اسلام اور خواتین کی علمی روایت
حمیرہ اشرف
انسانی زندگی کی ارتقائی تاریخ کا سب سے بڑا راز علم ہے۔ یہ ایک ایسا نور ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتا، بلکہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔ فلاسفہ نے اسے ’’غیب الغیوب کی جستجو‘‘ کہا ہے، یعنی یہ کہ انسان ہمیشہ ہر حقیقت کے باطن تک پہنچنے کا خواہاں رہتا ہے۔ اسلام نے بھی اپنے آغاز ہی میں اسی چراغ کو روشن کیا، اور نبی اکرم ﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ ’’پڑھنے‘‘ اور ’’لکھنے‘‘ کے حکم پر مشتمل تھی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ (العلق: 1–5)
ترجمہ: ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا؛ جس نے انسان کو خونِ بستہ سے بنایا۔ پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے؛ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا؛ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے علم حاصل کرنے کو مرد و عورت سب کے لیے لازم قرار دیا۔ فرمایا:
«طلبُ العلمِ فَریضۃٌ علیٰ کُلِّ مُسلِم»
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 229)
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
“اے عائشہ! تمہارا شعار علم اور قرآن ہونا چاہیے۔” (مسند الإمام الأعظم)
علم کی تاکید اور قرآن میں اس کا ذکر
قرآن و حدیث میں علم پر جس قدر زور دیا گیا ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ المعجم المفهرس کے مطابق قرآن مجید میں "علم” کا لفظ تقریباً 80 مرتبہ اور اس کے مشتقات سیکڑوں مرتبہ آئے ہیں، یہ سب اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم و معرفت پر رکھی گئی۔
عہدِ نبوی میں خواتین کی علمی شرکت
عہدِ نبوی ﷺ میں جہاں صحابۂ کرام تعلیم میں پیش پیش تھے، وہیں صحابیات بھی حصولِ علم میں برابر کی شریک رہیں۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بلند پایہ عالِمہ، فقیہہ اور فتویٰ میں مجتہدانہ بصیرت کی حامل تھیں۔ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے: “اگر اس امت کی تمام عورتوں—ازواجِ مطہرات سمیت—کا علم جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ کا علم سب پر فائق ہوگا۔” (رواہ الطبرانی) اس امت میں بہت سی عابدہ، زاہدہ، فقیہ اور عالمہ خواتین پیدا ہوئیں اور ہوتی رہیں گی، مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے باب میں یہی ترجیح ملتی ہے۔
علومِ اسلامی، بالخصوص حدیث سے صحابیات کو ابتدا ہی سے گہری دل چسپی رہی۔ سماعِ حدیث، حفظ و روایت کا سلسلہ خواتین میں عہدِ نبوی سے جاری ہوا۔ پہلی تین صدیوں میں اس باب میں غیر معمولی اہتمام ہوا؛ بعد کے ادوار میں اگرچہ عمومی کمزوری آئی، مگر ہر قرن میں ایسی بلند حوصلہ اور سعادت مند خواتین اٹھیں جنہوں نے روایت، حفظ اور خدمتِ حدیث کو اپنا شعارِ حیات بنایا۔
حضرت اُمُّ الدرداء صُغریٰ رحمہا اللہ تعالیٰ نے اپنے شوہر حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے کثیر حدیث روایت کی اور تابعین و تابعیات کی اُن فقیہات میں شمار ہوئیں جن کے آثار تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہیں۔ ان کی خوبیوں میں ایک بڑی خوبی مجالسِ علم کی حریصانہ طلب اور علما کی مجالس و مذاکروں کی ترغیب تھی۔ اسی طرح حضرت عمرہ بنتِ عبدالرحمن رحمہا اللہ نے روایتِ حدیث میں ایسی جدوجہد کی کہ وہ عظیم محدثہ، عالِمہ، فقیہہ، ثقہ اور حجّت بن گئیں؛ تابعیات کی سردار کہلائیں، اور جبالُ العلم اَکابر نے ان سے احادیث اخذ کیں۔ حضرت عائشہ بنتِ سعد رحمہا اللہ روایتِ حدیث، تفقّہ فی الدین اور عبادت میں ممتاز تھیں—صاحبِ علم و فضل اور حفظِ روایت میں نمایاں۔
بعد کے ادوار میں حافظۂ وقت کریمہ بنتِ عبدالوہاب کا نام آتا ہے؛ تاریخ میں مشہور محدثِ ہرات نے فیصلہ کیا کہ صحیح بخاری ان ہی کے طریق سے پڑھائی جائے، اور علامہ سیوطی سمیت وقت کے ممتاز محدثین نے ان سے استفادہ کیا۔
خواتینِ راویات کی دیانت
علامہ ذہبی رحمہ اللہ کی تحقیق نہایت معنی خیز ہے: “مجھے روایات کی فہرست میں کوئی ایسی خاتون نہ ملی جس پر وضعِ حدیث یا کذب بیانی کی تہمت ہو، اور نہ ہی محدثین نے کسی عورت کو متروک قرار دیا۔” (ميزان الاعتدال، 7/465: «ما علمتُ في النساء من اتُّهِمَتْ ولا من تُرِكَتْ»)
تصنیف و تالیف، اور علمی اعزاز
خواتینِ اسلام نے حدیث و علومِ دینیہ پر باقاعدہ تصنیف و تدریس کا شرف بھی حاصل کیا۔ سلطان محمد تغلق (732–752ھ/1324–1351ء) کے عہد سے منقول ہے کہ تعلیم اس قدر عام تھی کہ باندیاں بھی حافظۂ قرآن اور عالِمہ ہوتی تھیں۔ (نقل از المقریزی)
نامۂ عمل میں درخشاں نام
حمیدہ بنتِ عبید رحمہا اللہ اُن خوش نصیب خواتین میں سے ہیں جنہیں جلیل القدر محدثین سے سماع کا شرف حاصل ہوا۔ حمزہ بنتِ یاسر رحمہا اللہ خود نیک دل محدثہ تھیں اور ان کے شوہر بھی محدث تھے۔ حضرت اسماء بنتِ اَسد ایک مشہور فاضلہ تھیں؛ رجال، سیر، حدیث، فقہ اور دیگر مروّجہ علوم میں کمال رکھتی تھیں۔ اُن کا قول رہنما ہے: “عورت جتنی زیادہ علم و فضل کی مالک ہوگی، اس کے بچے اتنے ہی علوم سے دل چسپی رکھنے والے ہوں گے۔”
عہدِ اسلامی میں علمی پذیرائی کا ایک علامتی اظہار یہ بھی تھا کہ مرد علما کی طرح خواتینِ عالمات کو بھی معزز خطابات ملتے؛ بعض کو ’’اقلیمِ علم کی ملکہ‘‘ کہا جاتا اور ان کی علمی و دینی برتری کا سکہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مشہور تصنیفات میں اسلام کے قرونِ اولیٰ کی 1545 محدثات کے حالات دستیاب ہیں؛ کتبِ حدیث میں خواتین کی تعلیم کے لیے مستقل ابواب موجود ہیں؛ کتبِ طبقات و رجال کے آخر میں ’’کتاب النساء‘‘ کے عنوانات کے تحت ان کے تذکرے الگ درج کیے گئے ہیں، اور خواتین کی دینی خدمات و واقعات پر مستقل کتابیں بھی تصنیف ہوئیں۔
جس دین نے عورت کو عزت و شرف بخشا، اسی نے اسے خیر کی دعوت، معروف کی تلقین، منکر کی ممانعت اور شر و فساد کی روک تھام میں مرد کے ہم رکاب ٹھہرایا۔ یہی وجہ ہے کہ ادیان و مذاہب کی تاریخ میں دینِ اسلام کے سوا کوئی مذہب دینی علوم کی حفاظت اور ترویج میں خواتین کی ایسی ہمہ گیر کارکردگی پیش نہیں کر سکتا۔
قرآن کریم کی یہ نصِ صریح اسلامی توازن کا آئینہ ہے: “اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں؛ وہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔” (التوبہ: 71)
یہ آیت اسلام کے توازن اور عدل کا روشن آئینہ ہے۔ مگر افسوس کہ آج مختلف میدانوں میں زوال کی طرح مسلمان خواتین کی علمی و فکری زندگی میں بھی وہ روح باقی نہیں رہی جو ابتدائی صدیوں میں نمایاں تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ اس روایت کو زندہ کریں۔ اگر خواتین پھر سے وہی جستجو اور طلب پیدا کریں جو حضرت عائشہ، اُمّ الدرداء اور عمرہ بنت عبدالرحمن کے دلوں میں تھی، تو علم کا چراغ ایک بار پھر پوری امت کے لیے روشنی بن سکتا ہے۔