سے برہمن وادی عناصر ، نفرت و حقارت کا جذبہ تو رکھتے ہی ہیں لیکن مسلمانوں سے نفرت و حقارت کے ساتھ مفروضہ تاریخ کا بدلہ لینے کا جذبہ بھی شامل ہو گیا ہے، اس میں گنوار قسم کے عام افراد سے لے کر تعلیم یافتہ خواص بھی پیچھے نہیں ہیں، سیاسی و مذہبی لیڈر و رہ نما بھی کھلے عام اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں ،اس سے ان کا فساد پسند، غیر مہذب، وحشی ہونا ثابت ہوتا ہے، انھوں نے ایک طرح سے مہذب سماج و نظام میں رہنے کا جواز کھو دیا ہے، آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما، جس نفرت انگیز ذہنیت و رویے کا اظہار کرتے رہتے ہیں وہ بہت سے ہندوتو وادی فرقہ پرستوں میں پایا جاتا ہے، وہ مسلمانوں کے وجود اور برائے نام بھی عزت کی زندگی جینے کو کسی قیمت پر انگیز و برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، شرمناک تو یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کے مناصب پر فائز رہتے ہوئے فرقہ وارانہ رویے و ذہنیت کے اظہار میں ذرا بھی شرم و لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے، سنگیت سوم جیسے لوگ کھلے عام کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہیے، یہ سب کچھ آزاد جمہوری بھارت میں ہو رہا ہے، مسلمانوں کی سخت جانی اور حوصلے نے فرقہ پرست عناصر کو بری طرح بوکھلاہٹ اور اذیت ناک بے چینی میں ڈال دیا ہے، وہ ملوں، مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے، اپنے ہم خیال لوگوں سے خون مانگتے دکھائی دے رہے ہیں ،مسلمانوں کو شودروں، دلتوں سے بھی زیادہ پست تر حالت میں پہچانے کے خونی و انتقامی جذبے نے آتش فشاں پر کھڑا کر دیا ہے، اس سلسلے میں آزادی کے بعد کے حالات کو دیکھتے ہوئے معروف دلت لیڈر، بی، شیام سندر نے جو پیشن گوئی کی تھی، وہ حقیقت میں بدلتی نظر آتی ہے، انھوں نے 1970 کو دہلی میں منعقد، آل انڈیا مسلم پولیٹیکل کنونشن میں کہا تھا

"ہندستان کے مسلمان، گزرے ہوئے کل کے اچھوت سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں، اگر میں اس تلخ سچائی کے اظہار کی جرآت، اپنے اندر پیدا کر سکوں تو بلا خوف و تردید یہ کہوں گا کہ اگر میرا تعلق گزرے ہوئے کل کے اچھوتوں سے ہے تو آپ آنے والے کل کے اچھوت بننے جا رہے ہیں، اس کے برعکس کوئی رائے رکھنا یا خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے، آپ اس سیاسی حقیقت کو پوری طرح ذہن نشین کر لیں، قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں آزاد سوچ والے مسلمانوں اور اچھوتوں کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے، تمام سہولتیں اور مراعات، خیمہ برداروں کے لیے ہیں، مسلمان اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تاریخ بھی، جس پر وہ کبھی کبھی فخر کرتے ہیں، انتقامی جذبے کے ساتھ، از سر نو لکھی جا رہی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی پر فخر بھی نہ کر سکیں، اچھوتوں کے ساتھ موازنہ، میرے نکتے کو واضح کر دے گا، آریا جب ہندستان آئے تو یہاں کے اصل باشندے، "مول بھارتی ” بہت مہذب اور خوش حال زندگی گزار رہے تھے ،ان کا ماضی بہت ہی عظیم تھا، جسے آریوں کے حملہ آور گروہوں نے تاریخ کے صفحات سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا "

(بی شیام سندر کا خطاب، شائع ماہنامہ مسلم انڈیا ،اپریل 1989،صفحہ 43، بی شیام سندر، حیات و خطبات صفحہ 111،مطبوعہ سامانتر بک ہاؤس، حیدر آباد، )

بی شیام سندر کی اس آگاہی پر مسلم سماج اور دلت طبقات نے مطلوبہ توجہ نہیں دی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم سماج یک طرفہ طور سے، پس کردہ اقوام، دلتوں سے بھی بدتر حالت کی طرف بڑھتا چلا گیا اور فرقہ پرست فاشسٹ عناصر، آر ایس ایس وغیرہ کی سر پرستی میں ملک کے تمام دروبست اور سبھی شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہوتے چلے گئے اور اب یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ مسلمانوں کا وجود اور ان کی مذہبی و تہذیبی شناخت کو ایک ایک کر کے ختم کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، بی شیام سندر نے اپنے خطبے میں پوری کے شنکر آچاریہ کا 1971 میں دیا وہ بیان بھی نقل کیا ہے، جس میں انہوں نے تھا

"مسلمان، عیسائی اور اچھوت ،کتوں، بلیوں سے کچھ بہتر نہیں ہیں "

مرحوم ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ہم سے کئی بار اس احساس کا اظہار کیا

"گزرتے دنوں کے ساتھ، ایسی طاقتیں بڑی تیزی سے ملک کے تمام شعبوں پر قابض ہوتی جارہی ہیں جو مسلمانوں کو شودر شمبوک قرار دے کر ختم کر دینے کی خواہاں ہیں، ان کو نائب صدر جمہوریہ اور بڑے بڑے مناصب پر فائز رہ چکے، حامد انصاری جیسے موقر آدمی کی صحیح بات بھی انگیز نہیں ہے، تمام مسلمانوں کو شودروں سے بھی بد تر حالت میں پہنانے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، لیکن کیا مسلمان اتنی جلدی اس حالت کو قبول کر لیں گے، ہمارا جواب فی الحال نفی میں ہے، "

یہ حقیقت ہے کہ آج بھی جمیعتہ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مسلم پرسنل لاء بورڈ، ان کے سربراہان، مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی،وغیرہم کسی نہ کسی درجے میں قوت مزاحمت کی نمائندگی کر رہے ہیں، بہت سے انصاف پسند، انسانیت نواز، سیکولر غیر مسلم، برادران وطن بھی برہمن وادی فاشزم کا مقابلہ و مزاحمت کر رہے ہیں ایسی حالت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کو شودروں کے زمرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش، ہندوتو وادیوں کی خواہش اور طے کردہ وقت میں پوری و کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے، گرچہ ان کی طرف سے کوئی کمی، کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے،

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply