اترپردیش : نویں جماعت کے ڈراپ آؤٹ کو بیسک ایجوکیشن آفیسر بنانے کے فیصلے کی مذمت
اسعد اللہ قاسمی

ہندوستان میں بہت سے نوجوانوں کیلئے مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لینا اور سرکاری ملازمت کی تلاش مشکل ہوتی ہے، کئی برسوں سے یہ ان کا خواب بن جاتا ہے، بہت سے افراد مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہونے کے بجائے ناکام ہوتے ہیں،انہی میں سے ایک کرکٹر رنکو سنگھ ہیں جو نویں جماعت کے ڈراپ آؤٹ ہیں اورجنہیں بیسک ایجوکیشن آفیسر (بی سی اے) مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی سخت مذمت کی جارہی ہے، لکھنؤ سے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمان پریا سروج سے شادی کرنے کے بعد رنکو سنگھ کو حکومت کی جانب سے مقرر کیا گیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق رنکو سنگھ بائیں بازو کے بلے باز ہیں اور اسپورٹس کوٹہ کیلئے منتخب کئے جانے والے ۷/ ایتھلیٹس میں سے ایک ہیں، علی گڑھ میں پیدا ہونے والے رنکو سنگھ پرائمری اسکولوں میں پانچویں جماعت تک کی نگرانی کریں گے، وہ اپنے ضلع میں ٹیچر ایولیوشن اور بلاک ایجوکیشن آفیسرز کے کاموں کی نگرانی بھی کریں گے، رنکو سنگھ کو ماہانہ ۰۷ ہزار تا۰۹ ہزارتنخواہ ملے گی اور انہیں گھر، ایچ آر اے اور طبی مراعات بھی دیئے جائیں گے۔