بسم اللہ الرحمن الرحیم
عربی حروف میں فرنگی زبان — ایک تعارف
تالیف: مفتی محمد ہدایت اللہ قاسمی مدظلہ
صفحات: 580
اشاعت: رجب المرجب 1447ھ مطابق دسمبر 2025م
قیمت: درج نہیں
ناشر :مکتبہ سعد اللہ دیوبند (یو پی)
تعارف نگار : اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی
یقیناً قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ نادر و قیمتی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود ربّ کریم نے لیا ہے۔ اس کے الفاظ، معانی، تفاسیر اور قواعدِ بیان کی حفاظت بھی اسی ربّ نے اپنے خاص نظام کے تحت فرمائی ہے، تاکہ یہ کتاب قیامت تک ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ رہے۔ حفظِ قرآن، نحو و صرف، بلاغت و لغت — سب اسی حفاظت کا تسلسل ہیں۔ قرآن کے فیض سے ہی عربی زبان کو دوامِ ابدی حاصل ہوا، اور اس کے قواعد و ضوابط کو بھی گویا خلود نصیب ہوا۔

نہ شیاطینِ جن قرآن میں تحریف کر سکتے ہیں، نہ شیاطینِ انس اس کے معانی کو بگاڑ سکتے ہیں؛ کیوں کہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
> وَإِنَّهُۥ لَكِتَـٰبٌ عَزِیزࣱ لَّا یَأۡتِیهِ ٱلۡبَـٰطِلُ مِنۢ بَیۡنِ یَدَیۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِیلࣱ مِّنۡ حَكِیمٍ حَمِیدࣲ
(فصلت: ۴۱–۴۲)
ترجمہ: اور یقیناً یہ کتاب بڑی عزت و غلبہ والی ہے، اس کے پاس جھوٹ نہ آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ اتری ہے ایسی ذات کی طرف سے جو بڑی حکمت و خوبیوں والی ہے۔
احادیثِ نبویہ، سیرتِ طیبہ اور صحابۂ کرام کی زندگیاں بھی اسی حفاظتِ قرآن کا لازمی حصہ بن گئیں۔ عربی زبان میں لغتِ قریش کو جو عظمت حاصل ہوئی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ عرب کے مختلف قبائل مکہ معظمہ میں میلوں اور بازاروں کے موقع پر جمع ہوتے، اپنے اشعار اور خطابات میں فصاحت و بلاغت کے جوہر دکھاتے، اور ان کے بولے ہوئے الفاظ مکہ میں محفوظ ہو جاتے۔ یوں لغتِ قریش تمام لہجوں کی جامع بن گئی۔
جب یہ زبان اپنے شبابِ کامل پر پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے اسے وحیِ الٰہی کا ظرف بنایا۔ قرآنِ کریم اسی زبان میں نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ کی زبانِ اقدس سے فصاحت و بلاغت کا وہ دریا بہا کہ قیامت تک کے لیے معیار و نمونہ بن گیا۔ یہ دراصل اعلان تھا کہ جب بھی زبان بگڑنے لگے، اسے وحی کے سانچے میں ڈھال لو؛ اور جب بھی نئے اسالیب کے فتنے اٹھیں، انہیں قرآن کے اسلوب کے ترازو میں تول لو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بھی لغتِ قریش کو ہی معیار بنایا۔ حضور ﷺ نے قرآن کو تحریر و حفظ کے ذریعے محفوظ کروایا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اہتمام، حضرت عمرؓ کے مشورے اور حضرت عثمانؓ کے جمعِ قرآن کے نتیجے میں یہ نورانی صحیفہ پوری دنیا میں ایک ہی لہجے، ایک ہی رسم الخط اور متعین تجوید و قرأت کے ساتھ پھیل گیا۔
وقت کے ساتھ قرآنِ کریم کے مخالفین نے اس کے اعجازِ اسلوب سے لوگوں کا اعتماد ہٹانے کی کوشش کی۔ عربی زبان میں اجنبی رنگ شامل کرنے کی کوششیں ہوئیں—کبھی “سکِّن تَسکُن” جیسی تحریکات اٹھیں ، تاکہ عربی سے اعراب کو مٹا دیا جائے، کبھی انگریزی و فرانسیسی تراکیب کو “جدید عربی” کے نام پر رواج دیا گیا۔ یہ فتنہ اتنا بڑھا کہ اب عرب خود قرآن کے اسلوب کو اجنبی سمجھنے لگے۔ ریاض کے ایک طالب علم کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے: “یوسف” نامی ایک طالب علم دیوبند آیا ، آنے کا مقصد علم حدیث و فقہ حاصل کرنا تھا ، جب میں نے ایک قرآنی طرز کا جملہ کہا تو وہ ہنسنے لگا، کہنے لگا: "ہمارے یہاں قرآن کے انداز کی عربی نہیں بولی جاتی!” اگر کوئی اس انداز سے بولتا ہے تو مخاطب اس انداز کی آیت پڑھ کر مذاق کرنے لگتا ہے ۔ یہ جملہ دل کو چیر گیا—کہ جس زبان کو اللہ نے قرآن کی حفاظت کے لیے چنا، آج وہی قوم اس کے رنگ ڈھنگ اور اسلوب سے بیزار ہو گئی ۔
افسوس کہ جدید عربی کے نام پر یہی بگاڑ اب بعض مدارسِ دینیہ تک پہنچ گیا ہے، حالانکہ مدارس تو قرآن و سنت کے قلعے ہیں۔ یہ انجانے میں ہونے والی کوتاہی دراصل ایک فکری کمزوری ہے۔
ایسے وقت میں جناب مولانا مفتی ہدایت اللہ قاسمی مدظلہ نے امت پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔ ان کی زیرِ نظر کتاب “جدید عربی یا فرنگی زبان” دراصل ایک فکری اور علمی فتنہ کا تحقیقی محاسبہ ہے۔ موصوف نے اپنی اس ضخیم تصنیف میں تقریباً ایک ہزار مثالیں جمع کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید عربی کس طرح فرانسیسی و انگریزی اسالیب کی گرفت میں آ چکی ہے۔
چوتھے باب میں ۴۹۸ اور پانچویں باب میں ۴۰۲ مثالیں درج ہیں، باقی ابواب میں سو سے زائد اضافی نمونے شامل ہیں۔
مصنف نے کتاب کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے:
پہلے باب میں اسلام میں عربی زبان کی حیثیت کو بیان کیا ہے،
دوسرے میں عربی کے زوال کی ابتدا،
تیسرے میں اجنبی تحریکات کا جائزہ،
چوتھے اور پانچویں میں اجنبی اسالیب اور تحریفات کی مثالیں،
چھٹے باب میں عربی زبان کی تین “قتل گاہوں” کو نادر اسلوب میں ذکر کیا ہے —
رسائل و مجلات،
اکیڈمیاں،
اور لغات و معاجم —
جہاں فرانسیسی اور انگریزی اسلوب نے عربی کی روح کو متأثر کیا۔
ساتویں باب میں جدید عربی کے عجمی ادباء کے اسالیب کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ، مولانا وحید الزماں کیرانویؒ، مولانا نور عالم خلیل امینیؒ اور مولانا سعید الرحمن مدظلہ شامل ہیں۔
آٹھواں باب “جدید عربی ایک دینی فتنہ” کے عنوان سے ہے جس میں مصنف نے نہایت بصیرت سے واضح کیا ہے کہ جدید عربی قرآن کے اسلوب سے بیگانگی پیدا کر رہی ہے۔
نویں باب میں اہلِ مدارس کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں کہ وہ نحو، صرف، بلاغت اور فقہ کی مضبوط تدریس کے ذریعے اس بگاڑ کا مقابلہ کریں۔
مصنف نے اس عظیم الشان تصنیف کی تیاری میں تقریباً 283 مراجع کا مطالعہ کیا۔
موصوف دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں سے ہیں۔ انہیں عربی زبان سے خاص ذوق و شغف حاصل ہے۔ غیر منقوط عربی میں آپ کی مشہور تصنیف “رسول الہدی” ایک علمی کارنامہ ہے۔ نحو و صرف میں بھی آپ کی متعدد کتب قبولِ عام حاصل کر چکی ہیں۔ تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ آپ نے عربی زبان کے ذوق و سلیقہ پیدا کرنے کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کیا ہے، جس سے تربیت یافتہ طلبہ دارالعلوم کے امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ مولانا مفتی ہدایت اللہ قاسمی کی یہ علمی و تحقیقی کاوش نہایت قابلِ قدر اور امت کے لیے بیداری کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے، اور اس کتاب کو امت کے لیے نافع بنائے۔ کاش کہ یہ کتاب عربی زبان میں بھی منتقل ہو، تاکہ عرب دنیا کے اہلِ علم و فضل بھی اس کے علمی و فکری نکات سے براہِ راست استفادہ کر سکیں۔ اللہ کرے کہ یہ تصنیف مقبولِ خاص و عام ہو، اور نئی نسل کو قرآن و سنت کے خالص اسلوب سے دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بنے۔
آمین یا رب العالمین۔






