نیا سال : لیکن وہی پرانا سوال

تکلف برطرف : سعید حمید

ملت کا انتشار کب ختم ہوگا ؟

ملت کا اتحاد کب قائم ہوگا ؟

بے شمار خداؤں کی عبادت کرنے والے متحد ہوگئے ، اور بھارت کے اقتدار پر قبضہ کرلیا ، کیسے ؟جہاں انہوں نے ہندو توا ( یعنی مسلمانوں ، عیسائیوں سے نفرت )کے نام پر اپنا ووٹ بنک متحد کیا ،وہیں مسلمانوں کو مسلک ، فرقہ کے نام پر اور فرقہ جاتی اختلافات کی بنیاد پر منتشر کردیا ۔

اس حکمت عملی کا انکشاف ڈکٹر سبرامنیم سوامی نے کیا ، جن کا ویڈیو انٹریو آج بھی سوشل میڈیا میں موجود ہے ۔

نیا سال شروع ہو نےہے ۔

اب ہندوتوا بریگیڈ کی نظریں یوپی ، پر ہیں ۔

پھر اس کے بعد بھی کئی ریاستوں کے انتخاب ہونگے ، یا پھرایک نیشن ، ایک الیکشن کے نام پر کوئی بھاری کانڈ کردیا جائے گا ۔

نیا سال : لیکن وہی پرانا سوال
نیا سال : لیکن وہی پرانا سوال

مہاراشٹر میں بھی ممبئی ، تھانے ، بھیونڈی سمیت کئی میونسپل کا پوریشن کے الیکشن ہورہے ہیں۔

وہ پھر ہندوتوا کے نام پر مسلم دشمنی کا زہر پھیلائیں گے ، ہندو ووٹ بنک مضبوط کریں گے ،

اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ مسلمانوںمیں مسلکی و دیگر اختلافات کو ہوا دیں گے

، تاکہ مسلم ووٹ بنک بھی منتشر ہی رہے ، مضبوط نہیں ہوسکے ۔

اب وندے ماترم کو پھر سے ایک نیا موضوع بنایا جا رہا ہے جب کہ 1972 ء کا بی ایم سی الیکشن بھی وندے ماترم کے نام پر لڑا گیا تھا ، اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے جیسے 53 برس بعد بھی ممبئی شہر کا مسئلہ ، ترقی ، پانی ، سڑک نہیں ، وندے ماترم ہے ۔

صرف ممبئی شہر کی کیا بات کی جائے ؟ گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھی وندے ماترم پر دس گھنٹہ بحث کی گئی گویا آج ملک میں غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری نہیں ، وندے ماترم ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جس پر لوک سبھا نے کروڑوں روپوں کے سرکاری خرچ سے دس گھنٹے بحث کی تھی ، اور آج ملک بھر میں اس پر تنازعہ جاری ہے ۔

دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اس دیش میں رہنا ہے تو وندے ماترم پڑھنا ہوگا۔

چینلوں میں بحث و مباحثہ بھی کیا جا رہا ہے ، گویا وندے ماترم سے زیادہ اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے ملک میں ؟

نیا سال آچکا ہے ۔

لیکن یہ پرانا مسئلہ آج بھی برقرار ہے ۔

جب تک ، اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا ،

جو سیدھے سیدھے مسلم امپاورمنٹ پر اثر انداز ہوتا ہے ،

بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی بے بسی ، سیاسی بے اثری کا سلسلہ بھی جاری رہے گا ۔

اسکے خطرناک نتائج ؟

پہلے ہم نے گجرات میں دیکھا ، فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں۔

پھر آسام میں دیکھا ، سی اے اے ، قانوں کی شکل میں ۔

پھر یوپی میں دیکھا ، دہلی میں دیکھا ۔

شاہین باغ ایجی ٹیشن اور اس کے قائدین کے خلاف

سخت پولس کارروائیوں کی شکل میں ۔

اور آج لو جہاد مخالف قانون کے نام سے دیکھ رہے ہیں : آسام میں دیکھ رہے ہیں ، ہماچل پردیش ، اترا کھنڈ ، جھارکھنڈ

یوپی ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں دیکھ رہے ہیں !!!

مسجدوں کے نیچے مندروں کی آڑ میں کھدائی اور پھر ہنگامے ، عدالت بھی ملی جلی سرکار چلا رہی ہے ۔

یہ سب کیا ہے ؟ کیا ہوا رہا ہے ؟ کیا ہونے والا ہے ؟

اور پھر وہی لوگ نعرہ لگا رہے ہیں ، بنٹیں گے تو کٹیں گے ۔

ہم بٹ بھی رہے ہیں ، کٹ بھی رہے ہیں ، پٹ بھی رہے ہیں ۔

پھر بھی خانوں خانوں میں ہیں ، اور دیکھ رہے ہیں ،

ہم تو اس بات کو ہر الیکشن کے بعد اچھی طرح سمجھ رہے ہیں ، کہ مسلمان بٹیں گے اور مسلم ووٹ کٹیں گے تو پھر جیت کس کی ہوگی ؟ اور ہار کس کی ہوگی ؟ ہم بٹ جاتے ہیں ، مختلف عنوانات سے ، خاص طور پر مسلک و فرقہ کے نام سے ۔۔

مسلک و فرقہ کے نام پر ہمارے آپسی اختلافات و انتشار کا مضر سیاسی انجام !!!

بھارت کے مسلمانوں کا یہ سیاسی زوال ، بذریعہ آپسی انتشار برسہا برس میں آیا ہے ، اچانک نہیں !!!

لیکن ،

مسلم قیادت نے اس کی روک تھام کیلئے کچھ ٹھوس قدم نہیں اٹھائے ۔

سچر کمیٹی رپورٹ ایک وارننگ تھی ، لیکن ہماری آنکھیں نہیں کھلیں ۔

ہم آپسی انتشار کو اور بھی ہوا دیتے رہے ۔

حد تو یہ ہے کہ ہم جو ایک اللہ ، ایک رسول ﷺ ، ایک کلمہایک قرآن کی بات کرتے ہیں ،

ایک عید ، ایک چاند ، ایک ساتھ ماہ رمضان پر بھی اتفاق نہیں کرسکے ۔

ہم دیکھیں گے ماہ رمضان اور پھر عیدالفطر کے چاند پر ، جب کہ رویت ہلال کمیٹیاں اپنا کام کریں گی وہ بھی مسلک اور مکتب فکر کے خانوں میں بٹ کر ، اور پوری ملت بھی بٹ بٹ کر ان کے اعلانات کی مسلک کے اعتبار سے پیروی کریں گی

متعدد چاند کمیٹیاں ، چاند کے متعلق مختلف اعلانات ،الگ الگ عیدیں !!

اب دیکھ لینا رمضان کا چاند اور عید کا چاند ہمارے اختلافات کے کیسے کیسے

رنگ دکھاتا ہے ،

 اور یہ سب ہمارے آپسی انتشار کی علامتیں ہیں ، ان کو ختم کرنے اور اتفاق و اتحاد کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔

اسلئے ، ان کا اثر بھارت کے مسلمانوں کی ہمہ جہت زندگی پر پڑا جس میں سیاست اور

انتخابی عمل بھی شامل ہے ۔

ایک جانب ہم دیکھ رہے ہیں ، کہ دیگر اقوام نے مذہبی مواقع اور تیوہاروں کو اپنی قوم میں اتحاد پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا ۔

لوکمانیہ تلک نے ساروجنک گنیش اتسو اور شیوجینتی کے تہواروں کا استعمال ہندو عوام کو متحد کرنے کیلئے کیا ۔

ہندو دھرم ہزاروں برس پرانا ہے ،

لیکن ، ساروجنک گنیش اتسو کی عمر بمشکل 130 برس ہے ۔

شیو جینتی کا تہوار بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کی پیدائش کے تقریباً تین سو سال بعد شروع کیا گیا ۔

آج ان تہواروں اور ہولی ، نوراتری ، درگا پوجا وغیرہ جیسے تہواروں نے برادران وطن کیلئے جو مضبوط ، منظم ، متحد ، سماجی ڈھانچہ کھڑا کردیا ،اس کا جمہوریت ، انتخابی عمل اور سیاست میں بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔

اسی لئے ، گنیش اتسو ، نوراتری جیسے تہواروں

کی کفالت SPONSORSHIP )) کیلئے بڑے بڑے سیاست داں سرپٹ دوڑتے نظر آتے ہیں ۔

اس کے برعکس ہمارا معاملہ ہے ؛

محرم ، عید میلادالنبی ﷺ ، یہاں تک کہ عید پر بھی ہم مسلک ، فرقہ اور دنیا بھر کے اختلافات کا شکار بن جاتے ہیں ۔

ہم اپنے تہواروں کے ذریعہ بھی آپسی انتشار کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں ۔

اس لئے ہمارے یہاں ایک ایسا سماجی ، جمہوری و انتخابی ڈھانچہ پیدا ہوگیا ہے ، جو مسلم امت کو خانوں خانوں میں تقسیم کئے رکھتا ہے !!

اسلئے ،

جب الیکشن آتا ہے تو مسلمانوں سے بھی ایک امت کے طور پر نہیں ،

منتشر قوم کی طرح ٹکڑوں ، ٹکڑوں ،یا قسطوں ، قسطوں یا حصوں حصوں میں بات کی جاتی ہے ۔

بھارت کی آبادی میں یوں تو مسلمانوں کا تناسب 14.5 % ہے ،

لیکن ہمارے انتشار کی بدولت فلاں طبقہ 2 % ، فلاں 4 % ، فلاں 3 فیصد ، وغیرہ وغیرہ اچھا خاصا ووٹ بنک بکھر جاتا ہے ۔

ہم اگر مہاراشٹر کی ہی بات کرلیں ، تو جہاں ہماری آبادی کے تناسب سے25-30 مسلم ایم ایل اے ہونے چاہئیں ، دس برس سے بس دس ہی ہیں ۔اس الیکشن میں جبکہ مہاراشٹر میں جین طبقہ کی نمائندگی دگنی ہو چکی ہے ، جبکہ ووٹروں میں جین طبقہ کی آبادی آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے ، یاد رہے ، جمہوریت میں تعداد دیکھی جاتی ہے ، اسلئے ، وہ قوم جو اپنی تعداد کو مختصر ہونے ، بکھرنے سے بچا سکتی ہے ،

اس کا ہی سیاست میں اثر اور وزن رہتا ہے ۔

بی جے پی نے اس مرتبہ مہاراشٹر الیکشن میں بٹو گے ، تو کٹو گے ،

یہ نعرہ بڑے زوروں سے لگایا جبکہ سارا ملک جانتا ہے ، گنگا جمنی تہذیب کو اقتدارکی لالچ میں بانٹ کو ن رہا ہے ، اور ماب لنچنگ ، فسادات وغیرہ کی آڑ میں کس کس کو کون کاٹ رہا ہے ؟

پھر بھی مسلمان فرقہ ، فرقہ ، مسلک ، مسلک اور جانے کن کن عنانات کے تحت بٹ رہے ہیں ۔

بھارت کے مسلمانوں کی سیاسی بے اثری اور سیاسی بے بسی کا ایک بڑا سبب یہ ہیکہ انہوں اپنے آپ کو بحیثیت ایک قوم ، بکھرنے سے نہیں بچایا ۔

اس لئے ، وہ مسلم ووٹ بنک ، جسے ایک زمانہ میں طاقت کا توازن سمجھا جاتا تھا ، بکھر کر ختم ہو گیا ۔

مسلم ووٹ بنک اپنے انتخابی کردار میں ناکام ہو گیا ،

اس لئے بھارت کی سیاست میں مسلمان صفر ہو کر رہ گئے ہیں۔

نیا سال شروع ہو چکا ہے ،

کئی اہم الیکشن آنے والے ہیں ، وہی پرانا سوال مسلمانوں کیلئے سنگین مسئلہ ہے ،

ملت کا انتشار کب ختم ہو گا ؟

اس کا ہے کوئی جواب یا پھر ہریانہ ، مہاراشٹر وغیرہ کی راہ پر چل پڑے گا بقیہ بھارت بھی ؟ یوپی بھی ؟ مغربی بنگال بھی ؟

اور ممبئی میں تو یہ اعلان کردیا گیا کہ کسی خان کو مئیر بننے نہیں دیا جائے گا ، کیا یہ سب ہمارے لئے جاگ اٹھنے اور اتحاد کیلئے دن رات

حکمت عملی مرتب کرنے اور عمل کرنے کی علامات نہیں ہیں ؟

مسلمان بٹیں گے تو مسلم ووٹ کٹیں گے ، پھر الیکشن ہو گا ، نتیجہ آئے گا ، کیا اس کے بعد بلڈوزر نہیں چلیں گے ؟

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply