ویلینٹائن ڈے – عیاشی وفحاشی کی بُری رسم

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

جب سے مغربی تہذیب اور نیٹ کلچر کے اثرات سے ہمارے جوان متاثر ہونے لگے اور بے حجابی، عریانیت، فحاشی مخلوط تعلیم، مردو عورت کے آزادانہ اختلاطات اور قسم قسم کی چاٹنگ کے واقعات بڑھنے لگے، ہندوستانی شرم وحیا کی روایتی تہذیب مفقود ہونے لگی ہے،تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ برابر ہو رہے ہیں، نا کام عشق، پیار میں قتل، عاشق کے ذریعہ معشوقہ کی اجتماعی عصمت دری کی کوشش ناکام ہونے پر قتل کرنا، چہرے پر تیزاب پھینک دینا جیسے واقعات کثرت سے سامنے آنے لگے ہیں، اس قسم کے معاملات میں پہلے سماج بڑا حساس ہوتا تھا؛ لیکن اس قسم کے واقعات اب اتنی کثرت سے پیش آنے لگے ہیں کہ سماج بھی اس قسم کے واقعات کو معمول کا کام سمجھ بیٹھا ہے، دیہاتی حلقوں میں اب بھی اس قسم کے واقعات متعلقہ لوگوں کے لیے پریشان کن ہوتے ہیں اور سماجی عزت و وقار میں اس سے بٹہ لگ جاتا ہے؛لیکن شہری حلقوں میں اب ایسے امور پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور پولیس محکمہ بھی لڑکیوں کے اغوا کے معاملہ کو اسی نقطہئ نظر سے دیکھتا ہے، اور اپنی ذمہ داریوں سے محبت اور عشق کا معاملہ کہ کر سبکدوش ہو جاتا ہے۔ ان معاملات کا باریکی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ محبت کی ساری کہانی کے پیچھے ہوس کی آگ ہوتی ہے یا ناک اونچی رکھنے کی ضد، یہ آگ نہیں بجھتی ہے تو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوتا ہے، خاندان کے خاندان تباہ ہوتے ہیں، اور سماج سے عفت و عصمت، ناموس وعزت کا جنازہ اٹھ جاتا ہے،جو لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ محبت انسانی فطرت میں داخل ہے، مختلف تہذیبوں میں محبت کے اظہار کی مختلف شکلیں رہی ہیں،یہ جذباتی وابستگی کے اظہار کی ایک رسم ہے، اس دلیل میں کوئی جان اس لیے نہیں ہے کہ ویلنٹائن ڈے میں محبت اور جذباتی وابستگی کا اظہار ماں بہن سے نہیں معشوقہ اور گرل فرینڈ سے کیا جاتا ہے۔

ویلینٹائن ڈے - عیاشی وفحاشی کی بُری رسم
ویلینٹائن ڈے – عیاشی وفحاشی کی بُری رسم

عیاشی اور فحاشی کی اس روایت کو پروان چڑھانے میں ویلنٹائن ڈے (یوم عشاق) کا بڑا عمل دخل ہے،14/ فروری کو یہ دن نو جوان بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں اور ایمان سوز، اخلاق سوز اور بے حیائی کے ان سارے مراحل سے گذر جاتے ہیں، جس کا خیال ایمان و اسلام کے نام لیواؤں کے ساتھ مشرقی تہذیب کے علمبرداروں اور عفت و عصمت کی حفاظت کا دم بھرنے والوں کے لیے سوہان روح ہے، حیوانی جذبات کی تسکین کے لیے منایا جانے والا یہ دن بت پرست رومیوں کی اصلا یادگار ہے، جسے موجودہ دور کے عیسائیوں نے تسلسل عطا کر دیا ہے، اس کے پیچھے جو دیو مالائی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس رسم کی ابتداء قدیم رومی تہوار لوپر کیلیا (LUPER CALIA)سے ہوئی جو فروری کے وسط میں موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا تھا،ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیکڑوں سال پہلے رو پے یلوس کو ایک شیرنی نے دودھ پلایا تھا، چنانچہ اس دن کو عید کے طور پر منایا جانے لگا، اس دن روم کے لوگ ایک بکری اور کتے کو ذبح کرتے، کسی نوجوان کے جسم پر اس کا خون ملتے، اس کے ہاتھ میں دو چڑے ہوتے تھے جن سے وہ سامنے آنے والے ہر مرد وعورت کو مارتا اور لوگ یہ مار خوشی خوشی اس یقین کے ساتھ کھاتے کہ اس کی وجہ سے قوت و طاقت، صحت و شفایابی نصیب ہوگی، پھر جب روم پر تیسری صدی عیسوی میں کلاڈینس کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے فوج میں بھرتی کرنے کے لیے جوانوں کو شادی سے قانونی طور پر روک دیا تو ویلنٹائن نامی پادری نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، خود بھی خفیہ طور پر شادی رچائی اور دوسرے جوانوں کی شادیاں بھی کراتا رہا، بالآخر اس کو بادشاہ کی حکم عدولی کے نتیجے میں چودہ فروری کو سزائے موت دے دی گئی؛ چانچہ انہیں محبت کی علامت کے طور پر یاد کیا جانے لگا،روایت یہ بھی ہے کہ بت پرست کلاڈیس نے ویلنٹائن پادری کو عیسائی ہونے کی وجہ سے سزائے موت دی تھی، جب رومی عیسائی ہو گئے تو انہوں نے اس پادری کی یاد میں اس دن کو منا نا شروع کیا، چودھویں صدی میں یورپ میں ویلنٹائن ڈے رومانیت، عشق کے اظہار اور جنسی تسکین کے لیے یہ دن خاص ہو گیا، 18ویں صدی میں محبت بھرے خطوط(VALEN TINE CARD) کا اضافہ ہوا،اب اتنے کارڈ کون لکھتا رہے اس کی وجہ سے یہ کار ڈتجارت بن گیا، ملنے کے وقت تحائف دینے کا رواج بڑھا،اس طرح یہ تجارتی اور صنعتی طور پر بھی مضبوط ہو گیا، اس دن پھول، چاکلیٹ،کارڈ،زیورات اور دیگر تحائف کی فروخت سے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے، پوری دنیا اب ایک دسترخوان کی طرح ہے اور یہ گلوبلائزیشن ایج ہے، اس لیے اس رسم بد نے ایشیا،افریقہ،مشرق وسطی کے ساتھ پوری دنیا کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے، سوشل میڈیا نے اس رسم بد کو گھر گھر پہنچانے میں نمایاں رول ادا کیا ہے، وجہ جو بھی ہو، اتنی بات پکی ہے کہ مختلف ادوار میں اس کا تعلق مذہبی رسوم اور عقیدے سے رہا ہے، اور آج بھی یہ مغربی ممالک میں بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کا سب سے بڑا مظہر ہے، ہمارے مسلم نو جوان بھی چند سالوں سے اس دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، پارکوں، کلبوں اور ہوٹلوں میں حیا سوز مناظر کے وہ بھی شریک و سہیم ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وہ لوگ جو ایمان والوں میں فحاشی کو پھیلا نا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیاو آخرت دونوں میں درد ناک عذاب ہے۔ اللہ اس کو جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جب شرم جاتی رہے تو جو چاہو کرو۔“انہیں بنیادوں پر کچھ مسلم ممالک میں اس کے منانے پر پابندی ہے، مسلمان اسے مشرقی تہذیب پر مغربی ثقافتی یلغار کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، دوسروں کی بات نہیں کرتا ان کی توجیہات اور آراء اس ڈے کے حوالہ سے الگ الگ ہو سکتی ہیں؛ لیکن اسلام کے نزدیک یہ عیاشی اور فحاشی کی بدترین اور قبیح رسم ہے، جس میں عفت و عصمت کا جنازہ نکل جاتا ہے، آبرو ریزی کے واقعات کثرت سے ہوتے ہیں، اسلام میں محبت کا ایک بڑا مقام ہے؛ لیکن اس میں پاکیزگی ذمہ داری اور اخلاقی حدود و قیود کی پاسداری اور پابندی ضروری ہے، اسلام میں بے محابہ عورت و مرد کا تنہائی میں ملنا ممنوع ہے،اس لیے اس پورے حیا بافتہ رسم کو اس میزان پر تولنا چاہیے اور تعلقات کو حلال اور نکاح کے زمرے میں رکھنا چاہیے،سماج میں صالح اقدار کے فروغ اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب اور پاکیزہ ماحول بنائے رکھنے میں اسلامی تعلیمات کیمیا اثر ہیں اس پر عمل کر کے ہم اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکتے ہیں،اس لیے اگر مستقبل میں اس جیسے واقعات کو رونما نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان سارے اسباب و عوامل کا جائزہ لے کر فحاشی، عیاشی اور ہوسنا کی کے سارے دروازوں کو بند کرنا ہوگا کم از کم ہمارے نو جوانوں کو اپنی عفت و عصمت اور پاکیزگی کے تقاضوں کا خیال رکھنا چاہئے اور انہیں جاننا چاہئے کہ اسلام کسی بھی بے حیائی کے کام کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے کہ حیا اس کے یہاں ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی ایمان کے اس حصہ کو غارت کر دیتی ہے۔

(مضمون نگارامارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے نائب ناظم اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر اعلی ہیں)

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply