بی ایڈ کریں یا پی ایچ ڈی؟

ساجد حسن رحمانی

عنوان ایک سوال ہے جو ہر اس طالب علم کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے ، جو بی اے یا ایم اے کے آخری سمسٹر میں ہوتا ہے اور اس طرح کا سوال مذکورہ بالا طلبہ کے ذہنوں میں آنا بھی چاہیے ، کیوں کہ موجودہ وقت میں حصولِ علم کا مقصد صرف مختلف علوم وفنون سے واقفیت کے ساتھ شعور و آگہی والی زندگی بسر کرنا نہیں ہے ، بلکہ حصولِ علم کا ایک اہم مقصد باعزت ذریعہ معاش کو حاصل کرکے خوشحال اور عیش وآرام کی زندگی بسر کرنا ہے؛ اس لیے ایسے وقت میں اس طرح کے پیشہ ورانہ کورسز میں داخلہ لینا ناگزیر ہوجاتا ہے جس میں حصولِ معاش کے تعلق سے مستقبل کی ضمانت ہو ، ورنہ ایک طالب علم کوہ کنی اور جاں کاہی کے ساتھ حصول علم میں زندگی کا بیش قیمت حصہ گزارکر اور اپنے اندر قابلیت پیدا کرکے بھی ذریعۂ معاش کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے اور مختلف علوم وفنون پر دسترس کے باوجود معاشرے میں ایک ان پڑھ اہل ثروت کے برابر بھی عزت و وقار کا حقدار بننے میں ناکام رہتاہے ، کیوں کہ یہ تلخ حقیقت ہے مگر اس سے انکار کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ وقت میں معاشرے میں لوگوں کی عزت واحترام کی نظر کرم کے حقدار اہل ثروت ہی بنتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ ہر طالب علم بی اے یا ایم اے کرنے کے بعد بہت ہی غور وفکر کرکے اور وقتی یا جز وقتی فائدہ کے بجائے زندگی بھر کے فائدہ کو پیش نظر رکھ کر کورسز کا انتخاب کرے اور ہم میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ اسکولوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے مقابلے میں اساتذہ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ، اس لیے وہاں اساتذہ کی بحالی میں سیٹیں بھی بہت آتی ہیں ، صرف اردو مضمون میں پچاس سے کم تو کسی بھی صوبہ میں سیٹیں نہیں آتی ہیں اور زیادہ تو پانچ پانچ ہزار تک سیٹیں آئی ہیں ، جبکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اگر اردو مضمون کی بات کی جائے تو دس سے زیادہ سیٹیں شاید ہی کسی صوبہ میں آئی ہوں ورنہ عموماً ایک / ڈیڑھ / دو / ڈھائی اس طرح سیٹیں آتی ہیں اور امیدواروں کی تعداد ایک ہزار ، دو ہزار بلکہ پانچ پانچ ہزار تک ہوتی ہے اور اس میں بھی بیشتر لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دسیوں کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ شعبہ کے چیئرمین ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر، اثرو رسوخ والی شحصیت مثلاً وزیر ، مرکزی وزیر ، یا کسی بااثر تنظیم جیسے آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، جمعیت علمائے ہند ، مسلم پرسنل لا بورڈ وغیرہ کے ذمہ داروں کی سفارش یافتہ بھی ہوتے ہیں ، نیز ان میں ایسے سند یافتہ کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے جو بیس بیس لاکھ بطورِ رشوت دینے کے لیے آمادہ رہتے ہیں ، اب آپ ہی اندازہ لگائیں کہ ایسی کشمکش اور ناگفتہ بہ صورتحال میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں استاد بننا کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہوگا ، نیز بعض دفعہ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ فلاں یونیورسٹی کے فلاں شعبہ میں اساتذہ کی بحالی کے لیے سیٹیں آئی تھیں ، لیکن شعبہ کے چیئرمین کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایک خاص مدت کار میں بحالی کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یو جی سی ہی کی طرف سے اتنی سیٹیں ہمیشہ کے لیے ختم کردی گئی ہیں اب ایسے میں ملازمت کے انتظار میں زندگی کا اچھا خاصہ حصہ گنوایا ہوا اور ہر طرح کی سفارش یافتہ باصلاحیت افراد پر کیا گزرتی ہوگی ، اس کا اندازہ وہی لگا سکتاہے جس پر کہ یہ صبر آزما وقت گزرا ہو ، ہم اور آپ نہیں لگاسکتے – اوریقین جانیے کہ نیٹ ، جے آر ایف تو درکنار صرف پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کے لیے ایک طالب علم کو جتنی محنت کرنی پڑتی ہے ، اگر اس کا دسواں حصہ بھی کوئی بی ایڈ کی سند یافتہ شخص کرلے تو ہندوستان کے کسی نہ کسی صوبہ میں بآسانی اسکول کا استاد بن سکتاہے ، نیز اسکولی استاد بننے کے لیے نہ تو کسی کی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے ، نہ رشوت کی اور نہ ہی بہت زیادہ باصلاحیت اور کتابوں کے مصنف ہونے کی –

بی ایڈ کریں یا پی ایچ ڈی؟
بی ایڈ کریں یا پی ایچ ڈی؟

اس لیے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوۓ ہر بی اے اور ایم اے کے طالب علم کو اور خاص طور پر آرٹ سبجیکٹ سے بی اے اور ایم کی ڈگری یافتہ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ بی اے اور ایم اے کے بعد بی ایڈ کرنے کو فرض عین سمجھے ، تاکہ بآسانی برسر روزگار ہوکر خوشحال زندگی گزار سکے اور نسل نو اور اہل خانہ کے لیے بھی سہارا بن سکے – باقی رہی بات پی ایچ ڈی کی تو آج کے دور میں جبکہ فاصلاتی تعلیم کا زور ہے اور حکومت بھی اسے بڑھاوا دے رہی ہے ، شائقین طالب علموں کے لیے نوکری میں رہتے ہوئے بھی پی ایچ ڈی کرنا چنداں مشکل نہیں ہے بلکہ ہر ضلع میں اگنو (IGNOU ) کی شاخ قائم ہوجانے کی وجہ سے اگنو جیسی مرکزی یونیورسٹی سے بھی پی ایچ ڈی کرنا انتہائی آسان ہوگیا ہے –

موجودہ وقت کا تقاضا تو وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ، جبکہ صورتحال اس کے بر عکس ہے – باصلاحیت طلبہ پر پی ایچ ڈی کا نشہ اس قدر چڑھا ہوا ہوتاہے کہ وہ بی اے اور ایم اے میں کسی تجربہ کار سے مشورہ لیے بغیر پی ایچ ڈی کو اپنے ذہن ودماغ پر حاوی کرکے پی ایچ ڈی کا موڈ بنا لیتے ہیں اور پی ایچ ڈی میں داخلہ آسان بنانے کے لیے وہ ایم اے سے ہی پروفیسروں سے تعلق بنانے اور چیمبرنگ کرنے یعنی پروفیسروں کے چیمبروں میں پابندی سے حاضری دینے میں لگ جاتے ہیں – اب رہی بات کہ باصلاحیت طلبہ پر پی ایچ ڈی کا اس قدر نشہ کیوں چڑھا ہوا ہوتاہے ؟ اس کی کئی وجوہات ہیں ، جن میں سے چند اہم ذیل میں ذکر کیے دیتے ہیں۔

سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اسکول کا استاد بننے کو وہ اپنے لیے باعث عار سمجھتے ہیں کہ ہم اتنی صلاحیت کے مالک ہوکر ان کے ساتھ کام کریں گے جو ایک لائن عبارت تک صحیح سے لکھ یا پڑھ نہیں پارہے ہیں –

دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا ایم اے کے دوران ہی جے آر ایف نکل چکا ہو تا ہے ، جس کے بعد تقریباً پچاس ہزار ماہانہ وظیفہ ملتاہے ، تو وہ یہ سوچتے ہیں کہ جتنا پیسہ ہمیں بیٹھے بٹھائے پی ایچ ڈی کرنے کے لیے ملے گا ، اس سے کم یا اتنا ہی بی ایڈ کرنے کے بعد آٹھ گھنٹہ اسکول میں دینے پر ملے گا ، جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پچاس ہزار صرف پانچ سال کے لیے ہے ، اس کے بعد پچاس روپے کے لیے وہ در در کی ٹھوکریں کھانے والے ہیں اور اسکول میں آٹھ گھنٹہ دینے پر پچاس ہزار ماہانہ پانے والے ساٹھ سال کی عمر تک پائیں گے ، جس سے بآسانی وہ اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرکے موت تک کے سامان راحت کا بھی انتظام کرسکتے ہیں –

تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ وہ اس یونیورسٹی کے عیش وآرام کے اس قدر رسیا ہوجاتے ہیں کہ وہ اس یونیورسٹی کو چھوڑکر دوسری جگہ بی ایڈ کرنے یا ملازمت کے لیے جانے کو جہنم میں جانے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ اسی یونیورسٹی سے چپکے رہتے ہیں ، جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بے صلاحیت طلبہ بی ایڈ کرکے بآسانی اسکول کے استاد بن جاتے ہیں اور پچاس ہزار/ ساٹھ ہزار اور ستر ہزار تک ماہانہ پاکر خوشحال اور عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے ہیں اور باصلاحیت طالب علم جے آر ایف اور پی ایچ ڈی ختم ہونے کے بعد پچاس / ساٹھ اور ستر روپے کے لیے اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا ہے ، بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آتاہے کہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بہت سے طلبہ پروفیسرز حضرات کی چیمبرنگ کرتے ہیں یعنی ہردن پروفیسروں کے چیمبر میں جاکر حاضری دیتے ہیں اور گھنٹہ / دو گھنٹہ بلکہ کسی کسی دن تو پانچ / پانچ گھنٹہ تک ان کے ساتھ بیٹھ کر مبالغہ آمیز حد تک ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں، ان کے گھر کا ملازم بن کر گھریلو کام کاج مثلاً بچوں کو اسکول لانا لے جانا ، اسی طرح ڈاکٹروں کے پاس لے جانا ، ساگ سبزی پہنچانا اور دیگر دوسرے گھریلو کام کرتے ہیں اور مذکورہ بالا کام پانچ/ پانچ ، دس / دس برس تک کرتے ہیں اور مقصد استاد کی خدمت نہیں ہوتاہے بلکہ یہ ہوتاہے کہ کسی طرح وہ ترس کھا کر کم ازکم شعبہ میں گیسٹ ٹیچر یا کنٹریکٹ ٹیچر ہی بنوادیں ، تاکہ کسی طرح روزی روٹی کا انتظام ہوجائے –

گیسٹ اساتذہ یا کنٹریکٹ اساتذہ کی حالت تو طلبہ سے بھی زیادہ قابلِ رحم ہوتی ہے ، وہ پروفیسروں ہی نہیں بلکہ ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسروں تک کے سامنے اس طرح دست بستہ کھڑے رہتے ہیں ، جس طرح حکم الٰہی کے وقت فرشتے اور وہ پرماننٹ اساتذہ کی خوشنودی میں جس قدر لگے رہتے ہیں اگر اس قدر اللہ کی خوشنودی میں لگے رہیں تو ان کے لیے جنت تو پکی ہے – ان کا ذہنی وجسمانی دونوں استحصال کیاجاتاہے اور وہ خوشی خوشی اسے برداشت کرتے ہیں ، نیز ہمہ وقت ان کے سروں پر یہ خطرہ بھی منڈلاتا رہتاہے کہ پتا نہیں : آئندہ سال ہمیں رکھا جائے گا یا ہم سے بھی کوئی بڑا چاپلوس آکر ہماری جگہ پر قبضہ کرلے گا ، خیر کسی طرح ان گیسٹ اساتذہ اور کنٹریکٹ اساتذہ کی زندگی اللہ بھروسے گزرتی رہتی ہے اور بعض بعض تو زندگی بھر مسقل اور پرماننٹ استاد نہیں بن پاتے ہیں اور کنٹریکٹ استاد رہ کر ہی انہیں ریٹائر ہونا پڑتاہے –

مذکورہ بالا حقائق تلخ ہیں ، لیکن سچائی یہی ہے اور ان‌ مذکورہ بالا حقائق سے ہر اس طالب علم کو جو بی اے یا ایم اے کے آخری سمسٹر میں ہے ، سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ان کے لیے پہلے بی ایڈ کرنا بہتر ہے یا پی ایچ ڈی ؟؟؟

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare