مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری: سوانحی خاکہ

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی کے ساتھ علم، تحقیق، دعوت اور تصنیف کے میدان میں اپنی مستقل اور سنجیدہ کاوشوں کے ذریعے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ نہ شہرت کا شوق، نہ نام و نمود کی خواہش، بلکہ خلوصِ نیت، علمی دیانت اور فکری استقامت ان کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ ایسی ہی سنجیدہ، متوازن اور ہمہ جہت علمی شخصیت مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری کی ہے، جو اہلِ سنت والجماعت (علماءِ دیوبند) کے فکر و مزاج کے نمائندہ عالم، صاحبِ قلم محقق اور فعال داعی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری: سوانحی خاکہ
مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری: سوانحی خاکہ

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

مولانا توحید عالم قاسمی کی ولادت 1979ء میں قصبہ قاسم پور گڑھی، ضلع بجنور (اترپردیش) میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام توحید عالم بن محمد یونس بن چاند محمد بن سعدی ہے۔ آپ ایک متوسط مگر دیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ والد محترم محمد یونس صاحب دہلی میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار سے وابستہ رہے، مگر معاشی مصروفیات کے باوجود اولاد کی دینی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی یہی سادہ مگر باوقار خاندانی ماحول مولانا کی شخصیت کی بنیاد بنا۔

تعلیم کا آغاز اور حفظِ قرآن

مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں مختلف مکاتب و مدارس، جن میں شمس العلوم اور ممتاز العلوم شامل ہیں، حاصل کی۔ 1990ء میں ناظرہ اور پرائمری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ ابتدا میں ضیاء العلوم بچہ باغ میں حافظ مبارک حسین صاحب سے اور بعد ازاں اشاعت العلوم مانیا والا میں قاری علی حسین صاحب سے حفظ مکمل کیا۔ 1994ء میں حفظِ قرآن کی تکمیل ہوئی، جبکہ 1995ء میں قاری تسلیم احمد صاحب سے حفص اردو کی تعلیم بھی مکمل کی۔

عربی تعلیم اور مادرِ علمی سے وابستگی

اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے مولانا نے مدینۃ العلوم رحیمیہ، قاضی پاڑہ، شہر بجنور میں داخلہ لیا، جہاں عربی چہارم تک کی تعلیم مولانا محمد یاسین مظاہری، مفتی شمس الدین قاسمی اور مولانا محمد عارف قاسمی جیسے اساتذہ سے تین سال میں مکمل کی۔ 1997ء میں مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں ان کاعربی پنجم میں داخلہ ہوا، جہاں آپ نے علمِ حدیث، فقہ اور عربی ادب کے جلیل القدر اساتذہ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔

دورۂ حدیث کے دوران بخاری شریف حضرت مولانا نصیر احمدخان صاحب اور مولانا عبدالحق صاحب سے، ترمذی شریف مفتی سعید احمد صاحب اور مولانا ارشد مدنی صاحب سے، مسلم شریف، نسائی، ابن ماجہ، ابوداؤد، موطا امام مالک، موطا امام محمد، شمائل شریف،مشکاۃ ۔ شرح عقائد۔ ہدایہ، الفوز الکبیر اور حسامی جیسی کتب مختلف اکابر اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا۔ 2001ء میں آپ دورۂ حدیث سے فارغ التحصیل ہوئے۔

عصری اسناد اور تعلیمی امتیازات

مولانا نے الہ آباد بورڈ سے مولوی اور عالم کے امتحانات اعلیٰ نمبرات سے پاس کیے، جبکہ علی گڑھ بورڈ سے ادیب کا امتحان بھی کامیابی سے مکمل کیا، جو آپ کے ہمہ جہت علمی ذوق کا واضح ثبوت ہے۔

علمی، تدریسی اور تصنیفی خدمات

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانامادرعلمی میں معین المدرسین اور2007ء سے مستقل استاذ عربی کی حیثیت سے تاہنوز ابتدائی درجات کی کتابیں۔متوسطات اور اعلیٰ درجوں میں متعدد کتب کی تدریس کی، جن میں قطبی، ہدایہ مختصرالمعانی۔ نورالانوار۔مقاماتِ حریری، ترجمۂ قرآن، تفسیرِ قرآن، دیوانِ متنبی ۔میبذی۔اور دیوانِ حماسہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اصلاحی، فکری اور دعوتی موضوعات پر مسلسل لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

آپ کے مضامین دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ اور ماہنامہ دارالعلوم میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ”مسلک اہلِ سنت والجماعت یعنی علماءِ دیوبند کے عقائد و نظریات“ کے نام سے مسلکِ علمائے دیوبند پر لکھی گئی آپ کی مشہورومعروف کتاب کے گزشتہ تقریباً دس برسوں میں چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ”ایمان کیا ہے؟“ اردو و ہندی دونوں زبانوں میں شائع ہو کر عوام و خواص میں مقبول ہو چکی ہے۔ ”میراث: فرضیت، افادیت اور ہماری کوتاہیاں“ کے نام سے بھی ایک رسالہ شائع ہو چکا ہے۔ ”اظہار الحق“ پر تسہیل و تعلیق مکتبہ دارالعلوم سے شائع ہو چکی ہے، جبکہ بعض دیگر مسودات طباعت کے مراحل میں ہیں۔

ماہنامہ دار العلوم میں شائع مولانا مرغوب الرحمن بجنوریؒ، مولانا عبد الرحیم بستویؒ، مولانا عبد الحق اعظمیؒ، مولانا ریاست علی ظفر بجنوریؒ، مولانا جمیل احمد سکروڈویؒ، مولانا عبد الخالق سنبھلیؒ اور مفتی سعید احمد پالن پوریؒ سمیت دیگر کئی بزرگوں پر ان کے سوانحی مضامین کے علاوہ؛ ”تہذیبِ جدید اور اسلامی معاشرہ“، ”اسلام کی ہمہ گیری اور اُس کا معتدل مزاج“، ”اہل السنۃ و الجماعۃ کون ہیں اور کیا ہیں؟“، ”اسلامی لباس“، ”کھیل کود کے بین الاقوامی نقصانات اور ہماری نئی نسل“، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور کسبِ معاش“، ”رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ“، ”حضراتِ صحابۂ کرامؓ قرآن وسنت کی نظر میں“ جیسے کئی مضامین آن لائن دستیاب ہیں۔

دعوتی سرگرمیاں اور تنظیمی خدمات

مولانا توحید عالم قاسمی ملک کے اندر تقریباً دس بارہ صوبوں میں دعوتی اسفار کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بیرونِ ملک سفر اگرچہ اب تک نہیں ہوا، تاہم فروری 2026ء میں عمرہ کی سعادت متوقع ہے۔ آپ تقویۃ الاسلام شعبہ مناظرہ، لجنۃ الدعوۃ والارشاد۔حفلۃ البیان والبلاغ۔ بزم آزاد اور دیگر دینی و دعوتی اداروں کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں۔ ضلع بجنور اوراطراف میں متعدد چھوٹے مدارس آپ کی نگرانی میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اصلاحی تعلق اور روحانی نسبت

مولانا کا اصلاحی تعلق دارالعلوم دیوبند کے مہتمم، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم سے ہے۔ 2020ء میں حضرت مہتمم صاحب نے اجازت و خلافت سے نوازا، جو آپ کی فکری پختگی اور اخلاقی استقامت کا اعتراف ہے۔

شخصیت و اوصاف

مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری ایک سنجیدہ مزاج، متوازن فکر، واضح موقف اور شستہ قلم رکھنے والے عالم ہیں۔ ان کی تحریروں میں اعتدال، علمی استدلال اور مسلکی وقار نمایاں ہوتا ہے۔ گفتار میں ٹھہراؤ، مزاج میں سادگی اور عمل میں استقامت ان کی شخصیت کا خاص امتیاز ہے۔ نہ افراط، نہ تفریط بلکہ اکابرِ دیوبند کے مسلک کی نمائندگی پورے وقار کے ساتھ ان کی علمی و دعوتی زندگی کا خلاصہ ہے۔

اس وقت آپ کی عمر تقریباً 47 برس ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا کی عمر، علم اور عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ان سے طویل عرصے تک فائدہ پہنچاتا رہے۔

آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply