مولانا شبیر احمد کی گرفتاری کا معاملہ
پسِ آئینہ: سہیل انجم
’الفاروق انٹرکالج‘ امونہ اِٹوا ضلع سدھارتھ نگر کے منیجر مولانا شبیر احمد مدنی کو گزشتہ دنوں جبریہ تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری، ایک شخص کی شکایت پر جو اپنا نام اکھنڈ پرتاپ سنگھ اور خود کو ڈومریاگنج کا باشندہ بتاتا ہے، کی گئی۔ اس نے اِٹوا تھانے میں ان کے خلاف تبدیلی مذہب کرانے کی شکایت کی تھی۔ اس کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے الفاروق انٹرکالج میں 2020 میں پندرہ ہزار روپے میں ملازمت اختیار کی تھی۔ ایک روز مولانا نے ایگریمنٹ بنانے کی بات کہی۔ سو روپے کے سادے اسٹامپ پیپر پر دستخط لیے گئے۔ پھر میرے مذہب کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آپ مذہب اسلام قبول کر لیجیے۔ ان لوگوں نے گلہورا تھانہ علاقے کے ایک یادو لڑکے کے بارے میں بتایا کہ اس کو یہیں مسلمان بنایا گیا اور خلیجی ملکوں سے پیسہ منگا کر اسے دیا گیا اور اسے بڑودہ جماعت میں بھیج دیا گیا۔ اس کے مطابق وہ مجھ پر قبول اسلام کا دباو بنانے لگے۔ میں تیار نہیں ہوا اور وہاں سے چلا آیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ جس کاغذ پر دستخط لیے گئے تھے اسے تبدیلی مذہب کی نوٹری میں بدل دیا گیا۔ اس کاغذ کو سعودی عرب بھیج دیا اور اس کی بنیاد پر وہاں سے پیسے منگوائے گئے۔ وہ کھا گئے یا کیا کیے مجھے نہیں معلوم۔ میں نے اس بارے میں وزیر اعلیٰ کے نام خط لکھا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ مولانا کا تعلق چھانگر بابا سے ہو۔ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ دوسروں کے نام سے تبدیلی مذہب کی فرضی نوٹری بنوانے کے معاملات میں ملوث ہیں اور اسی نام پر خلیجی ملکوں سے پیسے منگاتے ہیں۔

اٹوا کی پولیس نے اس شکایت پر بغیر کسی چھان بین اور تحقیق کے مولانا شبیر مدنی کو تھانے میں بلایا اور اگلے روز عدالت میں پیش کیا جس نے انھیں ضمانت نہیں دی۔ ہم نے اس سلسلے میں متعدد مقامی افراد سے بذریعہ فون گفتگو کی تو انھوں نے الزام کو فرضی، بے بنیاد اور بلیک میل کرنے والا بتایا۔ ان کے مطابق مولانا کی گرفتاری نے علاقے میں غم و غصے اور خاموش احتجاج کی صورت پیدا کر دی ہے۔ کیا مسلمان کیا غیر مسلم کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں آرہا کہ مولانا جبریہ تبدیلی مذہب کے معاملے میں ملوث ہیں۔ وہ ایک انتہائی شریف النفس انسان ہیں۔ علاقے کے مسلمانوں اور ہندووں سب سے ان کے بہت اچھے مراسم ہیں اور سبھی ان کو احترام اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز وائرل ہیں۔ اکھنڈ پرتاپ نے اپنے بیان میں دو ایسی باتیں کہی ہیں جو خود اس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مذکورہ ادارے کے ذمہ داران اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ شکایت کنندہ نے گلہورا تھانے کے ایک نوجوان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اسے جماعت میں بھیج دیا۔ جبکہ اہل حدیث مکتب فکر کا تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ جماعت میں جاتے اور کسی کو بھیجتے ہیں۔ دوسری بات اس نے چھانگر سے تعلق کے بارے میں کہی۔ چھانگر بریلوی مکتب فکر کا ہے اور پیری مریدی میں شامل رہا ہے۔ جبکہ اہل حدیث افراد ان سب چیزوں سے دور رہتے ہیں۔ اکھنڈ پرتاپ کی ایک اور ویڈیو وائرل ہے جو کورونا کے زمانے کی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے گھر والوں کے خلاف شکایت کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں بستی سے آیا تھا اور مجھے الفاروق انٹرکالج میں دو بار چودہ چودہ روز کے لیے کورنٹائن کیا گیا۔ اس کے باوجود میرے گھر والے مجھے گھر میں گھسنے نہیں دے رہے ہیں۔ میں در بہ در بھٹک رہا ہوں۔ نہ تھانے میں میری شنوائی ہو رہی ہے نہ تحصیل میں۔ پولیس والے مجھے مار کے بھگا رہے ہیں۔ ایس ڈی ایم صاحب نے بھی میری درخواست لینے سے انکار کر دیا۔ میں بے سہارا ہو گیا ہوں۔ اگر ایسے ہی رہا تو میں خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاوں گا۔ اس نے اس معاملے میں ایک مقامی پولیس اہل کار کے خلاف بھی شکایت کی۔ جب پولیس نے اس معاملے کی جانچ کی تو پولیس اہل کار کے خلاف شکایت جھوٹی پائی گئی۔ سوشل میڈیا میں ایک اور ویڈیو وائرل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس نے تبدیلی مذہب کے فرضی کاغذات بنوائے اور اس کی بنیاد پر وہ ممبئی وغیرہ میں چندہ کرتا رہا۔ جب لوگوں کو اس کی اصلیت معلوم ہوئی تو انھوں نے چندہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ بلیک میلنگ پر اتر آیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس کے اہل خانہ بھی اس کی بدقماشیوں سے پریشان ہیں۔ اس کے باپ نے اسے عاق کر کے گھر سے نکال دیا ہے۔ جبکہ کالج کے ذرائع کے مطابق وہ وہاں کبھی ملازم تھا ہی نہیں۔
اترپردیش اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس گرفتاری کی مذمت کی اور مولانا کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ تھانے دار نے بغیر کسی جانچ کے مولانا کو گرفتار کر لیا۔ یہ عدالتی عمل کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اکھنڈ پرتاپ کے باپ نے بتایا ہے کہ اس نے 2020 میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ شرابی اور گنجیڑی ہے۔ اسے عاق کرکے گھر سے نکال دیا گیا ہے۔ ماتاپرساد کا کہنا ہے کہ ’ایسے شخص کی درخواست پر پولیس انسپکٹر نے ایک شریف آدمی کو گرفتار کر لیا۔ یہ قدم اس علاقے کے امن و امان اور بھائی چارے کے ماحول کو ختم کرنے کی کوشش ہے‘۔ یاد رہے کہ الفاروق انٹر کالج ’ندوة السنہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی‘ کے تحت چل رہا ہے۔ اس سوسائٹی کے تحت انٹر کالج کے علاوہ جامعہ الفاروق الاسلامیہ، الفاروق پرائمری اسکول، الفاروق جونیئر ہائی اسکول اور کلیہ حفصہ الاسلامیہ قابل ذکر ہیں۔ اب ایک ڈگری کالج کھولنے کی بھی تیاری چل رہی ہے۔ مولانا ان تمام اداروں کے ناظم ہیں۔ یہاں مجموعی طور پر تقریباً دو سو کا اسٹاف ہے جس میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ شعبوں میں دس بارہ غیر مسلم بھی ہیں۔ جن میں سے کئی دو دو عشروں سے پڑھا رہے ہیں۔ غیر مسلم عملہ کے تقریباً نصف درجن افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مذکورہ الزام کو بے بنیاد اور فرضی بتایا اور یہاں تک کہا کہ ہم لوگ کیمپس میں اپنے مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں، ہمیں کوئی نہیں ٹوکتا۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ شروع سے ہی شرپسند عناصر کی نگاہوں میں چبھتا رہا ہے۔ کئی بار اس کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ کورونا کے زمانے میں اس کے کیمپس کو کورنٹائن مرکز بنا دیا گیا تھا اور تمام جگہوں کے کورنٹائن مراکز ختم کر دیے جانے کے کافی دنوں بعد تک اسے خالی نہیں کیا گیا تھا۔ ادارے میں طلبہ کی آمد و رفت کے لیے پندرہ بیس بسیں ہیں۔ ایک بار شرپسندوں نے ان بسوں میں آگ لگا دی تھی۔ بعض مقامی ہندی اخبارات مولانا کی گرفتاری کو نمک مرچ لگا کر پیش کر رہے ہیں اور کچھ تو اپنی شرپسندانہ روش کے مطابق انھیں تبدیلی مذہب کا ماسٹرمائنڈ تک قرار دے رہے ہیں۔ لیکن باقی اخباروں کا رویہ مولانا کے تئیں ہمدردانہ ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے حق میں رپورٹنگ ہو رہی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق پولیس محکمہ کے لوگ بھی اس الزام کو فرضی سمجھتے ہیں لیکن بقول ان کے ان پر اوپری دباو ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اکھنڈ پرتاپ کو پیسے دے کر اکسایا گیا اور شکایت درج کرائی گئی۔ اب اس معاملے میں وشو ہندو پریشد کے لوگ بھی کود پڑے ہیں۔ واضح رہے کہ وہ علاقہ دینی اور مسلم عصری تعلیم گاہوں کا مرکز ہے۔ اب یہ اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ دیگر اداروں کے ذمہ داروں کو بھی پریشان کیا جا سکتا ہے۔
پسِ نوشت: میں بھی مولانا سے اپنی دیرینہ ملاقاتوں کی روشنی میں ان پر عاید الزام کو ذاتی طور پر بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ میں ان کی شرافت و شائستگی اور جذبہ خلوص و محبت سے متاثر ہوں اور امید کرتا ہوں کہ عدلیہ ان کے ساتھ انصاف کرے گی اور ان پر عاید الزام کو سرے سے خارج کر دے گی۔