ڈاکٹر محمد منظور عالم

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

انسٹی چیوٹ آف آبجکٹو اسٹڈیز (IOS) کے بانی چیرمین، تعاون ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ، آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ، ہند و عرب معاشی تعاون فورم نئی دہلی کے صدر، انڈین ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹ نئی دہلی کے صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور قومی کمیٹی برائے قانونی ازالہ و انصاف(NCLR) کے رکن ، انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ، امریکہ کے بورڈ ممبر، انٹرنیشنل اسلامک چیر ٹیبل آرگنائزیشن کویت کے بانی ممبر، اسٹیرنگ کمیٹی استنبول برائے مذاکرات ترکی اور ایمنٹ گروپ آف ورلڈ اسلامک فورم تر کی کے ممبر ، معروف دانشور، محروم طبقات کے حقوق کے لیے لڑنے والے ڈاکٹر محمد منظور عالم کا 13 جنوری 2026 ء مطابق 23 رجب المرجب 1447ھ بروز منگل صبح سویرے انتقال ہو گیا ، انہوں نے دہلی کے میکس ملٹی اسپشلٹی اسپتال کے آئی سی یو میں 5:30 بجے آخری سانس لی، وہ عرصہ دراز سے امراض قلب اور گردہ میں مبتلا تھے، بار بار اسپتال جانے کی نوبت آتی رہتی تھی ، ہر دو ایک روز پر ڈائلاسیس کے مرحلہ سے گذرنا ہوتا ہے، ان کی نماز جنازہ شاہین باغ دہلی میں ڈاکٹر سعود عالم قاسمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے پڑھائی اور تدفین جامعہ نگر کے شاہین باغ قبرستان دہلی میں اسی دن بعد نماز مغرب ہوئی، اس سے قبل ان کے جنازہ کو عوامی دیدار کے لیے شاہین باغ ان کی رہائش گاہ پر رکھا گیا ، پس ماندگان میں اہلیہ، پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم
ڈاکٹر محمد منظور عالم

ڈاکٹر منظور عالم بن محمد عبد الجلیل کی پیدائش 9 اکتوبر 1945ء کو رانی پور موجودہ ضلع مدھوبنی میں ایک کاشتکار گھرانے میں ہوئی، ابتدائی و ثانوی تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول میں پائی ، گریجویشن کے آر کالج مدھوبنی سے کیا، اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لے گیے اور وہاں سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری پا کر منظور عالم سے ڈاکٹر منظور عالم ہو گیے ۔ انہوں نے حصول معاش کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا، اپنی محنت ، لگن اور صلاحیت کی بنیاد پر وہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ اور قومی اقتصادیات میں اقتصادی مشیر کے عہدے پر فائز ہوئے ، امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض میں ایسوسی ایٹ پروفیسر، کنگ فہد ہولی قرآن پرنٹنگ کمپلکس مدینہ منورہ کے چیف کوارڈنیٹر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملیشیا (IIUM) کے ہندوستانی نمائندہ کے طور پر بھی کام کیا، اسلامک ڈولپمنٹ بینک غیر رکن ممالک کے اسکالر شپ پروگرام کی جنرل کمیٹی اور علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کورٹ کے رکن کے طور پر بھی رہے، وہ سعودی عرب سے شائع ہونے والے امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائٹز (MEDAD) اور کویت سے شائع ہونے والے جریدہ ” المنهاج” کے انٹرنیشنل ایڈوائزری بورڈ کے ممبر اور مالدیپ یونیورسٹی کے بین علومی ریسرچ جرنل کی مجلس مشاورت کے بھی وہ رکن تھے۔

ڈاکٹر منظور عالم کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی فکر اور ان کی سوچ کے مطابق جو بڑے ادارے قائم ہیں، ان میں ڈاکٹر منظور عالم کا کلیدی کردار رہا ہے، وہ روشن دماغی ماہر تعلیم تھے، ان کا سب سے بڑا کارنامہ نظریہ ساز ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف انجکٹو اسٹڈیز ہے، آر ایس ایس اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے پاس تھنک ٹینک تھا، لیکن مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی ادارہ نہیں تھا، انہوں نے اسے کھڑا کیا اور مسلمانوں کی سماجی، معاشی، اقتصادی، معاشرتی اور مذہبی امور پر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تحقیقات شروع کرائیں اور پھر اسے عمدہ انداز میں چھپوا کر پوری علمی دنیا تک پہونچایا، انہوں نے فکر اور سوچ کی نئی طرح ڈالی، انہوں نے اجتماعی سوچ کو فروغ دینے اور اہم ملی مسائل پر سنجیدہ اور باوقار موقف اختیار کرنے کی کوشش کی ، وہ کلمہ کی بنیاد پر اتحاد، جذباتیت سے گریز اور حکمت و بصیرت کے ساتھ سنجیدہ منصوبہ بندی کے قائل تھے اور تعلیم کو خود اعتمادی ترقی اور مثبت کردار سازی کے لیے شاہ کلید سمجھتے تھے۔

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ اور اس کے اکابر سے انہیں بے پناہ تعلق تھا، انہوں نے شاہ ولی اللہ ایوارڈ کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا، جس کے ذریعہ وہ اہل علم کی قدردانی کیا کرتے تھے، اس کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تھی جو پہلے لوگوں سے رائے مانگتی تھی ، پھر اس کے مطابق فیصلہ ہوتا تھا، حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ، ڈاکٹر یسین مظہر صدیقی اور کئی دوسرے اس ایوارڈ سے سرفراز ہوئے، ہر سال کے لیے ایک موضوع منتخب ہوا کرتا تھا، مثلا تفسیر ، تصوف وغیرہ پر جس نے بڑا کام کیا ہو، امارت شرعیہ کو بھی انہوں نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا تھا، یہ ایوارڈ امیر شریعت سادس مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا، اس سے قبل ڈاکٹر صاحب نے امارت شرعیہ کے تمام شعبے اور ذیلی اداروں کی ڈکومنٹری زر کثیر صرف کر کے بنوائی تھی اور ایوارڈ دینے کے قبل سامعین ، ناظرین اور حاضرین کو اسے دکھایا گیا تھا، جس سے امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات کا بہترین تعارف ہوا تھا ، وہ جب بھی پٹنہ تشریف لاتے ، امارت شرعیہ آنے کے لیے وقت نکالتے اور یہاں کے ذمہ داروں سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتے۔

میرا ان سے تعلق آل انڈیا ملی کونسل کے واسطے سے تھا، میسور اجلاس میں میری پہلی ملاقات ان سے ہوئی تھی ، سال 1992ء کا تھا، اس کے بعد سے مختلف پروگراموں میں ان سے ملاقات ہوتی رہی ، بعض میٹنگوں میں، میں نے سوالات بھی اٹھائے ، جس کا انہوں نے اس سنجیدگی سے جواب دیا جو ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔

ڈاکٹر منظور عالم صاحب کی خدمات کی پذیرائی ملک اور بیرون ملک میں بہت ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد پرنٹ اور الکٹرونک میڈیا میں ان پر لکھنے والوں کی باڑھ سی آگئی ، ہفتوں اخبارات میں مضامین چھپتے رہے اور بڑے بڑے لوگوں نے لکھا، ان کی اردو، انگریزی میں سوانح کی ترتیب کا کام مشہور صحافی اے یو آصف نے کیا تھا، جس کا اجرا کانسٹی چیوشن کلب دہلی میں ان کی زندگی ہی میں بڑی آن بان شان سے ہوا تھا، اس کتاب کا کچھ حصہ سوانح نگاری اور کچھ حصہ خود نوشت کے ذیل میں آتا ہے، اس کتاب کا نام ڈاکٹر منظور عالم : ان کہی کہانی، انصاف ، شمولیت اور برابری کی جدو جہد ہے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ملت کو ان کا نعم البدل دے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply