نام کتاب :“کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام”

مؤلف :جناب مولانا سالم برجیس ندوی

رابطہ: +917786808467

صفحات: 144

سنِ اشاعت: 2025ء

قیمت: 150 روپے

ناشر: ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، نبی نگر، دوحرا، علی گڑھ (یوپی)

تعارف نگار: ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد قاسمی

دنیا میں لین دین، خرید و فروخت اور تجارت کا سلسلہ ازل سے جاری و ساری ہے، اور اسی پر عالمِ انسانی کی بقا اور انسانی و غیر انسانی ضروریات کی تکمیل موقوف ہے۔ فقہی اصطلاح میں جو چیز خریدی جاتی ہے اسے مَبیع اور جس کے ذریعے خرید و فروخت کی جاتی ہے اسے ثَمَن کہا جاتا ہے۔ خیر القرون کے پہلے ہی سے سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج چلا آ رہا ہے؛ چاندی کے سکے کو درہم اور سونے کے سکے کو دینار کہا جاتا تھا۔ بعد کے ادوار میں سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے سکے رائج ہوئے، پھر کاغذی کرنسی نے جگہ بنائی، اور اب عالمِ جدید میں ڈیجیٹل کرنسیوں کا چلن عام ہو رہا ہے۔ انہی ڈیجیٹل کرنسیوں میں کرپٹو کرنسی بھی شامل ہے، جو فی الحال ایک نسبتاً نئی اور زیرِ بحث حقیقت ہے۔

نام کتاب :“کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام”
نام کتاب :“کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام”

کرپٹو کرنسی کے مختلف پہلوؤں پر عالمی سطح پر غور و خوض جاری ہے۔ متعدد ممالک نے اس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جب کہ کئی ممالک ابھی تذبذب اور تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔ شرعی اعتبار سے بھی اس موضوع پر مختلف مقامات پر علمی سیمینار منعقد ہو چکے ہیں، اور اہلِ علم کی آرا بالعموم تین قسموں میں منقسم نظر آتی ہیں: بعض حضرات نے کرپٹو کرنسی کو اختیار کرنے کا موقف اختیار کیا ہے، بعض نے اس کے عدمِ جواز کی صراحت کی ہے، اور بعض اہلِ تحقیق نے توقف کو ترجیح دی ہے۔

بہر کیف، عملاً اس کرنسی میں لین دین کا سلسلہ جاری ہے، اور راقم کے خیال میں بعید نہیں کہ آئندہ ایام میں، جب اس کا رواج مزید عام ہو جائے گا، تو اہلِ علم و تحقیق کی ایک بڑی جماعت اس کے جواز کی طرف مائل ہوں گے۔

کرپٹو کرنسی جیسے دقیق اور جدید موضوع پر یہ کتاب جناب مولانا برجیس احمد قاسمیؒ، استادِ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، کے صاحبزادے مولانا سالم برجیس ندوی نے مرتب فرمائی ہے۔ یہ کتاب اس وقت راقم کے سامنے ہے اور ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ نے اسے زیورِ طبع سے آراستہ کیا ہے۔ اس موضوع کی بنیاد حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم، ناظم المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد، و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، نے اس وقت رکھی تھی جب مؤلف موصوف حضرت مولانا کے یہاں تخصص فی الافتاء میں زیرِ تعلیم تھے۔ تاہم وبائے کرونا کے باعث انہیں یہ ادارہ ترک کرنا پڑا اور دو سالہ تخصص کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی، مگر اس کے باوجود ان کا قلم رواں دواں رہا اور تحقیقی جستجو مسلسل جاری رہی، حتیٰ کہ علی گڑھ میں اس موضوع کی تکمیل ہوئی اور آج یہ محققانہ کام کتابی صورت میں اہلِ علم کے سامنے ہے۔

کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں کرپٹو کرنسی کے نظام کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے، جس میں ڈیجیٹل کرنسی، ورچول کرنسی، بٹ کوائن وغیرہ کی توضیح کی گئی ہے۔ اس کے بعد بٹ کوائن اے ٹی ایم کی خصوصیات اور اس کی نوعیت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ مزید برآں زر کی حقیقت اور اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے، پھر اہلِ تحقیق و اہلِ فتویٰ کی تینوں رایوں کو نہایت ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے: جواز کے قائلین کے فتاویٰ، عدمِ جواز کے قائلین کے فتاویٰ، اور توقف اختیار کرنے والوں کے اقوال—سب کو جمع کر کے پیش کیا گیا ہے۔

دوسرے باب میں کرپٹو مارکیٹ میں کرنسیوں کے لین دین کی عملی صورتیں واضح کی گئی ہیں، اور ٹریڈنگ کی مختلف شکلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس طرح یہ کتاب کرپٹو کرنسی جیسے جدید اور نازک موضوع پر ایک وقیع، مرتب اور مفید علمی اضافہ ثابت ہوئی ہے۔

“کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام”
“کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام”

کسی نئے لکھنے والے کے لیے بالکل نئے موضوع پر قلم اٹھانا—بالخصوص ایسے موضوع پر جس سے متعلق مطلوبہ مواد اپنی زبان میں دستیاب نہ ہو—ایک نہایت دشوار مرحلہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں عزیزم مولانا سالم برجیس ندوی بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نہایت حسنِ ترتیب اور علمی دیانت کے ساتھ اس موضوع کو قلم بند کیا اور اپنے والدِ مرحوم کے بہترین خلف ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ حضرت مولانا برجیس صاحب قاسمیؒ ندوۃ العلماء میں اخلاق، نرم خوئی، علمی بصیرت اور تحقیقی ذوق کے اعتبار سے ممتاز استاد سمجھے جاتے تھے۔ طلبہ میں ان کا غیر معمولی احترام تھا، اور حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے نزدیک بھی ان کا مقام بلند تھا۔

جب حضرت مولانا برجیس صاحب کا انتقال ہوا تو عزیز القدر سالم اس وقت کم سن تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی خاص تربیت فرمائی، ان کو ترقیات سے نوازا، اور آج ان کی علمی پیش رفت دیکھ کر دل کو مسرت حاصل ہوئی ۔ میں اس موقع پر ان کی اس قیمتی تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سے دین کا بڑے بڑے کام لیں، ان کی کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائیں ، اور اس کا اجر و ثواب ان کے اساتذۂ کرام اور والدینِ مرحومین کو پہنچاتا رہے۔ آمین یارب العالمین

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply