نگینے لوگ (خاکوں کا مجموعہ)
پروفیسر محمد سلیم قدوائی
ممتازصحافی
معصوم مرادآبادی صحافت کے میدان میں اپنا سکہ جمانے کے بعد اب ادبی دنیا میں اپنا مقام بنانے میں مشغول ہیں۔اس کا اندازہ ان کی کتابوں سے لگایا جاسکتا ہے جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ان کی تصانیف پڑھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر صاحب ِطرز ادیب بن چکے ہیں۔اور خاص طور سے خاکہ نگاری کے شعبے میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب ’نگینے لوگ‘خاکوں کا مجموعہ ہے۔خاکے عام طور سے مرحومین کے لکھے جاتے ہیں لیکن اس کتاب میں جو خاکے شامل ہیں وہ سب زندہ ہستیوں کے ہیں جو قابل ستائش بات ہے۔اس کتاب میں علم وادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔چونکہ معصوم مرادآبادی کا تعلق بنیادی طور پر صحافت سے ہے، اس لئے اس کتاب میں صحافت سے تعلق رکھنے والی ہستیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔ کتاب دوحصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں 21 خاکے شخصیتوں کے بارے میں ہیں۔دوسرے حصے میں کتابوں کے حوالے سے تبصرے کے ساتھ ساتھ صاحب کتاب کی تصویر کشی بھی کئی گئی ہے‘ جو قابل داد ہے۔یہ تمام خاکے مصنف کے ذاتی مشاہدات اور تعلقات پر مبنی ہیں۔پہلے حصے میں پروفیسر اخترالواسع، م۔افضل، ڈاکٹر خاور ہاشمی، ڈاکٹر اطہر فاروقی،پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر محسن عثمانی ندوی، احمد ابراہیم علوی، ڈاکٹر حسن احمد نظامی،پروفیسر شہپر رسول، جلال الدین اسلم، عظیم اختر، مودودصدیقی، محمود سعید بلالی، عارف عزیز، ندیم صدیقی، ڈاکٹر ابو سعد اصلاحی،سہیل وحید، حسن ضیاء، حقانی القاسمی، تحسین منوراور حکیم سید احمد خاں جیسی شخصیات ہیں جبکہ کتابوں کے حوالے سے اظہرعنایتی، پاپولر میرٹھی،طارق منظور، شکیل رشید اور معین شاداب کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ان خاکوں کو پڑھتے ہوئے جہاں شخصیت عیاں ہو کر سامنے آتی ہے، وہیں اس کی خدمات اور کارناموں سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔کچھ خاکے سنجیدہ پیرائے میں لکھے گئے ہیں تو دوسری طرف کچھ خاکوں کا رنگ مزاحیہ اور طنزیہ بھی ہے۔
طنزومزاح سے بھرپور خاکہ لکھنا تلوار کی دھار پر چلنے سے زیادہ نازک کام ہے لیکن معصوم مرادآبادی بغیر کسی کی دل آزاری کے اپنے مقصد میں کامیا ب رہے ہیں۔کسی کسی خاکے کو پڑھتے ہوئے مجھ جیسے قاری کو اپنے عزیز مرحوم دوست مجتبیٰ حسین کی یاد بے ساختہ آجاتی ہے۔اس مجموعہ میں خواتین کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے اور نعیمہ جعفری پاشا اس میں خواتین کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہیں۔کتاب کا آخری خاکہ خود خاکہ نگار پر ہے۔اپنے بارے میں لکھنا خود کو آزمائش میں ڈالنا ہے۔اس خاکے میں معصوم مرادآبادی نے اپنے بارے میں بھی بہت کچھ بیان کردیا ہے‘ جو بڑی بات ہے۔اس خاکے سے ان کی زندگی کے نشیب وفراز سامنے آتے ہیں۔اس میں انہوں نے اپنی زندگی کے ایسے واقعات کو بھی اجاگر کیا ہے جن سے عام لوگ واقف نہیں ہیں۔خاکہ کی کامیابی کے لئے زبان وبیان پر قدرت لازمی ہے اور معصوم مرادآبادی کے خاکو ں میں یہ وصف نمایاں نظر ہے۔زبان عام فہم اور اسلوب سادہ ہے جس سے قاری کو مطالعہ کے دوران اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ ان خاکوں میں شخصیت کے ان پہلوؤں کو بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو بظاہر معمولی لیکن نفسیاتی نقطہ نظر سے اہم ہوتے ہیں۔ان خاکوں کی اہم خوبی یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ میں شخصیت کی پوری تصویر کشی کردی گئی ہے۔اسلوب سادہ ہونے کے باوجود کہیں کہیں نشتریت میں ڈوبا بھی نظر آتا ہے جس سے خاکہ زیادہ دلچسپ ہوجاتا ہے۔ان خاکوں میں جاذ بیت‘ شگفتگی اور ایک طرح کی کشش نظر آتی ہے۔کتاب کا مقدمہ ممتاز ادیب اور خاکہ نگار پروفیسر غضنفر علی نے لکھا ہے اور اس کا عنوان ہے ’مرصع سازی نگینوں‘ کی۔ وہ لکھتے ہیں:
”معصوم مرادآبادی کے خاکے نہایت آسان، دلچسپ اوررواں دواں ہیں۔ ان کا اختصار ان کے مطالعے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ بہت کم لفظوں میں معصوم مرادآبادی زندگی کے بہت سارے پہلوؤں کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ان خاکوں کی پیش کش کے پیش نظر یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ سہل، رواں دواں زبان میں پیش کیے گیے معلوماتی، چشم کشا، عبرتناک اور ادبی چاشنی سے بھرپور یہ خاکے صحافی معصوم کو ایک طاقت ور اور قابل قدر ادیب بناتے ہیں اور انھیں مستند ادیبوں کی صف میں بھی لاکھڑا کرتے ہیں۔“(ص 18)
مختصر الفاظ میں یہ کتاب ایک صاحب طرز ادیب کے قلم سے لکھے ہوئے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ خاکہ نگاری ایک آرٹ ہے اور معصوم مرادآبادی اس آرٹ میں پوری طرح کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔کتاب نہایت خوبصورت چھپی ہے۔گٹ اپ کے ساتھ طباعت بہترین ہے جس کے لئے پبلشر انجمن ترقی اردو (ہند)مبارکباد کی مستحق ہے۔یہ کتاب بلا شبہ ادبی اور صحافتی حلقوں میں دلچسپی سے پڑھی جائے گی۔قیمت بھی مناسب ہے۔حاصل کرنے کے لئے اس واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔9810780563






