نام کتاب : جرنیلی سڑک (سفر نامہ)

مصنف : رضا علی عابدی

صفحات: 316

اشاعت: 2026 عیسوی

ناشر: نگارشات بک اسٹور دیوبند

تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی مدرس دارالعلوم دیوبند

جرنیلی سڑک، جسے عام طور پر جی ٹی روڈ کہا جاتا ہے، دراصل برصغیر کی ان قدیم اور تاریخی شاہراہوں میں سے ہے جنہوں نے صدیوں تک ہندوستان کے مختلف علاقوں کو باہم مربوط رکھا اور سفر، تجارت، ڈاک، تمدن اور تہذیب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ سڑک دارالعلوم دیوبند کے شمال اور مشرق کی جانب سے گزرتی ہے اور تاریخی اعتبار سے کابل سے کلکتہ تک پھیلی ہوئی ایک عظیم شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج یہ ہندوستان، پاکستان اور افغانستان، تین ملکوں کے علاقوں سے گزرتی ہے۔

جرنیلی سڑک (سفر نامہ)
جرنیلی سڑک (سفر نامہ)

اس شاہراہ کا ابتدائی نام سڑکِ اعظم تھا، جسے مصنف رضا علی عابدی نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر شاہراہِ اعظم کے نام سے بھی تعبیر کیا ہے۔ (دیکھیے: ص 56، 273)۔ بعد ازاں جب شیر شاہ سوری کا عہد ختم ہوا اور مغلیہ سلطنت کا آغاز ہوا تو اس کا نام بادشاہی سڑک رکھا گیا۔ انگریزی اقتدار کے دور میں اس کا نام گرینڈ ٹرنک روڈ (Grand Trunk Road) قرار پایا، جس کا اختصار جی ٹی روڈ (GT Road) ہے؛ اور یہی نام آج بھی عوامی زبان کے ساتھ ساتھ سرکاری دستاویزات میں بھی معروف و مستعمل ہے۔

اس عظیم شاہراہ کی مجموعی طوالت تقریباً 2500 کلومیٹر بیان کی جاتی ہے، جب کہ قدیم کتابوں میں اسے تقریباً 1500 میل لکھا گیا ہے۔ اس شاہراہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کے دونوں جانب مسافروں کی سہولت کے لیے بڑی تعداد میں سرائیں تعمیر کی گئی تھیں۔ روایت کے مطابق تقریباً 1700 سرائیں اس شاہراہ کے اطراف میں قائم کی گئیں، جن کے ساتھ مساجد بھی تعمیر کی گئیں، بلکہ بعض مقامات پر مندروں کا بھی انتظام تھا۔ ان سراؤں میں مسافروں کے قیام و طعام، جانوروں کے چارے اور دیگر ضروریات کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا اور علاج معالجے کی سہولت بھی میسر تھی۔

اسی شاہراہ پر مناسب فاصلوں سے کوس مینار تعمیر کیے گئے تھے۔ بعض مقامات پر آج بھی ان قدیم میناروں کے آثار موجود ہیں، مثلاً دہلی کے چڑیا گھر اور بعض دوسرے مقامات پر ان کی نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ مینار تقریباً تیس فٹ بلند ہوتے تھے اور مسافروں کے لیے فاصلے کی علامت کا کام دیتے تھے۔ ڈاک کے نظام میں بھی ان کی خاص اہمیت تھی؛ ڈاک کا گھوڑا ایک مقررہ مقام تک پہنچتا، وہاں دوسرا گھوڑا پہلے سے تیار رہتا اور ڈاک اس کے ذریعے اگلے پڑاؤ تک پہنچا دی جاتی۔ یوں اس دور کے وسائل کے مطابق ایک منظم اور مؤثر ڈاک کا نظام قائم کیا گیا تھا۔

شیر شاہ سوری اور جرنیلی سڑک

اس عظیم شاہراہ کی تعمیر و تنظیم کا سب سے روشن باب شیر شاہ سوری کے عہد سے وابستہ ہے۔ سولہویں صدی میں ہندوستان کے اس نامور فرماں روا کو حکومت کرنے کے لیے صرف پانچ سال پانچ ماہ کا مختصر عرصہ ملا، لیکن اس قلیل مدت میں انہوں نے انتظامِ سلطنت، تعمیر و ترقی، امن و امان، زراعت، ڈاک، شاہراہوں، سراؤں، عدلیہ اور مالیاتی نظام کے میدان میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ تاریخ ان کے نام کو سنہری حروف میں رقم کرنے پر مجبور ہے۔

شیر شاہ سوری کے عہد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے محض تخت و تاج کی حفاظت پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی اور رعایا کی آسودگی کو اپنی حکومت کا مطمحِ نظر بنایا۔ ان کے زمانے کے امن و امان کا یہ عالم بیان کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی بوڑھی عورت بھی ہاتھ میں سونا لے کر سفر کرتی تو کسی کو اس سے وہ سونا چھیننے کی جرأت نہ ہوتی۔ ان کے عہد کی یہی امن پسندی اور انتظامی گرفت ان کی حکمرانی کا امتیاز سمجھی جاتی ہے۔

جب شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کیا تو ایک بوڑھی عورت نے برجستہ کہا: آخر دہلی کو اس کا دولہا مل ہی گیا۔ یہ جملہ اگرچہ تاریخی روایت کے طور پر نقل کیا جاتا ہے، لیکن اس میں اس دور کے عوامی تاثرات کی ایک جھلک ضرور ملتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ شیر شاہ سوری نے آئینے میں اپنے بالوں میں سفیدی دیکھی تو انہیں احساس ہوا کہ زندگی کی مہلت محدود ہے۔ اس موقع پر ان سے منسوب ہے کہ انہوں نے کہا کہ اب فرصت بہت کم معلوم ہوتی ہے، اس لیے ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے آپ کو لگا دینا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے پوری قوت کے ساتھ ملک کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا۔

سڑکیں بنوائیں، سرائیں تعمیر کرائیں، کنویں کھدوائے، مساجد قائم کیں، عدالتیں قائم کیں، قانون کا نفاذ مضبوط کیا، امن و امان کو مستحکم کیا، کاشت کاری کے نظام کو منظم کیا، لگان کا نظام مرتب کیا، ڈاک کا مؤثر انتظام قائم کیا، تعلیم اور صحت کے میدان میں اقدامات کیے اور کرنسی کے نظام کو استحکام بخشا۔ یوں ایک مختصر عہدِ حکومت میں انہوں نے سلطنت کے نظم و نسق کو جس جامعیت اور حسنِ انتظام سے آراستہ کیا، وہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا ایک قابلِ ذکر باب ہے۔ مصنف نے بھی ان خدمات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ (دیکھیے: ص 189)

رضا علی عابدی کا سفرنامہ

جرنیلی سڑک محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، تہذیب، معاشرت اور انسانی مشاہدات کا ایک دل کش مرقع ہے۔ یہ کتاب دراصل رضا علی عابدی نے بی بی سی لندن کی اردو سروس کے ایک پروگرام کے لیے تیار کی تھی۔ اس کے تحت انہوں نے پندرہ پندرہ منٹ کے 36 پروگراموں میں اس سفر اور اس سے متعلق معلومات کو پیش کیا۔ بعد میں یہی مواد کتابی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔

رضا علی عابدی اردو صحافت، براڈ کاسٹنگ اور سفرنامہ نگاری کا ایک معروف نام ہیں۔ ان کی ولادت 30 دسمبر 1935ء کو ہری دوار، روڑکی، اتراکھنڈ میں ہوئی۔ بعد میں وہ پاکستان منتقل ہوگئے اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ 1972ء سے بی بی سی کی اردو سروس میں ان کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور وہ اپنی طویل صحافتی زندگی کے بعد ریٹائر ہوئے۔

ان کے قلم سے متعدد کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں، جن میں اپنے ابا کی، ہمارے کتب خانے اور دوسری بہت سی کتابیں شامل ہیں۔ انہوں نے بڑوں کے لیے تقریباً سولہ اور بچوں کے لیے چودہ کتابیں تحریر کی ہیں۔ ادبِ اطفال کے میدان میں بھی ان کا قلم خاصا رواں اور مؤثر ہے۔ سفرنامہ نگاری میں ان کا اسلوبِ بیان نہایت شگفتہ، شستہ، دل نشیں اور رواں ہے۔

بی بی سی لندن کی جانب سے انہیں اس سفر کے لیے سہولت فراہم کی گئی اور انہوں نے تاریخی جرنیلی سڑک کا سفر پشاور سے کلکتہ تک کیا۔ اگرچہ تاریخی اعتبار سے اس شاہراہ کی نسبت کابل سے بھی کی جاتی ہے، تاہم مصنف نے اپنے سفر کا آغاز پشاور سے کیا۔ وہیں ایک پتھر کو دیکھ کر اس سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ لطیفہ بھی انہوں نے نقل کیا ہے کہ پشاور والے کہتے ہیں سڑک کا آغاز ہمارے یہاں سے ہوا اور کلکتہ والے کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں سے؛ اور لطف یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔

مصنف کا مشاہدہ وسیع اور نظر گہری ہے۔ انہوں نے راستے میں آنے والے بیشتر اہم مقامات، تاریخی آثار، قدیم عمارات، شہروں اور بستیوں کا تعارف پیش کیا ہے۔ تاہم کتاب کے ایک ہی مجلد میں سمٹ جانے کی وجہ سے سفر کے بعض حصوں کو نسبتاً اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جب کہ پشاور اور پاکستان کے علاقے کا حصہ زیادہ تفصیل سے سامنے آیا ہے۔ مثلاً جہلم میں واقع قلعۂ روہتاس کے احوال خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

یہ کتاب محض مصنف کے ذاتی مشاہدات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں بہت سے لوگوں کے تاثرات، روایات اور انٹرویوز بھی شامل ہیں۔ سفر کے دوران انہوں نے نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں، مردوں، بچوں، مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور مختلف مذاہب کے لوگوں سے گفتگو کی۔ حتیٰ کہ بعض مقامات پر ان پڑھ دیہاتیوں سے بھی مکالمہ کیا اور ان کی باتوں کو تقریباً اسی انداز میں نقل کیا جس طرح وہ ان کی زبان سے ادا ہوئی تھیں۔ یہی چیز اس سفرنامے کو محض کتابی معلومات سے نکال کر زندہ انسانی دستاویز بنا دیتی ہے۔

مصنف کی زبان میں ایک خاص طرح کی بے ساختگی اور سلاست ہے۔ کہیں تاریخی واقعات کا بیان ہے، کہیں مقامی لوگوں کی گفتگو، کہیں کسی قدیم عمارت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور کہیں تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے حالات کا تقابلی مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ اسی لیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قاری محض ایک کتاب نہیں پڑھ رہا، بلکہ مصنف کے ہمراہ خود اس طویل شاہراہ پر سفر کر رہا ہے۔

جرنیلی سڑک (سفر نامہ)
جرنیلی سڑک (سفر نامہ)

کتاب میں بعض نہایت اہم تاریخی حقائق بھی سامنے آتے ہیں۔ مثلاً ہریانہ کے حالات بیان کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ وہاں ہزاروں مساجد ویران ہوگئیں۔ امبالہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ وہاں تقریباً دو سو مساجد ہیں، لیکن ان میں سے صرف چار پانچ آباد ہیں۔ اس طرح کے مشاہدات کتاب کو ایک الگ تاریخی وقعت عطا کرتے ہیں اور تقسیمِ ہند کے بعد رونما ہونے والی سماجی و تہذیبی تبدیلیوں کی ایک جھلک سامنے آتی ہے۔

مصنف کو اس سفر کے سلسلے میں قارئین کی جانب سے خطوط بھی موصول ہوئے، جن میں سے بعض خطوط کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ ایک خط صفحہ 110 پر بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سفرنامہ محض پڑھا نہیں گیا بلکہ اہلِ ذوق نے اسے محسوس کیا اور اس پر اپنے تاثرات کا اظہار بھی کیا۔

پشاور سے کلکتہ تک

رضا علی عابدی نے پشاور سے سفر شروع کرکے راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، پانی پت اور دہلی کا رخ کیا، پھر دہلی سے آگرہ، آگرہ سے کانپور، کانپور سے بنارس اور بنارس سے سہسرام تک پہنچے۔ سہسرام میں شیر شاہ سوری کی قبر اور اس پر قائم عظیم الشان گنبد کا بھی مشاہدہ کیا۔ بالآخر سفر کلکتہ تک پہنچا، جہاں بوٹینکل گارڈن میں اس پتھر کو بھی دیکھا جسے اس عظیم شاہراہ کی آخری علامت قرار دیا جاتا ہے۔

یوں پشاور سے کلکتہ تک تقریباً 2500 کلومیٹر کا یہ سفر کتاب کے اوراق میں سمٹ آیا ہے۔ قاری گھر بیٹھے اس عظیم شاہراہ کے طول و عرض، اس کے تاریخی نشیب و فراز، اس کے کناروں پر آباد شہروں، قصبوں اور بستیوں اور وہاں کے لوگوں کے احوال سے آشنا ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جرنیلی سڑک کو محض ایک سفرنامہ کہنا شاید اس کی وسعتِ معنوی کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔ یہ ایک اعتبار سے تاریخ کی داستان ہے، دوسرے اعتبار سے مشاہداتی حقائق کا دفتر، تیسرے اعتبار سے برصغیر کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کا آئینہ اور چوتھے اعتبار سے انسانی جذبات و احساسات کی ایک دلچسپ دستاویز۔

اس میں تقسیمِ ہند سے پہلے کے ہندوستان کی جھلکیاں بھی ہیں اور تقسیم کے بعد کے بدلتے ہوئے حالات کے نقوش بھی۔ کہیں اجڑی ہوئی بستیوں کا نوحہ ہے، کہیں آباد شہروں کی رونق، کہیں قدیم عمارتوں کی داستانِ پارینہ ہے، کہیں لوگوں کی زبان سے نکلے ہوئے بے ساختہ جملے اور کہیں مصنف کے اپنے مشاہدے کی روشنی میں ماضی اور حال کا تقابل۔

مصنف نے جس انداز سے لوگوں سے گفتگو کی، ان کے حالات معلوم کیے اور ان کی باتوں کو محفوظ کیا، اس سے کتاب میں ایک خاص زندگی، حرکت اور صداقت پیدا ہوگئی ہے۔ یہی اسلوب اسے محض معلوماتی کتاب بننے سے بچاتا اور ایک دل کش ادبی سفرنامہ بنا دیتا ہے۔

ایک دلچسپ اور معلومات افزا مطالعہ

رضا علی عابدی کی سب سے بڑی خوبی ان کا اسلوبِ بیان ہے۔ وہ خشک تاریخی معلومات کو بھی اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ ان کی زبان شستہ، رواں، دل پذیر اور بے تکلف ہے۔ کہیں مزاح کی ہلکی سی چاشنی ہے، کہیں تاریخ کی سنجیدگی، کہیں مشاہدے کی باریک بینی اور کہیں انسانی جذبات کی ترجمانی۔

یہی جامعیت جرنیلی سڑک کو ایک ایسے سفرنامے میں تبدیل کردیتی ہے جس میں تاریخ بھی ہے، جغرافیہ بھی؛ تہذیب بھی ہے، معاشرت بھی؛ ادب بھی ہے اور زندگی کے رنگ بھی۔

یہ سفرنامہ پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض پشاور سے کلکتہ تک سفر نہیں کر رہا، بلکہ صدیوں کی تاریخ، تہذیب اور تمدن کے ایک طویل سفر سے گزر رہا ہے۔ شیر شاہ سوری سے لے کر مغلیہ عہد، انگریزی اقتدار، تقسیمِ ہند اور بعد کے ہندوستان و پاکستان تک کے مختلف ادوار کی جھلکیاں اس کے سامنے آتی رہتی ہیں۔

اس کتاب کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دیکھی ہوئی چیز اور سنی ہوئی بات دونوں کو جگہ دی گئی ہے۔ مصنف نے جو کچھ خود دیکھا، اسے بیان کیا اور جو کچھ مقامی لوگوں سے سنا، اسے بھی محفوظ کیا۔ اس طرح یہ کتاب محض مصنف کے نقطۂ نظر تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس میں مختلف طبقات کے لوگوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔

کتاب پڑھنے کی دعوت

میرے نزدیک جرنیلی سڑک ان کتابوں میں سے ہے جنہیں محض ایک مرتبہ پڑھ کر رکھ دینے کے بجائے فرصت کے لمحات میں بار بار دیکھا جاسکتا ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کے لیے اس میں تاریخی مواد ہے، سفرنامہ پسند کرنے والے کے لیے سفر کی روداد، ادب کے شائق کے لیے شستہ زبان و بیان، اور عام قاری کے لیے معلومات کا ایک وسیع خزانہ۔

قاری اگر اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو وہ گھر بیٹھے پشاور سے کلکتہ تک کا سفر بھی کرے گا، ماضی کے کئی ادوار سے آشنا بھی ہوگا اور برصغیر کے مختلف علاقوں کے جغرافیے، تاریخ، تہذیب اور معاشرت کے بارے میں بہت سی نئی باتیں بھی معلوم کرے گا۔

اس لیے اہلِ علم، اہلِ ادب، طلبہ، تاریخ کے شائقین اور سفرنامہ سے دل چسپی رکھنے والے قارئین سے میری درخواست ہے کہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔ مجھے یقین ہے کہ جرنیلی سڑک کا مطالعہ ان کے لیے معلومات افزا بھی ہوگا، دلچسپ بھی اور فکر انگیز بھی۔

تعارف لکھنے کا سبب

اس کتاب پر چند کلمات لکھنے کا موقع بھی ایک دلچسپ اتفاق کے نتیجے میں نصیب ہوا۔ میں ایک مرتبہ نگارشات بک اسٹور دیوبند کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک نگاہ جناب مولانا عبدالرحمن قاسمی پر پڑی۔ انہوں نے نئے عزم و حوصلے کے ساتھ کتب خانہ قائم کیا ہے اور کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ کتاب جرنیلی سڑک اور اس کے ساتھ رشید احمد صدیقی کی گنج ہائے گراں مایہ عنایت کی۔

میں نے کتابوں کی قیمت ادا کرنا چاہی، مگر انہوں نے قبول نہ کی۔ اس حسنِ سلوک کے جواب میں میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس کتاب کا تعارف لکھ دیا جائے، تاکہ اہلِ ذوق تک اس کی خبر پہنچے، لوگ اسے پڑھیں، اس کے علمی و ادبی فوائد سے بہرہ مند ہوں اور اس کی اشاعت میں بھی اپنا حصہ ادا کریں۔

میرے نزدیک شکریے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کی پیش کردہ علمی و ادبی کاوش کو لوگوں تک پہنچایا جائے اور اہلِ ذوق کو اس سے متعارف کرایا جائے۔

اللہ تعالیٰ جناب مولانا عبدالرحمن قاسمی صاحب کی اس علمی و ادبی خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے حوصلوں کو بلند فرمائے، ان کے اس کتب خانے کو علم و ادب کا مرکز بنائے اور انہیں ہر طرح کے خیر و خوبی سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply