ماہنامہ ”حرفِ تازہ“ایک خوش آئند علمی و ادبی آغاز
اسلم رحمانی
میدان رجال سازی کے شہسوار، صاحب طرز ادیب اور جید عالم دین، امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم مفتی ڈاکٹر محمد ثناء الہدی قاسمی کی متحرک و فعال ادارت میں، جواں سال، باصلاحیت اور بیدار مغز عالم دین غالب شمس قاسمی، اور نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما، مہوا (ویشالی) کے فعال و مخلص جنرل سکریٹری مولانا نظری الہدی قاسمی کی مشترکہ علمی و ادبی کاوشوں سے ماہنامہ “حرفِ تازہ” پٹنہ کا اجرا ہدی منزل، پھلواری شریف، پٹنہ سے عمل میں آیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک خوش آئند علمی پیش رفت ہے بلکہ عصر حاضر میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک امید افزا چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔یکم مارچ 2026 کو اس رسالہ کا پی ڈی ایف مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کے توسط سے مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوا؛ مگر اس وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ دل و دماغ شدید اضطراب کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ والدہ محترمہ رحمۃ اللہ علیہا اس وقت میدانتا ہسپتال کے آئی سی یو میں زندگی و موت کی کشمکش سے گزر رہی تھیں، اور میں ایک بےبس فرزند کی طرح ان کے سرہانے کھڑا دعا اور انتظار کے سوا کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا۔ اس شدید ذہنی و قلبی اضطراب کے عالم میں اس پی ڈی ایف کو دیکھنے کی فرصت نہ مل سکی۔

چنانچہ جب 5 مارچ کو فرصت کے چند لمحات میسر آئے اور میں نے اس پی ڈی ایف کو کھولا تو فروری 2026، جلد نمبر 1، شمارہ نمبر 1 کے ‘مجلسِ ادارات’ میں معروف قلمکار جناب انوار الحسن وسطوی،صدر شعبۂ اردو، نتیشور کالج مظفرپور، استاد محترم کامران غنی صبا، اور رفیقِ مکرم مولانا نظری الہدی قاسمی کے بعد راقم الحروف(اسلم رحمانی) کا نام دیکھ کر دل جذبات سے لبریز ہوگیا۔اس عہد میں جب کہ بیشتر ادارے سیاست اور گروہ بندی کی نذر ہو چکے ہیں، ایسی باوقار علمی شخصیات کا مجھ جیسے طالبِ علم کو مجلسِ ادارت میں شامل کرنا ان کی فراخ دلی، خلوص اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی کی روشن مثال ہے۔ اس اعزاز کے لیے میں مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی ، مولانا نظری الہدی قاسمی اور مولانا شمس غالب قاسمی کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔یہ میرے لیے مزید باعثِ مسرت ہے کہ اس اولین شمارے میں میرا مضمون “معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں ادب کا کردار” بھی شاملِ اشاعت ہے۔ اس عنایت و اعتماد کے لیے مدیرِ اعلیٰ، مدیرِ مسئول اور خصوصیت کے ساتھ مولانا نظری الہدی قاسمی کا صمیمِ قلب سے ممنون و سپاس گزار ہوں کہ انہوں نے اس طالبِ علم کی تحریر کو اس معیاری علمی و ادبی جریدے میں جگہ دی۔

میں اس آغاز پر مدیرِ اعلیٰ، مدیرِ مسئول اور پوری مجلسِ ادارت کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ ماہنامہ “حرفِ تازہ” اپنے نام کی طرح اردو دنیا میں تازگیِ فکر، بلندیِ نظر اور علمی وقار کا استعارہ بنے، اور علمی و ادبی حلقوں میں معیاری اردو زبان و ادب کے فروغ، فکری بالیدگی اور تہذیبی شعور کی بیداری کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ اس ادارتی ٹیم کی ان مخلصانہ کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اس رسالے کو دیرپا کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔ آمین۔






