استنبول کے دینی حلقے اور تہذیبی روایات مشاہدہ کی روشنی میں

طلحہ نعمت ندوی

راقم کا ترکی کا یہ دوسرا سفر تھا جو سال رواں ۲۰۲۵ میں ماہ ستمبر مطابق ربیع الثانی ١٤٤٧ه‍ میں ہوا، اور شہر استنبول میں تقریبا پچیس گذارنے کا موقع ملا، اس سے دس سال قبل سفر کا اتفاق ہوا تھاجو میرا پہلا سفر تھا ،اس وقت رمضان میں اسی طرح پچیس دن گذارنے کا موقع ملا تھا اور استنبول کے علاوہ مزید تین شہروں ادرنہ، قونیہ اور اسپارٹا میں بھی چند دن گذارنے کا اتفاق ہوا تھا، اس کا تفصیلی سفرنامہ عربی میں شائع ہوچکا ہے اور بعض مشاہدات اردو میں بھی قلمبند کیے گیے تھے جو شائع ہوچکے ہیں۔لہذا اس تحریر میں روداد سفر کے بجائے وہاں کے دینی وثقافتی حالات پر روشنی ڈالی جائے گی جو راقم کے علم میں آئے اور ان کے مشاہدہ کا موقع ملا۔

استنبول کے دینی حلقے اور تہذیبی روایات مشاہدہ کی روشنی میں 
استنبول کے دینی حلقے اور تہذیبی روایات مشاہدہ کی روشنی میں

  دبستان شبلی اور ندوۃ العلماء جیسے ادارہ کے ایک طالب علم کے لیے علامہ شبلی کے سفرنامہ قسطنطنیہ کی جو اہمیت ہوسکتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، اس سفرنامہ پر سوا ایک صدی گذرچکی ہے اس لیے ترکی اور استنبول مکمل بدل چکا ہے لیکن علامہ کی ذکر کردہ چند چیزیں ابھی تک باقی ہیں، چنانچہ علماء کا لباس بھی تقریبا وہی ہے، خربوزے بھی میٹھے ہوتے ہیں اور بہت سی عمارتیں بھی لکڑی کی نظر آتی ہیں۔

استنبول میں دینی تعلیم کے دو نظام ہیں، ایک حکومت کے ما تحت ہے دوسرا آزاد، حکومت کے ماتحت نظام میں ثانویہ تک کی تعلیم اسکولوں میں میں ہوتی ہے جس طرح ہمارے یہاں ہائی اسکول اور انٹر کالج ہوتے ہیں، وہاں دو طرح کے اسکول ہیں، ایک میں سیکولر تعلیم کا نظام ہے جس میں دینیات بالکل نہیں ہے، دوسرا جس میں دینیات کا بڑا حصہ شامل ہے، اس کو وہاں امام وخطیب اسکول کہا جاتا ہے، ایک بڑے ایرانی فاضل استاد صلاح الدین شاہنوازی نے بتایا کہ درحقیقت یہ نظام علامہ شبلی کے مشورے سے قائم ہوا تھا، جس کے اشارات کی ان تحریروں میں ملتے ہیں، اور واقعہ یہ ہے کہ اس نظام تعلیم نے یہاں کے دینی شعور وفکر کو باقی رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، سیکولر دور میں بھی یہ نظام باقی تھا اور اب تو اس کی تعلیم سیکولر نظام تعلیم سے زیادہ بہتر ہے اس لیے اکثر حضرات اپنے بچوں کو اسی نظام کے تحت تعلیم دلاتے ہیں، اور اسی کے تعلیم یافتہ مساجد میں امام وموذن بھی مقرر ہوتے ہیں، اس میں حفظ قرآن پاک کا بھی نظام ہے، خود رجب طیب اردگان نے اسی طرح کے ایک اسکول میں حفظ کیا ہے اور دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں عربی زبان اور علوم شرعیہ میں وہ پختگی نہیں پیدا ہوپاتی جو مطلوب ہے اور جس سے تفقہ کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، لیکن دینی مزاج اور اسلام کے تئیں غیرت وحمیت پیدا کرنے میں اس کا جو کردار ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اسی کی بدولت وہاں کے سیکولر فضا میں خاموش دینی انقلاب آرہا ہے، اور پھر یہیں کے تعلیم یافتہ عصری جامعات میں عصری تعلیم کے شعبوں سے بھی وابستہ ہوتے ہیں اور دینی تعلیم کے شعبوں میں بھی گریجویشن سے ڈاکٹریٹ تک کی سند حاصل کرتے ہیں۔ گرچہ ان کی استعداد عام طور پر بہت کم ہوتی ہے، جو حضرات جامعات میں شعبہ اسلامیات میں تخصص کرتے ہیں وہ عام طور پر یونیورسٹی میں تدریس یا کسی تحقیقی ادارے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک شامی عالم شیخ نورالدین محمود سے اس موضوع پر بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ائمہ وموذنین کے انتخاب میں سند کے بجائے استعداد کو معیار بناکر انٹرویو لیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا، یہ درست ہے کہ جامعات اور اسکولوں کی تعلیم سے مدارس کی سی پختگی نہیں آتی، اور یہ ہر ملک کی صورت حال ہے، ہم نے عرض کیا کہ حالانکہ کہ یہی جامعات ہیں جن سے دیگر شعبوں میں پڑھ کر بڑے بڑے ماہرین فن پیدا ہورہے ہیں، آخر علوم دینیہ میں یہ کمی کیوں ہے، انہوں نے کہا کہ شاید دین و حکومت کی تفریق کے نظریہ کا نتیجہ ہے جو اب پوری دنیا میں عام ہوگیا ہے یعنی ہر حکومت یہی چاہتی ہے کہ دین کو حکومت سے الگ رکھا جائے۔ پھر انہوں نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جامعات میں تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہے کہ تحقیق کا جدید منہج سمجھ میں آتا ہے اور معاصر اکیڈمک طریقہ، اور دین کو معاصر ذہن کے مطابق پیش کرنے کا سلیقہ بھی جو مدارس میں رہ کر کم حاصل ہوتا ہے۔

دوسرا نظام تعلیم ہمارے یہاں کے مدارس کی طرح روایتی تعلیم کا ہے،چنانچہ بہت بڑی تعداد میں مدارس ہیں جہاں عربی میں تعلیم ہوتی ہے اور نظم ونسق بھی برصغیر کے مدارس کے مقابلہ میں بہت بہتر نظر آتا ہے لیکن نصاب تعلیم میں بیشتر قدیم کتابیں ہی داخل ہیں، چنانچہ ہدایہ، نور الایضاح، شرح جامی اور کافیہ واصول الشاشی جیسی کتابیں نصاب کا حصہ ہیں، حتی کہ بعض دیگر شہروں کے مدارس میں منطق کی قدیم کتابیں بھی داخل درس ہیں، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کی قصص النبیین ہرجگہ ابتدائی عربی کے لیے شامل نصاب ہے۔ راقم کا خیال تھا کہ برصغیر اور جنوبی ایشیا کے علاوہ اب کہیں اور قدیم مدارس کا وجود نہیں رہا ہے، لیکن وہاں جاکر نہ صرف اس خیال کی تردید ہوئی بلکہ معلوم ہوا کہ عراق و شام میں بھی یہ نظام باقی ہے۔ عراق کے ایک وفد سے وہیں ملاقات ہوئی جس میں علماء اور ایک دو طالب علم تھے انہوں نے بتایا کہ وہ شخصی مدرسوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جن کو وہاں حجرات کہاجاتا ہے، اور شرح جامی اور کافیہ پڑھی ہے، اس کے علاوہ فقہ شافعی کی قدیم کتابیں پڑھی ہیں، شام کے بہت سے اہل علم سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی یہ نظام ہے لیکن یہاں کے مقابلہ میں بہتر ہے۔ ادھر دس پندرہ سال تک شام کے علماء کے قیام کی وجہ سے ترکی میں علوم دینیہ کی اشاعت میں بہت مدد ملی اور بہت سے علماء نے وہاں شخصی مدارس بھی قائم کئے اور علوم اسلامیہ کے حلقہائے درس بھی۔

البتہ مدارس میں طلبہ کی بھیڑ نہیں ہے جس طرح ہمارے یہاں کا مزاج ہے جس کی وجہ سے تربیت کرنا آسان ہوتا ہے، حالاں کہ عام طور پر وسائل کی کمی نہیں ہے، بچوں کی تربیت کا اہتمام بظاہر نظر آتا ہے، ایک مدرسہ میں راقم کو اس کا تجربہ ہوا،چنانچہ تربیت وسنت کا اہتمام اور اس کی تاکید ،مجالس ذکر اور جمعہ کے دن اجتماعی طور پر سورہ کہف کی تلاوت کے مناظر آنکھوں سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔نیز تعلیم عام طور پر عربی ہی میں ہوتی ہے جب کہ بیشترترکی طلبہ ہی ہوتے ہیں کہیں کہیں شام اور دیگر عربی ممالک کے طلبہ بھی ہیں۔ عام طور پر عوامی چندہ کا رواج نہیں ہے بلکہ بڑے اصحاب خیر پورے مدرسہ کے مصارف کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں، اور طلبہ کے لیے اعلی معیار رہائش اور کھانے کا نظم مدرسہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، انٹرنیٹ کے بارے میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہمارے مدارس ہی کی طرح وہاں عام طور پر اس کی اجازت نہیں، البتہ چھٹی کے دن اس کی اجازت دی جاتی ہے،جب کہ وہاں وائی فائی کی سہولت ہر جگہ ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں کا وہی حال ہے جو یہاں ہے،لیکن نسبتا بہتر ہے، پھر یہ فارغین یا تجارت سے وابستہ ہوجاتے ہیں یا ذاتی طور پر مدارس میں تعلیم دیتے ہیں یا اصلاح وتربیت یا تصنیف وتالیف کے کام میں لگ جاتے ہیں یا دوبارہ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرکے وہاں کی سند لیتے ہیں،کیوں کہ اور ملکوں کی طرح ان مدارس کی اسانید وہاں کی حکومت کی نظر میں بھی قابل قبول نہیں اس لیے وہ لوگ عام طور وہاں کی مساجد میں بھی خدمت انجام نہیں دے سکتے، اور یہ اہل مدارس یونیورسٹیوں کے فارغین کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے، اسی لیے ان سے فتوی بھی نہیں پوچھتے، جو حلقہ ان سے وابستہ ہے وہ انہیں سے فتوی پوچھتا ہے لیکن سوالات کے جوابات اکثر تحریری دیے جاتے ہیں زبانی نہیں۔ ویسے خود راقم کا تاثر بھی یہی ہے کہ مساجد کے اکثر ائمہ جن کی اسانید امام وخطیب اسکول کی ہوتی ہیں بہت کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، علوم دینیہ میں دسترس نہیں ہوتی، ہاں قرآن پاک کا حفظ کرنا ضروری ہے اس لیے امام وخطیب اسکول ہی کے فارغ حفاظ کو مساجد کے لیے قبول کیا جاتا ہے۔

  یہ مدارس زیادہ تر وہاں کے مشہور شیخ طریقت شیخ محمود آفندی کے وابستگان کے ہیں۔ دیوبند کے ایک فاضل ساکن ازبکستان مولانا عادل قاسمی صاحب نے بھی وہاں ایک مدرسہ قائم کیا ہے، اوراس میں بیشتر ازبکستان ہی کے طلبہ ہیں، ان کا پانچ سالہ نصاب ہے جس میں قدیم وجدید دونوں طرح کی کتابیں شامل ہیں، پہلے دوسال مکمل عربی پڑھائی جاتی ہے، اس کے بعد عربی ہی میں درس ہوتا ہے، کاش ہمارے برصغیر کے مدارس بھی عربی میں تدریس کے اس نظام کو اختیار کرتے۔

علماء اور اہل صلاح کا لباس عام طور پرشرٹ نما قمیص اور پتلون ہے جوہندوستانی پاجامہ سے ملتا جلتا اور عام پتلونوں سے الگ ہوتا ہے، اس کے علاوہ اسی رنگ کی وسیع عبا ہوتی ہے جو مدرسہ میں درس کے وقت،نماز کے اوقات میں اور عام مجالس میں ان کے استعمال میں ہوتی ہے، بلکہ اس کے بغیر نماز پڑھنا شاید اچھا نہیں سمجھا جاتا،اساتذہ کی طرف سے کئی بار طلبہ کو اس پر متنبہ کرتے دیکھا۔ اس کے علاوہ ایک عمامہ نما ٹوپی ہوتی ہے یا ٹوپی کے اوپر چھوٹا سا عمامہ باندھ لیا جاتا ہے، علامہ شبلی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، اور لکھا کہ ہے ایک دھجی باندھی جاتی ہے جس کو لفہ کہا جاتا ہے، ویسے عام طور پر آج کل اسی طرح کی ٹوپی آتی ہے، مساجد کے ائمہ عام طور پر عبا اور اور ایسی ہی ٹوپی میں نماز پڑھاتے ہیں، بلکہ بہت حد تک اس کو ضروری سمجھا جاتا ہے، اور مساجد کے علاوہ نماز کے خصوصی حجروں میں کہیں کہیں یہ چیزیں آویزاں بھی نظر آتی ہیں، تاکہ بوقت نماز جو چاہے پہن کر نماز پڑھ سکے۔

علماء اور دینی حلقوں کا طرز معاشرت عام لوگوں سے کسی قدر مختلف ہے ، بہت زیادہ نہیں، چنانچہ کھانے میں کانٹوں اور چمچوں کا اہتمام ان کے یہاں نسبتا کم نظر آیا۔ عام لوگوں، جن میں عصری تعلیم یافتہ دیندار لوگ بھی شامل ہیں، کا طرز معاشرت وہی ہے جو عام طور پر یورپ کا ہے لیکن یہ صرف استنبول میں اور یگر بڑے شہروں میں ہے ورنہ مشرقی علاقے جہاں پہلے سفر میں راقم کو جانے کا اتفاق ہوا تھا مشرقی طرز سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔

ترکی حالاں کہ ایک مدت تک ایک مسلم حکومت کا مرکز رہا ہے، اور اس کی مستقل تہذیب اور شاندار روایات ہیں لیکن کھانوں میں وہ تنوع نہیں نظر آتا جو ہندوستان میں مغلیہ دور سے لے کر اب تک رائج ہے یا افغانستان وایران میں عام ہے۔ اگر اس کی وجہ یہ قرار دی جائے کہ وہاں تہذیب کے مقابلہ میں نظم ونسق اور تعلیم وثقافت پر زیادہ توجہ رہی تو اسے کوئی عیب نہیں قرار دیا جاسکتا۔

مساجد کا پورا نظم ونسق حکومت کے ذمہ ہے، چنانچہ ایک ایک مسجد میں متعدد ائمہ اور موذنین کے علاوہ کئی ملازمین بھی ہوتے ہیں، جن کی تنخواہ کچھ وزارت اوقاف اور کچھ حکومت کہ ذمہ ہے، اور ہفتہ میں ان کو ایک دن کی رخصت بھی ملتی ہے۔ قبرستان کا پورا نظام بھی میونسپلٹی کے ذمہ ہے، چنانچہ میت کے گھر والوں کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا اور تدفین تک کے تمام مراحل بلدیہ ہی انجام دیتی ہے۔ قبریں عام طور پر پختہ ہوتی ہیں اس لیے ایک قبرستان میں جگہ ختم ہو جانے کے بعد دوسرے قبرستان بنائے جاتے ہیں، اور اب شہر سے باہر نئے قبرستان بنائے جارہے ہیں جو عام طور پر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ کتبات کا رواج وہاں بہت قدیم دور سے ہے، جو اب تک قائم ہے، بیچ کا حصہ زیادہ کھلا رہتا ہے، چاروں طرف سے سنگ مرمر یا کسی پتھر سے پختہ کرکے اسی پتھر کا بڑا کتبہ لگایا جاتا ہے، اسی وجہ سے ہر جگہ صدیوں پرانی قبریں اور قبرستان اب بھی باقی ہیں۔

جمعہ کا خطبہ وزارت اوقاف سے تیار ہو کر آتا ہے اور وہی خطبہ ہر مسجد میں پڑھاجاتا ہے جس کا بڑا حصہ ترکی زبان میں ہی ہوتا ہے بس ابتدائی اور آخری حصے عربی میں ہوتے ہیں۔ یہ رائے ہمارے یہاں بھی بہت سے علماء نے پیش کی تھی لیکن چند ہی جگہ اس پر عمل ہورہا ہے۔ ملک میں احناف اور شوافع دونوں ہیں بلکہ احناف کی اکثریت ہے لیکن نماز کے اوقات عام طور پر جلدی کی وجہ سے اور عام مسلم وعرب ممالک کی اتباع میں فقہ شافعی کے مطابق ہیں۔

وزارت اوقاف بھی بہت منظم ہےاور قدیم دور سے وقف کردہ زمینوں کی جتنی بڑی تعداد ہے وہ کم ملکوں میں ہوگی، جس کو موجودہ حکومت نے مزید منظم کیا ہے، اور ملک کی ضرورت کے علاوہ اب دیگر ممالک کے مسلمانوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے، اس کے علاوہ ایک علمی وتحقیقی ادارہ موسسہ عصام بھی اسی کے تحت قائم ہے جو علوم اسلامیہ کی قدیم کتابیں بھی شائع کررہا ہے اور جدید موضوعات پر بھی وہاں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ بلکہ اوقاف کے تحت ترکی میں دیگر ممالک کے طلبہ کی تحصیل علوم اسلامیہ کے لیے وظیفہ کا بھی نظم کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بیرونی طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ویسے بھی وہاں ہر اہم ادارہ کو وقف ہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیوں کہ اکثر اصحاب ثروت کوئی نہ کوئی وقف قائم کرتے ہیں۔ وزارت اوقاف جس کو دیانت کہا جاتا ہے اس کا کام فتوی دینا بھی ہے لیکن عام طور پر تحریری فتوی وہاں سے بھی نہیں ملتا جس طرح شخصی اداروں سے نہیں ملتا کیوں کہ ملک میں پرسنل لا کی جگہ اب بھی سیکولر نظام جاری ہے، اور نکاح وطلاق کی توثیق عدالت کے بغیر ممکن نہیں اس لیے کسی ایسے فتوی سے گریز کیا جاتا ہے جو قانون کے خلاف ہو۔

عوام میں اب دینی رجحان بڑھ رہا ہے، گرچہ اب بھی سیکولر ذہن کے لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود ہے لیکن اسلامی فکر کے فروغ کے لیے بہت خاموشی سے کام ہوا اور الحمد للہ اس میں کامیابی بھی ملی ہے، عام رجحان یہ ہے کہ اب بھی بیس سے تیس فی صد تک سیکولر ذہن کے لوگ باقی ہیں، تعلیم کے ذریعہ نئی نسل پر محنت کی جارہی ہے۔ ویسے دین سے اندرونی محبت اور عصر حاضر کی ترقیات کے ساتھ دین سے ان کا تعلق، ان کی سلیقہ مندی اور تہذیبی اقدار کسی سے مخفی نہیں، چنانچہ ایک ترک ظاہر میں انگریز نظر آتا ہے لیکن اندر سے دین کا سچا حامی ہوتا ہے۔

ترکی زبان

ترکی زبان سے تو میں واقف نہیں نہ استنبول کے قیام میں زیادہ واقفیت ہوسکی لیکن زبان کے فلسفہ پر کئی پہلؤوں سے غور کرنے کا موقع ملا ،اور وہاں سے آکر قدیم اردو میں قدیم ترکی کے قواعد پر چند کتابیں بھی دیکھیں ،آنکھوں نے جو کچھ وہاں دیکھا اور کتابوں میں پڑھا دونوں کے غور وفکر کے نتائج ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں ۔

ترکوں کی زبان سے بہت سے وہ الفاظ ادا نہیں ہوپاتے جو اردو اور عربی بولنے والوں کے یہاں رائج ہیں ،یا اسلامی ورثہ کا حصہ ہیں ،چنانچہ ان کے یہاں خ،د اور ق جیسے الفاظ نہیں ہیں ،غ بھی نہیں ۔پانچ چھ صدیوں قبل جب یہ زبان فارسی رسم الخط میں منتقل ہوکر اور عربی فارسی کے ذخیرہ کا بڑا حصہ مستعار لےکر علمی زبان بنی تھی پھر حکومت عثمانیہ کی زبان بن گئی تھی تو یہ فارسی اور عربی کے ذوق ومزاج سے بہت قریب بلکہ اس قدر قریب ہوگئی تھی کہ قدیم ترکی پڑھتے ہوئے کبھی کبھی فارسی کا گمان ہونے لگتا ہے ،اسی لئے اس طرح کے الفاظ حتی کہ ترکی الفاظ بھی فارسی اور عربی تلفظ کے مطابق ہی لکھے گئے تھے ،چنانچہ چمچ کے لئے قاشوق کا لفظ رائج تھا ،جب کہ ان کے یہاں قاف نہیں ہے ،اسی طرح بہت سے افعال کے اخیر میں ق ملتا ہے جیسے قلبق،(ٹوپی)،نو کے عدد کو اب دوکوز(dokoz)کہا جاتا ہے جب کہ پہلے اس کا املا طقز تھا ۔

 لیکن خلاف عثمانیہ کے خاتمہ اور انقلاب کے بعد فارسی رسم الخط کے بجائے لاطینی رسم الخط میں یہ زبان لکھی جانے لگی تو اس کے حروف تہجی تلفظ کے مطابق اور ترتیب دئے گئے ،گرچہ کچھ حروف قدیم الفاظ کی ادائیگی کے لئے بھی رکھے گئے جیسے ظ کے لئے Zکے اوپر ایک لکیر کھینچ دی گئی تاکہ زاور ض جیسے الفاظ میں فرق ملحوظ رکھا جاسکے لیکن ان کا تلفظ بالکل مختلف تھا اس لئے اکثر الفاظ بدل گئے اور اب وہ بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں ،لیکن غور کیا جائے تو سمجھنا دشوار نہیں رہتا کہ ان کی اصل فارسی ہے ،چائے خانہ فارسی لفظ ہے ،اب اس کو چایہانے ((chaihaneلکھتے ہیں کیوں کہ ان کے یہاں زبر کا استعمال بھی نہیں ہےاور چ کے لئے سی کے نیچے ایک نقطہ ہے ،جیم کے لئےسی (c)کا لفظ ہی مستعمل ہے چنانچہ مسجد کو جامع کہا جاتا ہے اور ہرجگہ cami لکھا ہوا ملتا ہے،ع کے لئے وہی آئی کا لفظ اخذ کیا گیا ہے ۔جگہ کے دو نام باکر کوی (bakirkoy)اور اتا کوی (atakoy)ہیں ،ان کو سن کر فورا میرے ذہن میں آیا کہ ان کی اصل کوئے باقر اور کوئے عطا ہوگی ،ایک جگہ کہوا دیاری(kahve diyari) لکھا دیکھا ،فورا ذہن میں آیا کہ اس کی اصل دیار قہوہ ہے یعنی قہوہ خانہ اور واقعتا وہ قہوہ خانہ یا کیفے تھا۔عام طور پر کسی بڑے کووہاں ہوجا کے لفظ سے پکارتے ہیں ،تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ لفظ اصل میں خواجہ یا خوجہ تھا چوں کہ ترکی میں خ نہیں ہے اور ح کا تلفظ بھی نہیں ہے اس لئے وہ لفظ ہوجا ہوگیا ۔ایک جگہ ہرکہ (hirke)شریف لکھا تھا ،میں نے غور کیا تو سمجھ میں آیا کہ یہ خرقہ شریف ہے ،یعنی اس علاقہ میں رسول پاک علیہ السلام کا خرقہ مبارک محفوظ ہے اس لئے پورا علاقہ خرقہ شریف کہلاتا ہے ۔اسی طرح خاقان کا لفظ اب آج کے تلفظ میں ہاکان سے بدل گیا ہے اور اسی طرح لکھا جاتا ہے ۔جہاں خطرہ کی جگہ وہاں دکت(diket) لکھا ہوا ملتا ہے جو اصل میں دقت ہے ۔

یہ عجیب بات ہے کہ وہی ترک اپنی زبان میں احمد کو اہمت (ahmet)بولتے ہیں لیکن وہی جب عربی بولتے ہیں تو مکمل تلفظ کے ساتھ بولتے ہیں ۔کیوں کہ ان کے یہاں آخر میں دال نہیں بولی جاتی اور اسی لئے اس کا تلفظ ان کے لئے دشوار ہے لیکن بیچ میں ہو تو بلاتکلف ان کی زبان سے ادا ہوتا ہے چنانچہ یلدرم خود ترکی زبان کا لفظ ہے جو ارد ومیں رائج ہے ۔اسی طرح ب کا لفظ بھی اخیر میں آکر پ سے بدل جاتا ہے چنانچہ کتاب کو کتاپ(kitap) ،اور ایوب کوائیوپ (eiyup)بولتے ہیں کیوں کہ زبر بھی ان کے یہاں بالکل رائج نہیں ۔

انگریزی کے جدید الفاظ بھی ترکی میں بہت کثرت سے رائج ہیں لیکن وہ ان کے تلفظ اور املا میں ہیں اصل املا میں نہیں چنانچہ اسٹیشن کو استاسیون(stasyon) کہتے ہیں اور اس طرح لکھتے ہیں ۔اسی طرح کنٹرول(kantrol) ،اور پاسپورٹ(pasport) جیسے الفاظ ہیں ۔کلچر کو ان کی زبان میں کولتور (kultur)بولتے ہیں ۔

ہاں ضمائر ،افعال اور اعداد بالکل الگ ہیں جس کی وجہ سے سمجھے میں دشواری ہوتی ہے ۔بعض ضمائر فارسی سے ملتے جلتے معلوم ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ اس زبان میں لواحق بہت ہیں ،افعال کا منضبط نظام نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی سی دشواری ہے ورنہ عربی فارسی سے مانوس لوگوں کے لئے تھوڑا سا غور کرنے کے بعد اس زبان کو سیکھ لینا بہت مشکل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply