نارنگ ساقی : اردو کا ایک مخلص خادم

معصوم مرادآبادی

آج اردو کے جانباز سپاہی نارنگ ساقی کا یوم ولادت ہے۔ وہ 24/اگست 1936کو پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے وہ عمر کی 89 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کے اعضا جواب دے جاتے ہیں، لیکن نارنگ ساقی اس عمر میں بھی سرگرم ہیں اور ادبی جلسوں میں بڑے ذوق وشوق سے شرکت کرتے ہیں۔ نارنگ ساقی نہ ادیب ہیں اور نہ شاعر مگر ہندوپاک کا کوئی بڑے سے بڑا ادیب اور شاعر ایسا نہیں ہے جو ان کا قدردان نہ ہو۔ اس قدردانی کی بنیادی وجہ اردو زبان سے ان کی بے پناہ محبت اور لگاؤ ہے۔سیکڑوں نامی گرامی ادیبوں اور شاعروں نے ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا ہے۔ پاکستان کے کئی بڑے شاعر اورادیب تو ایسے گزرے ہیں کہ وہ فائیو اسٹار ہوٹلوں کو چھوڑ کر نارنگ ساقی کے مہان ہوئے اور ان کی بے پایاں محبتوں سے سرشار ہوکر لوٹے۔

نارنگ ساقی : اردو کا ایک مخلص خادم
نارنگ ساقی : اردو کا ایک مخلص خادم

برسوں پہلے جب میں نے ان کا نام سنا تو سوچا کہ وہ کسی میخانے کے مالک ہوں گے اور اسی لیے انھوں نے اپنا نام ساقی رکھا ہے، مگر میرا خیال غلط نکلا، وہ دراصل میخانہ اردو کے ساقی ہیں اور سب اردو والوں کو اپنی آنکھوں سے اردو کی مے پلاتے ہیں۔ یوں تو میں نے انھیں بارہا ادبی جلسوں میں دیکھا اور سنا مگر ان سے قربت اس وقت ہوئی جب نومبر2013 میں ہم دونوں نے پاکستان کے ممتاز مزاح نگار عطاء الحق قاسمی کی دعوت پر لاہور کا سفر کیا۔ اس زمانے میں قاسمی صاحب الحمراء آرٹس کونسل کے سربراہ تھے۔ موقع تھا عالمی اردو کانفرنس کا جس میں ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں سے مندوبین شریک ہوئے تھے۔کانفرنس کا افتتاح اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کیا تھا اور اس میں مہمان خصوصی کے طورپر علامہ اقبال کے فرزند جسٹس جاوید اقبال شریک ہوئے تھے۔ یہ کانفرنس اس اعتبار سے بڑی یادگار تھی کہ اس میں پاکستان کے تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں سے شرف ملاقات حاصل ہوا تھا۔انتظار حسین، حسینہ معین، کشورناہید، انورشعور، شکیل عادل زادہ غرض یہ کہ ہر بڑا ادبی نام اس کانفرنس کا حصہ تھا۔ ہندوستان کی نمائندگی نارنگ ساقی، فرحت احساس، علینا عترت، شبنم عشائی اور اس خاکسار نے کی تھی۔

نارنگ ساقی، شبنم عشائی اور میں نے یہ سفر ایک ساتھ واگہ سرحد سے آن فٹ طے کیا۔ مجھے نارنگ ساقی کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب انھیں ریسیو کرنے خود عطاء الحق قاسمی اور حسین شیرازی لاہور سے چل کر واگہ سرحد تک آئے تھے۔ ہم ابھی ہندوستانی سرحد ہی میں تھے کہ سرحد پار سے قاسمی صاحب کی آواز آئی ”او،نارنگ ساقی جلدی کر“ مگر نارنگ ساقی جلدی کیسے کرسکتے تھے کہ ان کے ضعیف ہاتھوں میں کتابوں کے کئی بنڈل تھے جو وہ اپنے پاکستانی دوستوں کے لیے بطورہدیہ لے گئے تھے۔ ساقی صاحب نے بڑی مشکل سے ان کتابوں کے ساتھ سرحد عبور کی تو میزبانوں نے انھیں گلا لگالیا۔سرحد پار کرنے کے بعد نارنگ ساقی صاحب میں یہ تبدیلی ہوئی کہ وہ بے تکلف ہوکر پنجابی میں گفتگو کرنے لگے۔ ان کے سارے دوست پنجابی تھے۔ ہمیں پہلی بار اپنے پنجابی نہ جاننے کا ملال ہوا کہ ہم سے گفتگو کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔زبان بھی واقعی کیا چیز ہوتی ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ہمیں ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک بار جوش ملیح آبادی نے کنورمہندرسنگھ بیدی سے کہا کہ ”بیدی صاحب میرا خیال ہے کہ جہنم کی زبان پنجابی ہو گی؟“جوش کے سوال کا برجستہ جواب دیتے ہوئے بیدی صاحب نے کہا ”تو جوش صاحب آپ کو پنجابی ضرور سیکھنی چاہئے، بہت کام آئے گی۔“

یہ واقعہ غالباً نارنگ ساقی نے اپنی کتاب ”ادیبوں کے لطیفے“ یا پھر ”خوش کلامیاں قلم کاروں کی“ میں کہیں لکھا بھی ہے۔ نارنگ ساقی کی یہ دونوں کتابیں بڑی مقبول ہیں کہ ان میں انھوں نے مشہور ومعروف ادیبوں کے سچے وا قعات کو دلچسپ پیرائے میں قلم بند کیا ہے۔ یوں تو انھوں نے کئی کتابیں مرتب کی ہیں۔ اپنے بزرگ دوست کنورمہندرسنگھ بیدی کی آپ بیتی ”یادوں کا جشن“ کے علاوہ ان پر ایک مستقل کتاب ”ہمارے کنور صاحب“ اور ”انتخاب کلام بیدی“ بھی شائع کی ہیں۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ اکبر الہ آبادی کی کلیات مرتب کرنا ہے جو چارجلدوں پر مشتمل ہے۔وہ کم وبیش دس کتابوں کے مرتب ومصنف ہیں۔ خود ان پر بھی نذیر فتحپوری نے ایک کتاب ”میخانہ اردوکا پیر مغاں نارنگ ساقی“ شائع کی ہے، جس میں اردو کے تمام بڑے قلم کاروں نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سبھی نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ نارنگ ساقی اردو کے ایک نہایت مخلص جاں نثار ہیں اور ان کی تمام سرگرمیوں کا محور اردو کی ترقی اور ترویج ہے۔وہ اعلیٰ درجہ کا ادبی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ شخصی طورپر عجز وانکسار کا پیکر ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں اردو کی جتنی نامی گرامی ہستیوں کے قریب رہے ہیں، اتنا شاید ہی کوئی اور رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی ازم یا گروپ کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اردو سے بے پناہ محبت اور والہانہ عشق کرتے ہیں۔ حالانکہ اردو ان کی مادری زبان نہیں ہے۔ ا ن کی عاجزی وانکساری کا اندازہ ایک خط سے ہوتا ہے جو انھوں نے اب سے کوئی بارہ سال پہلے مجھے لکھا تھا۔وہ لکھتے ہیں:

”محترم معصوم مرادآبادی صاحب۔آداب

امید ہے کہ مزاج گرامی شگفتہ ہوں گے۔ یوں تو میں مدت سے آپ کے نام اور کام سے واقف ہوں، لیکن یہ اتفاق ہے کہ آپ سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوسکا۔میں کوئی ادیب یاشاعر تو نہیں ہوں، پھر بھی مجھے امید ہے کہ آپ میرے نام سے واقف ہوں گے۔ آج ”ایوان اردو“ کا جون کا پرچہ دیکھ رہا تھا تو عطاء الحق قاسمی صاحب سے آپ کا لیا ہوا انٹرویو پڑھ کر آپ کو مخاطب کرنے کا فیصلہ کیا۔میں یہ پرچہ ڈاک سے قاسمی صاحب کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔ قاسمی صاحب میرے اچھے دوستوں میں سے ہیں۔ آپ کی خدمت میں ”خوش کلامیاں قلم کاروں کی“ اور نذیرفتح پوری صاحب کی مرتبہ کتاب ”میخانہ اردو کا پیر مغاں:نارنگ ساقی“بھیج رہا ہوں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے تاثرات سے آگاہ کریں۔

مخلص نارنگ ساقی

9/جولائی 2013

اس مکتوب کو یہاں نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اردو کی ایک سینئر شخصیت ایک طالب علم کو کس انداز میں مخاطب کررہی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو نارنگ ساقی کو اپنے تمام ہم عصر ادیبوں اور شاعروں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ نارنگ ساقی بنیادی طورپر ایک تاجر ہیں، لیکن انھوں نے اپنی کمائی کا بیشتر حصہ اردو زبان اور اس کے قلم کاروں کی ضیافت میں صرف کیا ہے۔نارنگ ساقی کی اس ادا کو اردو کے بڑے بڑے ادیبوں نے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہاں میں صرف مشفق خواجہ کا ایک اقتباس نقل کرنا چاہوں گا، جو انھوں نے نارنگ ساقی کی کتاب ”ادیبوں کے لطیفے“ میں ”ساقی نامہ نارنگ“ میں لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

”ساقی کاروباری آدمیں ہیں۔ ایسا آدمی ان اشغال سے اجتناب کرتا ہے جن سے کاروباری ساکھ خراب ہونے کا اندیشہ ہو، لیکن موصوف اپنے ادبی ذوق کے ہاتھوں مجبور ہونے کی وجہ سے اندیشہ ہائے دوردراز سے خاصے بے نیاز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کی بہت بڑی تعداد سے ان کے دوستانہ مراسم ہیں۔ ظاہر ہے کہ بری صحبت کا نتیجہ برا ہوتا ہے، لیکن ساقی بڑی حدتک برے نتیجے سے محفوظ ہیں، کیونکہ وہ سورج غروب ہونے کے بعد ہی شاعروں سے ملتے ہیں۔ کاروباری اوقات میں وہ اپنی سخن فہمی اور سخن پروری کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ سورج غروب ہونے کے بعد شعرائے کرام دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت سے اس لیے محروم ہوجاتے ہیں کہ اس وقت وہ وہاں ہوتے ہیں جہاں سے انھیں اپنی خبر بھی نہیں آتی۔“

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare