بہار مدرسہ بورڈ کے صد سالہ جشن میں گُم ایک کتاب کی بازیافت

کامران غنی صباؔ

بہار مدرسہ بورڈ کا صد سالہ جشن 21 اگست 2025 کو منایا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط اس تعلیمی ورثے کا اعتراف ہے جو نسل در نسل علم، تہذیب اور شعور کی روشنی بانٹتا رہا ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ کی دھڑکنیں جب جشن کے ساز پر گونجتی ہیں تو محض تالیوں کی بازگشت نہیں سنائی دیتی، بلکہ ان خوابوں کی باز آفرینی ہوتی ہے جو بزرگوں نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے تھے اور جنہیں اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے صد سالہ جشن کے اس موقع پر مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی کتاب ”بہار مدرسہ بورڈ: تاریخ و تجزیہ“ (سال اشاعت1995) کی یاد فطری طور پر تازہ ہو جاتی ہے۔

بہار مدرسہ بورڈ کے صد سالہ جشن میں گُم ایک کتاب کی بازیافت
بہار مدرسہ بورڈ کے صد سالہ جشن میں گُم ایک کتاب کی بازیافت

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کا نام تعارف کا قطعی حاجت مند نہیں۔ مختلف ملی، علمی اور ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ تحریر اور تقریر دونوں شعبوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ مفتی صاحب کا سب سے نمایاں پہلو ان کا معتدل اور معروضی انداز ہے۔ اپنی گفتگو اور تحریر دونوں میں وہ اس کا بھرپور پاس و لحاظ رکھتے ہیں۔ انہیں تنقید اور اختلاف کا سلیقہ آتا ہے۔ غلط کو غلط کہنے سے گریز نہیں کرتے لیکن اپنے قلم کو دھار دار ہونے سے بچاتے بھی ہیں۔ ”بہار مدرسہ بورڈ تاریخ و تجزیہ“ مفتی ثناء الہدی قاسمی کا ایک ایسا کارنامہ ہے جو اکیلے ان کے کئی کارناموں پر بھاری ہے۔ آج جب بہار مدرسہ بورڈ کا جشن صد سالہ منایا جا رہا ہے تو یہ کتاب ایک بار پھر ہمیں اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس موقع سے کتاب کا نیا ایڈیشن شائع ہوتا اور”گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را“ کے مصداق ہم اپنی روشن تاریخ کو ایک بار پھر پکی روشنائی میں لاکر مزید مضبوطی فراہم کرتے۔

مفتی ثناء الہدی قاسمی کی یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں بہار میں علوم اسلامیہ کی تاریخ کو تحقیقی بصیرت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی داستانِ تاسیس اور ارتقا رقم کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں بہار مدرسہ امتحان بورڈ کے قیام اور اس کے نشیب و فراز کا تذکرہ ہے۔ چوتھے باب میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے قیام کی جدوجہد بھری تاریخ کو ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے اور پانچویں باب میں مدرسہ بورڈ کے نصاب پر معروضی نگاہ ڈالتے ہوئے اس کے اثرات اور ثمرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا ایک نہایت اہم حصہ اس کا پیش لفظ ہے، جو اس وقت کے گورنر اخلاق الرحمن قدوائی نے تحریر کیا تھا۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے اُس وقت کے اسپیکر اور روزنامہ سنگم کے بانی الحاج غلام سرور کی تحریر نے بھی اس کی وقعت میں اضافہ کیا ہے۔

بہار مدرسہ بورڈ کے صد سالہ جشن میں گُم ایک کتاب کی بازیافت
بہار مدرسہ بورڈ کے صد سالہ جشن میں گُم ایک کتاب کی بازیافت

اخلاق الرحمن قدوائی اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

”موجودہ دور میں جب کہ ملک میں طرح طرح کی ثقافتی و تمدنی تحریکیں جو بادِ سموم کی مانند ہیں، چل رہی ہیں، مسلم معاشرے کو یکجا اور سمیٹے رکھنے میں دینی مدارس اور فارغین مدارس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لہٰذا مدارس دینیہ کو قائم رکھنا، ان کی تعداد میں اضافہ کرنا، ان کی ہمہ گیر و ہمہ جہت ترقی کے لیے کوشاں رہنا، مسلمانوں کا فرض ہی نہیں، بلکہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔“

گورنر کے باوقار عہدے پر رہتے ہوئے بغیر کسی مصلحت کے مدارس اسلامیہ کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی ترقی کی بات کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ آج تو صورتِ حال یہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ کے خلاف بولنا اونچی کرسیوں کے حصول کا ایک آسان اور موثر ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔

الحاج غلام سرور اپنی تحریر ”من درچہ خیالیم“ میں لکھتے ہیں:

”گزشتہ پندرہ برسوں سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملک کی عدلیہ کو مسلمانوں کے عائلی قوانین اور ان کی تعلیم اور ذہنی تربیت کی کچھ زیادہ ہی فکر دامن گیر ہو گئی ہے۔

مزید لکھتے ہیں:

”آج یہ میرا موضوع نہیں ہے مگر میں نے ابتدا ہی میں اس نکتہ کو اس لیے چھیڑ دیا ہے کہ آپ کو خبردار کر دوں، اسے چتاونی سمجھئے۔ اب وہ دور آ گیا ہے کہ عدلیہ پردے کے پیچھے سے حکومت کرنے لگی ہے۔“

یہ تحریر 1995 کی ہے اور آج جب ہم حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو غلام سرور مرحوم کی دور اندیشی حیران کن طور پر درست ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے تین دہائی قبل ان خدشات کی نشاندہی کر دی تھی جو آج کے سماجی و قانونی منظرنامے میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ اسی مضمون میں وہ ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں:

”آپ کو یقین نہ آئے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک ہزار سال کے دوران ہندوستان کے کسی مسلمان بادشاہ نے ایک بھی یونیورسٹی، دارالعلوم، جامعہ یا اسکول کالج کی بنیاد نہیں رکھی۔“

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے اس دعوے کے رد میں اپنی کتاب میں ایک پورا باب قائم کیا ہے اور تاریخی شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ بہار اور ہندوستان میں انگریزوں کی آمد سے قبل بھی اسلامی علوم کے کئی مراکز قائم تھے۔ یہ ان کی تحقیقی دیانت کا روشن ثبوت ہے کہ انہوں نے وقت کے ایک جری سیاستداں اور اسمبلی اسپیکر کے موقف سے اختلاف کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا۔ یہی جراتِ اظہار اور غیر جانب دارانہ تحقیق انہیں دوسرے اہلِ قلم سے ممتاز کرتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کی تاریخ یا نصاب کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کئی ایسی حقیقتیں بے نقاب کیں جن سے بعض پیشانیوں پر شکن آ سکتی تھی، لیکن انہوں نے قلم کی امانت داری کو کسی مصلحت پر قربان نہیں کیا۔

اس کتاب میں تاریخی حوالوں کے ساتھ شمس الہدی مدرسہ سے مدرسہ بورڈ بننے تک کے سفرکی روداد پیش کی گئی ہے۔بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تاریخ خود میں ایک عہدنامہ ہے۔ 1912 میں جسٹس سید نورالہدیٰ نے اپنے والد کے نام پر مدرسہ شمس الہدیٰ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی جائیداد مدرسے کے نام وقف کی بلکہ اسے قرآن و حدیث اور عصری علوم کا مرکز بنایا۔ 1919 میں یہ مدرسہ حکومت بہار کے زیر انتظام آیا اور 1922 میں امتحانی کمیٹی قائم ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ ترقی کرتا گیا اور 1979 میں ایک نئے نام یعنی بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت وجود میں آیا۔ 1983 کے ایکٹ نے اسے قانونی حیثیت بخشی اور اس کے امتحانات کو دیگر تعلیمی اداروں کے مساوی قرار دیا۔ اس سے مدرسہ کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے دروازے کھل گئے۔ نصاب کی تشکیل اور تبدیلی کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی سطح تک امتحانات اسی کے زیر اہتمام منعقد ہوتے ہیں۔

یقیناً بورڈ نے اپنے صدی بھر کے سفر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے وسائل کی کمی، بنیادی سہولتوں کے فقدان اور اساتذہ کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔کچھ مسائل ایسے ہیں جنھیں لکھتے ہوئے ”اندیشئہ سود زیاں“ روکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بہار کے ہزاروں پسماندہ اور غریب مسلم طلبہ کے لیے یہ بورڈ امید کی ایک کرن ہے۔ یہ ان کے لیے صرف مذہبی شناخت کو زندہ رکھنے کا وسیلہ نہیں بلکہ جدید دنیا میں اپنی موجودگی منوانے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔

صد سالہ جشن کے موقع پر ہمیں نہ صرف اس ورثے پر فخر کرنا چاہیے بلکہ مستقبل کے لیے اس کے احیاء اور استحکام کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ یہی وقت ہے کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی اس گرانقدر کتاب کی دوبارہ اشاعت کی جائے اور اسے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ سے روشنی حاصل کر سکیں اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھ سکیں۔ یہ کتاب محض ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کا آئینہ ہے، جسے آنے والے وقتوں کے لیے محفوظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔

Leave a Reply

FacebookWhatsAppShare