گناہ اور اس کے مضر اثرات
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
گناہ کو عربی میں معصیت کہتے ہیں، اس کی جمع معاصی آتی ہے، اس کے ایک معنی ترک الطاعۃ کے آتے ہیں، ذنب، خطا، سیئہ، اثم، فسوق وغیرہ اس کے مترادف کے طرف استعمال ہوتے ہیں، اصطلاحی طورپر ہر وہ کام کرنا جس سے قرآن واحادیث میں روکا گیا ہو اور ہر وہ کام چھوڑ دینا جس کا حکم دیا گیا ہوگناہ کہلاتا ہے’’ترک المامورات وفعل المحظورات او ترک ما اوجب اﷲ ورسولہ‘‘ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گااس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیںگے۔

انسان کا کھلا ہوا دشمن شیطان ہے، اس نے راندہ درگاہ ہوتے وقت ہی انسان کو ہر شش جہت سے گمراہ کرنے کا اعلان کردیا تھا، اس لیے کچھ انسانی مزاج اور شیطان کی ترغیب سے انسان گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے، گو اس سلسلے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’فعل بد خود کند، تہمت دہد شیطان را‘‘ یعنی بُرا فعل انسان خود کرتا ہے اور تہمت شیطان پر دھرتا ہے، صحیح یہ ہے کہ گناہ کے ارتکاب میں دونوں کا عمل دخل ہوتا ہے، گناہ کے جو اسبا ب ہیں ان میں دین سے دوری، نادانی، مال ودولت کا حصول، برے لوگوں کی صحبت، جنسی خواہشات اہم ہیںذ، دین سے جو لوگ دور ہوتے ہیں، ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ زندگی نہیں گذارتے وہ گناہوں کے دلدل میں جاپڑتے ہیں، دنیا ان کے سامنے اس قدر پُرکشش ہوکر آتی ہے کہ وہ احکام خداوندی اور ہدایت نبوی کو فراموش کردیتے ہیں، گناہ کرنے والے کو اللہ رب العزت نے نادان اور جاہل قرار دیا ہے، قرآن کریم میں مختلف قسم کے گناہ کے ذکر کے بعد اللہ رب العزت نے ’’بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ، اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ‘‘ فرمایا ہے اس کا مطلب ہے کہ نادانی اور جہالت بھی گناہ کا سبب ہوتا ہے، حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ شقی اور جاہل کے علاوہ کوئی خدا کی نافرمانی پر رضامند نہیں ہوسکتا، واقعہ یہ ہے کہ جہالت ہر برائی کی جڑ ہے اور وہ انسان کی آخرت کو تباہ کردیتی ہے، مال ودولت کے حصول کے لیے بھی انسان گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے، غصب، لڑکیوں کو حصہ سے محروم کرنا، رشوت، سودخوری وغیرہ ایسے گناہ ہیں، جن کا مقصد حصول مال ودولت ہے، کبھی آدمی فقر ومحتاجی کی وجہ سے بھی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کبھی یہ انسان کو کفر تک پہونچانے کا سبب بن جاتا ہے، برے لوگوں کی صحت بھی برائی کی طرف لے جاتی ہے، مشہور مقولہ ہے ’’صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند‘‘ کوئلے کی دوکان پر بیٹھے گا تو خریدیے یامت خریدیے، کپڑے اور چہرے پر اس کے بُرادہ کے اثرات تو پڑیںگے ہی، اس کے برعکس عطر کی دوکان پر بیٹھیے، خریدیے یانہ خریدیے، خوشبو آپ کے مشامِ جاں کو معطر ضرور کرے گی، یہی حال اچھی اور بُری صحبتوں کا ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بُری صحبتوں کی وجہ سے ہی غرق آب ہوا اور کتا اصحاب کہف کے ساتھ رہا تو الٰہی آثار بنا رہا، اسی لیے کہا گیا ہے کہ کسی کے بارے میں کچھ معلوم کرنا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھو، اگر اس کا اٹھنا بیٹھنا اچھے لوگوں کے ساتھ ہے تو وہ اچھا ہوگا، اگر برے لوگوں سے اس کا تعلق ہے تو زیادہ امکان ہے کہ وہ بُرا ہوگا، ’’المرء مع من احب‘‘ یعنی آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے۔
گناہوں کا ایک سبب بغیر ازدواجی زندگی کے جنسی خواہشات کی تکمیل ہے، لیو ان ریلیشن شپ، زنا، ہم جنسی اور اس قسم کے گناہ میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے۔
قرآن کریم کی آیتوں سے سمجھ میں آتا ہے کہ گناہ کے دو اقسام ہیں، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ’’چھوڑ دو ظاہری اور باطنی گناہ کو‘ (الانعام:۱۲) اور اس کے دو درجات ہیں: ایک کبیرہ، دوسرے صغیرہ، ارشاد ربانی ہے ’’اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے، جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کردیںگے اور تمہیں عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریںگے‘‘(سورۃ النساء:۳۱) گناہ کبیرہ ہر اس گناہ کو کہتے ہیں جس کے بارے میں قرآن واحادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر حد جاری ہوتی ہے اور بعض وہ جن پر حد نہیں ہے، علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ گناہ کبیرہ سے ایمان سلب نہیں ہوتا اور توبہ واستغفار سے وہ معاف ہوجاتا ہے، بلکہ اللہ اس قدر رحمت کرنے والا ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ توبہ اور عمل صالح کرنے پر سیئات کو حسنات میں بدل دیتا ہے، اتفاق اس پر بھی ہے کہ صغیرہ گناہ پر اصرار اس کو کبیرہ میں بدل دیتا ہے’’لاکبیرۃ مع الاستغفار ولاصغیرۃ مع الاصرار‘‘ (فتح الباری) گناہ کبیرہ کی تعداد زیادہ سے زیادہ پچیس بیان کی گئی ہے اور کم سے کم تین۔
گناہ اللہ کے نزدیک اس قدر ناپسندیدہ ہے کہ اس کے باعث خشکی اور تری میں فساد وبگاڑ پھیلتا ہے (الروم:۴۱) جو مصیبتیں آتی ہیں وہ گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں جبکہ اللہ بہت سارے گناہ کو معاف کرتا رہتا ہے، یہ تو اجمالی بات ہوئی، گناہ کے مضرات کی تفصیل اس قدر ہے جو اس چھوٹے مضمون میں سما نہیں سکتے، چند مضرات کا ذکر کرنا یہاں پر ضروری معلوم ہوتا ہے، ان مین سے ایک علم سے محرومی ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’اللہ سے ڈرو وہ تمہیں علم دے گا‘‘ (البقرہ:۲۸۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ سے نہیں ڈرتا اللہ اس شخص کو علم سے محروم رکھتا ہے، حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: گناہ کی وجہ سے آدمی اپنا حاصل شدہ علم بھی بھول جاتا ہے، حضرت امام شافعیؒ نے اپنے استاذ وکیعؒ سے کمزور حافظہ کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ گناہوں کو چھوڑ دو، اس لیے کہ علم اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور گناہگاروں کو نہیں دیا جاتا، امام مالکؒ نے امام شافعیؒ کو نصیحت کیاتھا کہ گناہوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ گناہ علم کو تلف کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے بنواسرائیل کے تذکرہ میں ارشاد فرمایا جن چیزوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھول گیے، دوسرا نقصان یہ ہے کہ رزق میں تنگی پیدا ہوتی ہے، کبھی مال تلف ہوجاتا ہے اور کبھی برکت اٹھ جاتی ہے، مسند احمد میں سید ثوبان نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بندہ ملنے والے رزق سے گناہوں کی وجہ سے محروم ہوجاتا ہے ’’ان العبد یحرم الرزق بالذنب یصیبہ‘‘ قرآن کریم کی کتنی آیتوں میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے تو اللہ ان پر آسمان وزمین کی برکتیں کھول دیتا‘‘(الاعراف:۹۶) ’’اگر یہ لوگ اللہ کی جانب سے توریت وانجیل میں جو کچھ نازل کیا گیا اس کے پابند رہتے تو یہ اوپر اور نیچے سے روزی پاتے اور کھاتے‘‘(المائدہ:۶۶) ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا اسے کبھی گمان بھی نہیں ہوتا‘‘(الطلاق)۔
تیسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گناہوں پر اللہ کی گرفت ہوتی ہے ارشاد باری ہے: پھر جب ہم کو غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور سب کو ڈبودیا‘‘ (الزخرف:۵۵) جب وہ رو کے ہوئے کام سے باز نہ آئے تو ہمارے حکم سے ذلیل بندر ہوگیے(الاعراف:۱۶۶) جو کوئی برا کام کرے گا تو اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور کوئی مددگار نہیں پائے گا اور خوب یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کا عذاب اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے، مسلسل گناہ کرنے کی وجہ سے دل سیاہ ہوجاتا ہے، اس کی شکل میں یہ ہوتی ہے کہ گناہ کرنے پر قلب پر ایک دھبہ پڑ جاتا ہے، اللہ سے اگر اس نے اس گناہ پر معافی مانگ لی توبہ کرلیا تو وہ دھبہ مٹ جاتا ہے، لیکن تسلسل کے ساتھ بغیر توبہ کے گناہ کرتے رہنے، بلکہ گناہ پر ڈھیٹ ہونے کی وجہ کر یہ دھبہ پورے دل پر چھا جاتا ہے اور اب توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اللہ ان کے قلب، کان، آنکھ پر مہر لگادیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے پاس دل ہوتا ہے، مگر وہ گناہوں سے پاک نہیں رہتا ہے، آنکھیں ہوتی ہیں مگر صحیح راستہ دیکھ نہیں پاتا، کان ہوتے ہوئے سننے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی، اسی کو اللہ رب العزت نے ’’کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘‘ (المطففین:۱۴)کہا ہے۔ ان کے اعمال بد کی وجہ سے ان کے دلوں میں زنگ لگ گیا ہے۔
گناہوں کے اثرات صحت پر بھی پڑتے ہیں، آدمی کے اعضاء وجوارح کا گناہوں سے متاثر ہونا عام سی بات ہے، جسمانی کمزوری، مختلف قسم کے اعذار انسان کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ وہ کام کے باقی نہیں رہتے، اس لیے گناہ ظاہری ہو یاباطنی، کبیرہ ہو یاصغیرہ انسان کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ اس دنیا میں خوش گوار زندگی بسر کرے اور آخرت میں وہ جنت کا مستحق ہو، اللہ رب العزت نے معروف کے کرنے اور منہیات وبرائیوں سے رکنے کا حکم دیا ہے یعنی تنہا اوامر کی پابندی سے دخول جنت نہیں ہوگا، اس کے لیے گناہوں سے اجتناب بھی ضروری ہے، حضرت ابوذر غفاریؓ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت بھی منقول ہے کہ جو شخص گناہوں سے باز آجائے وہ سب سے افضل ہجرت کرنے والا ہے۔
گناہوں سے روکنے والی سب سے اہم چیز خوف خدا ہے، جو شخص اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا، جنت اس کا مقدر ہے، اللہ رب العزت ہم سب کو گناہوں سے بچائے اور ماضی میں کیے گناہوں پر توبہ واستغفار کی توفیق بخشے۔آمین