تحریک خلافت یا تاریخی حماقت ؟

سعید حمید

اتر پردیش کے سابق ممبر آف پارلیمنٹ جناب الیاس اعظمی نے ایک کتاب لکھی ہے ، ’’ مسلمانوں کی سیاست : زخم اور علاج ‘‘۔

تحریک خلافت یا تاریخی حماقت ؟
تحریک خلافت یا تاریخی حماقت ؟

اس میں انہوں نے خلافت تحریک کا تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا اور خلافت تحریک کو تحریکِ حماقت قرار دیا ۔(صفحہ : ۲۳ )

جناب الیاس اعظمی ( سابق ایم پی ) نے خلافت تحریک کے تنقید ی جائزہ میں اس بات کا ذکر کیا کہ خلافت ( جسکو انہوں نے نام نہاد بھی قرار دیا ) خود متزلزل تھی جس کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا درپیش تھا ، اور صرف برٹش سے نہیں بلکہ خود ترک افواج سے بھی خلیفہ کی کرسی کو خطرہ لاحق تھا ۔

جناب الیاس اعظمی نے لکھا ؛

’’۱۹۱۸ ء میں پہلی جنگ عظیم ترکی کی شکست پر ختم ہوئی ۔ یوروپ ، ایشیا اور افریقہ میں پھیلی ہوئی عظیم ترک سلطنت کو برطانیہ ، فرانس ، اور روس وغیرہ نے باہمی طور پر تقسیم کرلیا ۔خاص ترکی میں بھی برطانوی فوجیں داخل ہو گئیں ۔اور سلطان عبدالحمید ( جو خلیفہ بھی تھے ) پر یہ دباؤ پڑنے لگا کہ وہ برطانوی شرائط پر سمجھوتہ کرلیں ۔لیکن مصطفی کمال کی قیادت میں نوجوان ترک فوجوں اور عوام نے برطانیہ سے آخر دم تک مقابلہ کی ٹھان لی ۔ترک عوام بھی خلیفہ سے کٹ کر اپنی فوجوں کی پشت پر تھے ۔صاف ظاہر تھا کہ اگر ترک فوجیں برطانوی افواج کو ترکی سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ، تو پھر خلیفہ عبدالحمید کا گدی پر بنے رہنا ، ناممکن ہو جائے گا ۔ مطلب یہ کہ نام نہاد خلافت کو برطانیہ سے نہیں بلکہ ترک افواج سے ہی زیادہ خطرہ تھا ۔‘‘( صفحہ : ۲۲ ) ۔

ان سطور کی روشنی میں جناب الیاس اعظمی نے خلافتی قائدین کے متعلق ، جن میں علما ء کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی ، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اس وقت کی بین الاقوامی سیاست سے نابلد تھے اور کانگریس( گاندھی جی ) کے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا شکار بن گئے ۔ جناب الیاس اعظمی نے تحریک خلافت اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تحریک کا بھی موازنہ کیا ۔

انہوں نے لکھا ؛

’’۱۹۱۱ ء میں بنارس ہندو یونیورسٹی بن چکی تھی ۔سر سید کے رفقاء علی گڑھ کالج کو مسلم یونیورسٹی بنانے کی مہم چلارہے تھے ۔یہ مسلمانوں کے بدلے ہوئے رخ کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے قیام کیلئے مطلوب تیس لاکھ روپوں کی رقم بہ آسانی اکٹھا کر لی تھی ۔کانگریس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی مخالف تھی اور اس نے اپنے مسلم لیڈروں کو اس کی مخالفت پر لگا رکھا تھا ۔ ان حالات میں کانگریس نے مسلمانوں کو انگریز سے دوبارہ بھڑادینے کیلئے ایک کثیر المقاصد منصوبہ بنایا ۔کانگریس نے بین الاقوامی سیاست سے اندھے اور سیاسی بصیرت سے کورے علماء کو ترکی کی اسلامی خلافت کو بچانے کا خواب دکھا یا ، اورانہیںسمجھایا کہ مصطفی کمال ترکی کو برطانیہ سے صرف اس حالت میں ہی بچا سکتے ہیں ، جب ہندوستان کے مسلمان بھارت میں انگریزوں کو الجھا دیں ۔‘‘( صفحہ : ۲۲۔۲۳ )

اس دور میں بھی یعنی 1919 ء کے آس پاس بھارت میں جو دیسی میڈیا تھا ، اس پر برہمنوں کا ہی غلبہ تھا ۔

کانگریس نے اپنے اس مشن میں کہ اپنے سیاسی ایجنڈہ میں چارہ کے طور پر استعمال کرنے کیلئے بھارت کے مسلمانوں کے بھی مذہبی و جذباتی (ISSUE ) کا استعمال کیا جائے ، برہمن غلبہ والے دیسی میڈیا کا استعمال کیا ۔ اس زمانہ میں کسی بھی بھارتی طبقہ کے پاس اپنا طاقتور میڈیا نہیں تھا ، جس قدر با اثر میڈیا کانگریس کے پاس تھا ، جسے جناب الیاس اعظمی نے برہمن میڈیا قرار دیا ، جو کانگریس ، تلک ، گاندھی وغیرہ کا ہی کٹرحامی تھا ۔

انہوں نے کہا؛

’’ تب برہمن وادی میڈیا عالم وجود میں آچکا تھا ۔ کانگریس کے اشارہ پر اس نے بھی مدد کی ۔بس پھر کیا تھا ، علما ئے اسلام خلافت کے نام پر اسلام کو بچانے کیلئے میدان عمل میں کود پڑے ۔ ان کی مدد کیلئے کانگریس کے مسلم نما پاکٹ لیڈر موجود ہی تھے ۔ اسلام خطرے میں پڑا ، اور مسلمانوں میں انگریز کے خلاف نفرت کا دبا ہوا جذبہ ایک لاوے کی طرح پھٹ پڑا ۔( صفحہ : ۲۳ )

ترکی کی برٹش اتحاد کے سامنےشکست سے بھارت کے مسلمانوںمیں غصہ و برہمی کا طوفان پھٹ پڑا ۔برطانوی وزیر اعظم جارج لائیڈنے ترکوں کے سامنے ایسے سخت ، خلاف توقع اور ذلت آمیز شرائط صلح پیش کئے تھے ، جو ترکوں کی مکمل تباہی و بربادی کا پیش خیمہ تھے ۔بھارت کے مسلمانوں میں اسی لئے غصہ کی آگ بھڑک اٹھی ، ان کے دل و دماغ میں برٹش سرکار اور برٹش ایمپائر سے نفرت کا جوالا مکھی پیدا ہوچکا تھا ، بس وہ پھٹ پڑنے کیلئے کسی ایک کال کا منتظر تھا ۔

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare