تراوشِ قلم
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
پروفیسر محسن عثمانی ندوی علم و ادب، فکر و فن، زبان و بیان ، تحریر و تقریر کے قلم رو کے سلطان ہیں، عربی، اردو، فارسی، انگریزی زبان میں مہارت رکھتے ہیں، اسلوب اس قدر صاف ستھرا اور فکر اس قدر بالیدہ کے تخیل شعری کے جبیں پر پسینہ آجائے ، نثر پڑھیے اور شعر کا مزہ لیجیے، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء اور وہاں کے اکابر سے ان کی عقیدت و محبت مثالی ہے، جس طرح مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا قلم ذکر سید احمد شہید پر وجد میں آجاتا ہے، وہی کیفیت پروفیسر محسن عثمانی صاحب پر حضرت مولانا علی میاں ندوی اور اکابر ندوہ کے ذکر پر طاری ہو جاتی ہے، قلم رقص کرنے لگتا ہے اور الفاظ کے موتی رولنے لگتے ہیں، ایک بڑی اور اہم صفت یہ ہے کہ ان کے اندر اداراتی تعصب بالکل نہیں ہے، سب کی خدمات کو سراہتے ہیں اور سب کی قدر کرتے ہیں، محبت کا یہ خزانہ ہم جیسے چھوٹوں پر بھی لٹاتے ہیں، میری گڈ مڈ تحریروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مناسب مشورے دیتے ہیں، کچھ لکھتے ہیں تو خورد نوازی کی انتہا کو پہونچ جاتے ہیں، جس سے ہم جیسے چھوٹے لوگوں کو کہنا چاہیے کہ ” کلاہ دہقاں بر آسماں رسید” ہو جاتا ہے، یہ لفاظی نہیں ہے، ثبوت کے طور پر میری کتاب یادوں کے چراغ کی چوتھی جلد کا مقدمہ دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے، امارت شرعیہ سے ان کا خاندانی تعلق رہا ہے ، اس لیے وہ اس کے بڑے قدر دانوں میں ہیں۔

"تراوشِ قلم” انہیں پروفیسر محسن عثمانی ندوی زید مجدہم کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے علمی ، ادبی اور مذہبی کتابوں پر مقدمے اور متفرق مضامین کو جمع کر دیا ہے، کتاب کا مقدمہ پروفیسر زبیر احمد فاروقی سابق صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے طویل اور تفصیلی لکھا ہے اور کتاب کے مندرجات پر تفصیلی عنوان در عنوان گفتگو کی ہے اور کتاب کا علمی وادبی جائزہ لیا ہے، مکتبہ نشان راہ کے 6 بٹلہ ہاؤس، جامعہ نگر نیو دہلی 25 ، اس کا ناشر اور تقسیم کنندہ بھی ہے، تزئین کاری محمد اطہر حسین ندوی کی ہے، صفحات 464 اور قیمت پانچ سو روپے ہے، یعنی فی صفحہ ایک روپے سے کچھ زائد ، کتاب فروخت کرنے والوں کو کمیشن بھی تو دینا ہوتا ہے، ملنے کے پتے صرف چار ہیں، (1) تحقیقات و نشریات اسلام ندوہ کیمپس ٹیگور مارک لکھنو (2) ملی پبلی کیشنز، ابو الفضل انکلیو اوکھلا نئی دہلی 25(3) مکتبہ نددید، ندوۃ العلماء ، بادشاہ باغ لکھنو ، (4) مرکزی مکتبہ اسلامی ابوالفضل انگلیو اوکھلا نئی دہلی 25 ، آپ چاہیں تو پبلشر یا مصنف کے پتے سے بلا واسطہ بھی منگا سکتے ہیں۔
کتاب کے مندرجات پر نظر ڈالیں تو فہرست مضامین کے لیے نئی تعبیر ” عزالان افکار کے مرغزار "پر آنکھیں ٹک جاتی ہیں، مقدمہ کا عنوان "دہکا ہوا ہے آتش گل سے چن بھی” اچھوتا ہے ، مصنف نے پیش گفتار مختصر لکھا ہے، لیکن انتہائی مؤثر ہے، کتابوں کی تین تقسیم جو مشہور برطانوی ادیب اور مفکر فرانس میکن کے حوالہ سے درج کی گئی ہے کہ کچھ کتابیں چکھنے، کچھ نگلنے اور بعض کتابیں ہضم کرنے اور فکر کی غذا بنانے کے لیے ہوتی ہیں ، صحیح اور دلچسپ تقسیم ہے، مصنف نے اس کتاب کے بارے میں فیصلہ قاری پر چھوڑا ہے، میں اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ تراوشِ قلم تیسرے نمبر کی کتاب ہے، یعنی ہضم کرنے اور فکری غذا بنے والی۔
کتاب کے مصنف نے باب کا عنوان نہیں لگایا ہے، البتہ مضامین کی درجہ بندی کی ہے اور اسے چار زمروں میں رکھا ہے، اسلامیات، ادبیات، شخصیات اور متفرقات، چاروں زمروں میں انچاس مضامین ہیں اور پچاسواں مصنف کی دیگر کتابوں کے ذکر پر مشتمل ہے، جسے منزل بہ منزل کی عنوان کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں پروفیسر محسن عثمانی کے بارے میں اہل علم و دانش کے تاثرات، اقتباسات کی شکل میں جمع کیے گیے ہوں، جن میں ان کے لعل بدخشانی اور عقیق یمانی ہونے پر اکابر کا اتفاق ہے، جن بڑوں کے اقتباسات نقل کیے گیے ہیں ، ان میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، مشہور دانشور سید حامد، پروفیسر عبد الحق ، ڈاکٹر سید عبدالباری رحمہم اللہ اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، معصوم مراد آبادی اور پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی حفظہم اللہ کے نام ہیں ، ان کو بھی الگ الگ عنوان کے تحت درج کیا گیا ہے، ایک عنوان پہلے گزر چکا ہے، دیگر عناوین” مشفق گردید رائے بوعلی۔۔۔۔ ” متفق ہیں، فقیہانِ شہر” از دل خیزد بر دل ریزد اور لووہ بھی کہتے ہیں” لگایا گیا ہے۔

پروفیسر صاحب کے قلم گہر بار سے ترسٹھ (63) کتابیں نکل چکی ہیں، جن کے موضوعات میں تنوع ہے اور وہ علمی ادبی، تاریخی موضوعات ، عالم اسلام اور حالات حاضرہ کا احاطہ کرتی ہیں، اسلامی علوم، عربی زبان وادب کی تاریخ اور تنقید تک کو بحث کا موضوع بنایا گیا ہے، ان دنوں پروفیسر صاحب پر خصوصیت سے دعوت دین کا غلبہ ہے، اس موضوع پر بھی ان کی کئی کتابیں ہیں ، خود بھی لکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے ہیں ، جن میں سے میں بھی ایک ہوں مجلسی گفتگو میں بھی ان دنوں ان کے اوپر یہی موضوع غالب رہتا ہے۔
کتاب کے سارے مندرجات پر تفصیلی گفتگو کروں اور اس کا علمی جائزہ لوں، میں اس مقام و منصب پر خود کو نہیں پاتا ، کسی طرح لکھ بھی ڈالوں تو نقیب کے مختصر کالم میں اتنی جگہ کہاں ، اس لیے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کے اس اقتباس پر اپنی بات ختم کرتا ہوں، لکھتے ہیں: وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ زبان و ادب کی حلاوت از خود ان کے قلم سے ٹیکنے لگتی ہے، خوبصورت الفاظ اور طبع زاد و دل آویز تعبیرات ایک وفاشعار کنیز کی طرح دست بستہ ان کے سامنے کھڑی ہیں ( تراوش قلم ص 10)






