مولانا مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی: مختصر سوانحی خاکہ
صالحہ صدیقی
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کم عمری ہی میں فکری سنجیدگی، علمی ذوق اور مقصدِ حیات کی واضح سمت عطا فرما دیتا ہے۔ وہ روایت سے جڑی ہوتی ہیں، مگر زمانے کے سوالات سے آنکھ نہیں چراتیں۔ مولانا مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے، جنھوں نے دینی روایت میں رہتے ہوئے عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز، بالخصوص الحاد اور مذہب بیزاری، کو اپنا میدانِ عمل بنایا اور دلیل، مطالعہ اور منہاجِ علمی کے ساتھ اس میں قدم رکھا۔

ابتدائی و خاندانی پس منظر
مولانا مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی کی پیدائش 7 جون 1998ء کو سری نگر (کشمیر) میں ہوئی۔ ان کا ننھیال بارہ مولہ میں ہے، جس کے باعث وہ کشمیری تہذیب، سماجی مزاج اور فکری رجحانات سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ جائے پیدائش کشمیر ہے، تاہم ان کا آبائی تعلق کلکتہ سے ہے، ان کی تعلیم و تربیت کا بڑا حصہ بھی وہیں ہوا اور وہ ان کا قیام بھی وہیں ہے۔
ان کے والد ابو سعید ایک بزنس مین ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ مولانا کی دو بہنیں ہیں، جن میں سے ایک ڈاکٹر اور دوسری سائیکالوجسٹ ہیں۔ مولانا مفتی شمائل ندوی تاحال غیر شادی شدہ ہیں۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی
انہوں نے کولکاتا ہی میں آٹھویں جماعت تک انگلش میڈیم اسکول سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی، بعد ازاں میٹرک کا امتحان اوپن اسکولنگ کے ذریعے پاس کیا۔
حفظِ قرآن اور عالمیت کی ابتدائی تعلیم انہوں نے گھر پر ہی حاصل کی، جہاں مولانا ابتدا عالم ندوی اور مولانا ندیم ندوی سے استفادہ کیا۔
سنہ 2015ء میں انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں درجہ عالیہ ثالثہ میں داخلہ لیا اور 2017ء میں وہاں سے عالمیت کی سند (فراغت) حاصل کی۔ اس کے بعد 2018ء تا 2019ء تخصص فی التفسیر (علوم القرآن) کیا اور 2019ء تا 2020ء ندوہ ہی سے تدریبِ افتاء کا کورس مکمل کیا۔
فکری تربیت اور اثرات
2020ء تا 2022ء انہوں نے مفتی یاسر ندیم الواجدی کی نگرانی میں ردِ مغربی تہذیب پر مبنی دو سالہ آن لائن کورس “تہافت الملاحدہ” مکمل کیا، جس نے جدید فکری رجحانات اور الحاد کے علمی رد میں ان کی فکری رہنمائی کی۔ فکری اعتبار سے وہ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی تحریروں سے متاثر ہیں، جب کہ اپنے مربی مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی کی صحبت و رہنمائی کو اپنی فکری و اخلاقی تربیت میں خاص اہمیت دیتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم
فی الوقت مولانا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، جہاں ان کی توجہ عصری فکری مباحث اور اسلامی فکر کے تقابلی مطالعے پر مرکوز ہے۔
عملی زندگی، فکری و سماجی جدوجہد
مولانا نے عملی میدان میں قدم رکھنے سے قبل 2021ء میں ایک آن لائن تعلیمی ادارہ “مرکز الوحیین” قائم کیا، جو بالغان کی دینی و فکری تعلیم کے لیے وقف ہے۔ اس ادارے کے تحت مختلف کورسز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں، جن سے دنیا کے مختلف ممالک سے وابستہ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے ردِ الحاد اور فکری رہنمائی کے وسیع تر مقصد کے لیے “وحیین فاؤنڈیشن” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ ان کی عملی زندگی کا ایک نمایاں واقعہ معروف ملحد جاوید اختر کے ساتھ خدا کے وجود پر ہونے والی علمی ڈیبیٹ ہے۔ یہ مکالمہ جاوید اختر کی مذہب مخالف ویڈیوز کے پس منظر میں شروع ہوا، جس کے بعد مولانا نے وادیِ لولاب (کشمیر) سے انہیں ایک پبلک انویٹیشن بھیجا۔ تقریباً تین ماہ کی خط و کتابت کے بعد 20 دسمبر 2024ء کو دہلی میں یہ علمی گفتگو منعقد ہوئی، جس کی نظامت للن ٹاپ کے سورب دویدی نے کی۔ اس مباحثے میں مولانا مفتی شمائل ندوی نے ارگیومنٹ آف کنٹنجنسی (امکان و وجوب) جیسے فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود پر منظم اور مدلل گفتگو پیش کی۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق اس ڈبیٹ کی تیاری میں باقاعدہ ایک ٹیم کا علمی سپورٹ ان کو حاصل رہا اور پوری امت مسلمہ کی دعائیں ان کے ساتھ رہیں۔
سوشل میڈیا اور سماجی شعور
مولانا مفتی شمائل ندوی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ دینی، فقہی اور فکری مسائل پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ سماجی مسائل میں بھی وہ دل چسپی لیتے ہیں۔ وقف امینڈمنٹ بل کے خلاف کلکتہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
حاصل کلام یہ کہ مولانا مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی ایک ایسے نوجوان عالم، محقق اور فکری داعی ہیں جو روایت سے وابستہ رہتے ہوئے عصرِ حاضر کے فکری سوالات کا علمی، سنجیدہ اور مدلل جواب دینے میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت عطا فرمائے اور امت کو ان کی مساعی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ آمین۔






