خلاصۂ قرآن کریم
تیسرا پارہ
(مولانا ڈاکٹر )ابوالکلام قاسمی شمسی
تیسرا پارہ ’’تلک الرسل‘‘ سے شروع ہے، اس پارہ میں سورۂ بقرہ کا بقیہ حصہ ہے، پھر سورۂ آل عمران ہے، سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں انبیاء علیہم السلام کی فضیلت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ہم نے انبیاء علیہم السلام میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے، نبی اور رسول امت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتے ہیں ،لیکن انبیائے کرام میں بھی فرق مراتب ہے۔ نبیوں میں سے بھی بعض نبی دوسرے نبی سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو براہ راست اپنے ساتھ ہم کلام ہونے کا شرف بخشا تو کسی کو دوسرے اعزاز سے نوازا ۔ ویسے سبھی رسول اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور سب پر ایمان لانا ضروری ہے، مگر ان کی رسالت ان کے زمانہ تک محدود تھی، البتہ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ خاتم النبیین ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر ہے، اس کے بعد آیت الکرسی ہے، جس کی فضیلت بہت بیان کی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اور شرک کی کھل کر تردید کی گئی، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کو قرآن کی تمام آیتوں کا سردار قرار دیا ہے۔ (مستدرک حاکم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا جو شخص رات میں سوتے وقت اس آیت کو پڑھ لے، صبح تک اس کی حفاظت ہوگی۔ (بخاری) اس کے بعددو نبیوں کا ذکر ہے۔ان میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور مردوں کے زندہ کرنے کا مشاہدہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود عراق کا بادشاہ تھا، وہ حکومت اور جاہ ومنصب کی وجہ سے سرکش اور مغرور ہوگیا تھا۔ وہ اپنی رعایا میں جسے چاہتا ،قتل کردیتا اور جو مجرم قتل کا مستحق ہوتا ،اس کی سزا معاف کردیتا اور وہ اس کو زندہ سے تعبیر کرتا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو توحید کا پیغام لے کر نمرود کے پاس بھیجا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے توحید کا پیغام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے، تو نمرود نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، اس کی بات سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اللہ مشرق سے سورج نکالتا ہے، تم مغرب سے سورج نکال کر دکھائو، یہ سن کر نمرود ہکابکا رہ گیا، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال پر لاجواب ہوگیا،اس کے بعد ایک اور واقعہ کا ذکر ہے، جس کا موضوع بھی موت اور حیات ہے۔ واقعہ کی تفصیل سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوباخبر کیا اور ارشاد فرمایا: اے نبی! آپ نے اس شخص کے حال پرغور نہیں کیا، جو ایک بستی کے قریب سے گذرا جو اپنی چھت کے بل گری پڑی تھی، اس نے کہا: اللہ اس کے لوگوں کو مرنے کے بعدکس طرح دوبارہ زندہ کرے گا، تو اللہ نے اسے ایک سو سال کے لئے موت دے دی، پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندہ کیا اورا س سے پوچھا، تو کتنے دن اس حال میں رہا؟ اس نے کہا، میں ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم ہی اس حال میں رہا۔ اللہ نے کہا، نہیں، بلکہ تو ایک سوسال تک اس حال میں رہا، تم اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو ،وہ سڑی نہیں ہے اور اپنے گدہے کو دیکھو، اس کا ڈھانچہ بکھر گیا ہے، اور ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنائیں اور ہڈیوں کو دیکھو، ہم ان بکھری ہوئی ہڈیوں کو کس طرح جوڑتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں ،جب اس پر حقیقت واضح ہوگئی تو کہنے لگا، میں جان گیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے۔ (مستدرک حاکم) انبیائے کرام کے سلسلہ میں اس طرح کے واقعات آئے ہیں،تو ایسا نہیں تھا کہ انہیں کوئی شک تھا، بلکہ ایسا اطمینان قلب کے لئے کیا۔

اس پارہ میں صدقہ اور سودکے فرق کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔صدقہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ صدقہ سے بظاہر مال کم ہوتا ہے اور سود سے مال بڑھتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ صدقہ سے مال بڑھتا ہے ، اور سود سے مال گھٹتا ہے ۔
کفر اور شرک کے بعد سب سے زیادہ جس گناہ کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے، وہ سود ہے، قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اور بہت سی احادیث میں بھی سود کی مذمت کرکے اس سے منع کیا گیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے ،سودی لین دین کے معاملہ میں گواہ بننے والے اور سودی معاملہ کو لکھنے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔(ابودائود) سود اور تجارت میں بھی فرق ہے، سود اور تجارت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے۔ تجارت جائز ہے اور سود ناجائز ہے۔ اس کے بعد اُدھار لین دین کے سلسلے میں ہدایت ہے کہ جب اُدھار لین دین کا کام کروتو لکھ لیا کرو، تاکہ آپس میں لڑائی جھگڑے کی بات نہ ہو، ساتھ ہی اس پر گواہ بھی بنالیا کرو، تاکہ کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہے۔
اس کے بعد سورۂ آل عمران شروع ہے۔اس سورت میں زیادہ تر اعتقادات یعنی توحید، نبوت، قرآن کی صداقت، رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبدیت اور بندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے اورا ن حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے کائنات میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔اس کے بعد جنگ بدر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس جنگ میں صرف تین سو تیرہ صحابہ تھے اور وہ نہتے تھے ،جبکہ کفار مکہ کی تعداد ایک ہزار تھی اوروہ ساز وسامان سے لیس تھے، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا کیا اور کفار مکہ کو شکست دی۔اس سورت میں اسلام کی حقانیت کو بھی بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان الدین عنداللہ الاسلام یعنی اللہ کے نزدیک جو دین مقبول ہے، وہ صرف اسلام ہے،اورکوئی دین اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب برحق ہیں، راستے الگ ہیں اور منزل سب کی ایک ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ قرآن اس کی تردید کرتا ہے اور یہ عقل کا تقاضہ بھی ہے، کیونکہ اسلام وہ مذہب ہے جس کی بنیادخالص توحید پرہے اوراس میں ذرہ برابر شرک کی آمیزش گوارہ نہیں۔ اس کا مقابلہ اس سے کیسے کیا جاسکتا ہے جس میں شرک ہی اصل ہے، اس طرح اسلام خالص توحید کا علمبردار ہے، جبکہ دیگر مذاہب یا تو اللہ کے وجود کے منکر ہیں یا ان میں شرک کی آمیزش ہے۔ اس میں دوسرا واقعہ حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی جانب سے ان کے پاس بے موسم پھل آیاکرتے تھے، پھر ان کے نذر کا بیا ن ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ اے میرے رب !میں نے نذر مانی ہے کہ میرے بطن میں جو ہے وہ اللہ کے راستہ میں وقف رہے گا ،تو اس کو قبول فرما ،مگرجب بیٹا پیدا نہیں ہوا بلکہ بیٹی ہوئی، تو وہ مایوس ہو گئیں ،مگر اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ بیٹا ہو تا تو اس بیٹی کے جیسا نہیں ہوتا ۔تیسرا واقعہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے ،چوتھا واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے اور بچپن میں بولنے کا ہے ،پھراس کا بھی ذکر ہے کہ جب نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب یعنی سولی پر چڑھا نا چاہا ،تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ،اسی پارہ میں کفار ومشرکین سے مناظرہ اور مباہلہ کا بھی بیان ہے ، پہلے ان سے مناظرہ ہوا ،پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیا ل کو لے آؤ اور ہم بھی لے آتے ہیں ،پھر ہم سب اللہ سے دعاء مانگیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ،مگر وہ تیار نہیں ہوئے ،تو انہیں دعوت دی گئی کہ ہم سب کلمہ لاالہ الا اللہ پر مفاہمت کریں ،اس پارہ میں اس کا بھی ذکر ہے کہ تمام انبیائے سابقین سے عہد لیا گیا کہ جب اللہ کے آخری نبی آئیں تو تم سب ان کی بات مانو گے،ان پر ایمان لاؤگے ،اور اگر تمہارے بعد آئیں تو تمہاری امت کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان پر ایمان لائیں۔






