شیخ المشائخ حضرت شاہ سلطان مجددی لکھمنیاوی. حیات جاودانی کے چند اوراق

رشحات قلم :مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ سے اللہ رب العالمین نے پورے ہندوستانی میں تجدیدِ دین اور اصلاح خلق کا کام لیا، اکبری دور کے الحاد اور بددینی کے سیلاب کے سدِ باب کے لیے آپ اور آپ کے خلفاء سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار بن کر استقامت وعزیمت کے وہ عظیم نقوش قائم کیے جو تاریخ کا زریں باب ہے. آپ کے خلفاء میں سب سے نمایاں نام حضرت سید آدم بنوری مجددی حسینی کا ہے ۔

شیخ المشائخ حضرت شاہ سلطان مجددی لکھمنیاوی. حیات جاودانی کے چند اوراق 
شیخ المشائخ حضرت شاہ سلطان مجددی لکھمنیاوی. حیات جاودانی کے چند اوراق

آپ کا فیض آپ کے گرامی مرتبت خلفاء کے ذریعہ چہار دانگ عالم میں پھیلا ۔

آپ کے خلفاء میں ایک عالی مرتبت بزرگ اور جلیل القدر خلیفہ حضرت مولانا شیخ سلطان مجددی لکھمنیاوی کے ذریعہ سلسلہ مجددیہ بنوریہ کا فیضان شمالی اور مشرقی ہندوستان میں عام ہوا ۔

ہندوستان کی شمالی ریاست بہار وہ خوش نصیب سرزمین ہے جسے ہر زمانے میں اکابر اولیائے کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے ۔

 انہی نفوسِ قدسیہ کے فیضانِ نظر سے یہاں رشد و ہدایت کی شمعیں روشن ہوئیں، قرآن و سنت کی تعلیمات عام ہوئیں، اور شریعت و طریقت کی روح پرور فضا نے اس خطے کو منور کیا۔ ان ہی جلیل القدر اولیاء میں ایک درخشاں اور نمایاں نام سرتاجِ اولیاء حضرت شیخ سلطان بلیاوی لکھمنیوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنی غیر معمولی عظمت، علمی و روحانی رفعت، اور شریعت و طریقت میں امتیازی مقام کے باوجود آج ان کا نام اور ان کی گراں قدر خدمات گمنامی کی دھند میں اوجھل ہو چکی ہیں۔

 حالاں کہ شیخ سلطان بلیاوی ، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے جد امجد حضرت شاہ علم اللہ رائے بریلی کے خاص الخاص رفیق اور پیر بھائی ہیں، دونوں کو روحانی فیضان، کمال معرفت اور تمغۂ خلافت ایک ہی در سے حاصل ہوا، دونوں ہم پلہ وہم رُتبہ بزرگ تھے ۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے ایک مجلس میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے جد امجد حضرت شاہ علم اللہ کے علاوہ حضرت آدم بنوری کے دوسرے بھی کوئی اس پائے کے خلیفہ تھے ؟ انھوں نے فرمایا تھا: ” ہاں، اس پایے کے خلیفہ حضرت سلطان بلیاوی ہیں ۔

 یہ بلیا یوپی کا نہیں، بلکہ یہ بلیا بہار میں ہے ، وہاں گنگا ندی کے کنارے ان کا مزار ہے، جیسے شاہ علم اللہ کا تکیہ ندی کے کنارے ہے ، جامعہ ام القریٰ میں نشاط صاحب ہیں جو وہاں پڑھاتے ہیں، ہم سے تعلق رکھتے ہیں، وہ انہی کی اولاد میں سے ہیں۔“ (مجالس حسنہ، ۱۹۹۶/۱۰/۲۸، ص ۳۰۹ مرتبہ جناب مولانا محمد فیصل بھٹکلی )

حضرت شیخ سلطان لکھمنیوی انتہائی قوی النسبت اور بلند پایہ بزرگ تھے ۔ اس سے زیادہ بلند جتنا لوگ عام طور پر سمجھتے ہیں۔ ان کی صحبت میں بجلی کی طرح قلب و روح کو زندہ کرنے والا جو اثر تھا وہ اتنا غیر معمولی تھا کہ آج بہت سے اہل علم کے لیے اس پر یقین کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن جب شہادت انتہائی پائے کی شخصیت، حضرت آدم بنوری کے خلیفہ حضرت شیخ محمد امین بدخشی کی ہو تو مانے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ۔

علامہ بدخشی لکھتے ہیں: ”جو بھی ایک مرتبہ آپ کی زیارت کر لیتا ہے، تمام عمر اس کے دل میں زیارت کی تمنا برقرار رہتی ہے۔ آپ کی گفتگو اس طرح کی ہوتی ہے کہ اسے سُن کر طالب بے خود ہو جاتے ہیں، آپ کے کلام میں بلا کی جاذبیت ہے. ” ابتدائی زمانے میں جب کبھی آپ ذکر کرتے تو چوپائے بھی آپ کے ہمراہ ذکر کرنے لگتے“

(نتائج الحرمین قلمی صفحات ۲-۳)۔

“نام رفتگاں ضائع مکن” کے مصداق یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اتنی عظیم شخصیت کے حالاتِ زندگی، اوصافِ حمیدہ اور خدماتِ جلیلہ کو نئی نسل تک پہنچائیں۔ زیرِ نظر سطور اسی مقصد کی ایک ادنیٰ کاوش ہیں۔

حضرت کا اسمِ گرامی “سلطان” تھا۔ آپ تقریباً 1020ھ میں موضع پوکھریا، متصل بڑی بلیا (سابق ضلع مونگیر، موجودہ ضلع بیگوسرائے) میں ایک معزز شیخ صدیقی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ شوقِ علم نے آپ کو کم عمری ہی میں بے چین کر دیا، چنانچہ محض پندرہ برس کی عمر میں، مغل شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں، سنہ 1035ھ کے قریب وطن چھوڑ کر علمی سفر پر روانہ ہوئے۔اور تقریباً بارہ سال تک مسلسل یکسوئی کے ساتھ طلبِ علم اور کسبِ معرفت کی راہ پر لگے رہے ۔

 تعلیم کے لیے گھر سے باہر قدم نکالنے کے بعد بارہ برس کی طویل مدت تک آپ نے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھا اور پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور اس مدت میں جو بھی غریب الوطنی کی فطری آزمائشیں آپ پر آئیں، انھیں تنہا ہی برضا ورغبت برداشت کیا۔ آپ اس حد تک گھر سے لاتعلق ہوگئے تھے کہ آپ کے خویش واقارب کو آپ کے گم ہونے اور کھو جانے کا ظن غالب ہوگیا تھا.

مؤلف ” تاریخ سلطانی حاجی شاہ محمد عثمان لکھتے ہیں کہ آپ کا پوکھریا اپنے گھر واپس آنا بالکل اچانک تھا۔ اچانک ایک دن ان کی دودھ ماں نے انھیں راستے میں دیکھا اور دوڑ کر گھر کی خواتین کو خبر پہنچائی کہ ”سلطان بابو جو غائب ہو گئے تھے، واپس آگئے ۔

 گھر والوں کے لیے ان کے مفقود الخبر ہونے کی شہادت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ان کی خیر و خبر کی اطلاع نہیں ہونے کی وجہ سے انتظار کرنے کے بعد گھر والوں نے ان سے منسوب لڑکی کا رشتہ دوسری جگہ طے کر دیا تھا۔ ( تاریخ سلطانی ، صفحہ ۲۷)

اس واقعہ سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر اپنے مقصد کے حصول کی لگن اور استقلال کی صفات بدرجۂ اتم موجود تھیں۔

آپ نے دہلی اور اس کے نواح میں قیام کر کے ممتاز اساتذہ سے علومِ دینیہ میں کمال حاصل کیا، پھر علم و فضل کے مرکز لاہور کا رخ کیا۔ اس زمانے میں ملا طاہر لاہوری( ولادت 984ھ مطابق 1576 ء م:1040ھ مطابق 1639) کا شُہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت شیخ سلطان نے ان سے علومِ ظاہر و باطن حاصل کیے اور فیوضِ قادریہ سے بھی بہرہ مند ہوئے، لیکن بیعت کی سعادت ان کے ہاتھ پر مقدر نہ تھی۔ آپ کے دل میں ایک کامل و دانا مرشد کی جستجو مسلسل موجزن رہی۔

اسی اثنا میں قطب دوراں حضرت سید آدم بنوری کے کمالاتِ فقر و معرفت کی شہرت آپ تک پہنچی۔حضرت آدم بنوری حضرت مجدد الف ثانی کے جلیل القدر خلیفہ اور خدا رسیدہ بزرگ تھے. نسبی طور پر حسینی سید تھے. آپ فوراً بنور (سرہند کے قریب ایک قصبہ) پہنچے اور حضرت سید آدم بنوری رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر لی۔ حضرت آدم بنوری، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے جلیل القدر خلیفہ ہونے کے ساتھ اعلی درجہ کے متبعِ سنت تھے ، اور ان کی اتباعِ سنت، استقامت اور روحانی رفعت کا اعتراف ہر خاص و عام کو تھا۔

جب شیخ سلطان تحصیلِ علم کے بعد لاہور سے بنور اپنے تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کی خاطر حضرت آدم بنوری کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہاں انھیں ایک ممتاز عالمِ دین کی حیثیت سے پہچانا گیا ۔

شیخ محمد امین بدخشی ، جو حضرت آدم بنوری کے ممتاز خلفاء میں شمار کیے جاتے ہیں اور جو کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں، اپنی تصنیف ” نتائج الحرمین“ میں حضرت شیخ سلطان کا ذکر کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

شیخ سلطان پور بی سلمہ اللہ تعالیٰ آپ [ حضرت آدم بنوری کے ذی علم اور صاحبِ حال خلفاء میں سے ہیں۔ [ فارسی اصل کا اردو ترجمہ ، صفحہ ۱۔ ]

وہ آگے تحریر فرماتے ہیں:

بہار اور پٹنہ کے زیادہ تر علماء اور مخدوم زادگان نے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کسبِ فیض کیا اور ان میں سے کوئی عالم کبھی کسی علمی مسئلے میں آپ پر غلبہ نہ پاسکا۔ آپ عقلی و نقلی دلائل سے سب کو مطمئن کر دیتے

ہیں۔ (صفحہ ۴)

علامہ بدخشی کی مذکورہ عبارت میں مذکورمخدوم زادگان سے بالیقین پھلواری شریف کے اکابر مثلاً تاج العارفین حضرت پیر مجیب قادری اور اس پایہ کی دیگر شخصیات مراد ہیں.

حضرت شیخ سلطان نے ایک طویل عرصہ اپنے مرشد کی خدمت میں گزارا، مجاہدات و ریاضات سے اپنے باطن کو منور کیا، اور علومِ باطنی میں کمال حاصل کیا۔ پھر جب حضرت سید آدم بنوری حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہونے لگے تو انہوں نے حضرت شیخ سلطان کو خلافت، خرقہ اور دستار سے سرفراز فرمایا اور وطن واپس جا کر خلقِ خدا کی ہدایت کا فریضہ انجام دینے کی تاکید کی۔

بنور میں آپ کی کیا پوزیشن تھی اس حوالے سے شیخ محمد امین بدخشی کی شہادت ہے کہ جب آپ بنور پہنچے تو آپ نے حضرت آدم بنوری کا بہت ہی کم وقت میں نہ صرف اعتماد حاصل کر لیا بلکہ ان کی خصوصی توجہ اور الطاف و کرم کے مستحق قرار پائے۔ وہ لکھتے ہیں:

حضرت [ آدم بنوری نے آپ [ شیخ سلطان] کی شخصیت میں اخلاص اور کمال تجرید [ دنیا سے کمال بے رغبتی) کا مشاہدہ کیا اور آپ کو اپنا مقرب بنالیا ، قلیل عرصہ ہی میں بے پناہ فیض حاصل کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے اور آپ کے خاص علم و عرفان سے بھی خوب بہرہ مند ہوئے۔ (صفحہ ٢)

ڈاکٹر عبادالرحمن نشاط مذکورہ عبارت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

"ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان سطور کے لکھنے والے حضرت آدم بنوری کے خلیفۂ اجل تھے جو نہ صرف ان کے خصوصی حلقے اور قریبی خدام سے واقف تھے بلکہ شیخ سلطان کے حضرت آدم بنوری سے رشتے کی نوعیت کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ شیخ بدخشی کا یہ لکھنا کہ حضرت آدم بنوری نے بہت ہی کم عرصے میں حضرت شیخ سلطان کو اپنا مقرب بنالیا ، حضرت شیخ سلطان کی سعادت کی بہت بڑی تصدیق ہے۔ حضرت شیخ سلطان کی حضرت آدم بنوری سے یہ قربت میری نگاہ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ زمانہ حضرت آدم بنوری کی مقبولیت کے عروج کا زمانہ تھا۔ جناب اظہار سعد بنوری نے اپنی کتاب ”سوانح حیات: سید آدم بنوری میں صفحہ ۳۸ پر لکھا ہے کہ حضرت آدم بنوری کو حضرت مجدد الف ثانی نے ۱۰۳۳ ہجری میں خلافت عطا فرمائی تھی اور حضرت شیخ سلطان تقریباً ۱۰۴۸ ہجری کے آس پاس ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوں گے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت آدم بنوری کا شہرہ ہندوستان ہی نہیں پورے عالم اسلام میں گونج رہا تھا اور آپ کی طرف رجوع عام بہت بڑھ گیا تھا۔ مولانا نسیم احمد فریدی لکھتے ہیں کہ آپ کی خانقاہ میں ہزار سے زائد طلباء معرفت روزانہ جمع رہتے تھے اور ان کو لنگر سے کھانا تقسیم کیا جاتا تھا ( تذکرہ مجدد الف ثانی، مرتبہ مولانا محمد منظور نعمانی ، صفحہ ۳۲۳)۔ اس بھیڑ بھاڑ میں ایک کم و بیش بیس بائیس (٢٠/٢٢) برس کے نوجوان کا جو وہاں ، ہمارے علم کی حد تک، بالکل اجنبی تھا، شیخ آدم بنوری کی نگاہوں میں آجانا اور قریب ترین خدام میں شامل کر لیا جانا بس تقدیری بات ہی کہی جاسکتی ہے؛ یا پھر اسے شیخ آدم بنوری کی مردم شناس نگاہوں کا کرشمہ کہا جاسکتا ہے جنھوں نے شیخ سلطان کے اندر کچھ ایسی صفات دیکھیں؛ جن کی ان کی دکان میں قدر تھی اور جس کی وجہ سے وہ ان کی طرف خصوصیت کے ساتھ متوجہ ہو گئے۔”(مستفاد از :حضرت شیخ سلطان مجددی لکهمنیوی ص 65)

قابلِ ذکر ہے کہ آپکے استاذ شیخ ملا محمد طاہر لاہوری بھی حضرت مجدد صاحب کے مرید اور خلیفہ تھے. ان کے بارے میں شیخ بدرالدین سرہندی کی شہادت اس طرح مذکور ہے: ”حضرت مجدد کی نظر کیمیا اثر کی برکت سے وہ کمال و تکمیل کے مرتبے کو پہنچے اور سلوک کے مکمل کرنے کے بعد ان کو سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم کی اجازت حاصل ہوئی۔ طریقہ قادریہ کا خرقہ ارادت بھی ملا اور سلسلہ چشتیہ کا خرقہ تبرک بھی نصیب ہوا ( حضرات القدس ، صفحہ ۳۰۰)۔ بعد میں خود شیخ محمد طاہر لاہوری مجدد صاحب کو لکھتے ہیں: تینوں طریقوں ( نقشبندیہ قادریہ اور چشتیہ) کی نسبتیں جلوہ گر ہیں لیکن تعلیم طریقہ نقشبندیہ عالیہ کی جاری ہے (صفحات ۳۰۳-۳۰۴) ۔ اسی طرح حضرت آدم بنوری کے یہاں اگر چہ عمل اصلاً نقشبندیہ کی تعلیمات پر ہی تھا لیکن دوسری ساری نسبتیں بھی جمع تھیں۔جناب اظہار سعد بنوری ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ”حضرت سیدی [ آدم بنوری] کو امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی سے طریقہ نقشبندیہ کے علاوہ سلسلہ قادریہ و چشتیہ میں بھی نسبت حاصل تھی ۔ وہ آگے لکھتے ہیں: سلاسل عالیہ نقشبندیہ، قادریہ چشتیہ کے علاوہ سہروردیہ ، شطاریہ مداریہ صابریہ اور طریقہ اویسیہ میں بھی آپ کو نسبت حاصل تھی۔“ (سوانح حیات حضرت آدم بنوری ، صفحات ۴۰-۴۱)

ملحوظ خاطر رہے کہ شطاریہ سلسلہ بہت قبل حضرت شاہ علاء الدین بخاری شطاری کے ذریعہ آپ کی جائے پیدائش پوکھریا سے متصل بستی بڑی بلیا پہنچ چکا تھا. اس بستی سے آپ کے قریبی روابط تھے اور آپ کی رشتہ داریاں تھیں، بلکہ ایک قول کے مطابق آپ کے اجداد کا تعلق بڑی بلیا سے تھا؛ قرین قیاس ہے کہ اس نسبت کے فیوض جس طرح آپ کو اپنے شیخ حضرت آدم بنوری کے ذریعہ حاصل ہوئے؛ اسی طرح نسبی اور مکانی طور پر بھی اس کے فیوض آپ کو تاحیات حاصل ہوتے رہے.

 آپ 1053ھ (1643ء) میں، شاہ جہاں کے عہد میں، اپنے وطن بلیا واپس تشریف لائے۔ واپسی کے بعد آپ نے اپنی خالہ زاد بہن بی بی نور النساء المعروف بی بی ماہی (آپ کی پہلی زوجہ کا نام تاریخ سلطانی کے مطابق بی بی سیدہ مبیعہ تھا) سے نکاح فرمایا اور مختصر عرصہ اپنے آبائی مقام پر قیام کر کے رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔

بعد ازاں ایک غیبی اشارے پر آپ نے پوکھریا بلیا کی سکونت کو ترک کیا اور دریائے گنگا کے کنارے،(موجودہ لکھمنیاں) ایک ویران مقام پر سکونت اختیار فرمائی۔ یہاں آپ ذکرِ الٰہی، فکرِ آخرت اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ رفتہ رفتہ دور دراز سے طالبانِ حق اور شائقینِ معرفت آنے لگے، اور آپ مرجعِ خلائق بن گئے۔

آپ کی موجودگی سے وہ ویران خطہ آباد ہوتا گیا۔ عقیدت مندوں نے قربتِ شیخ کو سعادت سمجھتے ہوئے وہیں سکونت اختیار کر لی، اور یوں ایک نئی بستی وجود میں آئی جو آپ کے نام پر “سلطان پور” کہلائی۔ قدیم سرکاری کاغذات میں اس کا نام سلطان پور ہی ملتا ہے بعد میں نا معلوم اسباب سے اس کا نام لکھمنیاں ہو گیا، جس کا ایک تلفظ لکھمنیہ بھی ہے، اسی نام سے بلیا کا ریلوے اسٹیشن موسوم ہے. بلیا سے متصل ہونے کی وجہ سے آپ کی علاقائی نسبت کبھی بلیاوی بھی لکھی جاتی ہے؛ جیساکہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے تاریخ دعوت وعزیمت میں شیخ سلطان بلیاوی لکھا ہے.

لکھمنیاں نامی بستی بعد میں ایک اہم اور معزز قصبے کی صورت اختیار کر گئی، جہاں شرفاء، علماء، قضاة اور رؤساء کی بڑی تعداد آباد ہوئی۔

حضرت شیخ سلطان واپس اپنے آبائی گاؤں پوکھر یا تشریف لائے تو یہ زمانہ ۱۰۵۴ ہجری کا تھا۔جیساکہ ذکر کیا گیا کہ اسی سال آپ کی شادی ہو گئی اور اسی سال آپ نے ترک وطن کا ارادہ کر لیا اور اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر پاس ہی ایک جنگل کے ویران حصے میں جہاں اس سے قبل کوئی آبادی نہیں تھی ، اپنا ایک جھونپڑا بنایا اور اپنی اہلیہ کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئے۔ ان کے اعزہ نے انھیں ویرانے میں قیام سے باز رکھنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ ہجرت کا فیصلہ ایک غیبی اشارے سے کیا تھا لہذا انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔ ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی اس ہجرت میں برضا و خوشی ان کا ساتھ دیا۔ اس طرح انھوں نے ایک نئی آبادی کی بناء ڈالی جو آج لکھمنیاں کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اللہ تعالی نے حضرت شیخ سلطان اور بی بی مبیعہ(ماہی) کی شادی میں بہت برکت ڈال دی۔ چونکہ آپ کی اہلیہ نے آپ کی ہجرت کے فیصلے اور آبادی سے دور ایک غیر آباد جنگلی حصے میں قیام کے لیے آپ کی موافقت کی تھی ، اس لیے آپ کے لیے یقیناً بہت آسانی ہوگئی ہوگی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس رشتے سے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا فرمائیں۔ بیٹوں کے نام محمد نوح (لاولد)، مولوی حافظ شاہ عبید اللہ عرف عبد الله ، مولوی حافظ آدم اور حافظ محمد مسکین تھے اور بیٹیوں میں صرف دو بی بی شرفاء اور بی بی رحماء کے نام ملتے ہیں ۔ ان دونوں کی شادی، ایک کے انتقال کے بعد دوسری سے حافظ شاہ حمید الدین بہاری سے ہوئی جو آپ کے خلیفہ بھی تھے۔ حضرت شیخ سلطان کا روحانی سلسلہ انھیں سے چلا ۔

( تاریخ سلطانی، صفحات ۶۰ ، ۱۴۱، ۲۴۷)

حضرت شیخ سلطان مجددی لکھمنیوی ص 77)

حضرت شیخ سلطان نہایت فیاض، شفیق اور کریم النفس تھے۔ آپ پکے حنفی المسلک تھے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی، وقار، جلالت اور روحانی ہیبت آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ آپ کا لباس عالمانہ اور سادہ تھا، جس میں تکلف کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ نے اپنی خواہشات کو مکمل طور پر رضائے الٰہی کے تابع کر دیا تھا۔

آپ کے اخلاق نہایت وسیع اور دروازۂ کرم ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا تھا۔ آپ ہر شخص سے نہایت نرمی، شفقت اور حسنِ سلوک سے پیش آتے، خصوصاً محتاجوں اور مسکینوں پر آپ کی خصوصی نظرِ عنایت رہتی تھی۔ علم و عرفان دونوں میدانوں میں آپ کو امتیازی مقام حاصل تھا۔

حضرت حقہ نوشی اور تمباکو کو مکروہِ تحریمی قرار دیتے تھے، جیسا کہ اور نقشبندی بزرگوں کا بھی خیال تھا اور اس مسئلہ میں اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے دوسرے بزرگ جناب مولانا خواجہ علی خلیفہ حضرت مولانا شهباز متوطن تیگھڑہ ضلع مونگیر سے تحریری مناظرہ بھی ہوا تھا. اور طرفین سے حلت و حرمت کے بارے میں دلائل پیش ہو ئے تھے۔

علامہ بدخشی کے یہ الفاظ آچکے ہیں کہ

شیخ سلطان حضرت سید آدم بنوری کے خاص علم و عرفان سے بھی خوب بہرہ مند ہوئے،

اس کے معا بعد انہوں نے یہ بھی لکھا :”یہاں تک کہ بعض معاصر صوفیاء کے ساتھ مناظرہ اور مباہلہ کیا ۔ (نتائج الحرمین صفحہ ۱)۔ قرین قیاس ہے کہ انھوں نے بعض معاصر صوفیاء کے ساتھ اُن دنوں مناظرہ کیا ہو جب آپ اپنے شیخ محترم کی خدمت میں بنور میں تھے! انھوں نے اس وقت تک نہ صرف طریقہ مجدد یہ نقشبندیہ سے مناسبت تامہ حاصل کر لی تھی، بلکہ جب اس سلسلۂ عالیہ کے دفاع کی کبھی ضرورت پڑی تو اپنے اکابر کی طرف سے اس کے لیے نامزد بھی کیے گئے ۔ واضح رہے کہ اوپر کی عبارت میں جس مناظرہ اور مباہلہ کا ذکر ہے وہ صوفیاء کے ساتھ ہوا تھا، علماء کے ساتھ نہیں۔ ممکن ہے کہ کسی صوفی بزرگ نے سلسلہ مجدد یہ نقشبندیہ کے کسی اصول پر انگشت نمائی کی ہوگی یا کسی عمل کے سنت یا بدعت ہونے پر اختلاف ہوا ہوگا اور بنور کی خانقاہ کی طرف سے اس سلسلے میں دفاع کے لیے شیخ سلطان کو ذمہ داری دی گئی ہوگی ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت شیخ سلطان کو اس وقت تک حضرت آدم بنوری کے خدام کے درمیان بہت خاص مقام حاصل ہو گیا تھا۔

ممکن ہے اوپر جس مناظرہ کا تذکرہ آیا ہے، اسی کی طرف اشارہ ہو یا حضرت شیخ سلطان کا کسی معترض معاصر صوفی سے مناظرہ اور مباہلہ ان کے بنور میں قیام کے درمیان نہیں، بلکہ بعد میں لکھمنیاں کے قیام کے دوران ہوا ہو (اس لیے کہ شیخ محمد امین بدخشی نے اپنا مضمون ۱۰۸۵ ہجری کے بعد لکھا تھا؛ جب حضرت شیخ سلطان لکھمنیاں میں مقیم تھے اور اسے مرکز بنا کر وہاں سے دعوت دین، تزکیہ نفس اور اصلاح خلق کا کام کر رہے تھے ) ، تو وہ اپنے شیخ کے مشن، مسلک اور طریقہ کار پر مضبوطی سے قائم رہے کہ جب کچھ صوفیاء نے غالباً سلسلہ نقشبندیہ کے اصولوں پر نکیر کی تو وہ ان سے مناظرہ کے لیے سامنے آئے۔ ان کا مسلک اور طریقہ کار وہی تھا جو ان کے شیخ حضرت آدم بنوری کا تھا جسے انھوں نے حضرت مجدد الف ثانی سے اخذ کیا تھا۔

 حضرت شیخ سلطان بلیاوی کے علامۂ زمانہ ہونے پر یہی شہادت کافی ہے کہ وہ حضرت ملا طا ہر لاہوری قادری کے شاگرد رشید تھے اور فیضِ قادریت سے بھی سیراب ہوئے تھے.

حضر ملا طاہر لاہوری کی ذات گرامی اپنے علم و عرفاں میں اتنی ذی شہرت تھی کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے اپنے دو صاحبزادوں حضرت خواجہ محمد معصوم اور خواجہ محمد سعید کو حضرت ملا طاہر لاہوری سے تعلیم دلوائی تھی ۔ اور ان کی تکمیلِ تعلیم انہیں سے ہوئی تھی.

حضرت شیخ سلطان کی کرامات بھی مشہور ہیں. گنج فیاضی (قلمی ) میں لکھا ہے کہ ایک مسلمان شریف النسب نے بطور آزمائش اپنا حلیہ پوری طرح تبدیل کیا. چارا برو کا صفایا کر وایا.

پیلے کپڑے پہنے اور مالا اور زنار ڈال کر کچھ غیر مانوس زبان بولتا ہوا حضرت کی خدمت میں آیا.

حضرت نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ اسے جانتے تھے.

دیکھتے ہی بطور کشف اصلی حالت معلوم کرلی اور فرمایا

میران جیو السلام علیکم !

 وہ حضرت کی اس کرامت کو دیکھ کر فورا قدموں پر گر گیا اور بہت شرمندہ ہوا.

آپ نے لکھمنیاں میں قیام کے دوران ایک عالیشان مسجد کی بھی تعمیر کی جو مسجد سلطانیہ کے نام سے مشہور ہے. یہ مسجد پورے علاقے اور خطے کے لیے رشد و ہدایت کا مرکز بن گئی.

مسجد کی تعمیر کے حوالے سے بھی آپ کی کرامت کا ظہور ہوا. اس سے متعلق واقعہ لکھمنیاں اور قرب و جوار میں مشہور ہے اس واقعہ کو مؤلف ” تاریخ سلطانی” نے بھی تحریر کیا ہے۔ روایت یوں ہے کہ ان دنوں گنگا ندی کا پاٹ جس کے کنارے لکھمنیاں بستی کی بنیاد رکھی گئی تھی بہت گہرا اور وسیع تھا اور تجارتی جہازوں کی رہگزر تھا۔ اس دریا میں گھنشیام نام کا ایک تاجر ایک بڑی بادبانی کشتی یا جہاز میں تجارتی مال لے کر سفر کر رہا تھا۔ اچانک اس کا جہاز کچھ اس طرح خراب ہو گیا کہ وہ اب بیچ دریا میں تھا اور اس کے لیے جہاز کو ٹھیک کرنا یا اسے کنارے پر لانا کسی بھی طرح ممکن نہیں تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت نے اس ضرورت مند اور مجبور انسان کی مدد کا فیصلہ کیا اور حضرت شیخ سلطان کے باطنی تصرف اور دعاء سے اس کا جہاز نہ صرف دریا کے کنارے آلگا بلکہ اب وہ بالکل ٹھیک بھی تھا اور آگے کے سفر کے لیے بالکل تیار بھی ۔

 اس واقعہ نے اس کے دل میں نہ صرف شیخ سلطان کے لیے عقیدت و محبت کا بیج ڈال دیا بلکہ اس کے دل میں اسلام کی صداقت کا یقین بھی پیدا کر دیا ۔

 اس نے شیخ سلطان کے دست حق پر اسلام قبول کر کے اپنا نام عبداللہ رکھا اور لکھمنیاں میں مسجد تعمیر کرنے کے لیے مستعد ہو گیا۔ وہ اپنے جہاز سے تعمیر کا سامان لایا اور اس طرح لکھمنیاں میں وہ پہلی مسجد بنی جو مسجد سلطانیہ” اور "پرانی مسجد کے نام سے معروف ہے۔ جب مسجد تعمیر ہو رہی تھی تو شیخ سلطان اور ان کے صاحب زادوں نے سنت ابراہیمی ادا کی اور مزدوروں کی طرح کام کر کے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ( تاریخ سلطانی، صفحات ۳۹-۳۸) ۔

اس سلسلہ میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد گھنشیام عرف عبد اللہ نے اپنی ایک بچی مشرفہ کو حضرت شیخ سلطان کی زوجیت میں دے دیا.

نتائج الحرمین میں شیخ امین بدخشی نے آپ کی متعدد کرامتوں کا تذکرہ کیا ہے.

صاحب کشف وکرامت اور اتنی بلندیوں کے حامل ہونے کے باوجود آپ نہایت منکسر المزاج اور خاکسار تھے۔ آپ اپنے کو صرف سلطان کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ تواضعاً اپنے نام کے ساتھ “گدا” کا اضافہ کرتے تھے، جس کے معنی ہیں فقیر مفلس، نادار ۔ اپنے دستخطوں اور شہادتوں میں بھی آپ “سلطان گدا” لکھا کرتے تھے، جو آپ کی عاجزی اور فنا فی اللہ کا مظہر تھا۔

حضرت کا روحانی سلسلہ صوبہ بہار اور بیرون صوبہ میں بہت پھیلا ہوا تھا۔ حضرت کے خلفاء و مجازین جو مختلف مقامات پر پھیلے ہوئے تھے ، حسب ذیل ہیں۔

(1) حضرت ملا معین بہپور وی

(۲) حضرت ملا مسعود غازی پوری

۔ شیخ بدخشی” کے مطابق ملا مسعود انتہائی تقوی شعار، سنتوں کا احیاء کرنے والے، کفر و بدعت کا سر کچلنے والے اور بافیض و با برکت بزرگ تھے …. امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، سنتوں کی اشاعت اور بدعتوں کا خاتمہ آپ کا شیوہ ہے (صفحہ ۴)۔ ان کی شخصیت کے مطالعہ سے حضرت شیخ سلطان کی طرز تربیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مزید تفصیلات شیخ بدخشی کے مضمون میں درج ہیں۔ ان کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ بادشاہ وقت سلطان اور نگ زیب عالم گیر ان کا معتقد تھا اور مملکت کے دینی امور میں ان سے مشورہ لیتا تھا۔ ان کے دم قدم سے شریعت اور سنت کا پورے علاقے میں وقار قائم تھا۔

(۳) حضرت ملا عزت زمانیه غازی پوری (٤) حضرت حاجی شاہ غلام محمد اکبر آبادی.

شاہ صاحب ایک بزرگ شخصیت کے حامل تھے۔اور آگرہ واودھ کے خطے میں ان کے فیوض عام ہوئے. شاہ کلیم الرحمن لکھتے ہیں کہ حافظ محمد علی علوی کا کوروی اپنی تصنیف ”مشاہیر کا کوروی” میں ایک بزرگ محمد ماہ نقشبندی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "شاہ محمد ماہ نقشبندی کا کوروی کو بیعت، اجازت، خلافت حاجی غلام محمد اکبر آبادی سے تھی، ان کو حضرت شاہ سلطان سے، ان کو سید آدم بنوری سے، ان کو حضرت شیخ احمد مجددالف ثانی سرہندی سے ۔“ تاریخ سلطانی ، صفحہ ۷۵۔ شاہ کلیم الرحمن نے یہ تحریر ۱۵ نومبر ۱۹۲۸ء کو تحریر کی ہے)

(۵) حضرت شیخ ملا اخوند کریم –

یہ بھی بڑے پایہ کے بزرگ، فقیہ اور محدث تھے، انہوں نے مشہور محدث سید محمد قائم کو خلافت عطا کی اور انہوں نے پھلواری شریف کے مشہور محدث سید وجیہ الدین کو اجازت و خلافت عطا کی اور ان سے پھلواری شریف اور پٹنہ کے بہت سے اہل دل نے استفادہ کیا.

(٦)آپ کے داماد حضرت مولانا حافظ عبد الحمید بہار شریف.

یہ بھی آپ کے خلیفہ مجاز اور آپ کے جانشین تھے. لکھمنیاں کی خانقاہ میں آپ ایک زمانہ تک مرجع خلائق بنے رہے. لکھمنیاں ہی میں ١١٥٧ ھ میں وفات پائی اور شاہ سلطان کے مزار کے احاطہ میں مدفون ہیں.

قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ دو مرتبہ یہاں تشریف لائے. شیخ سلطان اور شیخ عبد الحمید کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ پڑھا، مراقب رہے اور دونوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :ان دونوں سے جو فیض جاری ہے اس کا کیا کہنا!

ایک سفر میں واپس لوٹنے سے پہلے حضرت مونگیری شیخ کے مزار پر فاتحہ کے لیے پہنچے، کچھ دیر مراقب رہنے کے بعد سفر کے ارداہ کو یہ کہتے ہوئے ملتوی کردیا کہ مجھے شیخ نے روک لیا مجھے جانے کے اجازت نہیں ملی (تاریخ سلطانی ١١٩)

(٧)شیخ عبد الحکیم.

 آپ کے خلفاء میں ایک بڑا نام شیخ عبد الحکیم کا بھی ہے. ان کے بارے میں علامہ بدخشی نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ سلطان کے ایک خلیفہ عبد الحکیم نے حج کے دوران بیت اللہ شریف کے سامنے بیٹھ کر حضرت شیخ سلطان پر ایک مضمون لکھا اور اس میں حضرت شاہ علم اللہ کا بھی تذکرہ کیا.

اس مضمون میں حضرت شیخ سلطان کے اس خلافت نامہ کا بھی ذکر ہے جو انھوں نے شیخ عبدالحکیم کے لیے لکھا تھا۔ اس کا اردو ترجمہ اس طرح ہے۔

اما بعد ! اس سلطان گدا نے شیخ عبدالحکیم کو اجازت دی اور

جو نعمتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسکین تک پہنچی ہیں، وہ تمام نعمتیں میں نے ان کے سپرد کیں، اور انھیں اسے آگے بڑھانے کی اجازت دی۔ (صفحہ ۳)

(قبل میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت شیخ سلطان کسر نفسی کی وجہ سے اپنے نام "سلطان” کے ساتھ گدا لکھتے تھے)

(٨)تاج العارفین حضرت مخدوم شاہ محمد مجیب اللہ قادری پھلواری (1687ء–1777ء)

پیر مجیب ہندوستان کے مشہور و معروف بزرگ، سلسلہ قادریہ کے سرخیل متبحر عالم دین اور پھلواری شریف (بہار) کی خانقاہ مجیبیہ کے بانی مبانی ہیں ۔ آپ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں پیدا ہوئے اور اپنے علمی، روحانی اور صوفیانہ فیضان سے ایک عالم کو سیراب کیا ۔ آپ کی زندگی سیرتِ پیر مجیب جیسی کتب میں محفوظ ہے. آپ کے روحانی فیضان کے فروغ میں میں شاہ سلطان مجددی کا بھی بڑا حصہ ہے. یہی فیضان امارت شرعیہ پھلواری شریف کے اولین تین امراء شریعت حضرت شاہ بدر الدین قادری، حضرت شاہ محی الدین قادری، حضرت شاہ قمرالدین قادری تک پہنچا. گویا امارت شرعیہ بھی حضرت شیخ سلطان بلیاوی فیضان کی ہی ایک شاخ ہے.

حضرت تاج العارفین شاہ مجیب الله پھلواروی قادری قدس سرہ کو بھی طریقۂ نقشبندیہ مجددیہ کی اجازت حضرت شیخ سلطان بلیاوی قدس سرہ سے حاصل تھی.

خود حضرت شیخ سلطان بلیاوی نے حضرت مولانا وارث رسول نما بنارسی قدس سرہ کے طریقہ قادریہ اویسیہ کی اجازت حضرت تاج العارفين مخدوم شاہ مجیب اللہ قادری قدس سرہ العزیزہ سے حاصل کی تھی۔

حضرت مولانا ابو الحياة قدس سره ” تذكرة الكرام (ص 19) میں تحریر فرماتے ہیں ” حضرت شیخ سلطان نقشبندی ساکن بلیا لکھمنیہ، یہ بزرگ نقشبند یہ طریقے کے تھے۔ حضرت تاج العارفین کو اس طریقہ کی اجازت آپ ہی سے ہے اور آپ نے طریقہ وارثیہ اویسیہ کی اجازت تاج العارفین سے لی تھی۔

نیز حضرت مولانا شاہ حسن میاں ابن حضرت مولانا شاہ محمد سلیمان صاحب پھلواروی رحمہ اللہ اپنی مشہور و معروف کتاب "تذکره ابوالنجیب سهروردی” میں اس طرح لکھا ہے :حضرت شاہ سلطان نقشبندی ساکن لکھمنیہ ضلع مونگیر نے طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کی اجازت حضرت تاج العارفین شاہ مجیب اللہ کو بخشی اور خود مولا نا بنارسی کے طریقہ وارثیہ کی اجازت حاصل کی (ضمیمہ تذکرہ ابو النجیب متعلق ۷۲)

یہاں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضرت شاہ سلیمان پھلواروی آستانہ سلطانیہ لکھمنیا ں پہنچ کر وہاں کی نورانی و روحانی فضاؤں سے اپنے مشام جان کو معطر کرچکے تھے.

 اسی طرح نقشبندیہ مجددیہ سلطانیہ کی اجازت حضرت ملا وجیہہ الحق محدث پھلواری کو حضرت سید محمد قائم اور اُن کو حضرت ملا اخوند اور ان کو حضرت شیخ سلطان بلیاوی سے ہے۔

1126ھ (1714ء)، عہدِ جہاندار شاہ میں، جب آپ کی عمر مبارک تقریباً 106 برس ہو چکی تھی، ستائیس رجب کو آپ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے محبوبِ حقیقی سے جا ملے ۔

تاریخ ولادت؛ اور تاریخ وفات سے متعلق خاندانی روایات اس روایت سے مختلف ہے ۔

آپ کے خانوادے کی ایک معزز شخصیت شاہ محمد عثمان نے اپنی قلمی کتاب "تاریخ سلطانی” میں تحریر فرمایا ہے،کہ حضرت شیخ سلطان مجددی پوکھریا نامی قصبہ میں، جو مسلمانوں کی ایک معروف اور بڑی آبادی تھی، ۱۰۳۱ ہجری (١٦٢١) عیسوی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا انتقال ۱۱۰۶ ہجری میں بہار میں بیگوسرائے ضلع کی لکھمنیاں نامی بستی میں ہوا ، پچھتر (۷۵) برس کی عمر پائی ۔

اسی روایت کو ڈاکٹر شاہ عباد الرحمن نشاط لکھمنیاوی خلیفہ حضرت مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "شیخ سلطان مجددی” میں ذکر کیا ہے.

حضرت شیخ سلطان نے تین مغل بادشاہوں جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کا زمانہ پایا ۔

اگر ایک سو پانچ سال والی روایت کو مد نظر رکھا جائے تو مزید دو شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اول اور جہاندار شاہ کے اسماء بھی جڑ کر مجموعی تعداد پانچ مغل بادشاہوں کی ہوجاتی ہے.

(مستفاد از مضمون شاہ عزالدین پھلواری شائع شدہ ماہنامہ "اشارہ” پٹنہ، بابت اکتوبر 1959)

حضرت نے جب عملی طور پر میدان کار میں قدم رکھا تو انھوں نے دیکھا کہ اسلام کی تحریف سے حفاظت اور مسلمانوں کے درمیان اس کی عظمت قائم کرنے کا وسیع ، طویل اور جانگداز کام سامنے تھا اور کام انہی خطوط پر کرنا تھا جس کی تشخیص اور نشان دہی ان کے اکابر بالخصوص آپ کے مرشد حضرت سید آدم بنوری اور مرشد اعلیٰ حضرت امام ربانی شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رح نے کی تھی ۔

 انھوں نے صوبہ بہار میں موجودہ بیگو سرائے ضلع کی لکھمنیاں بستی کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا اور یہاں سے ایک طویل عرصے تک احیاء اسلام، اشاعت دین، دعوت ارشاد اور اصلاح خلق کا کام اس تندہی اور جگر کاوی کے ساتھ انجام دیا کہ ان کا نام اور پیغام پورےہندوستان میں پھیل گیا۔

آپ کا مزار مبارک جامع مسجد سلطانیہ، لکھمنیہ (حال ضلع بیگوسرائے ) کے قریب مغربی حصہ میں واقع ہے، جو آج بھی مرجعِ خلائق اور زیارت گاہِ عام و خاص ہے ، بڑی بات یہ کہ مروجہ بدعات سے یہ مرقد مبارک اب تک پاک ہے ۔

اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply