کیف بھوپالی لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے

معصوم مرادآبادی

 دنیائے شعروشاعری میں برسوں اپنا جلوہ دکھانے والے البیلے شاعرکیف بھوپالی20/فروری 1917 کو پیدا ہوئے مگریہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کی پیدائش بھوپال میں نہیں بلکہ لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ان کے خاندان میں یہ رواج تھا کہ عورت زچگی کی حالت میں بھوپال سے لکھنؤ جایا کرتی تھی اور ان کے خاندان کا ہر بچہ وہیں پیدا ہوا کرتا تھا تاکہ وہ پیدائشی تہذیب یافتہ ہو، مگر کیف بھوپالی کی پیدائش کے بعد خاندان کی اقتصادی حالت اچھی نہیں رہی اور کوئی اتنے مصارف برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا، چنانچہ اس رواج کے تحت کیف بھوپالی لکھنؤ میں پیدا ہونے والے اپنے خاندان کے آخری فرد تھے۔۔

کیف بھوپالی لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے
کیف بھوپالی

یہ باتیں مجھے برسوں پہلے کیف بھوپالی نے ایک انٹرویو کے دوران بتائی تھیں۔اس انٹرویو کی تفصیلات بھی کم دلچسپ نہیں ہیں۔

یہ جون 1987 کی ایک گرم صبح تھی۔ مجھے کیف بھوپالی کا انٹرویو لینا تھا۔ طے شدہ وقت پرجب میں نے جن پتھ ہوٹل کی پہلی منزل پر پہنچ کر ان کے کمرے کی بیل بجائی تو خود کیف صاحب اپنے پاجامے میں ایزار بند ڈالتے ہوئے برآمد ہوئے۔وہ ابھی نہادھوکر تازہ دم ہوئے تھے اور میرے منتظر تھے۔مجھ سے بیٹھنے کو کہا اور وہیں رکھے ہوئے ایک بوسیدہ بریف کیس سے اپنا لمبا سا کرتا نکال کر پہن لیا۔ میں نے دیکھا کہ اس بریف کیس کاتالا ٹوٹا ہوا تھا اور انھوں نے اسے ایک دوسرے کمربند سے باندھ رکھا تھا۔ہوٹل کے کمرے میں ان کی چیزیں بے ترتیب پڑی ہوئی تھیں۔انھوں نے چائے کا آرڈر دیا اور ایک چھوٹی سی شیشی سے سرسوں کا تیل نکال کر اپنے سرپر ملنے لگے۔ بال بھی بہت کم تھے۔اسی تیل کے چند قطرے اپنے چہرے پر بھی لگائے اور وہ انٹرویو دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ ان کا آخری دور تھا۔بڑھاپے کے آثار نمایاں تھے اور چہرہ بھی اندر کو دھنسا ہوا تھا۔لیکن وہ مشاعروں میں اسی جوش وخروش کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ گزشتہ رات بھی پرگتی میدان میں عالمی اردو کانفرنس کے مشاعرے میں انھوں نے خوب رنگ جمایا تھا۔

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

تہمتیں، رسوائیاں، بدنامیاں

 کیف بھوپالی عجب قلندرانہ مزاج اور متضاد طبیعت کے مالک تھے۔انھوں نے غزلیں بھی لکھیں تو نفاست میں دھلی ہوئی، فلمی نغمے بھی لکھے تو ’پاکیزگی‘ میں دھلے ہوئے اور قرآن کا منظوم ترجمہ بھی کیا تو انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ مگر جام وسبو سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔علامہ سیماب اکبرآبادی کے بعد شاید کیف بھوپالی ہی واحد شخصیت ہیں جنھیں خداوند قدوس نے قرآن کے منظوم ترجمہ کی سعادت بخشی اور رند مشرب نے بہت ہی عقیدت کے ساتھ خدا کے کلام بلاغت نظام کو’’مفہوم القرآن“کے نام سے منظوم ترجمہ کا پیراہن عطاکیا۔

کیف بھوپالی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ انھوں نے غزل میں بھی روایت کی پاسداری کی۔ انتہائی شائستہ لہجے میں شاعری کی اور غزل کو وقار اور شائستگی بخشی۔ انھوں نے انسانی جذبات واحساسات کی نہایت سہل انداز میں تصویرکشی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری عوامی ذہنوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے اور دلوں کو مسحور کرلیتی ہے۔وہ ایک خوش مزاج اور لبرل انسان تھے۔زبان پر بلا کی گرفت تھی۔بہت خوب کہتے تھے اور اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کرتے تھے۔انھیں عام لوگوں کے ساتھ رہنا پسند تھا۔ ان کی شخصیت اور بودوباش میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ مگران کی زندگی اتنی ہی بے ترتیب اور بے ہنگم تھی۔شاعروں کے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیف بھوپالی مشاعروں کے مقبول ترین شاعر تھے اور ہمہ وقت سفر میں رہتے تھے۔

یہ میری ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ اس سے پہلے انھیں بارہا لال قلعہ اور ڈی سی ایم کے مشاعروں میں سنا تھا۔ جب وہ مخصوص ترنم سے اپنا کلام سناتے تو ان کے چاہنے والے جھومنے لگتے تھے۔ترنم میں سوزوساز دونوں کی آمیزش تھی۔ لوگ انھیں بہت دل لگاکر سنتے تھے۔محرومیاں، مجبوریاں اور لاچاریاں ان کا مقدر تھیں۔ان کی مشہور غزل کا ایک شعر یوں ہے۔

ہم ترستے ہی نہیں ترستے ہی ترستے ہی رہے

وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے

ہر مشاعرے میں ان سے اس شعر کو سننے کی فرمائش ہوتی تھی۔ ان کے مداح فرمائش کرتے تھے ”کیف صاحب، وہ تین فلانوں والا شعر سنادیجئے۔“وہ شعر ہی نہیں پوری غزل سنادیتے تھے۔

خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا

کیا ملے آپ جو اوروں کے ملانے سے ملے

سردیوں کے موسم میں جب ضلع بجنور کے مختلف علاقوں میں مشاعرے ہوتے تو کیف صاحب سیوہارہ کو اپنا مرکز بنالیا کرتے تھے۔ اسٹیشن روڈپر ایک آرہ مشین تھی وہ اسی کے پاس اپنا کھٹولہ بچھاکر اپنے مداحوں سے ملتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں شاعروں کا ایک مثلث تھا جس میں کیف بھوپالی، شمیم جے پوری اور خمار بارہ بنکوی سب سے زیادہ مقبول تھے۔یوں تو ترنم کی وجہ سے خمار بارہ بنکوی کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ تھی، لیکن کیف صاحب بھی کم مقبول نہیں تھے۔ایک رات نور پور میں مشاعرہ تھا۔رات کے تین بجے مشاعرہ ختم ہوا تو لفافہ لے کر ٹھیکے پر پہنچ گئے، مگروہ بند تھا۔ انھوں نے ساقی کو آواز دی تو اس نے پوچھا کون؟ کیف صاحب کا نام سن کر وہ آنکھیں ملتا ہوا باہر نکل آیا اور دکان کھول کر کیف صاحب کی فرمائش پوری کی۔

کیف بھوپالی کا فلمی دنیا سے بھی قریبی تعلق رہا۔ کمال امروہی کی فلم ’پاکیزہ‘ میں ان کے گانے بہت مقبول ہوئے۔فلمی دنیا سے اپنی وابستگی کی داستان بیان کرتے ہوئے کیف صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ ”اداکارہ زینت امان کے والد امان اللہ خاں بھی شاعر تھے، شمیم ان کا تخلص تھا۔ بھوپال کی رائل فیملی سے ان کا تعلق تھا، وہ میرے بچپن کے دوست تھے۔ انھوں نے مجھے بمبئی بلالیا اور کمال امروہی سے میری ملاقات کرائی۔ یہ 1949کی بات ہے جب کمال امروہی اپنی فلم”محل“بنارہے تھے۔ پہلی مرتبہ میں نے کمال امروہی کی فلم ”دائرہ“ کے لیے نغمے لکھے۔ مگر اصل دھوم فلم ”پاکیزہ“ کے نغموں نے مچائی۔ ”پاکیزہ“ کی ریلیز کے بعد میری بہت آؤ بھگت ہونے لگی، ورنہ مجھے کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا۔ میری تمام صلاحیتوں، قابلیتوں کے باوجود مجھے کبھی نہیں پوچھا گیا۔“کیف بھوپالی کا یہ دلچسپ انٹرویو خاکسار کی کتاب ’بالمشافہ‘ میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply