محمد مجاہد سیّد اور ان کا لکھنوی پیکر
معصوم مرادآبادی
جن لوگوں کو اس بات کا شکوہ ہے کہ لکھنؤ سے تہذیب وشائستگی کا زمانہ رخصت ہوچکا ہے، انھیں محمد مجاہد سیّد سے ضرور ملنا چاہئے۔وہ نہ صرف زوال پذیر لکھنوی تہذیب کی آخری نشانیوں میں سے ایک ہیں بلکہ اپنی تواضع اورانکساری کی وجہ سے بھی ہم سب کے محبوب ہیں۔انھوں نے لکھنؤ کے ایک ذی علم خانوادے میں آنکھیں کھولیں،وہیں پلے بڑھے، لیکن عملی زندگی کا بڑا حصہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں صحافتی خدمات انجام دیتے ہوئے گزارا ۔ خاص بات یہ ہے کہ دیار غیر میں بھی انھوں نے لکھنوی تہذیب اور تواضع کا پرچم بلند رکھا۔وہ ایک سنجیدہ قلم کار ہیں اور نظم ونثر دونوں پر عبور رکھتے ہیں اور ان کی مرصع تحریروں کے کئی مجموعے منظرعام پر آچکے ہیں۔

محمدمجاہد سید کی ادبی فتوحات کے تذکرے سے پہلے ایک نظر ان کے لکھنوی پرتو پر ڈالتے ہیں۔ بلاشبہ لکھنؤ کسی زمانے میں تہذیب وشائستگی کا نمائند ہ شہر تھا اور یہاں کیسے کیسے نابغہ روزگار قیام کرتے تھے، مگر اب یہاں اس تہذیب کی دھول ہی نظر آتی ہے۔ یہ تہذیب بہت تیزی کے ساتھ روبہ زوال ہوئی ہے۔ لکھنؤ میں اب تاریخی عمارتوں اور تہذیبی آثار کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہا ہے۔لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ انھوں نے کیسی قیمتی شے کھودی ہے۔لیکن اس دور میں بھی یہاں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ’گزشتہ لکھنؤ‘ کی یاد تازہ کرتے ہیں، ان میں محمدمجاہد سیّد کا نام سرفہرست ہے۔وہ تہذیب وشائستگی ہی نہیں تو اضع، اخلاق اور خلوص کے معاملے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔حالانکہ وہ دل کی ایسی سنگین بیماری کا شکار ہیں کہ ڈاکٹروں نے انھیں لاعلاج قراردے دیا ہے مگر وہ صبر وشکر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کا سینہ عمل جراحی سے چھلنی ہے، مگر اس میں جو زندہ دل دھڑک رہا ہے، وہ ہم جیسے خوشہ چینوں کو ان کے پاس تادیر بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے۔
محمدمجاہد سید سے پہلی ملاقات اب سے کوئی اٹھارہ برس پہلے جدہ کی عالمی اردو کانفرنس میں ہوئی تھی۔ اٹھارہ برس کی عمر کو سن بلوغ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس اعتبار سے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان سے میرے تعلق میں ایک پختگی آگئی ہے۔عالمی اردو کانفرنس کے دوران انھوں نے جدہ میں اپنے دولت خانہ پر ایسے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا تھا کہ اس کا ذائقہ آج تک یاد ہے۔ مشہورشاعر چندر بھان خیال اور یہ عاجز ان کے مہمان تھے اور محفل میں جدہ کی اردو برادری کا ہر فرد شامل تھا۔کیا خوبصورت محفل تھی۔ شعروشاعری کا دور چلا،گفتگو بھی ہوئی اور محفل پرتکلف عشائیہ پر ختم ہوئی۔
لکھنؤ میں محمد مجاہد سیّد کا صحافتی سفر جمیل مہدی کے اخبار ’عزائم‘ سے شروع ہوا تھا۔ صحافت میں ان کا غالب رجحان ادبی وثقافتی امور کی طرف زیادہ رہا۔ ’عزائم‘ کے بعد بمبئی کے اخبارات ’انقلاب‘، ’اردو ٹائمز‘اور ہفتہ وار ’اخبارعالم‘ کے علاوہ جدہ کے انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ اور ’اردو نیوز‘ میں سیکڑوں کی تعداد میں شعری مجموعوں اور دیگر موضوعات کی کتابوں پر اردو اور انگریزی میں تنقیدی اور تاثراتی مضامین شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کے تازہ بہ تازہ مضامین ’اردو میگزین‘ اور ’سعودی گزٹ‘ میں بھی شائع ہوتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’عرب نیوز‘ میں ریویو کا شعبہ مجاہد سیّد کی تحریروں سے ہی آباد رہا۔
محمدمجاہد سیّد نے جدہ میں ادبی محفلیں سجانے کے لیے ’مجلس علم وادب‘ کی داغ بیل ڈالی جہاں تواتر کے ساتھ ادبی مباحث اور شعری نشستیں برپا ہوا کرتی تھیں۔ ان محفلوں میں مقامی ہندوستانی اور پاکستانی شعراء کے علاوہ حج وعمرہ پر آئے ہوئے شاعر اور ادیب بھی شریک ہوتے تھے۔ انھوں نے مجلس علم وادب کے پرچم تلے مقامی اور بیرونی شعراء کے اعزاز میں متعدد مشاعروں اور تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا۔ اس طرح وہ اپنا مہمان نوازی کا شوق بھی پورا کرتے رہے جو آج بھی ان کا سب سے بڑا خاصہ ہے۔اب جبکہ وہ جدہ کی مصروفیات سے سبکدوش ہوکر کئی برس سے لکھنؤ میں مقیم ہیں تو یہاں بھی’مجلس علم وادب‘ کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اس کی تقریبات کے لیے اپنے ہی گھر کی پہلی منزل کو مخصوص کردیا ہے۔ اردو کے علاوہ ان کا انگریزی ادب کا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس کے ساتھ تاریخ عالم، تاریخ تمدن، تاریخ ہند، عہد وسطیٰ کی تاریخ، تقابل مذاہب، لسانیات، قرآنیات اور ادب جیسے شعبوں میں گہری دلچسپی ہے، لیکن ان کا غالب رجحان شاعری کی طرف ہے۔اب تک ان کے تین شعری مجموعے منظر عام پرآچکے ہیں۔ ’حرف معتبر‘(2002)’مجموعہ جہات‘(2010)اور ’بیاض جنوں‘(2021)کے بعد حال ہی میں ان کے نثری مضامین پر مشتمل ایک نئی کتاب ’تجز ئے اور تبصرے‘ منظرعام پر آئی ہے، جس میں مشاہیر کی کتابوں پر تبصرے اور ملاقاتیں یکجا کی گئی ہیں۔تجزیہ اور تبصرہ کرنے کا ان کا اپنا منفرد انداز ہے۔بقول اشعر علیگ’’وہ مغز مضمون کو شفاف آئینے میں اس طرح سجاکر رکھ دیتے ہیں کہ اصل مضمون بینی کے لیے قاری بیتاب ہو اٹھتا ہے۔“
مجاہد سیّد کے شعری مجموعہ ’بیاض جنوں‘ کی پشت پر منیر نیازی، عرفان صدیقی، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر خورشید رضوی اور پروفیسر احمدمحفوظ جیسے اہل علم کی آراء کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری جدید اردو شاعری میں ایک اضافہ کا درجہ رکھتی ہے۔
ہمارے واسطے یکساں ہیں دیس وپردیس
یہاں بھی کوئی نہیں ہے وہاں بھی کوئی نہیں
شاعری کا ذوق ان میں بچپن ہی میں پیدا ہوگیا تھا۔ان کے اجداد فارسی، اردو اور اودھی شاعری کا اچھا ذوق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر صاحب دیوان شاعر تھے۔ لکھنؤ میں روزنامہ ’عزائم‘ سے وابستگی کے دوران جہاں انھیں جمیل مہدی مرحوم کی سرپرستی حاصل رہی تو اسی زمانے میں والی آسی، ملک زادہ منظوراحمد اور عرفان صدیقی جیسے شعراء کو والی آسی کے کتب خانہ پر سامع کی حیثیت سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ عمر انصاری کے ساتھ بعض مشاعروں میں بھی شریک رہے۔جدہ میں ’سعودی گزٹ‘ کے منیجنگ ایڈیٹر طارق غازی نے جدہ کی محافل شب میں ان کے ذوق مطالعہ کی اصلاح کی اور جہت سفر کا تعین کیا۔اس طرح ان کا اعلیٰ ادبی اور شعری ذوق پروان چڑھا۔ان کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر خورشید رضوی (لاہور) نے لکھا ہے:
”مجاہد سید کا مرکزی موضوع ایک ہمہ گیر زوال کا ماتم ہے، جس میں چاند ستاروں جیسے لوگ پیوند خاک ہوگئے اور فولاد ایسے پیکر زنگ خوردہ ہوکر بکھر گئے۔پھر اسی سے ضمنی طور پر عزم وحوصلہ اور مزاحمت ومقاومت کے شاخے پھوٹتے ہیں اور بے مہری حالات اور طویل سیہ رات کے آگے دیکھنے کی خواہش سامنے آتی ہے۔ عزم و مزاحمت کے ان مفاہیم کے لیے کربلا کا استعارہ، کبھی پیدا اور کبھی پنہاں ؛ بار بار ابھرتا ہے جس میں دست قاتل کو جھٹک دینے اور سر مقتل لہو کے چراغ جلانے کی روایت زندہ ہے۔“(‘بیاض جنوں’)
محمد مجاہد سید کا رجحان تصوف کی طرف بھی ہے جس کے اثرات ان کی تخلیقات میں صاف نظر آتے ہیں۔وہ کہنہ مشق ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ دانشورانہ صلاحیت کے بھی حامل ہیں۔دعا ہے کہ خدا انھیں صحت وسلامتی کے ساتھ تادیر بقید حیات رکھے۔






