پروفیسر عبدالباری

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

شعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق صدر، اکیڈمک کونسل، یونیورسٹی کورٹ، آل انڈیا ہسٹری کانگریس، انڈوانس اینڈ ریسرچ اسٹڈیز، شعبہ دینیات بورڈ آف اسٹڈیز کے سابق رکن، صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ، ڈاکٹر پروفیسر عبدالباری کا 19/ اکتوبر 2025ء مطابق 26 ربیع الثانی 1447ھ بروز اتوار بعد نماز مغرب ان کے مکان اقرا کالونی نیو سر سید نگر، وطن ثانی علی گڑھ میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا، مغرب کے قبل تک اچھے تھے، مغرب کی نماز کے لیے وضو کر لیا تھا، مصلی پر کھڑے بھی ہو گیے تھے، پھر گر گیے ، وقت موعود آگیا تھا، چلتے بنے ، اگلے دن 20/اکتوبر 2025ء کو بعد نماز عصر ان کی نماز جنازہ ان کے شاگردرشید ڈاکٹر تو قیر عالم فلاحی سابق صدر شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پڑھائی اور مغرب سے قبل یونیورسٹی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، پس ماندگان میں اہلیہ محل ثانی میمونہ عثمانی، چارلڑکے، تین لڑکیوں کو چھوڑا، سات بھائیوں میں چار رخت سفر باندھ چکے ہیں، تین حی القائم ہیں، وہ مشہور مصنف اور درجنوں کتابوں کے مصنف پروفیسر محسن عثمانی کے برادر نسبتی (بہنوئی ) امارت شرعیہ کے ترجمان نقیب کے سابق مدیر جناب محمد عثمانی کے منجھلے داماد اور مشہور افسانہ نگار عبید قمر کے بڑے بھائی تھے۔

پروفیسر عبدالباری
پروفیسر عبدالباری

پروفیسر عبد الباری بن غلام احمد مجتبی (م1994ء) بن ابو محمد بن محمد صدیق بن عبد العلی گولک پور ، رانی گھاٹ میں 1936ء اور سند کے اعتبار سے 1941ء میں پیدا ہوئے ، ان کی والدہ کا نام باصرہ خانم تھا، یہ خاندان جگدیش پور آرا سے سبل پور اور سبیل پور سے نقل مکانی کرتا ہوا مصاہرت کی بنیاد پر گولک پور پٹنہ آبسا تھا، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، پٹنہ میں داخل ہوئے ، اعلیٰ تعلیم کے لیے پٹنہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہیں سے بی اے، ایم اے میں اول پوزیشن سے کامیابی حاصل کی، پروفیسر سید احمد کی زیرنگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور سند پائی، ایل ایل بی کے ساتھ قاہرہ یونیورسٹی سے عربی میں ڈی لٹ کیا، طالب علمی کے دور میں یوجی سی کی سعیر فیلو شپ ان کی ملی۔

تدریسی زندگی کا آغاز 1970ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں لکچرر کی حیثیت سے کیا، 1983ء میں ریڈر اور 1991ء میں پروفیسر بنائے گئیے ، بعد میں دس سال تک صدر شعبہ عربی کی حیثیت سے اسی یونیورسٹی میں خدمت انجام دی، شعبہ کو انتہائی فعال اور سرگرم بنانے میں آپ کی خدمت کا بڑا دخل رہا، پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طلبہ وطالبات کے لیے طریقہ تحقیق کی کلاسیں چلوائیں، ظہور وارڈ کے سامنے وسیع و عریض آراضی کا حصول آپ کے دور میں ہوا، قومی سطح کے تین ریفریشر کورس اور تین بین الاقوامی سمینار بھی آپ نے کروائے، شعبہ عربی کے انگریزی رسالہ کی ادارت اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فکر و نظر رسالہ کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر رہے، ملک و بیرون ملک سمینارو سمپوزیم میں شرکت کی اور اپنے تحقیقی ذوق کا اثر لوگوں پر چھوڑا، انہوں نےملک کی نامور یونیورسٹیوں میں بورڈ آف اسٹڈیز اور خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری کے اہم رکن کی حیثیت سے بھی کام کیا، بتیس سال تدریسی، تحقیقی خدمات کے ملے اور اکانوے سال عمر پائی، تحقیقی ذوق کے ساتھ تالیف و تصنیف کا شوق بھی ہم رکاب ہوتا ہے، اس میدان میں بھی آپ نے علمی عبقریت و عظمت کے تابندہ نقوش چھوڑے، ان کی کتاب المستشرق المانی سالم کر نکو حیاتہ واعماله (1998) نخبة الادب، نجیب محفوظ اے نوبل لاریٹ (انگریزی) فیض الباری ( تحقیقی مقالات) 1991، جریر شخصیت اور شاعری (1980) نقوش و خطوط (2000) ڈسکریٹو کیٹلاگ آف دی ریسرچ درکس آف ڈپارٹمنٹ آف عربک ، ٹرانسلیشن پر سلیشن آف کلکشن مشن آف احادیث از ابن تیمیه (انگریزی) معروف، مقبول اور مشہور ہیں، ان کی تدریسی تحقیقی تصنیفی اور علمی خدمات کی ملک و بیرون ملک میں خوب پذیرائی ہوئی ، زندگی میں ہی ان کی قدر و منزلت کا بھر پور اعتراف کیا گیا، چنانچہ 2005ء میں عربی زبان وادب کی خدمات کے لیے صدر جمہوریہ ایوارڈ اور انڈین انٹر نیشنل فرینڈ شپ سوسائٹی کی طرف سے، وجے شری ایوارڈ سے نوازا گیا، ان کا شمار بیسویں صدی کے دو ہزار دانشوروں میں ہوتا تھا اور یہ فہرست انٹر نیشنل بایوگرافیکل منٹر کیمبرج لندن نے مرتب کی تھی ، شمالی کورولینا امریکہ کی جانب سے انہیں مین آف دی ایر ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔

میری ملاقات ان سے بار ہا رہی ، وجہ اس کی یہ ہوئی کہ جس زمانہ میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ کی تاریخ مرتب کرنے کے لیے مجھے آن ڈیپوٹیشن پٹنہ بلایا گیا، تو رہائش کے لیے پروفیسر عبد الباری صاحب کے مکان کے سامنے سڑک کی دوسری جانب مسجد کے ایک کھپریل کمرے میں جو باہری حصہ میں واقع تھا، کرایہ پر میرا قیام ہوا، یہ ایک چھوٹا سا پھوس کا کمرہ تھا، جس میں محمد اشرف مرحوم جو ان دنوں بھارت دیگن میں ملازم تھے، میرے ساتھ رہنے لگے، سو روپیہ کرایہ تھا، پچاس پچاس روپے ہم لوگ بانٹ لیتے ، کھانا میںس سے آتا تھا، پروفیسر عبد الباری صاحب کے والد بھی حیات تھے، والد سے ملاقات کے لیے سال میں ایک دو چکر ان کا پٹنہ کا لگتا رہتا ، میری قربت پروفیسر صاحب کی بہ نسبت ان کے تیسرے بھائی عطاء الرحمن صاحب سے زیادہ تھی، جو ان دنوں یو کو بینک فریز رروڈ میں منیجر تھے اور ان دنوں سبکدوشی کے بعد خانقاہ حلیمیہ گولک پور کے سجادہ نشیں ہیں، مشہور افسانہ نگار عبید قمر بھی پروفیسر صاحب سے ملنے آتے ، چائے کی مجلس میں ہم جیسے لوگ بھی باریاب ہو جاتے اور پروفیسر صاحب کے افکار و خیالات سے مستفیض ہونے کا موقع

مل جاتا، میں ہمیشہ سے کم بولنے اور زیادہ سننے کا عادی رہا ، غور سے ان کی باتوں کو سنتا، واقعہ یہ ہے کہ بڑوں کی مجلس میں بیٹھ کر سننے کے اس عمل سے علمی کاموں میں مجھے بڑی مدد ملی۔

پروفیسر عبد الباری صاحب کے والد غلام احمد مجتبی صاحب مولانا فضل رحماں گنج مراد آبادی کے خلیفہ حضرت اکرام کے دست گرفتہ تھے، خاموش طبع انسان تھے، لیکن بات مزاج کے خلاف ہوتی تو جلال غالب آجاتا تھا، ایک باران کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھا رہا تھا، پہلی رکعت میں تبت یدا اور دوسری میں قل ھو اللہ لگایا ، سلام کے بعد بہت خفا ہوئے ، مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر غلطی کہاں ہوئی ، کہنے لگے : آپ کو آیت غضب ہی یاد ہے، آیت رحمت نہیں ، نماز اللہ کی رحمت کے متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے اور آپ ہیں کہ آیت غضب تبت یدا پڑھ رہے ہیں، بزرگوں کے اپنے احوال ہوتے ہیں، پروفیسر صاحب کے والد پر اللہ کی رحمت سے رجائیت کا غلبہ تھا، اس لیے وہ نماز میں آیت غضب کی تلاوت کو پسند نہیں کرتے تھے۔

پروفیسر عبد الباری صاحب سے میری آخری ملاقات کوئی ایک سال پہلے گولک پور میں ہوئی تھی، مجھے معلوم تھا کہ وہ تحقیق کے آدمی ہیں، میں نے تحقیق پر بات چھیڑ دی ، آہ بھر کر کہنے لگے۔ مفتی صاحب ! اب ریسرچ کہیں نہیں ہو رہا ہے، نہ انفرادی، یہ اجتماعی ، یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے مقالوں میں تحقیق نہیں، سارا کھیل قینچی اور پیسٹ کا ہے، میں نے اس موضوع پر پانچ کتاب کا مطالعہ کیا ہے، تحقیق کے نام پر پانچ کتابوں کا حاصل مطالعہ لکھ ڈالا ، مقالہ تیار ہو گیا، آپ نے دس کتاب کا اس موضوع پر مطالعہ کیا، آپ کے مقالہ میں دس کتابوں کا نچوڑ آگیا تحقیق کہاں ہوئی ، ریسرچ تحقیقی معلومات کی روشنی میں نئی معلومات تک پہونچنے کا نام ہے، یہ نئی معلومات پی ایچ ڈی کے مقالوں میں ان دنوں ملتی ہے کیا ؟ میں حسب سابق سنتا رہا، بات آگے بڑھانے کے لیے کہا کہ میں سمجھا نہیں، کہنے لگے: سیرت کی کتابوں کو ہی دیکھ لیجئے ، اس میں ایک سال کو عام الوفود کہتے ہیں ، ہم اس سال میں وفود کی کثرت سے آمد کا ذکر کر کے بڑھ جاتے ہیں، ہم یہ تحقیق نہیں کرتے کہ اسی سال کیوں وفود زیادہ آئے ، اس سے پہلے اور اس کے بعد اس قدر کیوں نہیں آئے ، یہ تحقیق کا موضوع ہے، لیکن واقعات بیان کر کے ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے بعد پھر ملاقات نہیں ہوئی، ٹیلی فون سے رابطہ پہلے بھی نہیں تھا، 19/ اکتوبر 2025ء کو میری کتاب یادوں کے چراغ جلد ششم کا اجراء دار القرآن مدرسہ عظمتیہ نوادہ کے زیر اہتمام ہوا تھا، میں وہاں سے لوٹ رہا تھا۔ کہ اچانک یہ جان کاه خبر ملی، جناب عطاء الرحمن اور ان کے بھائیوں سے تعزیتی کلمات بھی نہ کہہ سکا ، سب علی گڑھ روانہ ہو چکے تھے اور مضمون لکھنے تک ان کی واپسی نہیں ہو سکی تھی، اللہ رب العزت پروفیسر صاحب کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے – رحمه الله رحمة واسعة

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply