کوئی حیرانی سی حیرانی ہے
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
ووٹ چوری، ایس آئی آر میں ہیرا پھیری، ووٹنگ سے قبل ریوڑی کی تقسیم جیسے الزامات کے ساتھ بہار انتخاب میں این ڈی اے نے فتح کا حیران کن پرچم بلند کیا ہے اور اس نے دوسو سے زیادہ سیٹوں پر جیت درج کرکے بہار میں اپنے ہی 2010 کے رکارڈ کو توڑ دیا ہے، تیجسوی کے بڑے بڑے انتخابی وعدے اور راہل گاندھی کے مسلسل دوروں نے عوام پر اثر نہیں چھوڑا، آر جے ڈی کے خواب تو چکناچور ہوئے ہی، کانگریس بھی تاریخ کے بدترین دور سے گذری، ملاح کے بیٹے مکیش سہنی کا کھاتہ نہیں کھل سکا، بائیں بازو کی پارٹیوں کی کارکردگی بھی اچھی نہیں رہی، بہار کی عوام نے بتا دیا کہ بعض نعرے خوش کن ہوتے ہیں، لیکن ان میں رائے دہندگان کے ووٹوں کو بدلنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، کیوں کہ رائے دہندگان اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس کا نفاذ عملاً ممکن نہیں ہے، جیسے ہر خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری وغیرہ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عوام نے جے ڈی یو کو جو ووٹ دیے، وہ نتیش کمار کی بہترین کارکردگی کے عوض دیا، نتیش کمار تمام انتخابی تقریروں میں اپنے کام گنواتے رہے، دوسری پارٹیوں کے بخیہ ادھیڑنے پر ان کی توجہ کم رہی، وقف ایکٹ 2025 کی حمایت، مدارس ملحقہ کے معاملات وسائل سے ان دیکھی، بہار اردو اکیڈمی کا آٹھ سالہ تعطل کوئی بھی معاملہ ان کے ووٹ کو متاثر اس لیے نہیں کرسکا کہ رائے دہندگان نے ان مسائل کو مسلمانوں کے مسائل کے طورپر دیکھا، اسے ریاست کی ضرورت نہیں سمجھا، بلکہ ان معاملات کی وجہ سے وہ لام بند اور پولورائز ہوئے اور ووٹ نتیش کمار کی جھولی میں چلا گیا، اس کا پورا پورا فائدہ جے ڈی یو کو مل گیا، اس کے علاوہ شراب بندی اور ایک کروڑ ترپن لاکھ خواتین کو دس دس ہزار رقم کی فراہمی نے بھی خواتین کے ووٹ کو نتیش کمار کے لئے متحد کردیا، وہ لڑکیاں بھی نئے ووٹروں میں تیش کمار کے لیے کام کرتی رہیں، جنہوں نے اسکولی تعلیم نتیش کمار کے سائیکل یوجنا سے ملی سائیکل چڑھ کر پاس کیا تھا، بجلی کے نظام کی بہتری اور سڑک کی عمدگی نے بھی نتیش کمار کو ووٹ دلواہی لیا۔
این ڈی اے کی مضبوط اور تنظیمی اعتبار سے طاقت ور پارٹی بی جے پی نے لالو یادو کے دورِ حکومت کو جنگل راج اور ان کے خاندان کے بدعنوان ہونے کی بات باربار اٹھائی، آر ایس ایس کے کارکنوں نے بوتھ وائز پرچار کیا اور ہر ہر بوتھ پر اپنے آدمی کھڑے کیے، بی جے پی نے نتیش کمار کی قیادت میں انتخاب لڑا اور اس کو مکھڑا بناکر پرچار میں لگے رہے، اس کا فائدہ بی جے پی کو ملا اور وہ بہار میں اول نمبر پر آگئی اور جے ڈی یو کو پیچھے چھوڑ دیا، بڑی پارٹی کے طورپر سامنے آنے کے بعد اب یہ بحث زوروں پر چلنے لگی ہے کہ این ڈی اے نتیش کمار کو ہی وزیر اعلیٰ بنائے گی یاکوئی نیا وزیر اعلیٰ بی جے پی سے ہوگا، نتیش کمار اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، ایسی کوئی بات آئی اور وہ عظیم اتحاد کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوئے تو ان کو پلٹی مارنے میں دیر نہیں لگے گی، وہ نو (۹) بار اسمبلی میں اقلیت میں رہ کر وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، ایک بار اور صحیح، پہلے آر جے ڈی ان کو اپنے ساتھ لینے سے انکار کرچکا ہے، کیوں کہ عظیم اتحاد نے تیجسوی کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بناکر پیش کیا تھا، اب جبکہ آر جے ڈی کا یہ خواب ملیامیٹ ہوچکی ہے، تو تیجسوی پھر سے نائب وزیر اعلیٰ ہونے کو تیار ہوسکتے ہیں، لیکن یہ سب امکانات ہیں، اگر بی جے پی نے بہار میں وزیر اعلیٰ بدلنے کی کوشش نہیں کی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا، گیند بی جے پی کے پالے میں ہے، اس کے جوڑ توڑ کی صلاحیت نتیش کمار سے زیادہ ہے، عارف محمد خاں کو بہار میں اسی لیے لاکر رکھا گیا ہے، ہرمہرہ اپنی جگہ فٹ ہے، بی جے پی جیسا چاہے گی وہی ہوگا، ایسے میں مودی جی کو ایک خطرہ مرکزی حکومت کے گرنے کا بھی ہوگا، جو نتیش اور چندرا بابو نائیڈو کی بیساکھی پر قائم ہے۔
این ڈی اے کی تیسری حلیف پارٹی لوجپا (آر) ہے، چراغ پاسوان کی سربراہی میں اس کی کارکردگی پارلیامنٹ اور اسمبلی دونوں میں اچھی رہی ہے، بہار اسمبلی میں بھی اس کی کامیابی کا تناسب اچھا رہا ہے، اس کی اہمیت بھی مسلم ہے، کیوں کہ دلت نیتا اصلاً وہی ہیں، جیتن رام مانجھی اور دوسروں بلکہ ان کے چچا کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، 2020 کے چناؤ میں آر جے ڈی کو کامیابی ملی تھی، اس کی ایک بڑی وجہ چراغ پاسوان کا این ڈی اے سے الگ ہوکر انتخاب لڑنا تھا، اس بار دلت ووٹ اس لیے بنٹ نہیں سکے اور وہ تھوک میں این ڈی اے کو گیے، جس نے اسمبلی میں جیت کے اعداد وشمار کو بدلنے میں حیران کن کردار ادا کیا، چراغ پاسبان بخوبی جانتے تھے کہ جب تک بی جے پی اور جے ڈی یو کا کیڈر ووٹ ہمیں نہیں ملے گا، ہم اپنی ذات کے چھ فی صد ووٹ سے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے، اس لئے انہوں نے مودی کی بھگتی ہنومان بن کرکیا اور بڑی کامیابی حاصل کی، این ڈی اے میں جیتن رام مانجھی اور اوپندر کشواہا کی پارٹی نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چھ چھ سیٹیں ان دونوں پارٹیوں کو ملی تھیں، ان میں ”ہم“ نے پانچ اور آر ال ام نے چار پر فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔
بات انڈیا اتحاد کی کریں تو آر جے ڈی اور کانگریس اس کی اہم پارٹیاں تھیں، کانگریس کا کہنا چاہیے کہ صفایا ہوگیا، اکسٹھ سیٹوں میں صرف پانچ سیٹ، وہ بھی آل انڈیا پارٹی کے لیے، بڑی شرم کی بات ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے پاس بہار میں تقریباً دو دہائیوں سے قیادت نہیں ہے، تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگیا ہے، پارٹی کے صدر اور ذمہ دار مرکز سے طے ہوتے ہیں، اس لیے کارکنوں میں کوئی امنگ نہیں ہے، وہ سرد مہری کے شکار ہیں، انتخابی ذمہ داری جنوبی ہندوستان کے کسی لیڈر کے حوالہ کردی جاتی ہے، اس بار بھی ”الُّلو“ تھے، پورا ہندوستان اس بات کو جانتا ہے کہ شمال وجنوب میں سیاست کا الگ الگ انداز ہے، اس لیے جنوب سے آئے مشاہد اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ نہیں کرسکتے، صحیح حکمت عملی تیار نہیں کرپاتے، اس لیے کانگریس ختم ہوتی جارہی ہے، جمہوریت کی لڑائی لڑنے والے کی پارٹی میں ہی جمہوریت کا فقدان ہے، کھڑگے پارٹی کے صدر ضرور ہیں، لیکن وہ بھی راہل گاندھی کی پسند ہیں اور راہل گاندھی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اتنے دن سیاست میں رہنے کے بعد یہی طے نہیں کرپائے ہیں کہ انہیں نہرو والی سیاست کرنی ہے یارام منوہر لیا والی، وہ ان دونوں سیاسی نظریوں میں تفریق نہیں کرپارہے ہیں، اس لیے ان کی سیاست کے اثرات ووٹ میں تبدیل نہیں ہوپاتے۔
انڈیا اتحاد کی بڑی پارٹی آر جے ڈی ہے، رائے دہندگان میں ان کے MY سیمی کرن کا چرچا بہت رہتا ہے، مائی کا M مسلمان اور Y یادوں سے عبارت ہے، واقعہ یہ ہے کہ مسلمان آر جے ڈی کو ایمانداری سے ووٹ دیتا رہا ہے، اس لیے کہ وہ اسے سیکولر سمجھتا ہے اور اس لیے بھی کہ اس کے پاس دوسرا متبادل بھی نہیں ہے، تیجسوی جوان ہیں، ان کے پاس توانائی ہے، کام کرنا بھی جانتے ہیں، لیکن مواقع انہیں نہیں ملتے، اس پر سے بدعنوانی کا الزام، لالو جی کی جیل یاترا، خاندانی جھگڑے، دو بھائیوں کا انتخاب میں دست وگریباں ہونا اور ایک دوسرے کو ہرانے کی جدوجہد یہ سب بھی رائے دہندگان پر اثر انداز ہوتے ہیں، دوسری بڑی خرابی MY کے Yمیں یہ ہے کہ وہ پارٹی امیدوار کے بجائے اس کو ووٹ دیتا ہے جو یادو ہو، خواہ کسی بھی پارٹی سے کھڑا ہو، کئی جگہوں پر یادوں کی اس ذہنیت کی وجہ سے اسے اپنی سیٹ گنوانی پڑی ہے، دوسری کمی آر جے ڈی میں یہ رہی کہ وہ اپنا ووٹ دوسرے طبقوں میں بڑھانے میں ناکام رہی، اس کے علاوہ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کے درمیان انتشار تھا، ان کی مثال اس جیسی تھی، جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ”تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی“ سے کیا ہے، وہ سنترے کی طرح یک جٹ دکھائی رہے تھے، لیکن ان کی قاشیں چھلکے کے نیچے الگ الگ تھیں، وہ اپنے کو خربوزہ نہ بناسکی، جس کی لکیریں اوپر سے علیحدہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن اندر سے پورا پھل ایک ہوتا ہے، ایم آئی ایم نے پانچ سیٹوں پر جیت درج کرائی اور کانگریس سے اچھی پوزیشن میں آگئی، مگر وہ اپنا دائرہ بڑھانے میں ناکام رہے اور کسی دوسرے علاقہ سے انہیں کامیابی نہیں ملی، اپنے منصوبوں سے دوسروں کو کامیاب کرانے والے پرشانت کشور صفر پر آؤٹ ہوگیے، البتہ وہ بی جے پی کے جتانے میں معاون ہوئے، کیوں کہ سیاست میں ان کے داخلے سے سیکولر امیدواروں کے ووٹ کیے اور بی جے پی کے لیے راستہ صاف ہوگیا۔
انڈیا اتحاد کے مکیش سہنی جو نائب وزیر اعلیٰ کے چہرہ تھے، ان کی پارٹی بھی جن سوراج کی طرح ہارکر صفر پر آؤٹ ہوگئی، جن لوگوں نے اس انتخاب میں سیکولر پارٹیوں کے لیے کام کیا، وہ ووٹ کے تناسب بڑھانے میں کامیاب رہے، لیکن ووٹوں کو منتشر ہونے سے وہ نہیں بچا سکے۔
تجزیہ ہوتا رہے گا، لیکن ابھی تو سب حیرت میں ہیں، خود این ڈی اے کو بھی اتنی بڑی کامیابی کا یقین نہیں تھا، غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جب تک بیلیٹ ووٹوں کی گنتی چلتی رہی، مہاگٹھ بندھن آگے رہا اور جیسے ہی ای وی ایم کھلا، ترنیڈ بدل گیا اور ای وی ایم کی گنتی میں این ڈی اے کو سبقت حاصل رہی، گنتی کے وقت سی سی کمرہ کے بند ہونے، نگرانی کی مدت میں کیمرہ کے فیل ہوجانے اور سڑک کے گرد انتخاب سے متعلق کاغذات بڑی تعداد میں ملنے کا بھی الیکشن کمشنر نے نوٹس نہیں لیا، بعض جگہوں پر دوبارہ گنتی کراکر عظیم اتحاد کے امیدواروں کو ہرایا گیا، یہ سارا کچھ ہوا، انتخاب کا عمل پھر بھی مکمل ہوگیا، انتظار نئی حکومت کی تشکیل کا ہے اور اس کا بھی کہ نتیش کمار دوسری بڑی پارٹی کے وزیر اعلیٰ ہوکر بھی بی جے پی کے دباؤ کے بغیر حکومت کرسکیں گے، بہار کا مستقبل اسی پر موقوف ہے۔






