قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی اعلی ذہانت اور علمی استحضار کے چند نمونے

تحریر :محمد خالد حسین نیموی

یوم وفات (4اپریل) پر خاص مضمون

اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو ممتاز خصوصیات سے نوازتا ہے، جن کی بنیاد پر وہ دوسرں پر فوقیت لے جاتے ہیں ۔ اور اپنے ممتاز وصف اور غیر معمولی خوبی کے ذریعہ اپنے ہم عصروں پر چھا جاتے ہیں۔ لیکن دوسرے اوصاف میں کوئی خاص انفرادیت قائم نہیں کر پاتے اور اپنے خاص میدان کار کے علاوہ دوسرے میدانوں میں کوئی گہرائی اور دیر پا اثر نہیں چھوڑ پاتے ہیں ۔

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی اعلی ذہانت اور علمی استحضار کے چند نمونے
قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی اعلی ذہانت اور علمی استحضار کے چند نمونے

مگر ان میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں ، جن کی ہر صفت ممتاز ، ہر خوبی نرالی ، ہر وصف انوکھا ، ہر صلاحیت بے نظیر اور ہر استعداد بے مثال ہوتی ہے ۔ وہ ہر میدان میں اپنی انفرادیت کا سکہ بٹھا دیتے ہیں اور اپنی بے نظیر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے اعلی ترین کارنامے انجام دیتے ہیں ، جو انہیں رفعت و بلندی کے اعلی مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور وہ عالم فانی سے کوچ کر جانے کے باوجود زبان حال سے یہ اعلان کرتے رہتے ہیں ” ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما”

ثانی الذکر قلیل ترین برگزیدہ افراد میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی شخصیت بھی ہے۔ خدا نے آپ کو گوناگوں خوبیوں اور متنوع کمالات کا جامع بنایا تھا۔ آپ کا ہر وصف نمایاں اور آپ کی شخصیت کو امتیازی مقام عطا کرتا ہے۔ لیکن ان تمام اوصاف میں سے ممتاز وصف آپ کا علمی استحضار، اعلی ترین ذہانت اور بے مثل قوت استدلال تھا۔ اللہ تعالی نے آپ کو فہم ثاقب اور فراست کا ملہ سے نوازاتھا۔

امام رازی کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں غباوت یا کم ذہانت کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ اول: قضا. دوم: طب ۔ قاضی اگر غبی ہوگا تو مقدمات کی حقیقی نوعیت اور صورت حال کو نہیں جان سکے گا اور ظالم و مظلوم کے مابین تمیز نہیں کر پائے گا۔

نتیجتا دادرسی

کرنے والے کو انصاف نہیں مل پائے گا ۔ حضرت قاضی صاحب اگر کامیاب ترین قاضی تھے تو اس کی سب سے بڑی وجہ آپ کی اعلی ذہانت اور علمی استحضار تھا۔ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ مقدمہ میں مسئلہ کی تہ تک پہنچ جاتے اور مسئلہ کی جڑ اور بنیاد تلاش کر کے مختلف گتھیوں کو سلجھاتے چلے جاتے تھے؛ جن لوگوں نے حضرت قاضی صاحب کے لکھے ہوئے فیصلوں کو پڑھا ہے، وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ قاضی صاحب مشکل سے مشکل مقدمہ میں کس قدر دقیقہ رسی اور غواصی کا ثبوت دیتے ہیں اور ممکنہ نکات میں سے ایک ایک کو اجاگر کر کے کسی طرح صحیح فیصلہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کی اس غیر معمولی صفت سے متاثر ہو کر امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نے فرمایا کہ عام لوگوں کے برعکس قاضی صاحب کے ذہن کے تمام دریچے کھلے ہوئے اور روشن ہیں ۔

مشہور مورخ شیخ اکرام نے ہندوستان کے عہد غلامی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس زمانے میں علمی لحاظ سے عظیم اسلامی یونیورسی دار العلوم دیو بند کی شکل میں وہ کارنامہ انجام پذیر ہوا، جس کی نظیر مسلم عہد حکمرانی کے تاباں دور میں بھی نہیں ملتی ۔ ٹھیک اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ آزاد ہندوستان میں نظام امارت اور قضا کی شکل میں ایسا مکمل اور مستحکم نظام رواج پایا جس کی نظیر مشکل ہی سے ہندوستان کے مسلم عہد حکمرانی میں مل سکے گی ، تو اسے مبالغہ نہیں کہا جا سکتا۔ اس نظام کو متعارف کرانے ، اس کو مستحکم کرنے اور اسے علمی و فکری غذا فراہم کرنے میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی ذہانت ، فکر عمیق اور بلند پرواز دماغ کا بڑا دخل تھا۔ آپ کی وسعت نظری و دور اندیشی سے ملت اسلامیہ نے بہت سے نازک مراحل پر فائدہ اٹھایا اور اس پر آنے والی کئی مصیبتیں ٹل گئیں ۔ دار القضاء کے سلسلے میں جب کوئی نامہ نگار آپ سے انٹرویو کرتا اور سوال کرتا کہ ”دار القضا‘ کیا ہے؟ تو آپ کا محض ایک جملے میں جواب ہوتا کے دارالقضا، دارالقضاء ہے.”Dar al-Qada is (simply) Dar al-Qada.” دار القضاء ایک ٹکنیکل ورڈ ہے، جس کا مطلب ہے کورٹ یا عدالت. فیصلہ گھر ۔ ساتھ ہی نامہ نگار کوسختی سے تاکید فرماتے کہ میرے جواب میں اپنی طرف سے اسلامی یا شرعی کورٹ جیسے الفاظ کا اضافہ مت کرنا ۔ یہ شدت احتیاط صرف اس وجہ سے تھی کہ فرقہ پرست اور اسلام دشمن عناصر اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اور اسے عدلیہ کا متوازی کورٹ قرار نہ دیا جا سکے ۔

ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ بعض ایسے مشکل اور نازک سوالات جو غیر مسلم دانشوروں کی طرف سے اٹھائے جاتے اور بڑے سرکردہ علماء اس کے جواب میں پریشان نظر آتے ہیں ، اس سوال کو قاضی صاحب اپنے علمی استحضار اور دل نشین انداز بیان سے اس طرح حل فرما دیتے گویا کہ وہ کوئی مشکل سوال ہی نہ ہو ۔

 چنانچہ ۱۹۷۲ء میں کلکتہ میں متبنی بل کے حوالے سے کنونشن کا انعقاد ہوا، جس میں اکابر علماء کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر مسلم دانشوران اور ممبران پارلیمنٹ شریک تھے ۔ اس میں متبنی بل پر بحث ہو رہی تھی اور علماء کرام اس کو اسلامی قانون میراث کے خلاف قرار دے کر مستر د کر رہے تھے ۔ اس درمیان ایک غیر مسلم دانشور نے یہ سوال اٹھایا کہ آپ حضرات نے متبنی بل کو مستر د کر دیا تو پھر لاوارثوں کے لیے آپ کے پاس کیا قانون ہے؟ اور اس کے لیے کیا انتظام ہے؟ لاوارث تو ہمارے ہمدردی کے مستحق ہیں.

علماء اس سوال پر بڑے متفکر ہوئے ، لیکن حضرت قاضی صاحب نے برجستہ انداز میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنابِ من ! اسلام میں کوئی لاوارث سرے سے ہے ہی نہیں؟ تو پھر لاوارثوں کے لیے الگ سے مستقل قانون کی ضرورت کیا ہے ؟ !

جب لوگ اس جواب پر حیران ہوئے تو آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کی نظر میں کوئی لاوارث اس لیے نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انا ولی من لا ولی له” – یعنی جس شخص کا ولی کوئی نہ ہو، اس کا ولی میں ہوں ۔ تو اسلام کی نظر میں جس کا کوئی ولی نہ ہو؛ امیر، سلطان یا حکومت کا سربراہ، یا سماج کا ذمہ دار اس کا ولی ہے۔ اور اس کے امور کا انتظام کرنا حکومت یا ولی الامر کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اس سلسلے میں پہلو تہی کرتی ہے تو اس کے لیے وہ جواب دہ ہے۔ اس پر معترضین نہ صرف مطمئن ہو گئے ، بلکہ قاضی صاحب کے بے نظیر علمی استحضار پر عش عش کرنے لگے ۔

اس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ” مسئلہ کفائت اور اسلام” کے موضوع پر ایک کنونشن منعقد ہوا، جس میں حضرت قاضی صاحب بطور خاص مدعو تھے ۔ اس کنونشن میں عصری دانشوران اور پروفیسر حضرات بڑے شدومد کے ساتھ مسئلہ کفائت کی مخالفت کر رہے تھے اور اسے اسلام کے تصور مساوات کے خلاف قرار دے رہے تھے۔ لیکن اخیر میں قاضی صاحب نے مسئلہ کی ایسی مدلل اور دلنشیں وضاحت فرمائی کہ مجمع کا رخ یکسر بدل گیا۔ آپ نے فرمایا: کہ کفائت ایک فطری امر ہے۔ اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح ہم اپنے لباس کے انتخاب میں میچنگ کا خیال رکھتے ہیں اور ہماری خواہش ہوتی ہے کہ قمیص و کرتا جس طرح ہو، پاجامہ و پتلون بھی اس کے مناسب ہو، دونوں کے رنگ ڈیزائن میں تناسب ہو. ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو مردوں کے لیے اور مردوں کو عورتوں کے لیے لباس قرار دیا ہے اور فرمایا : "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ”۔(سورۃ البقرۃ — آیت 187) یعنی بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ لہذا زوجین کے درمیان کفائت اور نسبی مساوات نہ صرف یہ کہ مستحسن ہے، بلکہ فطری اور لا بدی ہے،

تا کہ ازدواجی زندگی ہم آہنگی اور محبت کے ساتھ بسر ہو سکے ۔ اور رشتوں میں یکسانیت، حسن اور گرمجوشی پیدا ہو، نسب کی بنیاد پر کوئی تلخی نہ پیدا ہو اور نسب کی بنیاد پر ایک دوسرے کو طعنہ نہیں دیں.

اس شافی بیان سے تمام لوگوں کے شبہات زائل ہو گئے ۔ اور دانشور حضرات نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے ہم نے کبھی اس زاویے سے اس مسئلہ پر غور و فکر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے اسلام کی بہترین ترجمانی پر قاضی صاحب کو آفریں بھی کہا۔

صلاحیت مند تو بہت سے لوگ ہوتے ہیں، لیکن ایسے افراد بہت کم ہوتے جن کا علم ہمہ وقت مستحضر ہو اور وہ بر وقت و برمحل اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر سکیں ۔ بہت ممکن ہے کہ قاضی صاحب کے معاصرین میں کچھ حضرات صلاحیت و قابلیت میں آپ سے فائق ہوں؛ لیکن جہاں تک علمی استحضار اور عالمانہ بصیرت کا تعلق ہے، تو اس وصف میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی طاق تھے ، کوئی آپ کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ اس کا کچھ اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں1975، 76 میں جب حکومت اور اس کی مشنریاں نس بندی کے جبری نفاذ پر بہت زور دے رہی تھیں ، تو سر کردہ علماء و مسلم دانشوروں نے اس مسئلہ پر غور و فکر کرنے کے لیے دہلی میں ایک اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اجلاس مہندیان میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جدید تعلیم یافتہ دانشوران سمیت کئی جید علماء نے آبادی پر کنٹرول کرنے اور غریبی دور کرنے کو بنیاد بنا کر نس بندی کے جواز پر تقریر کی ، ان میں متعدد کئی خانقاہوں کے سجادہ نشین اور بڑے مرکزی تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی تھے. جن کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن حکومت کی ہمنوائی والی اس بات کی وجہ سے مجمع میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ بالآخر حضرت قاضی صاحب نے آیت کریمہ: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ

ترجمہ:

"اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔بیشک ان کا مارنا بڑی خطا ہے”(الاسراء :۳۱)

کی روشنی میں نس بندی کی حرمت پر فاضلانہ تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ظاہری طور پرنس بندی ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ لیکن اگر بار یک بیں نظروں سے دیکھا جائے تو یہ نسل کشی ہے۔ جس طرح باغباں پھول اور کلیوں کے جھاڑ نے والے کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو پھل توڑنے والے کے ساتھ کرتا ہے، اسی طرح آنے والے ایک متوقع بچے کو آمد سے قبل ہی کچل دینے والا عند اللہ ویسی ہی سزا کا مستحق ہے جس کا مستحق قاتل ہوتا ہے ۔ آپ کی اس زور دار اور مدلل تقریر سے جملہ حاضرین کے شبہات زائل ہو گئے ۔

مقاصد شرع کے ساتھ ساتھ کتبِ فقہ کی اہم عبارتیں اور ان کی جزئیات بھی قاضی صاحب کو اس قدر مستحضر تھیں کہ عام حالات کے علاوہ ہنگامی حالات میں بھی نہ صرف یہ کہ ان سے کام لیتے ،

بلکہ انہیں موقع محل پرفٹ بھی کر دیتے جو یقیناً کسی فقیہ کامل کا ہی خاصہ ہو سکتا ہے ۔

چنانچہ ۱۹۹۸ء میں کاروان آزادی جب آپ کی زیر قیادت پورے ہندوستان کا دورہ کرنے کے بعد دیو بند پہنچا ، تو آپ کے استقبال میں دارالعلوم وقف دیوبند کے دارالحدیث میں رئيس المحدثین حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا ۔ آپ کی تشریف آوری کی خبر سنکر طلبہ و معززین شہر کی جم غفیر جمع ہوگئی ۔ حضرت جب تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو مجمع آپ کے دیدار کے لیے بیتاب ہو گیا۔ اور ہال کی تنگی کی وجہ سے دور بیٹھے سامعین کے لیے آپ کو دیکھنا مشکل ہو گیا ، تو آپ نے ان کی بے چینی کو محسوس کر کے انہیں تسلی دیتے ہوئے برجستہ فرمایا : میرے عزیزو! آپ نے تو یہ قاعدہ پڑھ رکھا ہے کہ ” النائی کالقریب ، یعنی جو دور ہیں وہ قریب کے حکم میں ہیں ۔( یہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب کنز الدقائق“ کا جزئیہ ہے ) تو پھر دور ہونے کی وجہ سے آپ کیوں بیچین ہیں! یہ سن کر مجمع پُر سکون ہو کر ہمہ تن گوش ہو گیا ۔

اسی طرح سہارنپور میں کاروان آزادی کے استقبال میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کل مغرب کی طرف سے حریت و حقوق کے بلند بانگ نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے اسلام پر تنگ نظری کا بے جا الزام بھی لگایا جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حریت و آزادی اور حقوق انسانی کا سب سے بڑا علم بردار اسلام ہے۔ آزادی کا پہلا درس اسلام نے انسانیت کو سکھایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد : كلكم من آدم و آدم خلق من تراب “ تم سب آدم کی اولاد ہوا اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ۔ مساوات و وحدت انسانیت کا پہلا ستون تھا۔ اور حضرت عمرؓ کے ارشاد: متى جعلتهم عبيدا وقد ولدتهم امهاتهم احرارا -( تم نے انہیں غلام کیوں بنالیا جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنم دیا نے) اس نظریہ کو مزید مستحکم کیا۔ لہذا مسلمانوں کو اقوام مغرب کی جانب سے آزادی کا کوئی نیا سبق پڑھانے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ۔

علم و تحقیق کی دنیا میں کتابوں کے جلیل القدر مصنفین کی تاریخ پیدائش ، سنہ وفات ، نسبت اور جائے پیدائش کو یاد رکھنا نسبتا ایک مشکل کام سمجھا جاتا ہے ، بعض خاصے ذی علم افراد کے لیے صرف مصنف کا نام یا د رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن حضرت قاضی صاحب اس میدان میں بھی دوسروں سے ممتاز تھے۔ انہیں نہ صرف یہ کہ مصنفین کے نام اور سنین پیدائش و وفات مستحضر ہوتے ، بلکہ ان کی جائے پیدائش اور جغرافیائی محل وقوع سے بھی وہ پوری طرح آگاہی رکھتے تھے۔ چنانچہ ۱۷/ رمضان ۱۴۲۰ھ کو جبکہ قاضی نگر پھلواری شریف پٹنہ کی اپنی ذاتی لائبریری میں حضرت تشریف فرماتھے ،یہ عاجز بھی حضرت قاضی صاحب کی طلب پر اس مجلس میں حاضر تھا. بات دارالعلوم امارت شرعیہ کے قیام کے حوالے سے چل رہی تھی. جس کے پہلے صدر مدرس کے طور پر حضرت نے اس عاجز کو منتخب فرمایا تھا.

دوران گفتگو مشہور اصولی فقیہ علامہ

شہاب الدین قرانی صاحب الفروق کا تذکرہ آگیا ۔ راقم الحروف نے نا واقفیت کی وجہ سے قرانی ( بفتح قاف) کا تلفظ بضم قاف کر دیا۔ تو آپ نے نہ صرف یہ کہ اسکی تصحیح کی بلکہ بتانے لگے کہ قرافہ مصر کی راجدھانی قاہرہ میں ایک جگہ کا نام ہے، اس کے نام پر وہاں ایک قبرستان بھی ہے، جس میں بڑے بڑے جبال العلم مدفون ہیں ۔ یہ دراصل قاہرہ کے قدیم قبرستانوں میں سے ایک قبرستان اور ایک تاریخی محلے کا نام ہے، جو فُسطاط اور قاہرہ کے درمیان اور المقطم پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔

 سفر مصر کے درمیان مجھے اس شہر کو دیکھنے اور وہاں مدفون علماء و اکابر کی کے مراقد کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

حضرت قاضی صاحب کو جس طرح فقہی عبارتیں مستحضر تھیں اسی طرح وہ اس جیسی دوسری عبارتوں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے. مختلف کتابوں کی مماثل و مشابه عبارت و جزئیات کا فرق ، وجہ فرق ان میں سے ہر ایک کے موضع ومحل اور مناظ حکم کو مجتہدانہ انداز میں جانتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رانچی کی مسجد کی توسیع کے سلسلے میں ایک تنازع کھڑا ہو گیا، مسجد کے متصل جن صاحب کی زمین تھی وہ کسی بھی قیمت پر زمین دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور اس زمین کو حاصل کئے بغیر مسجد کی توسیع ناممکن تھی ۔ دوسری طرف مسجد مصلیوں کے لیے تنگ اور ناکافی تھی۔ تنازعہ کے شرعی حل کے لیے امارت شرعیہ کے دارالافتاء سے رجوع کیا گیا۔ یہاں سے مفتی صاحب نے قاضی صاحب کے علم کے بغیر یہ جواب لکھ دیا کہ : اگر مسجد تنگ ہو اور اس کے متصل خالی زمین ہو اور اس کے مالکان قیمتا بھی زمین دینے پر آمادہ نہ ہوں ، تو قیمت دے کر ان سے جبراز مین لے لی جائے گی ۔ (کمافی الہند یہ والبحر ۔)

جب فتوی وہاں پہنچا تو مالکان نے مشتعل ہو کر اس کے ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ بالآخر اس پیچیدہ تنازعہ کو حل کرنے کے لیے حضرت قاضی صاحب کو وہاں باصرار مدعو کیا گیا ۔ آپ وہاں تشریف لے گئے ۔ اور صورت حال کو سمجھنے کے بعد آپ نے فریقین کو جمع کیا اور تنازعہ کو بڑی خوش اسلوبی سے سلجھا دیا۔ اس طرح بلا قیمت کے مفت زمین مسجد کو مل گئی ۔ پھر واپس آنے کے بعد آپ نے امارت شرعیہ کے ارباب افتاء کو سمجھایا کہ یہاں صورت مسئلہ وہ نہیں ہے، جس کا جواب آپ نے ھندیہ اور البحر الرائق کے حوالے سے دیا ہے ۔ یہ حکم تو اس صورت میں ہے ، جب پورے شہر میں صرف ایک مسجد ہو اور ملک دارالاسلام ہو ۔ (کمافی ردالمختار ۔) ہندوستان میں یہ حکم نہیں چلے گا اس لیے کہ کسی جمہوری ملک میں کسی پر زور ز بر دستی اور جبر نہیں کیا جا سکتا ۔

فقہی اصول و قواعد اور کلیات پر حضرت کو ماہرانہ عبور حاصل تھا۔ آپ کی تصنیفات و علمی مقالات اصولی بحثوں سے پُر ہیں۔ لیکن تحریر کے علاوہ تقریر اور عام گفتگو میں بھی آپ ان قواعد واصول کو ذکر کرتے اور بڑے قرینے سے پیش آمدہ مسئلے پرفٹ کر دیتے ۔ چنانچہ ۱۶/ رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ کا واقعہ ہے (جس کا بندہ راقم السطور عینی شاہد ہے) کہ جمعہ سے قبل آپ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ آگے کی صفیں خالی ہیں لوگ پیچھے بیٹھیں ہیں اور بعد میں آنے والے صفیں پھلانگ کر آ رہے ہیں؛ تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ صف اول میں جگہ لینا بڑی طاعت اور باعث ثواب ہے ۔ اس میں خود پیش قدمی کیجئے ! دوسروں کو ترجیح مت دیجئے ! ہاں اپنی جائز خواہشات پر دوسروں کو ترجیح دینا بڑی بات ہے جس کی طرف آیت کریمہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ. ترجمہ:

"اور وہ (صحابہ کرام) اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود تنگی میں ہوں۔اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچا لیے گئے، وہی دراصل کامیاب ہیں. “ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔

اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے ( مشتبہ ) کام کی تفصیل بیان کرنے کے بعد آپ سے مشورہ طلب کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا یہ کام شرعی نقطہ نظر سے غلط ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے یہ کام اچھے مقاصد کے لیے شروع کیا ہے۔ قاضی صاحب نے واضح طور پر کہا کہ غلط کام چاہے کتنے نیک ارادہ سے کیا جائے غلط ہے۔ یہاں پر الأمور بمقاصدها “ اورانما الاعمال بالنیات کا قاعدہ نہیں چلے گا۔ پھر حاضرین سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ آج کل یورپ میں قتل کی ایک نئی قسم رائج ہے۔ یو تھینیز یا ، یعنی قتل بدافع شفقت جسے مبینہ طور پر اچھے مقصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن مقصد کے بہتر ہونے سے کام اچھا نہیں ہو جائے گا۔ رہے گا وہ غلط ہی.

متنازعہ معاملات پر بیان دینے میں عام طور پر بے احتیاطی یا غلطی ہو جاتی ہے ۔ لیکن قاضی مجاہد الاسلام قاسمی سے دوران انٹرویو بھی کوئی گول مول سوال کیا جاتا تو آپ اپنی بے پناہ بصیرت و ذہانت سے اسے بھانپ لیتے اور مزید محتاط ہو کر ایسا نپا تلا جواب دیتے کہ سائل اپنے مقصد میں نا کام ہو جاتا۔ چنانچہ ۲۰۰۱ء میں جب طالبان نے بامیان میں موجود بودھ کے مجسموں کو مسمار کر دیا؛ تو ہندوستان کے فرقہ پرستوں نے بڑا واویلا مچایا۔ بعض علماء نے بھی طالبان کی مذمت میں بیان جاری کر دیا ۔ قاضی صاحب ان دنوں پٹنہ میں تھے ۔ صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حیثیت سے نامہ نگاروں نے اس مسئلہ پر آپ سے انٹرویو کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا: آپ لوگ تو طالبان کی باتیں ہم تک ٹھیک طرح سے پہنچاتے نہیں۔ پورے میڈیا میں ان کے خلاف یک طرفہ رپورٹنگ ہو رہی ہے ۔ طالبان ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس سلسلے میں ان کا کیا موقف ہے ؟ اسے واضح نہیں کرتے ، تو پھر ہم اندھیرے میں رہ کر ان کے بارے میں کس طرح رائے زنی کر سکتے ہیں ! پھر ہندوستان میں جولوگ اس پر واویلا مچارہے ہیں ۔انہیں اس کا کیا استحقاق ہے؟ آخر وہ ایساکیوں کررہے ہیں ؟ جب پانچ سو سالہ قدیم تاریخی مسجد کو ظلما شہید کر دیا گیا، تو اس وقت یہ فرشتے کہاں تھے۔ اس وقت تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی ۔ بلکہ وہ خوشیاں منا رہے تھے ۔ تو پھر آج واویلا کیوں؟

اسی حوالے سے فرمایا کہ آج کل اسلام، مسلمان یا کسی اہم اسلامک تنظیم کے تعلق سے جو خبریں آرہی ہیں۔ وہ عام طور پر متعصبانہ اور معاندانہ ہوتی ہیں ۔ اور چوں کہ عالمی ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کا تسلط ہے، اس لیے اسلام کے خلاف جانے والی چھوٹی سی چھوٹی بات کو” رائی کا پر بت” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے جب تک کسی مستند و با وثوق ذریعے سے بات معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک کسی کے بارے میں کوئی اچھی یا بری رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ.

 ترجمہ:

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو،

ایسا نہ ہو کہ تم نادانستگی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو،

پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو جاؤ۔

 اسلام کے خلاف ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈہ مہم کے بارے میں فرمایا کہ پرو پیگنڈہ اور جھوٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی ، سچائی اور حقانیت کی وضاحت اور شیوع کے بعد پرو پیگنڈہ مہم خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔ صداقت کے آشکار ہونے کے بعد جھوٹی تشہیر حوصلہ ہار جاتی ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے ابولہب اور اس کی بیوی کی پرو پیگنڈہ مشنری مکی زندگی میں کچھ دنوں تک شمع نبوت کو بجھانے اور اس کی شبیہ کو مسخ کرنے میں مسلسل کوشاں رہی جس کی طرف تبت يدا أبي لهب … حمالة الحطب الخ ” سے اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن جب اسلام کی حقانیت عالم آشکار ہوگئی تو شرارہ بو لہبی خود بجھ گیا۔

حضرت قاضی مجاہد الاسلام طلبہ کی ذہانت و فکری تعمیر اور انہیں علمی غذا فراہم کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔ اور موقع ملنے پر انہیں اپنے علمی استحضار اور ذہانت سے بھر پور علمی غذا فراہم کرتے ۔ چنانچہ ۲۱ / شوال ۱۴۲۰ ۵ روز جمعہ کو دار العلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر طلبہ و نو جوان علماء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” خبردار ! خبر دار میرے عزیزو! اسلام ایک آفاقی و ہمہ گیر مذہب، قانون اور شریعت ہے۔ تم کبھی اس کو حجروں میں بند مت کرنا. تم وارثین حضرتِ سجاد ہو۔ تم بھی اسلام کی نشر و اشاعت اور عملی نفاذ کے لیے ان کے نقش قدم پر چلنا ۔ تم در حقیقت اسلام کی قوت کے امین ، سرمایہ قوم اور اعدوا لهم ما استطعتم من قوة “ کی تعبیر ہو ۔ لہذا ہمیشہ باطل کے خلاف سینہ سپر بن کر رہنا

اسی طرح "صنوان القضاء” کی تحقیق کے سلسلے میں ۱۴۲۰ھ میں جب دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے تو دارالعلوم کے چند ممتاز طلبہ حضرت قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور بطور شکایت یہ بیان کرنے لگے کہ اندرون دار العلوم کچھ تنظیموں کے افراد کام کر رہے ہیں ۔ اور طلبہ کا ذہن پراگندہ کرنے میں لگے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ مشورے سے نوازا جائے ۔ تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ آپ نے وہ حدیث تو پڑھ رکھی ہو گی کہ شیطان انسان کے تاک میں لگا رہتا ہے۔ اور جب قلب کو ذکر اللہ سے غافل پاتا ہے تو اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اور یہ فارسی کا مقولہ بھی سنا ہوگا ” خانہ خالی رادیومی گیرد” اسی طرح سمجھئے کہ یہ تحریکیں اور تنظیمیں آپ کو صرف اس لیے لقمہ تر سمجھ رہی ہیں کہ خود آپ کے اندر تحریک و بیداری نہیں ہے۔ آپ اگر خود محرک و بیدار ہو گئے ، تو یہ تحریکیں آپ کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔

سخت سے سخت علالت کے ایام میں بھی آپ کی ذہانت بیدار اور فکر بالیدہ رہتی تھی ۔ اور ملی مسائل پر میڈیا والوں کے تیکھے سوالات کا سامنا کرنے کے لیے مستعد رہتے تھے ۔ چنانچہ ۲۱ / رمضان ۱۴۲۲ھ کو جب آپ شدید طور پر علیل تھے، بی بی سی کے نامہ نگار نے بابری مسجد کے سلسلے میں آپ سے انٹرویو کیا اور پوچھا کہ آپ بابری مسجد کا مسئلہ ابھار کر ، کیا ملت کے اہم مسائل ، تعلیم ، روزگار، غربت وغیرہ سے چشم پوشی نہیں کر رہے ہیں؟ آپ نے دوٹوک انداز میں فرمایا: "ہر : گز نہیں ! بابری مسجد ہمارا مذہبی مسئلہ ہے ، ہم اس سے کسی حال میں بھی دست بردار نہیں ہو سکتے ہیں ۔ ہم سنجیدگی کے ساتھ مسلسل اس کی بازیابی کے لیے کوشاں رہیں گے ۔ بلکہ عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں ۔البتہ دیگر ملی سماجی تعلیمی مسائل پر بھی توجہ دیتے رہیں گے. اس شدید بے چینی کے عالم میں امت کے لیے یہ فکر مندی آپ ہی کا حصہ تھا۔

اس مضمون میں فقیہ العصر حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی زندگی کے صرف ایک پہلو یعنی آپ کی ذہانت و علمی استحضار کا اپنے نقطۂ نظر سے سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں سے بھی صرف بعض اہم نا قابل فراموش واقعات پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ ورنہ آپ کے اوصاف و کمالات میں سے ہر وصف پر درجنوں صفحات رنگین کئے جا سکتے ہیں۔. اللہ تعالیٰ حضرت کی خدمات کو قبول فرمائے آمین.

بندہ محمد خالد حسین نیموی قاسمی.

صدر جمعیت علماء بیگوسرائے بہار

(بشکریہ ماہنامہ ترجمان دارالعلوم

جون – اگست ۲۰۰۲ء)

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply