مفتی عین الحق امینی قاسمی کی کتاب:’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘: ایک مطالعہ

اسلم رحمانی

’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘ شخصیات سے متعلق مضامین و مقالات کا ایک وقیع مجموعہ ہے، جس کے مصنف معہد عائشہ الصدیقہ، رحمانی نگر خاتوپور، بیگو سرائے (بہار) کے ناظمِ اعلیٰ مفتی عین الحق امینی قاسمی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے۔کتاب کا پہلا باب علماء و مشائخ کے تذکرے پر مبنی ہے، جس میں مصنف نے علمی، دعوتی اور قلمی خدمات کے حوالے سے متعدد جلیل القدر شخصیات کا تعارف اور تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان میں حضرت آہ مظفرپوری کے ممتاز اساتذہ و شیوخ، حضرت شیخ الہند کے شاگردانِ رشید، مولانا محمد علی مونگیری اور قادیانیت، مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اور ان کی ملی خدمات، امیرِ شریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی، مولانا محمد اسرار الحق قاسمی، مولانا محمد سالم قاسمی، مولانا محمد قاسم بھاگل پوری، مولانا محمد قاسم مظفرپوری، مولانا ہارون الرشید قاسمی، قاضی عبد الجلیل قاسمی، مولانا معز الدین قاسمی، مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری، مولانا سید محمد ولی رحمانی، مولانا عبد الحفیظ قاسمی، مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی، حضرت مشفق ملت، مولانا سہیل احمد ندوی، مولانا محمد اسلام قاسمی اور مولانا سید طاہر حسین گیاوی شامل ہیں۔ مصنف نے ان شخصیات کی حیات و خدمات کا متوازن اور جامع جائزہ لینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔کتاب کا دوسرا باب ادباء و دانشوران کے عنوان کے تحت مرتب کیا گیا ہے، جس میں الحاج غلام سرور، ڈاکٹر راحت اندوری، ڈاکٹر عبد القادر شمس، پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، ابن الحسن عباسی، مولانا آزاد اور مولانا محمد ولی رحمانی، علی برادران کی دینی جدوجہد اور حاجی گلزار اعظمی: ایک اسم، ایک جہت جیسے عناوین پر مرتب کی خامہ فرسائی ملتی ہے، جو ان کی وسعتِ مطالعہ اور تنوعِ ذوق کی آئینہ دار ہے۔

مفتی عین الحق امینی قاسمی کی کتاب:’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘: ایک مطالعہ
مفتی عین الحق امینی قاسمی کی کتاب:’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘: ایک مطالعہ

کتاب کا آغاز حسبِ روایت مرتب کے وقیع مقدمہ سے ہوتا ہے۔ مقدمہ میں مرتب نے تذکرہ نویسی کی اہمیت، معنویت اور اس کی روایت پر بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں معروف شاعر جاوید اختر اور صاحبِ طرز عالمِ دین مفتی ڈاکٹر محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی کتاب یادوں کے چراغ (جلد چہارم) کے حوالے سے سوانح نگاری پر لائقِ تحسین بحث کی گئی ہے۔ نیز کتاب کی اشاعت میں تعاون کرنے والے مخلصین کا شکریہ ادا کر کے مرتب نے اپنی علمی دیانت اور اخلاقی وقار کا ثبوت دیا ہے۔مقدمہ کے بعد جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے سابق استادِ حدیث مولانا عبد السبحان رحمانی کے تاثرات شامل ہیں، جن میں انہوں نے مفتی عین الحق امینی قاسمی کی علمی و قلمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔کتاب کا پہلا مضمون حضرت آہ مظفرپوری کے ممتاز اساتذہ و شیوخ کے عنوان سے ہے، جو شمالی بہار، مظفرپور کے معروف صاحبِ طرز ادیب عالمِ ربانی تھے۔ اس مضمون میں مرتب نے ابتدا میں شخصیات کی اہمیت اور سوانح نگاری کی روایت پر مختصر مگر جامع گفتگو کی ہے، اس کے بعد مولانا عبد الشکور آہ مظفرپوری اور ان کے والد مولانا سید شاہ نصیر الدین کی شخصیات کی مؤثر عکاسی کی ہے۔ نیز مولانا آہ مظفرپوری کی ولادت، جائے ولادت، ابتدائی و اعلیٰ تعلیم، دارالعلوم دیوبند میں تحصیلِ علم، خصوصاً علومِ حدیث اور ان کے جلیل القدر اساتذہ جن میں مولانا سید شاہ امیر الحسن قادری، مولانا سید شاہ نصیر الدین نصر، مولانا سید شاہ رحمت اللہ احقر مظفرپوری، مولانا عبد الواسع سعدپوری، مولانا احمد حسن کانپوری، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، مولانا حافظ محمد احمد دیوبندی، مولانا غلام رسول ہزاروی، مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی اور مولانا حکیم محمد حسن دیوبندی کا مختصر مگر بامعنی تعارف پیش کیا گیا ہے۔

عین الحق امینی قاسمی نے اس امر کو بھی واضح کیا ہے کہ ان نابغۂ روزگار اساتذہ سے مولانا آہ مظفرپوری نے کس طرح علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ اسی طرح مولانا عبد الشکور کی جامعِ علم و روحانی شخصیت اور پیرِ کامل مولانا بشارت کریم کے حوالے سے بھی اہم نکات بیان کیے گئے ہیں۔ مضمون کا اختتام حرفِ آخر کے ذیلی عنوان کے تحت ایک جامع تجزیے پر ہوتا ہے۔مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مفتی عین الحق امینی قاسمی عنوان اور نفسِ مضمون کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔اس کے بعد مرتب نے ’’حضرت شیخ الہند کے شاگردانِ رشید‘‘ کے عنوان سے ایک جامع مضمون پیش کیا ہے، جس میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی ہمہ جہت علمی و عملی شخصیت اور ان کے فیض یافتہ تلامذہ کی درخشاں خدمات کا وقیع تذکرہ ملتا ہے۔ تاہم اس مضمون میں متعدد مقامات پر پروف ریڈنگ کی بعض خامیاں بھی نظر آتی ہیں، جو توجہ کی طالب ہیں۔اسی طرح ’’مولانا محمد علی مونگیری اور قادیانیت‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون شامل ہے ۔اس مضمون میں فتنۂ قادیانیت کے پس منظر، اس کے فکری و اعتقادی تلبیسات، اور مولانا مونگیریؒ کی جانب سے اس گمراہ کن تحریک کے خلاف کی گئی علمی، دعوتی اور عملی جدوجہد کا نہایت جامع اور مدلل احاطہ کیا گیا ہے۔ مضمون کے ذیلی عنوانات مثلاً ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘، مونگیر میں قیام،فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی،یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے، حضرت کے کام کا مزاج و انداز، مرزائیوں سے ایک تاریخی مناظرہ، مولانا کی تصنیفات کے اصلاحی اثرات اور ردِ قادیانیت پر حضرت مونگیریؒ کی اہم تصانیف،فیصلہ آسمانی، شہادت آسمانی، ابطالِ اعجازِ مرزا،چیلنج محمدیہ، مرزائی نبوت کا خاتمہ، معیارِ صداقت،چشمۂ ہدایت اور عبرت خیز ذیلی عنوانات شامل ہیں۔ جس میں مولانا مونگیری کی جدوجہد کی فکری گہرائی اور دینی بصیرت کو پوری طرح آشکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مزید برآں، موجودہ ماحول میں حضرت مونگیریؒ کی خدمات کے دیرپا اثرات اور پڑوسی ملک میں ردِ قادیانیت کے حوالے سے ان کی مساعی کا اثر بھی نہایت خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے، جس کے اختتام پر تشکر و امتنان کے عنوان سے اعترافِ خدمات پیش کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں اس کے بعد مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ کی ملی خدمات، امیرِ شریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ، مولانا مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحیؒ، مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ، مولانا محمد سالم قاسمیؒ، مولانا محمد قاسم بھاگل پوریؒ، مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ، مولانا ہارون الرشید قاسمیؒ، قاضی عبد الجلیل قاسمیؒ، مولانا معز الدین قاسمیؒ، مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ، مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ، مولانا عبد الحفیظ قاسمیؒ، مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانیؒ، حضرت مشفقِ ملتؒ، مولانا سہیل احمد ندویؒ، مولانا محمد اسلام قاسمیؒ اور مولانا سید طاہر حسین گیاویؒ کی علمی، دعوتی اور قلمی خدمات کا سنجیدہ اور متوازن جائزہ پیش کیا گیا ہے۔کتاب کا بابِ دوم: ’’ادباء و دانشوران‘‘ اپنے موضوع، تنوع اور فکری وسعت کے اعتبار سے نہایت وقیع اور چشم کشا ہے۔ اس باب میں مرتب نے محض شخصیات کے تعارف پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کے فکری مزاج، ادبی شعور، تہذیبی وابستگی اور عصری معنویت کو بھی پوری بصیرت کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ الحاج غلام سرور سے لے کر ڈاکٹر راحت اندوری تک، اور پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی جیسے بلند پایہ نقاد و مفکر تک، ہر شخصیت کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ قاری کو ان کے فکری مقام، ادبی جہت اور تہذیبی اثرات کا ہمہ گیر ادراک حاصل ہو جاتا ہے۔اسی طرح پروفیسر ظفر احمد صدیقی، ابن الحسن عباسی، مولانا آزاد اور مولانا محمد ولی رحمانی کی علمی و فکری خدمات کو ایک مربوط تناظر میں پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ باب محض تذکرہ نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ علی برادران کی دینی جدوجہد اور ان کے سیاسی و ملی کردار پر مشتمل مضمون ہو یا ’’حاجی گلزار اعظمی: ایک اسم، ایک جہت‘‘ جیسا جامع اور بامعنی عنوان ہر تحریر اپنے اندر فکری پختگی، اعتدالِ نظر اور تاریخی شعور سموئے ہوئے ہے۔ بلاشبہ یہ باب اردو ادب، ملی فکر اور عصری دانش کے باہمی رشتے کو سمجھنے میں نہایت معاون ثابت ہوتا ہے اور کتاب کی علمی قدر و قیمت میں قابلِ لحاظ اضافہ کرتا ہے۔

مفتی عین الحق امینی قاسمی کی کتاب:’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘: ایک مطالعہ
مفتی عین الحق امینی قاسمی کی کتاب:’’بڑی ہے داستان ان کی‘‘: ایک مطالعہ

زیرِ تبصرہ کتاب اپنے مجموعی مزاج کے اعتبار سے محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ دینی، ملی، علمی اور ادبی روایت کی ایک مربوط اور باوقار تصویر ہے۔ مرتب نے نہایت محنت، سلیقے اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ایسے اکابر و مشاہیر کی خدمات کو یکجا کیا ہے جن کی زندگیاں علم و عمل، دعوت و اصلاح اور اخلاص و للہیت کا روشن نمونہ ہیں۔ کتاب کا اسلوب متوازن، مواد وقیع اور انتخابِ مضامین اس بات کا شاہد ہے کہ مرتب کے پیشِ نظر محض جمع و ترتیب نہیں، بلکہ فکری رہنمائی اور تاریخی شعور کی آبیاری بھی ہے۔خصوصاً نئی نسل کے لیے یہ کتاب اس اعتبار سے نہایت مفید ہے کہ وہ ان شخصیات کے افکار و خدمات سے واقف ہو سکے جنہوں نے نہایت نامساعد حالات میں دین، ملت اور زبان کی شمع روشن رکھی۔ یہ تصنیف قاری کو ماضی سے جوڑتی ہے، حال کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے اور مستقبل کے لیے فکری سمت متعین کرتی ہے۔اختتام پر حاجی گلزار اعظمیؒ کی خدمات کا اعتراف اور ان کے حوالے سے پیش کیا گیا شعری انتخاب کتاب کے مجموعی تاثر کو مزید مؤثر بنا دیتا ہے اور قاری کے ذہن میں یہ احساس تازہ کر دیتا ہے کہ خلوص سے کیا گیا کام کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ بلاشبہ یہ کتاب اردو ادب، دینی فکر اور ملی تاریخ میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے اور اہلِ علم و ذوق کے کتب خانوں میں جگہ پانے کی پوری مستحق ہے۔یہ کتاب 260 صفحات پر مشتمل ہے، جس کے سرورق پر منبر کا بامعنی نقشہ ثبت ہے۔ یہ کتاب اردو ڈائریکٹوریٹ، محکمۂ کابینہ سکریٹریٹ، حکومتِ بہار کے اشاعتی امداد منصوبہ کے تحت موصول ہونے والی رقم سے جون 2024ء، ذی الحجہ 1445ھ میں اردو منزل، خاتون پور، بیگو سرائے (بہار) سے شائع ہوئی۔ جبکہ اس کی طباعت مرکزی پبلیکیشنز، نئی دہلی سے ہوئی ہے،پس ورق پر جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے سابق استاد مولانا عبد السبحان رحمانی کے دعائیہ کلمات ہیں،پہلا اور دوسرا فیلپ خالی ہے، اگر اس پر اہل علم کے تاثرات شامل کر لیے جاتے تو اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جاتا،مرتب نے اس کتاب کا انتساب ممتاز عالمِ دین مفتی خالد حسین نیموی قاسمی اور مولانا زین العابدین قاسمی کے نام معنون کیا ہے۔ کتاب پر آئی ایس بی این نمبر درج ہے، جب کہ اس کی کمپوزنگ اور تزئین قاسمی گرافکس، روسرڑا، سمستی پور کے پروپرائٹر مفتی محمد ذوالقرنین قاسمی بیگو سرائیوی نے کی ہے۔کتاب کی قیمت 350 روپے مقرر کی گئی ہے۔کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:9931644562

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply