غزہ میں نسل کشی اور انسانی ضمیر کا المیہ
سہیل انجم
غزہ میں معصوموں اور بے قصوروں کا قتل عام جاری ہے اور عالمی برادری کا ضمیر وقت کی قبر میں دفن ہو چکا ہے۔ اسے نہ تو معصوم بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اور نہ ہی لاشوں کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی ادارے بھی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف گزشتہ سال نومبر میں بنجامن نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد کومہ میں چلا گیا ہے۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عالمی اداروں، رہنماوں اور طاقتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی دہائی دینا ریاکاری اور ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کا خونِ ناحق نیتن یاہو کی گردن پر تو ہے ہی، ان اداروں، رہنماوں اور طاقتوں کی گردن پر بھی ہے جو اگر چہ اسرائیلی مظالم کے خلاف بعض اوقات ہلکی آواز میں احتجاج کرتے ہیں لیکن اس کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ انسانیت کے حقیقی علمبرداروں کو اب یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ عالمی اداروں کو مقفل کر دیا جائے اور انصاف، انسانی حقوق، مساوات اور اس قسم کے دیگر لبھاونے الفاظ عالمی لغت سے حذف کر دیے جائیں۔ اب ان کی کوئی معنویت و اہمیت نہیں رہ گئی۔ امریکہ، یوروپ اور مغربی ممالک تو بے حسی و بے غیرتی کی چادر تان کر سوئے ہوئے ہی ہیں، فلسطینی ریاست کے صدر محمود عباس بھی اندھے، بہرے اور لولے لنگڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بے مروتی، بے غیرتی اور بے ضمیری کے کوہ ہمالہ پر اپنا تخت سجائے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس تاک میں ہیں کب اسرائیلی ظلم و بربریت کا خاتمہ ہو، حماس اپنا بوریا بستر سمیٹ کر جلا وطن ہو جائے اور وہ امریکہ و اسرائیل کی پشت پناہی میں پوری مملکت فلسطین کے بے تاج بادشاہ بن جائیں۔ یہی صورت حال مسلم اور اسلامی ملکوں کی بھی ہے۔ انھیں بھی فلسطینیوں کے خون کے دریا دکھائی نہیں دیتے۔ وہ پارسائی و بزرگی کا لبادہ اوڑھے بے ضمیر دنیا کی آغوش میں محو استراحت ہیں۔

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل غزہ میں مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ لیکن امریکی و یوروپی میڈیا اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا اور فلسطینیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ البتہ ان میں سے بعض اخبارات میں کبھی کبھار کسی باضمیر شخص کا کوئی مضمون بھی شائع ہو جاتا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ایک حالیہ مضمون میں اسرائیلی اسکالر عمر برٹن نے، جو نسل کشی کے امور پر ایک اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں اور جو اسرائیلی فوج میں ملازمت بھی کر چکے،تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔ اسی اخبار میں ایک دوسرے اسرائیلی مضمون نگار اور اسکالر شمائیل لیجر مین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل نے امریکی میڈیا کے ساتھ ملکر غزہ کے شہریوں کیخلاف منفی پروپیگنڈہ کیا ہے۔ ادھر امریکہ کے برعکس یورپی میڈیا اب دو سال بعد یہ بات تسلیم کر رہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتیں اس تعداد سے کہیں زیادہ ہیں جو بتائی جارہی ہیں۔ غزہ میں ہلاک شدگان کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو مکانوں کے ملبے تلے دب گئی ہے اور جس کو شمار ہی نہیں کیا گیا۔ ایسے افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔یوروپی یونین کے وزیر خارجہ جوزف بیرل نے بھی بڑے پیمانے پر نسل کشی کو تسلیم کیا ہے۔
اسی طرح بعض اوقات کچھ انفرادی لوگوں کی طرف سے بھی احتجاج کیا جاتا ہے لیکن ان احتجاجوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ گارڈین اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق 380 مصنفین کے ایک گروپ نے اقوام متحدہ کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں تاریخ کی بدترین نسل کشی جاری ہے۔علاوہ ازیں 800 افراد کے ایک گروپ نے، جس میں سابق جج بھی شامل ہیں، برطانوی وزیراعظم کئیر اسمارٹر کے نام لکھے گئے خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔مذکورہ گروپ نے اپنے خط میں مزید کہا کہ اسرائیلی نسل کشی کی بڑی شہادت موجود ہے اور اسرائیلی وزیر دفاع کا حالیہ بیان انتہائی مایوس کن ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم غزہ کا بالکل صفایا کر دیں گے۔ڈبلن یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو فورڈ نے جوکہ بین الاقوامی قانون پر ایک اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں، کہا ہے کہ اسرائیل نے عالمی قوانین کی بے پناہ خلاف ورزیاں کی ہیں۔ویانا کنوکشن کے آرٹیکل 29 کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل ویانا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزیاں کر رہا ہے جس میں جنگ کے دوران کسی بھی ریاست کے شہری کی آزادی ،عظمت اور عزت کی ضمانت دی گئی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیوں نے فلسطینیوں کی لاشوں کو اپنی منافع بخش تجارت میں تبدیل کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ کمپنیاں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل فروخت کرکے اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ یہ جنگ طویل سے طویل تر ہو جائے تاکہ ان کی تجارت جاری رہے۔ ایک تنظیم ”امریکن فرینڈس سروس کمیٹی“ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بھرپور مالی مدد بھی کر رہا ہے۔ صرف سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے لے کر 25 دسمبر تک امریکہ نے اسرائیل کو 244 مال بردار طیاروں اور 20 بحری جہازوں سے دس ہزار ٹن ہتھیار سپلائی کیے تھے۔ صرف ابتدائی ڈیڑھ ماہ کے دوران ہی 15 ہزار بم اور 50 ہزار آرٹیلری شیل سپلائی کیے گئے۔ عوامی ناراضگی اور کانگریس کی جانب سے پابندی لگانے سے بچنے کے لیے یہ فراہمی خفیہ طور پر کی گئی۔ اس نے اکتوبر اور مارچ کے درمیان اسرائیل کے ساتھ 100 عسکری سودے کیے لیکن عوامی طور پر صرف دو کا اعلان کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت کے بغیر غزہ میں اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام ممکن نہیں تھا۔ سابق صدر جو بائڈن نے مزید ہتھیار خریدنے کے لیے اسرائیل کو 14 ارب ڈالر کی مدد کا منصوبہ بنایا تھا جس میں سے تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر اس کو دیے جا چکے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حماس پر ہتھیار خریدنے پر پابندی عاید ہے۔ یعنی وہ کسی عالمی اسلحہ ساز کمپنی یا ملک سے ہتھیار نہیں خرید سکتا۔ جبکہ اسرائیل کاروبار میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں کی درجنوں کمپنیاں کے ساتھ بھی ہیں۔ یہ کمپنیاں جرمنی، اٹلی، برطانیہ، اسپین، فرانس اور دیگر ملکوں کی ہیں اور وہاں سے اسرائیل کو ہتھیار سپلائی کر رہی ہیں۔ اس دوران ہندوستان نے بھی ہتھیاروں کی سپلائی سے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ یکم جوری 2025 کو شائع الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جو ہندوستانی کمپنیاں اسرائیل کو ڈرون اور دیگر ہتھیار سپلائی کر رہی ہیں ان میں سرکاری کمپنی ”میونیشن انڈیا“ کے علاوہ گوتم اڈانی کی ”ایلبٹ ایڈوانسڈ سسٹم انڈیا“ شامل ہیں۔
ادھر اسی سال چھ جولائی کو جاری ہونے والی ”مرکز اطلاعات فلسطین“ کی رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیاں اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرکے اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔ اٹلی سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی ایک خاتون ایکسپرٹ فرانسسکا البانیز کی مرتب کردہ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے اور فلسطینیوں کے خون اور ہڈیوں کو اپنے لیے دولت کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ البانیز نے دفتری ریکارڈ کو درست کرنے اور انسانیت میں واقعی یقین رکھنے والی قوتوں کی تو جہ مبذول کرنے کے لیے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ ان کے مطابق ان عالمی کمپنیوں پر کسی ایک بھی ادارے، ملک یا انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئن نے پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ان کمپنیوں نے غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں، بزرگوں اور بیماروں کے قتل عام پر معمولی سا دکھ بھی ظاہر نہیں کیا۔ اس رپورٹ میں ایسی ساٹھ بڑی کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے جو بظاہر ماورائے قانون و اخلاقیات کام کرتی نظر آرہی ہیں۔ یہ کمپنیاں عالمی طاقتوں اور بڑے معاشی ملکوں کے گروپ ”جی سیون“ جیسے امیر کبیر ملکوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ ان ملکوں میں نامور یونیورسٹیاں اور دانش گاہیں ہیں جہاں انسانی حقوق، مساوات اور اس قسم کے دیگر پرکشش نعرے مسلسل لگائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نام کمانے والی کمپنیاں اور یہاں تک کہ بظاہر خیراتی اور فلاحی کام کرنے والے ”نیک نام ادارے“ اور خالص مذہبی شناخت کے حامل گروپ بھی اس نسل کشی میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی ماہر نے اس رپورٹ میں جن کمپنیوں کے نام گنائے ہیں ان کی تعداد 48 ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ غزہ میں ہونے والی انسانی نسل کشی کا ذمہ دار صرف اسرائیل اور اس کا وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ہے تو غلط ہوگا۔ وہ تو اس پوری وحشی کارروائی کا ماسٹر مائنڈ ہے ہی، دنیا کے ممالک بھی اس کے شریک کار ہیں۔ اس نسل کشی کا مرکزی کردار نیتن یاہو ہے اور دنیا کے ممالک سپورٹنگ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کہانی میں کوئی ہیرو نہیں سب ویلن ہی ویلن ہیں۔ اگر کوئی ہیرو ہے تو وہ غزہ کے معصوم اور بے گناہ شہری ہیں جو تاریخ کا بدترین ظلم سہنے کے باوجود اپنی سرزمین کو خیرباد کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے غزہ خالی کر دیا تو اس پر اسرائیل قابض ہو جائے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے بے وطن ہو جائیں گے۔ غزہ کے ان بہادروں کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے جو زندگی کے لیے ضروری لوازمات کی عدم مو جودگی اور اپنی زندگیوں کو لمحہ بہ لمحہ ختم ہوتے ہوئے دیکھنے کے باوجود اپنی سرزمین سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اس کے لیے مر مٹنا پسند کرتے ہیں بزدلوں کی طرح جلا وطن ہونا نہیں۔