مولانا خورشید اَنور اعظمی: سوانحی خاکہ

ڈاکٹر محمد رفیق قاسمی

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ علم و عمل، تدریس و تحقیق، ادب و خطابت اور تواضع و انکساری کا حسین امتزاج بناتا ہے۔ وہ جہاں بھی رہتی ہیں، اپنے مضبوط علمی پس منظر، سنجیدہ مزاج، خوش مذاقی اور بافیض تدریس سے ایک مسلسل علمی اثر چھوڑتی ہیں۔ ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت مولانا خورشید انور اعظمی مدظلہ العالی کی ہے، جنھوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے پر مشتمل اپنے علمی سفر میں حدیث، فقہ، ادب، تحقیق اور تدریس کے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور مشرقی اترپردیش میں ایک معتبر علمی شخصیت کے طور پر پہچانے گئے۔

مولانا خورشید اَنور اعظمی: سوانحی خاکہ
مولانا خورشید اَنور اعظمی: سوانحی خاکہ

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

مولانا خورشید انور اعظمی 1962ء میں رسول پور، مبارکپور، اعظم گڑھ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا قمر الدین صاحب مرحوم مدرسہ شاہی مراد آباد کے فیض یافتہ تھے اور فخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین صاحبؒ، مولانا محمد میاںؒ اور مولانا محمد اسماعیل سنبھلیؒ جیسے اکابر علم و تحقیق سے اکتسابِ فیض کرچکے تھے۔ علمی رویے، شوقِ مطالعہ، تدریسی لگن اور مذہبی غیرت آپ کے گھرانے کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ معاشی دشواریوں کے باوجود آپ کے والد نے اپنی اولاد کی تعلیم کو ہمیشہ مقدم رکھا اور انہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آپ کے گھرمیں ڈاکٹر، ماسٹر اور انجینئر تک تیار ہوئے۔ اسی علمی و تربیتی ماحول میں مولانا کی شخصیت نے نشوونما پائی۔

ابتدائی و متوسط تعلیم

مولانا نے اپنے والد کے ساتھ مدرسہ منبع العلوم خیرآباد میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، جہاں آپ کے والد محترم کے علاوہ مولانا نذیر احمد خیرآبادی اور حافظ عبدالحئ مفتاحی نے آپ کی ذہانت اور علمی ذوق کو پروان چڑھایا۔ درجہ عربی چہارم کے بعد آپ نے ایک سال دارالعلوم مئو میں تعلیم حاصل کی اور وہاں مولانا نیاز احمد قاسمی اور مولانا محمد عارف جہاناگنجی جیسے جید اساتذہ سے خصوصی استفادہ کیا۔ یہ وہ دور تھا جب آپ کی علمی محنت، مطالعہ کا ذوق اور مستقل مزاجی اپنے شباب پر تھی۔

دارالعلوم دیوبند میں اعلیٰ تعلیم

اس کے بعد آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں حدیث، فقہ اور عربی ادب کے نامور اساتذہ کی سرپرستی آپ کو میسر آئی۔ بخاری شریف حضرت مولانا نصیر احمد خاں بلند شہری سے، مسلم شریف مولانا عبدالاحد دیوبندی اور مولانا محمد نعیم دیوبندی سے، جبکہ جامع ترمذی مولانا معراج الحق دیوبندی اور مولانا محمد حسین بہاری سے پڑھی۔ سنن ابی داؤد آپ نے علامہ انظر شاہ کشمیری اور مولانا محمد سالم قاسمی جیسے اکابر سے پڑھی۔ موطا امام مالک مفتی نظام الدین اعظمی، موطا امام محمد مفتی سعید پالن پوریؒ، نسائی مولانا وحید الزماں کیرانوی، ابن ماجہ اپنے والد مولانا قمر الدین صاحب سے پڑھی اور شرح معانی الآثار مولانا خورشید عالم دیوبندی سے آپ نے مکمل کی۔ اس عظیم علمی ماحول سے فیض اٹھاتے ہوئے آپ نے 1978ء میں فضیلت کی تکمیل کی۔

طویل تدریسی زندگی

تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا نے مدرسہ اسلامیہ بھٹنی، گورکھپور میں چار سال تدریس کی۔ وہاں سے آپ مشرقی اضلاع کے ایک قدیم اور نمایاں ادارے جامعہ مظہر العلوم بنارس سے وابستہ ہوئے اور تقریباً تینتالیس سال تک مسلسل بحیثیتِ مدرس، صدر مدرس اور شیخ الحدیث خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ کے شاگرد ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور آپ کی تدریسی گہرائی، مزاج کی سنجیدگی، امانت داری اور درس کے رسوخ کی گواہی دیتے نہیں تھکتے۔ بنارس سے سبکدوشی کے بعد اس وقت آپ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارکپور میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جہاں آپ کا درس آج بھی طلبہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔

علمی و تحقیقی سرگرمیاں

مولانا خورشید انور اعظمی کی علمی دنیا صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہی۔ آپ فقہ اکیڈمی انڈیا کے ابتدائی سمیناروں سے ہی نمایاں ترین مقالہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ المباحث الفقہیہ دہلی اور مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کے سیمیناروں میں آپ باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے اور نہایت وقیع، مدلل اور علمی گہرائی پر مبنی مقالات پیش کرتے رہے۔ آپ کی تحریریں فقہ اسلامی، اجتماعی مسائل، جدید ضروریات اور تطبیقی مباحث کی عمدہ نمائندہ ہیں۔

قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے حکم پر الموسوعۃ الفقہیہ کے کچھ حصوں کا ترجمہ آپ نے نہایت اہتمام سے کیا۔ فقہ اکیڈمی کی درخواست پر آپ نے المفصل فی أحکام المرأۃ کے بعض اجزاء کا ترجمہ کیا۔ مولانا قمر الزماں الہ آبادی مدظلہ کی فرمائش پر أین نحن من اخلاق السلف اور من معین الشمائل کی ترجمہ کاری میں بھی حصہ لیا۔ عربی زبان میں آپ کے متعدد مضامین اہلِ علم میں پسند کیے گئے اور حال ہی میں مولانا نور عالم امینی کے حالات پر آپ کا شائع ہونے والا مضمون آپ کی گہری ادبی بصیرت کا مظہر ہے۔

صحافتی و ادبی خدمات

آپ ماہنامہ الدین گورکھپور کے مدیر رہے۔ اسی طرح ندائے فضلاء مبارکپور اور سرگذشتِ دیوبند کی مجلس ادارت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ عربی و اردو دونوں زبانوں پر آپ کی قدرت کاملہ اور ادبی مزاج آپ کی تحریروں میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

شخصیت و اوصاف

مولانا خورشید انور اعظمی ایک بافیض مدرس، محقق عالم، صاحبِ نظر فقیہ، بلندپایہ ادیب اور صاحبِ قلم شخصیت ہیں۔ ظاہری سادگی، باطنی وقار، خوش مذاقی اور نکتہ سنجی آپ کی مجلس کو خاص کشش بخشتی ہے۔ آپ کی نشست بیک وقت علمی سنجیدگی، دینی حرارت اور دل آویزی کا امتزاج ہوتی ہے۔ عیدین کی امامت و خطابت نے آپ کی مقبولیت کو مزید چار چاند لگائے ہیں۔ تواضع اور انکساری آپ کی شخصیت کا بنیادی وصف ہے، اور آپ سے ملنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ جس قدر عظمت، علم اور تجربہ آپ میں ہے، آپ کی طبیعت اس سے کہیں زیادہ خاکساری، نرم دلی اور حسنِ اخلاق سے مزین ہے۔

اللہ تعالیٰ صحت و عافیت کے ساتھ مولانا موصوف کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کی خدمات سے نسلوں تک فیض پہنچاتا رہے۔

آمین ثم آمین

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply