گاندھی کے دیش میں ؛ گوڈسے کے بھیس میں
تکلف برطرف : سعید حمید
جگہ جگہ گھوم رہے ہیں ، دہشت گردوں کے ٹولے ۔قاتلوں کے ٹولے ۔ ماب لنچنگ کرنے والے ہجوم ۔ یہ ہیں آج کے ، ماڈرن گوڈسے !!!
بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ کس منہ سے یہ لگاتے ہیں ، جن کو اس دیش کے دستور پر یقین نہیں ۔اور جو اس ملک کے دستور کو نہیں مانتے ۔راشٹر بھکتی کی باتیں ، وہ کیسے کر سکتے ہیں ، جو گاندھی کے قاتل کو ہیرو مانتے ہیں؟جو یوم جمہوریت میں یقین نہیں رکھتے ، جو ۲۶؍جنوری کا جشن نہیں مناتے ، جو ۲۶ جنوری کو یوم سیاہ ، بلیک ڈے کے طور پر مناتے ہیں ،جووہ دیش کے غدار ہیں ، راشٹر دروہی ہیں ، لیکن ،ان کو دیش سے غداری کی بھرپور آزادی حاصل ہے۔ادھر مسلمان اور سکھ و دیگر اقلیتیں اپنے حقوق کی آواز بلندکرتے ہیں ، تو ان کے خلاف خالصتانی ، پاکستانی یا اربن نکسلی ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے ۔

گاندھی کے دیش میں گوڈسے وادیوں کو چھوٹ کیوں ؟
گاندھی کے دیس میں گوڈسے وادیوں کو آزادی کیوں ؟
اور دیکھئے !!!
اس آزادی کا کس طرح غلط استعمال کیا جا رہا ہے ۔
کچھ برس قبل ، ملک ۲۶ جنوری کا جشن منا رہا تھا ، یوم جمہوریت منا رہا تھا ۔ہندو مہاسبھا کے گوڈسے وادی یوم سیاہ منا رہے تھے ۔
بلیک ڈے منا رہے تھے ۔دیش بھر میں ترنگا جھنڈا لہرایا جا رہا تھا ،تب ہندو مہا سبھا والے کالا جھنڈہ لہرا رہے تھے ۔کیا کہیں بھی پولس نے ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی ؟کیا کسی گودی میڈیا اور گوبر وادی میڈیا نے شور پکار کی کہ یہ دیش سے غدار ی کی حرکت کیوں ہو رہی ہے ؟
ہاں !!! تب اسی دن دن لال قلعہ پر کسی نے سکھوں کا مقدس نشان صاحب کہا جانے والا ایک جھنڈا لگا دیا ، تو آسمان سر پر اٹھا لیا گیا ، پہلے تو اسے خالصتان کا جھنڈا کہہ کر بدنام کیا گیا ،پھر اصلیت کھل جانے پر کہا گیا کہ لال قلعہ میں کوئی دھارمک جھنڈا لہرانا دیش سے غداری کا عمل ہے ۔
تب انہی گودی میڈیا وادیوں کو دہلی میں ہندو مہا سبھا کے دفاتر پر لہرائے جانے والے کالے جھنڈے نظر نہیں آئے ؟
اسی دہلی میں یوم جمہوریہ کی مذمت میں یوم سیاہ اور بلیک ڈے کا احتجاج نظر نہیں آیا ؟
۲۶ ؍ جنوری ۱۹۵۰ ء کو بھارت نے جو دستور اختیار کیا ، اسے مسترد کرنے کیلئے صدر جمہوریہ ہندو کو دیئے جانے والے میمورنڈم کا پتہ نہیں چلا ؟ اس میمورنڈم پر ہی جو اس ملک کے صدر کو ہی بھیجا گیا ، ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے تھی ،یوم سیاہ منانے والوں کے خلاف دیش سے غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا ،
لیکن !!!
واہ رے ، بھگوا راج ؟اس دیش میں اقلیت ہونا ہی دیش سے غداری ہے ؟گوڈسے وادیوں کے خلاف ۲۶؍ جنوری کے دن قوم وملک سے کھلی غداری اور دستور سے کھلی بغاوت کے باوجود بھی کوئی ایکشن نہیں ہوا ،لیکن ، جو کسان احتجاج کر رہے تھے ،ان کےخلاف ہی این آئی اے کی نوٹس جاری کی گئیں، ان کے خلاف ہی انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کئے گئے ۔
ان کے خلاف غداری (sedition ) کا بھی الزام عائد کیا گیا ۔
ملک میںکوئی اسلامی راشٹر کی بات کرے تو یہ غداری ہے ۔کوئی سکھ راشٹر کی بات کرے تو یہ غداری ہے ۔
کوئی بدھسٹ راشٹڑ کی بات کرے تو یہ غداری ہے ۔کوئی کرسچن راشٹر کی بات کرے تو یہ غداری ہے ۔
لیکن، کوئی ہندو راشٹر کی بات کرے تو اسے راشٹر بھکت کا سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے ۔
اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے ، کیوں ؟اس لئے کہ آج گاندھی کے اس دیش میں؛
دیش بھکتوں کے بھیس میں ؛گوڈسے وادی سرگرم ہیں !!!
بھارت آزاد ہوا ، اور اس کے محض چھ مہینہ میں ہی ہندو مہا سبھا کی گوڈسے گینگ نے راشٹر پتا کہلائے جانے والے گاندھی جی کا قتل کردیا ۔
یہ آزاد بھارت کا پہلا دہشت گردانہ حملہ تھا ۔
گوڈسے آزاد بھارت کا پہلا دہشت گرد تھا ۔
ہندو مہا سبھا کو اسی لئے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہئے تھا ، کیونکہ گاندھی جی کے تمام قاتلوں کا تعلق ہندو مہا سبھا سے تھے ،
لیکن !!!ہندو مہا سبھا کو کبھی بھی دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا گیا ،اور آج بھی یہ گوڈسے وادی تنظیم سرگرم ہے ۔
کبھی یہ گوڈسے کا مندر بناتی ہے ، کبھی یہ گوڈسے کا پتلہ بناتی ہے ۔
گاندھی جی کی برسی پر ۳۰ جنوری کے دن جب سارا دیش سوگ مناتا ہے ۔
ہندو مہا سبھا کے لوگ گاندھی کا پتلہ بنا کر اس پر گولی چلاتے ہیں ، اور گاندھی قتل کی تائید کرتے ہیں ۔ اسطرح یہ لوگ دہشت گردی کی تائید کرتے ہیں۔
لیکن ،کیا کبھی انہیں این آئی اے کی نوٹس جاری کی گئی ؟
کیا ان کے خلاف یو اے پی اور غداری (sedition) کے الزام میں کوئی مقدمہ درج کیا گیا ؟
آج کل تو صحافیوں پر بھی تنقیدی رپورٹنگ پر غداری (Sedition ) کے مقدمات درج ہوتے ہیں ،
لیکن ، گوڈسے کے پیروکاروں پراس طرح کا کوئی مقدمہ کیوں درج نہیں ہو رہا ہے ؟
مطلب صاف ظاہر ہے کہ گاندھی کے دیس میں بھیس بدل کر گوڈسے وادی اپنا اقتدار قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور ان کے ہمدرد بھی اہم جگہوں پر موجود ہیں !!!!
ورنہ ، جب ہندو مہا سبھا دہلی کے صدر پنڈت اشوک شرما نے صدر جمہوریہ ہند کو ہندی بھاشا میں ایک خط ۲۵؍ جنوری ۲۰۲۱ ء کو بھیجا جس میں انہیں بھارت کی مسلح افواج کے سربراہ اعلی کے طور پر مخاطب کیا گیا ، اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ چیف کمانڈر انڈین آرمڈ فورسزکی حیثیت سے فوراً بھارت کا دستور منسوخ کردیں ، تو یہ خط پولس کے حوالہ کیوں نہیں کیا گیا ؟
اور بھارت کے دستور کو ختم کرنے والے کے خلاف دیش دروہکا مقدمہ کیوں نہیں درج کیا گیا ؟
اب ہندو مہاسبھا کے دیش دروہیوں کو یہ علم ہونا چاہئے کہ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ ء کو جو بھارت کا سیکولر دستور نافذ ہوا ، وہ گاندھی جی نے نہیںبنایا تھا، بلکہ اس کے آرکٹیک ڈ اکٹر بابا صاحب امبیڈکر تھے ،
گوڈسے وادی جاہل یہ جھوٹا پرچار کر رہے ہیں کہ ۱۵ ؍اگست ۱۹۴۷ ء کو تقسیم کے بعد بھارت کو ہندو راشٹر بننا چاہئے تھا ، لیکن گاندھی نے اس کو سیکولر دستور کے ذریعہ ہندو راشٹر بننے نہیں دیا ، اب کئی حلقوں میں یوم آزادی یعنی ۱۵ ؍ اگست کو یہ بات گدش کرنے لگتی ہے کہ گاندھی جی نے سردار پٹیل سے نا انصافی کی ، اور پنڈت نہرو کی بے جا طرف داری کی ، اگر پنڈت نہرو کی بجائے ، سردار پٹیل کو ملک کا پہلا وزیر اعظم بنایا گیا ہوتا ، تو آج دیش کی یہ حالت نہیں ہوتی اور آج کشمیر مکمل طور پر بھارت کا حصہ ہوتا اور چین کو بھی مکمل شکست دی جاتی ۔
یہ تمام باتیں کون کہہ رہا ہے ، وہی ، جو اندر سے گوڈسے وادی ہیں ، اور اوپر سے ہندوتوا وادی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ۔ یہ اس زمانے میں جب گاندھیہ جی کانگریس کی قیادت کر رہے تھے ، تب وہ کہاں تھے ؟ ساورکر کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور گوڈسے کے کیڈر میں شامل تھے ، ہندو مہا سبھا کے ممبر بنے ہوئے تھے ، اور مہاتما گاندھی کے شاگرد عزیز سردار ولبھ بھائی پٹیل سمیت سبھی کانگریسی لیڈروں کی تشدد کے ذریعہ مخالفت کر رہے تھے کیوں ؟ وہ گاندھی جی کو نہیں مانتے تھے ، انہوں نے کانگریس کو اہنسا کا جو راستہ دکھایا تھا ، اس راستہ کو نہیں مانتے تھے ، وہ تو بم ، بندوق ، پستول کی بھاشا جانتے تھے ۔ اگر سردار پٹیل اس راستے کے حامی ہوتے تو اس وقت وہ گاندھی جی کے شاگرد بن کر کانگریس میں شامل نہیں ہوتے ۔
وہ اسی وقت ساورکر اور گوڈسے کے شاگرد بن کر ہندو مہا سبھا میں شامل ہو جاتے ۔
آج جو اندر سے گوڈسے وادی ، اوپر سے ہندوتوا وادی کہلائے جانے والے لوگ سردار پٹیل ، سردار پٹیل کا شور مچا رہے ہیں ، سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس ، ان کا اپنا رول ماڈل ، آئیڈئل اور ہیرو ہے ہی نہیں ۔
کانگریس اور گاندھی جی کی امیج سے لڑنے کیلئے انہیں کانگریس سے ہی کوئی لیڈر ادھا ر لینا پڑ رہا ہے ۔
انہوں نے اسکے لئے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ادھار لیا ہے ، تاکہ اپنی ہندوتوا وادی دکان بڑھائی جاسکے ، لیکن انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ جس شو روم میں انہوں نے سردار پٹیل کا پتلہ لگا رکھا ہے ، آج کی نئی ، اور تاریخ سے انجان نسلوں کیلئے ، وہ بہت لمبے عرصہ تک کارآمد ثابت نہیں ہوگا ۔
کیونکہ ، اس آزاد بھارت کی تاریخ میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ،
وہ آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا ہی تھی ، تاریخ کے اس سچ کو کب تک چھپا یا جائے گا ؟
اور جس وزارت نے یہ پابندی عائد کی وہ پہلی مرکزی وازارت داخلہ تھی ۔
اور جس وزیر کے دستخط سے آزاد بھارت میں پہلی مرتبہ آر ایس ایس ، ہندو مہا سبھا پر پابندی عائد کی گئی ، وہ پنڈت جواہر لا ل نہرو نہیں تھے ، بلکہ سردار ولبھ بھائی پٹیل ہی تھے ، جنہیں آج ہندو توا وادی عناصر اپنا لاڈلا ، اورچہیتا لیڈر بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔
آرا یس ایس کے قیام کو سو برس ہو گئے ہیں ، اور اس کا تذکرہ یوم آزادی پر لال قلعہ سے ہو رہا ہے ۔
یہ لال قلعہ کس نے بنایا تھا ؟ برٹش نے نہیں ، مغلوں نے بنایا تھا ، جن کی پانچ سو برس کی تاریخ کو این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں سے ہٹادیا گیا ہے ، کس کی شہ پر ؟ سنگھی عناصر کی مرتبہ نام نہاد نئی ایجوکیشن پالیسی کی آڑ میں کو ن ، اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ؟ عوام سب جانتے ہیں۔
آج گوڈسے وادیوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گاندھی جی نے اس ملک میں سیکولر دستور نافذ کیا جب کہ اس دیش کا دستور ہندوتوا ہونا چاہئے تھا ، اور آج دستور ان کا نشانہ ہے ، وہ دستور کو بدلنا چاہتے ہیں ، اور اگر دستور سیکولر ، سوشلسٹ ہے ، ہندوتوا وادی نہیں ہے ، تو اس کے لئے نہرو اور گاندھی جی کو دوشی قرار دے رہے ہیں ۔
کیوں ؟ اسلئے کہ پھر ، دستور کو بدلنے کا ان کا گھناؤنا ایجنڈا ، آسان بن جائے ۔
اے جاہلوں ، جب یہ دستور نافذ ہوا ، اس سے پہلےہی بیچارہ گاندھی کا قتل تمہارے دہشت گرد گوڈسے نے کردیا تھا ،
اسلئے اس دستور کو گاندھی کا بنایا ہوا کہنے ، اور اسے بدلنے کی بات کرنے کی ہمت مت کرو ، عوام کا غصہ ابل پڑا تو سارا گوڈسے واد نکل جائے گا ۔
ڈاکٹر امبیڈکر کا بہوجن سماج اب بیدار ہو چکا ہے ، ایسے آثار بھی دکھائی دینے لگے ہیں !!!