عظیم آباد اور بہارشریف مسلم عہد حکومت سے پہلے

  طلحہ نعمت ندوی

پٹنہ سے لے کر راجگیر تک علاقہ مسلم عہد حکومت سے مدتوں قبل شاندار تہذیبی اور تاریخی روایات کا حامل رہا ہے ،یہی علاقہ بعد میں مگدھ کے نام سے معروف ہوا ،تقریباً ساتویں صدی قبل مسیح میں اس خطہ میں آبادی کا آغاز ہوا ،اور دیکھتے دیکھتے یہاں ایسی شاندار موریہ حکومت قائم ہوگئی جس نے سکندر اعظم کی طرح ایک وسیع وعظیم حکومت قائم کی ،جس کا دارالحکومت پاتلی پترا یعنی پٹنہ تھا ،یہ وسیع مملکت بر صغیر بلکہ جنوبی ایشیا کے بڑے حصہ کو محیط تھی اور سکندر اعظم کی حکومت سے آنکھیں ملا رہی تھی،مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے درست لکھا ہے کہ ہندوستان کی فکری وعلمی ترقی کی ابتدا مگدھ دیش ہی سے ہوئی تھی ،راجگیر اور پٹنہ دومرکزی شہر رہے ،کبھی یہ اور کبھی وہ دارالحکومت بنتے رہے ۔

عظیم آباد اور بہارشریف مسلم عہد حکومت سے پہلے
عظیم آباد اور بہارشریف مسلم عہد حکومت سے پہلے

 سب سے پہلے راجگیر میں ما بعد عہد وید اور گوتم بدھ کے دور سے کچھ ہی قبل ایک نئی حکومت کا آغاز ہوا ،اس علاقہ کو مگدھ کا نام دیا گیا ،علاقہ کی سیاسی اہمیت جراسندھ اور اس کے باپ کے دور سے شروع ہوئی ،جراسندھ بہت طاقتورحکمراں تھا ،اس کے بعد جلد ہی بمبسار نے اس کی حکومت پر قبضہ کرلیا ،اور قدیم دارالحکومت سے کچھ فاصلہ پر اپنا دارالحکومت بنایا جو اسی مناسبت سے راج گریہہ کہلایا ،اور پھر راج گھر ،راج گڑھ کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آج راجگیر کے تلفظ کے ساتھ زبان عوام وخواص ہے ،بمبسار ہی کے دور میں گوتم بدھ کی تبلیغی واصلاحی سرگرمیاں جاری تھیں،اور دیگر علاقوں کے ساتھ گیا سے راجگیر تک کاعلاقہ بھی اس کی کوشش کا میدان تھا ،اس راجہ نے اپنی حکومت کو بہت وسعت دی اور دور تک کے رقبے اس میں کرلئے ،اس کے بعد اس کا بیٹا اجات شترو اس کا جانشین ہوا۔(قدیم ہندوستان کی تاریخ ،ص ۱۲۲)۔

چھٹی صدی قبل مسیح کایہ دور اس علاقہ کا اہم ترین دور تھا ،اسی دور میں بد ھ مذہب کے ساتھ یہاں جین مذہب کو بھی فروغ ہوا ۔

 اجات شترو کے بعد نند خاندان نے حکومت کی ،اس طرح مورخین کے مطابق تقریبا دو سو سال تک ان دونوں خاندانوں کی حکومت رہی ،اس عرصہ میں مگدھ کی حکومت ترقی کرتی رہی ۔اسی دوران سکندر کا حملہ بھی ہوا لیکن وہ مگدھ کے علاقہ تک نہیں پہنچ سکا ۔

 تیسری صدی قبل مسیح میں مگدھ میں موریہ خاندان کی حکومت رہی ،اور اس کے خاندان کا بانی چند گپت موریہ تھا ،جس نے نند خاندان کے بادشاہ کو قتل کرکے تخت سلطنت پر قبضہ کرلیا ،اور سلطنت کو نہایت وسعت اور علاقہ کو خوب ترقی دی ،اس کا دارالحکومت پٹنہ (اس وقت کا پاٹلی پترا ) تھا ،اجات شترو نے ہی گنگا اور سون کے سنگم پر ایک قلعہ تعمیر کراکے دارالحکومت یہاں منتقل کیا تھا ،جس کو پہلے کوسم پورہ ،اور بشاپورہ کے نام سے موسوم کیا گیا ،پھر شاید موریہ دور میں اس کا نام پاٹلی پترا ہوگیا ۔(ارلی ہسٹری آف انڈیا ،بحوالہ تاریخ مگدھ ،ص ۲۰ طبع اول) تاریخ مگدھ میں جناب فصیح الدین بلخی نے اس پر تفصیل سے بحث کی ہے ،گوتم بدھ نے بھی اس شہر کے قلعہ میں ایک رات بسر کی تھی ،(حوالہ سابق ص ۲۵) ممکن ہے کہ کسم پورہ کی چھوٹی سی آبادی پہلے سے موجودہو اور دارالحکومت منتقل ہونے کے بعد اس کو پاٹلی پترا کا نام دیا گیا ہو۔ اسی زمانہ سے اس کا ایک تلفظ پٹلہ اور پٹنہ بھی بتایا جاتا ہے ،(تاریخ مگدھ)

 موریہ حکومت نے اپنے رقبہ میں بڑے حصہ کو شامل کرلیا تھا ،اور پاٹلی پترکو اس کا دارالحکومت بنایاتھا ،اسی دورمیں یونانی سفیر میگستھنز اس کے دربار میں رہا تھا ،جس نے اس کی مملکت کے حالات پوری تفصیل سے ذکر کئے ہیں ،پاٹلی پتر کے بارے میں اس نے لکھا ہے کہ ’’وہ ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے ،شہر کے مضبوط دفاع کے چاروں طرف خندق ہے ،اور باہر سے ایک فصیل تھی ،اور اس کے ۵۷۰ مینار اور ۶۴ دروازے تھے ۔(قدیم ہندوستان کی تاریخ،از راما شنکر ترپاٹھی ،ترقی اردو بیورو،نئی دہلی ۔ص ۱۸۵)

اس کے بعد سے پاٹلی پترا ہی ایک لمبے عرصہ تک ہندوستان کے وسیع وعریض حکومت کا دارالحکومت رہا ،البتہ راجگیر کی اہمیت باقی رہی ،اور بدھ مت کے متبعین کا وہاں سے مضبوط رشتہ قائم رہا ،چند گپت موریہ کا پوتا اشوک تاریخ میں اپنے کارناموں کی وجہ سے مشہور ہے ،جس کے دور میں یہ مملکت دوردراز تک پھیل چکی تھی اور دنیا کی اہم مملکتوں میں اس کا شمار ہوتا ،اس نے بدھ مذہب کو قبول کیا ،اور گوتم بدھ کی تعلیمات کو ہر جگہ عام کیا ،اور اس مذہب کو فروغ دینے میں ہر ممکن کوشش کی ،تقریباً دیڑھ دو سو سال کی شاندار حکومت کے بعد پہلے صدی عیسوی کے وسط میں اس کا زوال ہوگیا ،اس کے مختلف خاندان تاریخ کے منظرنامے پر ابھرے جن میں بعض کی سلطنت اسی طرح وسیع تھی ،لیکن بیشتر کا رقبہ محدود ہی تھا ،اس کے بعد تقریبا تیسری صدی عیسوی میں گپتا خاندان بر سر اقتدارآیا ،اور تقریباً دو ڈھائی صدیوں تک بر سر اقتدار رہا ،اس دور میں مگدھ کو دوبارہ عروج حاصل ہوا ،اور اسی دور میں مختلف چینی سیاح آئے جنہوں نے تفصیل سے مگدھ بالخصوص پاتلی پترا کا ذکر کیاہے۔اس کے بعد ہرش وردھن کا دور آیا ،اس کا رقبۂ حکومت بھی بہت وسیع تھا لیکن اس کا دارالحکومت مگدھ نہیں تھا ،اس کے باوجود پاٹلی پترا کی اہمیت وعظمت اپنی جگہ برقرار تھی ،اور وہ دور رہ کر بھی اس شہر پر توجہ دیتا رہتا تھا، اس دوران راجگیر سے قریب نالندہ میں بڑی درس گا ہ قائم ہوئی ،جو قدیم ہندوستان کی عظمت کا عنوان ہے ،راجا پور گپتا نے اپنے دور حکومت میں دارالحکومت پاٹلی پترا سے ایودھیا منتقل کردیا تھا ۔

 کہا جاتا ہےکہ نالندہ پہلے سے ایک بستی تھی ،اور گوتم بدھ کے بعد ہی سے راجاسکرادتیا نے ایک ویہارہ بنوایا تھا ،جس میں وقتاٍ فوقتاً اضافہ ہوتا رہا ،اس کے بعد شاید پانچویں صدی عیسوی میں بالادت گپتا نے ایک بہت بڑی عمارت بنوائی جس کو تعلیمی مرکزیت حاصل ہوگئی ،اور دیکھتے ہی دیکھتے بیرون ہند کے طلبہ سے آباد ہوگئی ۔نالندہ کے بارے میں عام رائے ہے کہ وہ پانچویں صدی میں قائم ہوئی اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ فاہیان جو چوتھی عیسوی میں آیا تھا ،وہ پاٹلی پترا اور دیگر علاقوں کا تفصیل سے ذکر کرتا ہے لیکن نالندہ کا ذکر نہیں کرتا ،جب کہ اس کے ایک صدی کے بعد آنے والا چینی سیاح یوان چنگ اس کا مفصل ذکر کرتا ہے ،اس لئے ممکن ہے کہ اس دوران ہی یہ تعلیم گاہ قائم ہوئی ہو ،لیکن خود سفرنامہ میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی موجود ہے کہ اس کا قیام اس سے پہلے ہوچکا تھا ،یعنی پہلی صدی عیسوی ہی میں اس جامعہ کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ،یہی رائے نالند ہ کی تاریخ کے مشہور مورخ ہنسمکھ شنکلیا(Hashmukh.D.Shankalia)کی نالندہ یونیورسٹی (The University of Nalanda )مطبوعہ مدراس ۱۹۳۴کی بھی ہے،انہوں نے اس کتاب میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے،ممکن ہے کہ عمارتیں بعد میں بنی ہوں اور باضابطہ تعلیم کا سلسلہ بعد میں شروع ہوا ہو۔

 گوتم بدھ کا بھی نالندہ سے تعلق تھااور راجگیر کے ساتھ اس کے وہاں قیام اور اس کے نام جاگیر نذر کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے ،اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے ،جیسا کہ گذرچکا ،کہ اس کے انتقال کے فوراً بعد ہی وہاں اس کے متبعین نے متبرک سمجھ کر کوئی خانقاہ قائم کرلی تھی ،بلکہ بعض مورخین کے مطابق وہ پہلے سے ہی ایک آباد اور بارونق قصبہ تھا ،بعد میں اس کو مذہبی تقدس بھی حاصل ہوگیا ،چنانچہ بدھ کے ساتھ جین مذہب کے اساطین بھی یہاں آئے اور وہ ان کے متبعین کے یہاں بھی مقدس سمجھا جانے لگا ۔

(دیکھئے پروفیسر سی ایس اپدیشک کی کتاب Naladna past and present،مطبوعہ نوانالندہ مہاوہار نالندہ بہار۱۹۷۷)

بہر حال اس کے بعد سے چار سو سالوں تک اس کی عظمت قائم رہی ،اس کے بعد وہ خود برہمنوں کے ہاتھوں تباہ ہوگیاتھا ،مسلمانوں کی طرف اس کی نسبت درست نہیں ۔

اس کے بعد نویں صدی عیسوی میں بنگال میں پال خاندان برسر اقتدار آیا ،جس نے دیگر علاقے فتح کئے اور مگدھ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کرلیا ،اس خاندان نے مختلف نشیب وفراز کے ساتھ تقریباً چا سو سال حکومت کی ،مورخین کے مطابق ان کا دارالحکومت مونگیر تھا ،اسی خاندان کے اولین راجا گوپال کے زمانہ میں اوتنت پور کی مشہور ومعروف خانقاہ تعمیر ہوئی ،جو بہار کے نام سے موسوم تھی ،رفتہ رفتہ یہ شہر بہار ہوگیا ،اور شریف کے لاحقہ کے ساتھ بہارشریف کہا جانے لگا،چارسو سال کے بعد جب بختیار خلجی نے اسے فتح کیا تو اس وقت بھی یہ ندیا کے سین بادشاہوں کی حکومت کا حصہ تھا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورے قدیم مگدھ میں یہ سب سے بڑا آباد شہر تھا اور یہاں بڑا قلعہ بھی تھا ،اس وقت کے علاوہ پٹنہ اور بہارشریف کے علاقہ میں اس کے علاوہ کسی قابل ذکر شہر کا سراغ نہیں ملتا ،پھر (فرشتہ کے بیان کر تسلیم کرلینے پر ) چند ہی سال کے بعد بنگال میں ندیا کے علاقہ میں بختیار خلجی کی موت کے بعد اس شہر میں اسے لاکر دفن کرنا اس شہر میں مسلم تہذیب کے فروغ کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے۔

فصیح الدین بلخی لکھتے ہیں ’’جس جگہ موجودہ قصبہ بہار ہے سابق میں یہاں ایک بستی تھی جو اوندپور یا اتنت پوری کہلاتی تھی ،طبقات ناصری میں سلطان شہاب الدین غوری کے مفتوحہ ممالک کی فہرست میں اوند بہار بھی لکھا ہے ،جس سے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں اوند نام غیر معروف نہ تھا ،بہر کیف ۷۵ کے قریب راجہ راجا گوپال نے یہاں ایک بڑا ویہارہ بنوایا اور اس کے بعد اس خاندان کے اور راجاؤں اور بادشاہوں نے وقتاً فوقتاً اسی قصبہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیا ،اور اس ویہارے کی تعمیر میں بھی اضافہ کیا ،انہیں ویہاروں کے سبب قصبے کا نام ویہارہ (بہار) ہوگیا ،اور دارالحکومت ہونے کے سبب تمام مگدھ پر اسی نام کا اطلاق ہوگیا ،یہ بتانا دشوار ہے کہ پال خاندان کے کس راجا کے زمانہ میں یہ نام قطعی طور پر مشہتر ہوگیا ،کیوں کہ دس گیارہ صدیوں تک تاریخی طور پر مستقل نام بہار ہونے کے بعد بھی کہیں کہیں دیہاتوں میں اس کو مگدھ بولتے ہیں ،لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہارنام ہونے کی ابتدا راجا گوپال کے ویہارے بنوانے کے بعد ہی سےہوئی ہے‘‘۔(تاریخ مگدھ ،ص ۸۶،طبع اول)

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply