خلاصۂ قرآن کریم

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

دوسرا پارہ ’’سیقول السفہاء‘‘ سے شروع ہے۔اس کی ابتداء میں تحویل قبلہ کا ذکر ہے۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے توسولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، لیکن آپ کی دلی آرزو یہ تھی کہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا، اس پر مشرکین، منافقین اور یہودیوں نے اعتراض شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ انہیں کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا، جس کی طرف رخ کر کے یہ پہلے عبادت کرتے تھے ؟ ۔اللہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ فرما دیجئے کہ تمام سمتیں خواہ مشرق ہو یا مغرب ،اللہ ہی کی ہیں، اس لئے اس کو اختیار ہے کہ جس سمت کو چاہے قبلہ مقرر کر دے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کو’’ امت وسط‘‘ قرار دیا گیا اور اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کو اسی لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ لوگوں پر گواہ رہے، دنیا کے سامنے حق کی شہادت دے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے ۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ کعبہ کو ہی قبلہ بنایا جائے۔ پھر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن جیسی کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کا بڑا احسان ہے ،جس کا شکر ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ہر ایک کے لئے قبلہ ہے ،جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے ،تو تم بھی کعبہ کو قبلہ بناؤ اور نیکیوں میں سبقت لے جاؤ ۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ جہاں کہیں بھی رہیں، مسجد حرام کی طرف رخ کیا کریں۔ اس کے بعد مسلمانوں کو صبر اور نماز پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا گیا ، پھر یہ تعلیم دی گئی کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں تم ان کو مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کے بارے میں شعور نہیں ہوتا ہے۔ پھر یہ کہا کہ اللہ اہل ایمان کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے ،کبھی خوف کے ذریعے آزماتا ہے کبھی فاقہ اور کبھی جان ومال میں نقصان دے آزماتا ہے، ایسے موقع پر صبر کرنا چاہئے اور صبر کرنے والوں کے لئے بشارت ہے ،یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے بڑی عنایتیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

خلاصۂ قرآن کریم
خلاصۂ قرآن کریم

زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ پر بت رکھے ہوئے تھے اس لئے حج کے دوران اس کے طواف میں مسلمان کراہت محسوس کرتے تھے ،تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو حج کرے یا عمرہ کرے ،تو ان کے طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، پھر یہ بتایا گیا کہ ایسے لوگ جو حق کو چھپائے ا ورقرآن کی تعلیم سے روگردانی کرتے ہیں ، ان کے لئے لعنت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اندر پھیلی ہوئی اپنی قدرتوں اور نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات و دن کے اختلاف ،کشتیاں جو سمندروں میں چلتی ہیں ، بارش جو آسمان سے برستی ہے، ان سب میں نشانیاں ہیں، یہ نشانیاں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے ، مگر کچھ لوگ ان سے فائدہ حاصل نہیں کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کچھ حرام چیزوں کا تذکرہ کیا ہے ،جیسے مردار، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور، یہ سب حرام ہیں۔ ان کا ذکر کر کے اللہ نے حکم دیا کہ صرف حلال چیزوں کو اپنا رزق بناؤ ،رزق حلال بھی ہو اور طیب و پاکیزہ بھی ۔ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ تم شیطان کے بتائے ہوئے راستے کی پیروی نہ کرو ،اس لئے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ،وہ تمہیں برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے، وہ تمہیں سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے بارے میں وہ کہو جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں ۔پھر اہل کتاب کی برائیوں کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت میں بیچتے ہیں، یہی لوگ اپنے پیٹ کو آگ سے بھر رہے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے نیکی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے منہ کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ تم اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لاؤ اور اللہ سے محبت میں اپنے مال کو رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلام کو آزاد کرانے پر خرچ کرو اور نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو اور عہد پورا کرو یہی لوگ سچے ، متقی اور پرہیزگار ہیں ۔پھر قصاص کے حکم کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد روزے کی فرضیت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے، تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔پھر روزہ کے چند احکام کا ذکر ہے ،پھر رمضان کے مہینے کا ذکرکرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مبارک مہینہ ہے ،اس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے ، تو جو رمضان میں موجود ہو اس پر روزہ رکھنا لازم ہے ،اگر سفر میں ہے تو اس کو رخصت ہے ،وہ بعد میں قضا روزہ رکھ لے۔ پھر روزہ کے کچھ احکام بیان کیے گئے ہیں ،پھر چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں ،تو آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کے تعین کے لئے ہے اور اس سے حج کی تاریخ کا حساب کیا جاتا ہے ۔پھر جہاد فی سبیل اللہ کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں ،پھر اللہ تعالیٰ نے حج کے بارے میں فرمایا کہ حج کے چند مہینے ہیں، ان مہینوں میں جن پر حج فرض ہے ،ان پر لازم ہے کہ حج کے دنوں میں نہ شہوانی کام کرے، نہ گالی گلوچ کرے اور نہ لڑائی جھگڑا کرے۔ پھر حج کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کے واقعات کو بیان کرکے مسلمانوں کو منع کیا گیا کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی ،تم اس طرح کی ناقدری نہ کرنا ۔یہ بھی بتایا گیا کہ مسلمانوں کی آزمائش ہوگی اس میں انہیں پورا اترنا ضروری ہے ۔پھر اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مہینوں میں جنگ کرنا گناہ کی بات ہے۔ پھر شراب اورجوا کی برائیوں کا ذکر ہے۔ پھر انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے، پھر متقیوں کی خبرگیری کی اچھائیاں بیان کی گئی ہیں۔ پھر عورتوں سے متعلق میں مسائل بیان کیے گئے ہیں اور بتایا گیا کہ حیض کی حالت گندگی کی حالت ہے ،ان دنوں میں ان سے مباشرت جائز نہیں ہے ۔اس کے بعد طلاق اورخلع کے کچھ مسائل بیان کیے گئے ہیں، پھر نماز، پھر رضاعت اور اس کے احکام بیان کیے گئے ہیں ۔آخر میں بنی اسرائیل کے ایک واقعہ کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہا کہ کسی ایسے صاحب قوت کو ہمارا حاکم بنا دیجئے جس کی سرکردگی میں ہم جہاد کریں ۔چنانچہ حضرت طالوت کو اس کے لئے منجانب اللہ منتخب کیا گیا۔ بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کام کے لئے دنیاوی حیثیت سے کسی جاہ و منصب والے کا انتخاب ہونا چاہیے تھا۔ مگر طالوت ایسے نہیں تھے ، جواب دیا گیا کہ علم اور شجاعت کے اعتبار سے یہی اس کے مستحق ہیں،اللہ کی نظر میں دنیاوی جاہ و منصب کی کوئی حیثیت نہیں ہے، جنگ میں تمہیں اس کا اندازہ ہو جائے گا، کیونکہ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ تابوت جس میں توریت اور حضرت موسیٰؑ و ہارونؑ کی چیزیں ہیں ، اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے ،حضرت طالوت فوج لے کر بڑھے تو انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ آگے ایک نہر آرہا ہے، اس پر اللہ کی جانب سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ، وہ یہ ہے کہ تم نہر کا پانی نہ پینا ،اگر ضرورت ہو تو ایک دو گھونٹ پی سکتے ہو ،جو خوب پانی پی لے گا ،وہ اللہ کا نافرمان سمجھا جائے گا۔ پھر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے جو چند کے علاوہ سب نے خوب پانی پی لیا، پھر جب وہ آگے بڑھے تو کہنے لگے ، آج ہمیں جالوت کی فوج سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے، مگر جتنے لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا گرچہ وہ کم تھے، لیکن انہوں نے کہا کہ ہم جالوت کی فوج سے مقابلہ کریں گے، کیونکہ کبھی چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آ جاتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، طالوت کی مختصر فوج نے جالوت کی فوج کا مقابلہ کیا ،اللہ نے مدد کی اور وہ لوگ غالب رہے ۔اس واقعہ میں مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply