کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے ؟

تحریر: جاوید بھارتی

اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں اتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد کی ضرورت ہے موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو ہونے اور کامیاب ہونے کا واحد راستہ ہے اس طرح کے بیان بیانات بالکل کھوکھلے ہی نظر اتے ہیں وقت انے پر کھوکھلے ثابت بھی ہوتے ہیں-

کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے ؟
کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے ؟

اتحاد کی بات کرنے والے کبھی اس بات کا اشارہ نہیں کرتے کہ کس بنیاد پر اتحاد ہونا چاہیے اس لیے کہ جہاں تک بات اختلافات کی ہے تو قدم قدم پر اختلاف نظر بھی اتے ہیں اور اختلاف کو تقویت پہنچانے میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو کبھی پیچھے نہیں رہتی جب سارے معاملات کو دیکھا جاتا ہے اور حالات حاضرہ پر بھی نظر دوڑائی جاتی ہے پھر اس کے بعد مسلمانوں کے جو ذمہ دار حضرات ہیں ان کا رویہ دیکھنے کے بعد یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد کی تو گنجائش نہیں ہے لیکن اختلافات کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔

 ملک کے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں خدا کے وجود سے متعلق ایک مناظرہ ہوا ایک ڈیبیٹ ہوا جس میں مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثہ ہوا مناظرہ ہوا سوال و جواب ہوا دلائل و شواہد پیش کیے گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مفتی شمائل ندوی کو فاتح قرار دیا گیا اور ہر طرف ان کی تعریف ہونے لگی لیکن اس معاملے کو بھی اختلافی رنگ دیا گیا۔

 جہاں تک بات ڈیبیٹ کی ہے تو موضوع یہ تھا کہ خدا ہے کہ نہیں خدا کا وجود ہے کہ نہیں تو ایسی صورت میں خدا کا جب وجود ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا اور اس بنیاد پر مفتی شمائل ندوی کو فاتح قرار دیا گیا تو اعلان یہ ہونا چاہیے تھا کہ اسلام کی جیت ہوئی لیکن اسے اسلام کی جیت قرار نہ دے کر مسلکی بنیاد پر اور فرقہ بندی کی بنیاد پر جیت کا سہرا سر پر باندھنے کی کوشش کی گئی اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ فلاں مکتب فکر کے عالم کے علاوہ کسی اور مکتب فکر کے عالم کے اندر یہ جرات نہیں کی وہ جاوید اختر کے سوالوں کا جواب دیتا ظاہر سی بات ہے کہ جب اس طریقے کی بات کی جائے گی تو اس کا رد عمل بھی سامنے آئے گا۔

 ہم نے بھی سوشل میڈیا پہ دیکھا تھا علماء دانشور اور بہت سے لوگ ایسے تھے جو بلا تفریق مذہب و مسلک و ملت مفتی شمائل ندوی کی تعریف کر رہے تھے لیکن جب فرقہ بندی کی بنیاد پر نعرہ بلند ہونے لگا اور اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ہی مکتب فکر کے اندر دو شناخت قائم کی جانے لگی تو معاملہ پوری طرح مسلکی رنگ میں رنگ گیا۔

 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگے بھی جب کوئی فتنہ اٹھے گا تو اس کا مقابلہ اسلام کے ماننے والے کریں گے یا مختلف مکتب فکر کے ماننے والے کریں گے؟ مخالف کے سوالوں کا جواب اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر دیا جائے گا یا مسلکی و فرقہ بندی کی بنیاد پر دیا جائے گا ؟

یہ تو کہا جاتا ہے کہ اتحاد زندگی کا نام ہے اور اختلاف موت کا نام ہے یعنی اتحاد میں ہی زندگی ہے جس چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس میں بگاڑ اتا ہے اور اصل شناخت بگڑ جائے تو یہ موت کے ہی برابر ہے اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی اور موت کو جانتے ہوئے بھی کیوں اسی چیز کو فروغ دیا جاتا ہے جو موت کی طرف لے جاتی ہے کیوں نہیں زندگی کی بات کی جاتی خوشیاں بانٹنے کی بات کی جاتی ایک دوسرے کو گلے لگانے کی بات کی جاتی اخر ایسا کب ہوگا یہ سوال ان لوگوں کے ذہن میں اکثر اتا ہے جو مختلف سوسائٹیوں میں مختلف سماج میں اور مختلف ممالک میں ایا جایا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اٹھا بیٹھا کرتے ہیں گفت و شنید کرتے ہیں باقی وہ لوگ جن کی سوچ کا دائرہ بہت محدود ہے جن کے جینے کا طریقہ بھی محدود ہے اور ابتدائی تعلیم سے ہی انہیں ایسی بات بتائی گئی ہے جو اتحاد سے اور اتفاق سے اور میل ملاپ سے کوسوں دور ہے یہی وجہ ہے کہ جلسہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے اپسی اختلافات ظاہر ہوتے ہیں اور یہ اختلافات کھانے پینے سے لے کر عبادت کرنے کے طریقے تک میں دیکھے جاتے ہیں بظاہر مسلمانوں کے اندر اتحاد کی تو کوئی گنجائش نظر نہیں اتی پھر کیسے مسلمانوں میں اتحاد ہوگا؟

جہاں تک بات دیگر مذاہب کے اختلافات کی ہے تو ان کے اختلافات منظر عام پر نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کے اندر سارے اختلافات منظر عام پر ہیں یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اللہ ایک، رسول ایک، قران ایک، خانۂ کعبہ ایک پھر بھی مسلمان انتشار کا شکار ہے روایات کے پیچھے بھاگتا پھرتا ہے اور اب تو مسلمانوں کے اپسی جھگڑے اور اپسی اختلافات بڑی تیز رفتار ی کے ساتھ اگے بڑھ رہے ہیں جیسے ہی محرم کے مہینے کا چاند نظر اتا ہے تو تعزیہ داری پر اختلاف، سبیلوں کے اہتمام پر اختلاف،جب ربیع الاول کے مہینے کا چاند نظر اتا ہے تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ ولادت پر اختلاف، میلاد النبی کا جشن منانے پر اختلاف،، اسے المیہ نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ ہم جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں جس نبی کی ہم امت ہیں ان کی تاریخ ولادت پر بھی اختلاف رکھتے ہیں شب برات کی اہمیت و فضیلت پر بھی اختلاف اور اب تو مسلمانوں کے اندر مساجد و مدارس کے نام پر بھی اختلاف خانقاہوں کے نام پر بھی اختلاف پیری اور مریدی کے نام پر بھی اختلاف ذات برادری کے نام پر بھی اختلاف جبکہ تعلیم تو یہ دی گئی ہے کہ اے مسلمانو تم شیشہ پلائی دیوار بن جاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو لیکن ہمارا جو حال ہے ہم اس میں اپنا محاسبہ کریں کہ کیا اللہ کی رسی کو ہم نے مضبوطی سے تھاما ہے؟

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply