شکیل سہسرامی

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی

شکیل سہسرامی نے دنیا کو خیرباد کہہ دیا، ۲۱/جولائی ۵۲۰۲ء؁ مطابق۶۱/محرم الحرام ۷۴۴۱ھ؁ بروز سنیچر اپنی قیام گاہ سمن پورہ، راجہ بازار پٹنہ میں آخری سانس لی، کبھی پیٹ میں چوٹ آئی تھی، وہ پہلے السر، پھر کینسر بن گیا علاج پارس ہوسپیٹل اور بدھا ہوسپیٹل پٹنہ میں کرایا گیا، راجیو گاندھی کینسر ہوسپیٹل دہلی بھی گیے، لیکن”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ جنازہ آبائی وطن سہسرام لے جایا گیا، بعد نماز عشاء کرن سرائے مسجد کے امام حافظ رئیس احمد نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور حاجی حرمین تین کونی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ نسرین بانو، دو لڑکے محمد فیصل امین، محمد وارث علی اور ایک لڑکی رفعت فاطمہ ہے، سبھی غیر شادی شدہ ہیں اور برسر روزگار بھی کوئی نہیں ہے، شکیل صاحب چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، دو بھائی پہلے اللہ کو پیارے ہوچکے تھے، ان کے ایک بھائی مختار احمد خاں شگفتہ سہسرامی کا ۹۲/اپریل کو اسی سال انتقال ہوگیا تھا، اب تین بھائیوں انوار احمد خاں عرف انو، سردار احمد خاں اور یٰسین احمد خاں حیات سے ہیں، اللہ ان سب کو سلامت رکھے۔

شکیل سہسرامی
شکیل سہسرامی

محمد شکیل خاں بن ابو المناظر مولانا مولوی عبد الوحید خاں غازی شمسی بن محمد اسماعیل خاں بن بہادر خاں بن سخاوت خاں کی ولادت ۵/جولائی ۶۶۹۱ء؁ کو مولوی عبد الوحید منزل کرن سرائے، سہسرام میں ہوئی، ان کی والدہ کا نام صالحہ خاتون اور نانا کا نام اسحاق خاں تھا، ان کی دادی ہال، نانی ہال اور سسرال سب سہسرام ہی میں تھی، ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے اردو تک کی تعلیم بھی سہسرام ہی میں حاصل کی، وہیں کے پرائیویٹ اسکولوں میں تدریسی خدمات سے وابستہ رہے، ۹۹۹۱ء؁ میں ان کی بحالی ودھان پریشد میں اسسٹنٹ سکشنل افسر کے عہدے پر ہوئی اور تادم آخر اسی عہدے پر فائز رہے۔

شکیل سہسرامی سے میرے تعلقات قدیم تھے، اب یاد بھی نہیں کہ اس کی شروعات کب ہوئی تھی، وہ فی البدیہ شاعر تھے اور موقع بموقع اپنے کلام سے نوازتے رہتے تھے، ان کا مجموعہئ کلام آوارجہ آیا تو میں نے نقیب میں اس پر تبصرہ لکھا، جو ملک کے بہت سارے اخبارات میں اشاعت پذیر ہوا، تو انہوں نے وھائٹسپ پر اس کا شکریہ ادا کیا اور لکھا: ”ماشاء اللہ، بہت خوب، بہت اچھا، بہت شکریہ، محبت، نوازش، کرم، عنایت، مہربانی، زبردست، یہ ناچیز آپ کا انتہائی ممنون ومشکور ہے، یہ احسان تاحیات یاد رہے گا ؎

محبت کی بارش، عنایت کی بارش

مثالی ہے حضرت اشاعت کی بارش

پھر جب میری کتاب ”آفتاب جو غروب ہوگیا“ کا اجراء بہار اردو اکیڈمی میں ہوا، تو انہوں نے برجستہ یہ اشعار کہے اور اجراء کی تقریب میں پڑھ کر سنایا بھی ؎

باہنر باوفا کی محفل ہے

یہ ثناء الہدیٰ کی محفل ہے

کیوں نہ ذی علم کا ہجوم رہے

ایک مرد روا کی محفل ہے

ان کی ترتیب کا ہے اجراء آج

آج دیکھو بلا کی محفل ہے

کیوں نہ محفل یہ خود پہ ناز کرے

مصطفی کے گدا کی محفل ہے

کہہ رہی ہے کتاب حضرت کی

خوش نظر خوش ادا کی محفل ہے

حاضری کہہ رہی ہے لوگوں کی

حق نگر حق نوا کی مجلس ہے

کیوں نہ رونق ہو بزم اجراء میں

بندگان خدا کی محفل ہے

گذشتہ اپریل میں جب ان کے بھائی مختار احمد خاں شگفتہ سہسرامی کا انتقال ہوا، میں نے ان پر نقیب میں مضمون لکھا، اس کا شکریہ شکیل صاحب نے ان الفاظ میں ادا کیا:

”شفقت ومحبت میں ڈوبا ہوا آپ کا مضمون پڑھا، بہت اچھا لگا، آپ کی اس بہترین بے لوث خامہ فرسائی کا صمیم قلب سے شکریہ، آپ کی مؤقر خامہ فرسائی کلی طورپر اطمینان بخش ہوتی ہے، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو، اللہ تعالیٰ آپ کو تمام خوشیوں کے ساتھ مدتوں سلامت اور شاد رکھے، اللہ کریم دونوں جہاں میں بے شمار عزتیں عطا کرے، آمین یارب العالمین“

شکیل سہسرامی کی شناخت ایک شریف اور اچھے انسان کی تھی، خان ہونے کے باوجود وہ تواضع وانکساری کے مجسمہ تھے، اسی انکساری نے ان سے یہ شعر کہلوایا جوان کے مجموعہئ کلام آوارجہ میں شامل ہے۔

یہ اور بات کہ اس میں ہیں خامیاں کافی مگر خوشی ہے کہ سارا کلام اپنا ہے

شکیل سہسرامی کی دوسری شناخت فی البدیہ شاعر کی تھی، ان کا پہلا مجموعہ کلام آوارجہ (2017) دوسرا نظافت سخن (2019) اور تیسرا ابر سخن چھپ کر منظر عام پر آچکا تھا، چوتھا زیر ترتیب تھا، ان کی نثری تحریروں کا مجموعہ ”گل بانگ چشم وقلم“ بھی مطبوعہ شکل میں موجود ہے۔

شکیل صاحب کی شاعری میں آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں ہے، مضامین کے اعتبار سے ان کی بعض غزلیں کلاسیکی انداز کی ہیں، جن کے اشعار میں محبت وعشق کی کیفیات، جذبات واحساسات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے، بعض غزلیں غم روزگار اور عصری مسائل ومشکلات پر مرکوز ہیں، ان کے تجزیہ سے ترقی پسندی کی بو آتی ہے۔

شکیل سہسرامی غم یار کی بات کرتے ہوں یاغم روزگار کی، قاری کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیتے، سادے اور صاف اسلوب میں وہ قاری کے ذہن ودماغ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس حملے کے نتیجے میں قاری کے ذہن ودماغ کے سارے دریچے وا ہوجاتے ہیں، انہوں نے اپنی شاعری میں جن لفظیات کا استعمال کیا ہے ان میں تعقید لفظی ومعنوی، تنافر حروف اور غرابت لفظی کا کہیں گذر نہیں ہے۔

شکیل سہسرامی کا شعری سفر جاری تھا، آئندہ سال جولائی میں انہیں ملازمت سے سبکدوش ہونا تھا، انسٹھ سال کی عمر تھی، حوصلہ جواں اور کچھ کرتے رہنے کا عزم تھا، دنیوی سارے کام بھی باقی ہی تھے، کسی لڑکے، لڑکی کی شادی بھی نہیں کی تھی اور کوئی برسرروزگار بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کی کتاب زندگی کا آخری ورق الٹ گیا، مجھے ان کی بیماری کا بھی علم نہیں تھا، معلوم اس وقت ہوا جب وہ اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں ملنے والے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ لینے کے لیے خود گورنمنٹ اردو لائبریری حاضر نہیں ہوسکے اور ان کے لڑکا نے ان کی جانب سے یہ ایوارڈ وصول کیا، حاضر تو میں بھی اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا، یہ اتفاق ہی تھا کہ گورنمنٹ اردو لائبریری کی انتظامیہ نے انہیں اور مجھے اس ایوارڈ کے قابل سمجھا تھا، جن لوگوں کو یہ ایوارڈ امسال دیا گیا ان میں ایک نام مولانا ابوالکلام قاسمی، شمسی کا بھی تھا۔

شکیل صاحب آپ چلے گیے، جانا ہم سب کو ہے، اب قیامت ہی میں ملاقات ہوگی، الوداع، الوداع، اللہ آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے پس ماندگان کو صبرجمیل دے، جن سے ظاہری سہارا چھین لیا گیا ہے، جب سارے سہارے چھن جاتے ہیں تو اللہ بلاواسطہ سہارا بن جاتا ہے، ایسا ہمیں یقین ہے کہ آپ کے پس ماندگان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare