عید: تاریکی میں ایمان، خوشی،امید،ہمدردی اور اتحاد کی پیامبر

اسلم رحمانی

عیدالفطر ہمیشہ خوشیوں، رحمتوں اور مسرتوں کا پیغام لے کر آتی ہے، مگر آج جب ہم اس بابرکت دن کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں ہیں تو دل کی کیفیت یکسر مختلف محسوس ہورہی ہے۔ رمضان المبارک کی عبادات کے بعد جہاں ایک طرف روح کو سکون ملتا ہے، وہیں دوسری طرف امتِ مسلمہ کے حالات، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، دل کو بے چین کر دیتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے عید کا چاند طلوع ہوتا ہے، مگر فلسطین کی سرزمین پر اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کے سائے میں جہاں کبھی سکون اور عبادت کی فضا ہوا کرتی تھی، آج وہاں خوف، آنسو اور بے یقینی نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ عید کی وہ خوشیاں جو ایک دوسرے سے گلے ملنے، مسکرانے اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں پوشیدہ ہوتی ہیں، فلسطینی عوام کے لیے اکثر ماتم میں بدل جاتی ہیں۔یہی نہیں، حالیہ حالات نے اس درد کو مزید گہرا، مزید کربناک اور ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک ایسی بے یقینی، خوف اور اضطراب میں ڈھکیل دیا ہے جس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں بارود کی بو رچ بس گئی ہو، جیسے ہر سمت ایک انجانا خطرہ منڈلا رہا ہو، اور جیسے ہر لمحہ کسی نئی تباہی کی خبر لے کر آنے والا ہو۔ ایک طرف غزہ کی گلیوں میں معصوم بچوں کی چیخیں گونج رہی ہیں، ماؤں کی سسکیاں فضا کو چیر رہی ہیں، اور باپ اپنے اجڑے گھروں کے ملبے تلے اپنے خواب دفن ہوتے دیکھ رہے ہیں؛ تو دوسری طرف ایران ،امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بادل ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن کر دلوں میں خوف کی ایک نئی لہر پیدا کر رہے ہیں۔اخبارات کی سرخیاں اپنے اندر درد کی بے شمار داستانیں چھپائی ہوئی ہیں. ایسا درد جو اب لاکھوں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے. وہ مائیں جو اپنے بچوں کو عید کے نئے کپڑے پہنانے کے بجائے انہیں اپنے سینے سے لگا کر یہ سوچتی ہیں کہ اگلا لمحہ کیسا ہوگا؛ وہ بچے جن کے لیے عید کا مطلب کھلونے نہیں بلکہ کسی محفوظ کونے کی تلاش بن چکا ہے؛ وہ نوجوان جن کے خواب بارود کے دھوئیں میں تحلیل ہو رہے ہیں؛اور وہ بوڑھے جو ہر عید پر اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کو یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں۔ کیا ایسی فضا میں عید واقعی عید رہ جاتی ہے؟جب ہم اپنے گھروں میں عید کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں، بازاروں کی رونقیں دیکھتے ہیں، نئے کپڑوں کی خوشبو محسوس کرتے ہیں، تو کہیں نہ کہیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اسی وقت کسی اور خطے میں ایک بچہ اپنے باپ کو کھو چکا ہے، ایک بہن اپنے بھائی کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھ رہی ہے، اور ایک ماں اپنے بیٹے کے نام کی صدا لگا رہی ہے جو کبھی واپس نہیں آئے گا۔ یہ کیسی دنیا ہے جہاں ایک طرف قہقہے ہیں اور دوسری طرف آہیں؟ جہاں ایک طرف عید کی مٹھاس ہے اور دوسری طرف بارود کی تلخی؟امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی صرف سیاسی یا عسکری معاملہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہ گئے ہیں؟ کیا ہماری دعائیں صرف الفاظ تک محدود ہو چکی ہیں؟ کیا ہماری عید صرف ہماری ذات تک سمٹ کر رہ گئی ہے؟ان حالات میں عید کا تصور واقعی بدل جاتا ہے۔ یہ صرف ایک تہوار نہیں رہتا بلکہ ایک آئینہ بن جاتا ہے۔ایک ایسا آئینہ جس میں ہم اپنی بے حسی، اپنی کمزوری اور اپنی ذمہ داریوں کو صاف صاف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی ہم عید منا رہے ہیں، یا ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں خوشی اور غم ایک ساتھ سانس لے رہے ہیں؟ جہاں ایک ہی آسمان تلے کچھ لوگ سجدۂ شکر ادا کر رہے ہیں اور کچھ لوگ اسی آسمان کے نیچے اپنے پیاروں کی لاشوں پر کھڑے رو رہے ہیں؟ایسے میں دل پکار اٹھتا ہے کہ عید کی اصل روح کو سمجھا جائے۔ یہ دن ہمیں صرف خوش ہونے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے بھی دیا گیا ہے۔ اگر ہم واقعی عید کی خوشیوں کے مستحق بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جن کے لیے عید آج بھی ایک ادھورا خواب ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں عید ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں بیدار کرتی ہے، اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم صرف فرد نہیں بلکہ ایک امت ہیں۔ایک ایسا جسم جس کا ایک حصہ زخمی ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ اور شاید اسی احساس کا نام عید ہے، اسی درد کا نام انسانیت ہے، اور اسی بیداری کا نام ایمان ہے۔

عید: تاریکی میں ایمان، خوشی،امید،ہمدردی اور اتحاد کی پیامبر
عید: تاریکی میں ایمان، خوشی،امید،ہمدردی اور اتحاد کی پیامبر

عیدالفطر دراصل رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم انعام ہے، ایک ایسا دن جب بندہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے بعد مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ مگر یہ مسرت صرف ذاتی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اجتماعی ہونی چاہیے۔ جب امت کا ایک حصہ تکلیف میں ہو، تو باقی حصوں کی خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔ فلسطین کے وہ بچے جو بمباری کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کی جدائی میں آنسو بہا رہی ہیں، اور وہ خاندان جو ہر عید پر کسی نہ کسی اپنے کو کھو دیتے ہیں۔یہ سب ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ عید کی اصل روح صرف خوشی نہیں بلکہ ہمدردی بھی ہے۔مسجدِ اقصیٰ، جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، آج بھی ایک ایسی سرزمین پر واقع ہے جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ مزاحمت کی داستانیں بھی رقم ہو رہی ہیں۔ عید کے دن جب دنیا بھر کے مسلمان سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں، وہیں اقصیٰ کے در و دیوار گواہ ہوتے ہیں ان مظلوم نمازیوں کے جو پابندیوں، خوف اور تشدد کے باوجود اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنی عید کی حقیقت کو سمجھیں۔رمضان ہمیں صبر، قربانی اور ایثار کا درس دیتا ہے، اور عیدالفطر انہی صفات کا عملی مظہر ہے۔ مگر آج ہم نے عید کو صرف ظاہری خوشیوں تک محدود کر دیا ہے۔ نئے کپڑے، مہنگی خریداری اور سوشل میڈیا پر مبارکباد کے پیغامات۔یہ سب اپنی جگہ درست، مگر یہ عید کا مکمل تصور نہیں۔ عید کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو وسیع کریں، اپنے وسائل کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں، اور ان لوگوں کو یاد رکھیں جو مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر عام لوگ ہوتے ہیں ۔وہ لوگ جن کا سیاست یا طاقت کی اس جنگ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا، مگر وہی اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں عید کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم انسانیت کے ساتھ کھڑے ہوں، ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے عمل سے دنیا میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔

عید اس لیے بھی آتی ہے کہ ہم اپنے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑیں، اپنے دلوں سے کدورتیں نکالیں، اور محبت کو فروغ دیں۔مگر یہ صرف چند خوبصورت جملے نہیں بلکہ ایک گہری ذمہ داری ہے، ایک ایسا عمل جس کے لیے دل کو جھکانا پڑتا ہے، انا کو توڑنا پڑتا ہے، اور ماضی کی تلخیوں کو معاف کرنا پڑتا ہے۔ کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں برسوں سے بات چیت بند ہے، بھائی بھائی سے جدا ہے، بہنیں ایک دوسرے کی آواز سننے کو ترس رہی ہیں، والدین اپنے بچوں کی راہ تکتے تکتے تھک چکے ہیں۔ عید کا دن ان بند دروازوں پر دستک دینے کے لیے آتا ہے۔یہ کہنے کے لیے کہ “آؤ، آج سارے گلے شکوے بھلا دو، ایک بار پھر گلے مل جاؤ، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور جدائی ہر لحظہ ہمارا تعاقب کر رہی ہے.

سوچیے، جب ایک شخص کئی سال بعد اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ دار کے دروازے پر دستک دیتا ہے، تو اس لمحے کی کیفیت کیا ہوتی ہوگی؟ دروازہ کھلتا ہے، آنکھیں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں، لب خاموش ہوتے ہیں مگر آنسو بول اٹھتے ہیں۔وہ آنسو جو برسوں کی دوری، دکھ اور انتظار کو اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ ایک لمحے میں دل نرم پڑ جاتا ہے، شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں، اور محبت اپنی جگہ دوبارہ بنا لیتی ہے۔ یہی عید کا اصل حسن ہے۔دلوں کو جوڑنے کا حسن، رشتوں کو زندہ کرنے کا حسن۔مگر یہ محبت صرف اپنے قریبی لوگوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے اپنی حدود سے نکل کر پوری انسانیت تک پھیلنا چاہیے۔ ہمارے اردگرد کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو بظاہر ہمارے نہیں، مگر حقیقت میں وہی ہماری ذمہ داری ہیں۔وہ یتیم بچے جو عید کے دن بھی دروازے کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی آئے، کوئی ان کے سر پر ہاتھ رکھے، کوئی انہیں یہ احساس دلائے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک خاموش سوال ہوتا ہے—“کیا آج بھی کوئی ہمیں یاد کرے گا؟”جب ایک یتیم بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا جاتا ہے، تو وہ صرف ایک لمحے کی تسلی نہیں ہوتی بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا ملتا ہے، ایک ادھوری دنیا کو تھوڑی سی مکمل ہونے کا احساس ملتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک درد چھپا ہوتا ہے، مگر وہ مسکراہٹ اس بات کی گواہی بھی دیتی ہے کہ محبت ابھی زندہ ہے۔اسی طرح وہ بیوائیں، جن کے گھروں میں کبھی خوشیوں کی رونق ہوا کرتی تھی، آج خاموشی نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ عید کا دن آتا ہے تو وہ اپنے بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش تو کرتی ہیں، مگر ان کی اپنی آنکھوں میں ایک خالی پن ہوتا ہے۔ایک ایسا خلا جسے کوئی بھر نہیں سکتا۔ اگر ہم ایسے گھروں کا رخ کریں، چند لمحے ان کے ساتھ گزاریں، ان کے بچوں کو پیار دیں، ان کے دکھ کو بانٹیں، تو شاید ہم ان کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا کر سکیں۔اور پھر وہ مظلوم لوگ، جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہیں، جو نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کی سختیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کے لیے عید کا دن اکثر ایک اور آزمائش بن کر آتا ہے۔ نہ نئے کپڑے، نہ خاص کھانے، نہ کوئی خوشی کا سامان صرف ایک عام سا دن، شاید اس سے بھی زیادہ مشکل۔ اگر ہم اپنی خوشیوں میں سے تھوڑا سا حصہ ان کے لیے نکال لیں،اگر ہم ان کے چہروں پر ایک مسکراہٹ لے آئیں، تو یہی اصل عید ہوگی۔

عید ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں، کیونکہ امید ہی وہ چراغ ہے جو اندھیری ترین راتوں میں بھی روشنی کا راستہ دکھاتا ہے۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، آزمائشیں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو جائیں، مومن کا دل اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ یہی وہ یقین ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتا ہے، یہی وہ ایمان ہے جو بکھری ہوئی زندگیوں کو دوبارہ جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ عید دراصل اسی امید کا عملی اظہار ہے۔یہ اعلان ہے کہ اندھیرا چاہے جتنا بھی گہرا ہو، صبح ضرور طلوع ہوگی۔جب ہم فلسطین کے مظلوم عوام کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں امید کی ایک ایسی زندہ مثال نظر آتی ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ وہ لوگ جو برسوں سے ظلم، محاصرے، خوف اور بے یقینی کی زندگی گزار رہے ہیں، پھر بھی اپنے دلوں میں ایک روشنی سنبھالے ہوئے ہیں۔یہ یقین کہ ایک دن انصاف ضرور قائم ہوگا، ایک دن ظلم کا خاتمہ ہوگا، اور ایک دن وہ بھی آزادی اور سکون کی فضا میں سانس لے سکیں گے۔ ان کے لیے عید صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایک دعا ہے، ایک انتظار ہے۔سوچیے، وہ ماں جو اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی تصویر کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے، پھر بھی اپنے باقی بچوں کے لیے مسکرانے کی کوشش کرتی ہے۔یہ مسکراہٹ دراصل امید کی مسکراہٹ ہے۔ وہ باپ جو ملبے کے درمیان کھڑا ہو کر اپنے گھر کے آثار تلاش کر رہا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں پھر بھی ایک چمک باقی ہے۔یہ چمک اس یقین کی ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ وہ بچے جو کھنڈرات کے درمیان کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، جو معمولی سی خوشی پر بھی ہنس پڑتے ہیں۔یہ ہنسی اس بات کی دلیل ہے کہ امید ابھی زندہ ہے۔مسجدِ اقصیٰ، جو صدیوں سے ایمان، صبر اور استقامت کی علامت رہی ہے، آج بھی اسی امید کا مرکز ہے۔ وہاں ہر سجدہ، ہر دعا، ہر آنسو دراصل ایک پیغام ہے۔یہ کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتا۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب اقصیٰ کی فضا میں خوف نہیں بلکہ سکون ہوگا، جب وہاں کے در و دیوار پر پابندیوں کا سایہ نہیں بلکہ آزادی کی روشنی ہوگی، اور جب وہاں جمع ہونے والے نمازی صرف عبادت کے لیے آئیں گے، کسی خوف یا رکاوٹ کے بغیر۔عید ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی اسی امید کو زندہ رکھیں۔ اگر ہم مشکلات میں گھرے ہوں، اگر حالات ہمارے خلاف ہوں، اگر راستے بند نظر آ رہے ہوں۔تب بھی ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی رحمت ہمارے گمان سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہی رب ہے جو اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے، جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے، اور جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو پھر سے جینے کی طاقت دیتا ہے۔یہ امید صرف ایک احساس نہیں بلکہ ایک قوت ہے۔ایک ایسی قوت جو انسان کو گرنے نہیں دیتی، جو اسے ہر بار اٹھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ فلسطین کے لوگ اسی قوت کے ساتھ زندہ ہیں، اور ہمیں بھی اسی قوت کو اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید کا ذریعہ بننا ہوگا، اپنے الفاظ، اپنے اعمال اور اپنی دعاؤں کے ذریعے۔

لہٰذا جب ہم عید منائیں تو اپنے دل میں یہ عہد بھی کریں کہ ہم مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیں گے۔ ہم ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں گے، اس کی رحمت سے امید وابستہ رکھیں گے، اور دنیا کے ہر مظلوم کے لیے دعا کریں گے۔ کیونکہ عید صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ امید کا نام ہے۔ایک ایسی امید جو دلوں کو زندہ رکھتی ہے، آنکھوں میں روشنی بھر دیتی ہے، اور زندگی کو ایک نیا مفہوم عطا کرتی ہے۔عید ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خوشی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جیتے ہیں۔ اگر ہمارے دسترخوان پر نعمتیں ہیں تو ہمیں ان ہاتھوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو خالی ہیں؛ اگر ہمارے گھروں میں قہقہے ہیں تو ہمیں ان گھروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جہاں خاموشی بولتی ہے۔اصل عید یہی ہے کہ ہم کسی کے آنسو پونچھ دیں، کسی کے دل کو تسلی دے دیں، کسی کو یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو دراصل ہم صرف ایک انسان کی مدد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ہم انسانیت کو زندہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عید اپنی اصل روح کے ساتھ ہمارے دلوں میں اترتی ہے۔محبت بن کر، ہمدردی بن کر، اور ایک ایسی روشنی بن کر جو اندھیروں کو بھی امید میں بدل دیتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کے ذریعے عید کے پیغام کو زندہ کریں۔اپنے اردگرد کے ضرورت مندوں کی مدد کریں، اپنے رشتہ داروں سے ملیں، اور ان لوگوں کے لیے دعا کریں جو مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔فلسطین کی مظلوم عوام، مسجدِ اقصیٰ کی حرمت، اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عید صرف ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک امت ہیں، اور ایک جسم کی مانند ہیں اگر ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔

لہٰذا اس عید پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں کو وسیع کریں، اپنے دلوں کو نرم کریں، اور اپنے اعمال کو بہتر بنائیں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اتحاد عطا فرمائے، مظلوموں کی مدد فرمائے، اور دنیا میں امن قائم کرے۔ یہی عیدالفطر کا اصل پیغام ہے۔ایمان، ہمدردی، اتحاد اور امید کا پیغام۔

٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply