میٹرک کا نتیجۂ امتحان، حقائق اور مضمرات
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
بہار اسکول اکزامیشن بورڈ نے 2026 کے میٹرک کا نتیجہ امتحان 29؍مارچ کو جاری کیا، ریاستی سطح پر اول مقام صبرین پروین بنت محمد شہزاد اور پشپانجلی کماری نے مشترکہ طورپر حاصل کیا، ان دونوں نے مجموعی پانچ سو نمبرات میں 492 نمبر حاصل کرکے اس مقام پر قبضہ کیا، ان دونوں کے نمبرات کا فی صد 98.4 ہے، اس سے قبل 2023 میں محمد رمان اشرف ٹاپر ہوئے تھے اور انہوں نے یہ مقام پانچ سو میں 489 نمبر حاصل کرکے پایا تھا، اس سے قبل اور بعد دس سالوں تک کوئی مسلمان ٹاپر نہیں بن سکا تھا، اس نتیجہ امتحان کی بڑی خاص بات یہ ہے کہ سرفہرست دس کامیاب امیدواروں میں گیارہ مسلم طلبہ ہیں، صبرین پروین ویشالی ضلع کے چہرا کلاں بلاک کے چھوراہی گاؤں کی رہنے والی ہیں، اس نے ہائر سکنڈری اسکول چھوراہی سے امتحان دیا تھا، جب کہ پشپانجلی کماری جموئی کے سمتلہ رہائشی اسکول سے امتحان دے کر اس مقام پر پہونچیں، وہ آبائی طور سے رجون بلاک کی سنگھنان پنچایت کے گوپال پور کی باشندہ ہے، ان کے والد لال موہن شرما بھگوان پور اسکول میں ٹیچر ہیں اور والدہ وسندھو دیوی گھریلو خاتون ہیں، جو لوگ چھوراہی کو جانتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی بستی ہے، اس اعتبار سے یہ بستی ضرور اہم ہے کہ کبھی یہاں احسان حسن خان نے زندگی کے ایام پورے کیے اور صاحب دیوان شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں متعارف ہوئے، انہوں نے اپنے ایک زمین دار رشتہ دار کی وجہ سے جو لاولد تھے، ان کے یہاں بود وباش اختیار کرلی تھی، دوسرے نمبر پر بیگوسرائے کی ناہید سلطانہ رہیں، انہوں نے 97.6 فی صد نمبرات یعنی چار سو نواسی نمبر حاصل کیا، مسلم طلبہ وطالبات میں نسرین پروین (بھوجپور) نے پانچواں، عائشہ خاتون (بانکا)، شمشیر احمد (سمستی پور) اور بابر علی (ویشالی) نے مشترکہ طورپر چھٹا، شمع پروین (بیگوسرائے) اور محمد توحید کو مشترکہ طورپر ساتواں، سائنہ پروین کو آٹھواں، سمیہ اعجاز اور سعدیہ سمیع کو مشترکہ طورپر نواں مقام حاصل ہوا ہے، سعدیہ سمیع مظفرپور ضلع کے اورائی بلاک کی رہنے والی ہیں اور ایس ایس اردو ہائی اسکول اورائی کی طالبہ تھیں، ان سب نے اپنی کامیابی کا سہرا والدین کے سر باندھا ہے، اسباب کے درجہ میں انہوں نے پندرہ پندرہ گھنٹے پڑھتے رہنے کی بھی بات کہی ہے، ان کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ ہماری لڑکیاں خاص طورسے تعلیم میں آگے بڑھ رہی ہیں، سرفہرست نو مسلم میں صرف ایک لڑکا بابر علی ہے، ورنہ سب بچیاں ہی ہیں، یہی حال دوسرے مذاہب کے امیدواروں کا ہے، وہاں بھی لڑکیوں نے ہی بازی ماری ہے، گذشتہ دو دہائیوں کے مختلف امتحانات کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کے سلسلے میں لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں زیادہ حساس اور سنجیدہ ہیں، سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی ان کی توجہ تعلیم پر مرکوز رہتی ہے۔

اس بار کے امتحان میں کامیاب امیدواروں کا تناسب مجموعی طورپر 81.79 فی صد ہے، اس میں طالبات 86.23 فی صد اور طلبہ 84.9 فی صد ہی کامیاب ہوپائے ہیں، مشترکہ طورپر نمبر برابر ہونے کی وجہ سے سرفہرست دس نمبر تک کل 139 طلبہ وطالبات نے جگہ بنائی جو بہت بڑی تعداد ہے، ایک سے دس تک پوزیشن پانے والوں میں صرف گیارہ نمبر کا فاصلہ رہا، اب تک سرفہرست ایک سے دس تک اتنی بڑی تعداد نہیں آئی تھی، اس کے پہلے 2025 میں ٹاپ 10 میں 123، 2024 میں 51، 2023 میں 90، 2022 میں 47، 2021میں 101، 2020میں صرف اکتالیس طلبہ وطالبات ایک سے دس تک ٹاپ ہونے والوں میں شامل تھیں۔
جو لڑکیاں اول پوزیشن پر آئیں، انہوں نے ماضی کے سارے رکارڈ توڑ ڈالے، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پانچ سو میں 492 نمبر اول پوزیشن کو ملے، گذشتہ سال کے ٹاپر نے 489 نمبر ہی حاصل کیا تھا، امسال میٹرک کے امتحان میں 15,10,928 طلبہ وطالبات شریک ہوئیں، جن میں7,26,057 لڑکے اور 7,84,871 لڑکیاں تھیں، ان میں سے 12,35,743 طلبہ وطالبات کامیاب قرار پائے، کامیاب طلبہ کی تعداد 6,01,390 اور طالبات 6,34,353 ہے، ڈویزن کے اعتبار سے شرکاء امتحان کو دیکھیں تو فرسٹ ڈویزن 2,34,501 لڑکے اور 2,09,222 لڑکیاں، سکنڈ ڈویزن لڑکے 2,25,011 لڑکیاں 2,50,500، تھرڈ ڈویزن لڑکے 1,35,676 اور لڑکیاں 1,67,427 اور صرف پاس قرار پانے میں طلبہ 6,202 اور طالبات 7,204 ہیں،ایک تجزیہ کے مطابق کامیاب امیدواروں میں چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے طلبہ وطالبات کی تعداد زیادہ ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہاں خرافات میں مشغولیت کے اسباب بڑے شہروں کی بہ نسبت کم ہیں۔
ضلعی اعتبار سے دیکھیں تو اڑتیس میں سے پینتیس ضلعوں نے ٹاپر دیا، سب سے آگے بیگوسرائے رہا، جس نے سترہ ٹاپر دیے، دوسرے نمبر پر اورنگ آباد، جبکہ راجدھانی پٹنہ جو بہار کا تعلیمی مرکز ہے، وہاں سے صرف ایک طالب علم رینک میں آسکا، وہ بھی کسی سرکاری اسکول کا نہیں، سنت زیور یریس اسکول کا ہے، یہاں سے سہانی سونم نے دسویں مقام میں جگہ بنائی ہے، کامیاب طلبہ وطالبات پر انعام کی بارش ہوگی، رینک ایک کو دو لاکھ، دو کو ڈیڑھ لاکھ، تین کو ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے، دو سال تک دو ہزار روپے ماہانہ اسکالرشپ بھی انہیں ملے گی۔
نتیجہ امتحان صرف 28 دن میں اسکول اکزامیشن بورڈ نے جاری کیا، نوے لاکھ کاپیوں کی جانچ کی گئی، امتحان میں سختی کی وجہ سے کامیابی کا تناسب 81.79 رہا، حالاںکہ یہ تناسب 2025 میں 82.11 اور 2024 میں 82.91 فی صد تھا، رینک اور ٹاپر کا مقام حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے، قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال اس معاملہ پر کافی ہنگامہ ہوا تھا، کیوں کہ جس لڑکی نے انٹر امتحان میں پہلا مقام حاصل کیا تھا وہ اصلاً ان پڑھ اور جاہل تھی، روبی رائے نام تھا، اسے پولیٹیکل سائنس کی اسپیلنگ تک معلوم نہیں تھی، اس نے ایک انٹرویو میں پولیٹیکل سائنس کو پوٹیکل سائنس بتایا تھا، اس معاملہ کے قصوروار لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی اور یہ قضیہ کاپی جانچ کی شفافیت پر سوالیہ نشان بن کر پورے ہندوستان میں بہار کی بدنامی کا سبب بنا تھا۔
اس کے بعد سے بہار اسکول اکزامیشن بورڈ نے اپنے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی، نتیجہ شائع ہونے کے قبل ایک سے دس تک سرفہرست رہنے والے امیدواروں کی کاپیاں دوبارہ چیک کی جاتی ہیں، پھر طلبہ وطالبات کو پٹنہ انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے، نصاب سے متعلق سوالات پوچھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، تب لکھوا کر دیکھا جاتا ہے، کاپی سے اس کی تحریر ملائی جاتی ہے کہ کہیں کسی دوسرے نے تو کاپی نہیں لکھی ہے، اتنے مراحل سے گذرنے کے بعد تب کہیں پوزیشن کی تعیین ہوتی ہے، ان تمام مراحل میں کبھی پوزیشن اوپر نیچے بھی ہوجاتا ہے، لیکن شفافیت برقرار رہتی ہے، یہ بڑی تبدیلی آنند کشور صاحب کے بہار اسکول اکزامیشن بورڈ کے چیرمین بننے کے بعد آئی ہے،، اس کے لیے وہ بھی طلبہ،طالبات وگارجین کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔
اسکولوں میں اساتذہ اگر معیار تعلیم پر توجہ دیں تو کامیابی کا فی صد اور اچھا ہوسکتا ہے، وزارت تعلیم کی طرف سے سعی کے باوجود کوالٹی ایجوکیشن میں اب بھی کمی ہے، سدھار صرف اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری میں ہوا ہے، اسکول سے غائب رہنے کی روایت میں کمی آئی ہے، لیکن پڑھنے پڑھانے کا مزاج اب بھی اساتذہ کا نہیں بن پایا ہے، اسکولوں میں کلاس روم کی بھی کمی ہے، مڈل اور ہائی اسکول تک کے کلاس دوچار کمروں میں چل رہے ہیں، اساتذہ کی تعداد بڑھی ہے، لیکن وہ کہاں پڑھائیں، طلبہ وطالبات کہاں بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں، اس کی طرف محکمہ کی توجہ بالکل نہیں ہے، اس لیے بچے پانچویں، چھٹے تک چلے جاتے ہیں، انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا، جو اساتذہ تعلیم پر مامور ہیں، انہیں غیر تدریسی کاموں میں استعمال کرنے کی وجہ سے بھی طلبہ کا حرج ہوتا ہے، بی۔ایل۔او۔ مڈڈے میل روزانہ جاری ہونے والے ریاستی اور ضلعی افسران کی ہدایات کی کاغذی تکمیل، انتخابات کرانے اور اس سے متعلق سارے کام انہیں سے لیے جاتے ہیں، اب مردم شماری کا مرحلہ ہے، کئی ماہ تک وہ اس کام میں مشغول رہیں گے، اسکول میں ان کی حاضری نہیں ہوپائے گی اور کارطفلاں تمام ہوجائے گا۔
معیاری تعلیم کے لیے گارجین حضرات کی توجہ بھی بہت ضروری ہے، کیوں کہ طلبہ وطالبات کا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گذرتا ہے، ایسے میں ان کے اوقات کے صحیح استعمال کی بڑی معنویت ہے، حکومت، اساتذہ اور گارجین کسی بھی تعلیمی نظام کے ارکان اربعہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی کوتاہی کرے گا تو تعلیمی نظام کمزور ہوگا، اس کے باوجود نتیجہ امتحان تسلی بخش ہے، ادارہ تمام کامیاب طلبہ وطالبات کو مبارکباد دیتا ہے اور ان کے روشن مستقبل کی تمنا کرتا ہے۔






