خلاصۂ قرآن کریم (پارہ۱۲)

مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی

بارہواں پارہ’’ومامن دابۃ‘‘ سے شروع ہے، اس کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں، مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ،اس کے سوا اور کوئی روزی دینے والا نہیں ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے ،وہ اس کے رہنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور اس کے دفن ہونے کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ پھر یہ بیان کیا گیا کہ وہی اللہ ہے ،جس نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا تاکہ وہ تمہاری آزمائش کر کے تم میں سے کون سا عمل اعتبار سے بہتر ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین آپ سے معجزات کی فرمائش کرتے ہیں، تو آپ اس کی وجہ سے تنگ دل نہ ہوں، آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین سے کہا کہ اگر تم یہ کہتے ہوئے کہ رسول نے قرآن کو اپنی طرف سے گڑھ لیا ہے، تو تم کو چیلنج ہے کہ تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا کر لے آؤ اور اللہ کے سوا جس کو تم مدد کے لئے بلا سکتے ہو، بلا لو، اگر تم سچے ہو، مگر وہ ایسا نہیں کر سکے۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ۱۲)
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ۱۲)

پھر حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اور ان کی قوم کے انکار کا تذکرہ کرتے ہوئے ان مکالمے کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت نوح اور ان کی قوم کے درمیان ہوئے ۔حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال تک دعوت کا کام کیا، مگر ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے اور ان کی سرکشی دن بہ دن بڑھتی چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نےطوفان کی شکل میں عذاب بھیجا اور اہل ایمان کے علاوہ پوری قوم کو غرق کردیا ۔

اس کے بعد حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا ذکر ہے ۔حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔لیکن قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات کو نہ مانا اور اپنے بتوں کی پوجا کرتے رہے ،ان کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا کا طوفان بھیج دیا ۔حضرت ہود علیہ السلام اور اہل ایمان کو بچا لیا ،بقیہ پوری قوم کو تباہ و برباد کر دیا۔ پھر حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر ہے ،انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دی۔ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کی ،ان کے مطالبہ پر اللہ نے اونٹنی کو پہاڑ سے نکالا، اس کو بھی ہلاک کر دیا، آخر کار اللہ نے اہل ایمان کے علاوہ باقی لوگوں کوایک سخت قسم کی چیخ سے ہلاک کر دیا ،وہ اپنے گھروں میں ایسے اوندھے منہ پڑے رہ گئے، جیسے وہ کبھی وہاں بسے ہی نہیں تھے۔

پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے انسانی شکل میں آئے ۔انہوں نے مہمان سمجھ کر بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا، مگر انہوں نے نہ کھایا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میں فرشتہ ہوں، اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں، تو انہوں نے پوچھا کہ آنے کا کیا مقصد ہے ؟انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بڑھاپے کی حالت میں بیٹے کی خوشخبری دینے آیا ہوں، اللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کا نام اسحٰق ہوگا ،وہ صاحب اولاد ہوں گے، ان کے بیٹے کا نام یعقوب ہوگا۔ فرشتوں نے دوسرا مقصد یہ بتایا کہ لوط علیہ السلام کی قوم سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئی ہے، اللہ کے حکم سے ان کو تباہ کرنا ہے ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ہم جنس پرستی میں مبتلا تھی، انہوں نے اپنی قوم کو اس سے بہت منع کیا، مگر وہ نہ مانے، تو اللہ کے عذاب کے لئے فرشتے آگئے ۔فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ آپ اپنی بیوی کے علاوہ باقی تمام اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل جائیں ،پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھیں ۔چنانچہ لوط علیہ السلام نے یہی کیا ۔پھر فرشتوں نے اللہ کے حکم سے پوری بستی کو اوپر لے جا کر الٹا پٹخ دیا اور سب کو ہلاک کر دیا۔

پھر حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا، مگر انہوں نے نہ مانا ۔چنانچہ حضرت شعیب اور اہل ایمان کے سوا باقی پوری قوم کو سخت چیخ کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا بیان ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت دی، لیکن اس نے دعوت کو قبول نہیں کیا ۔

 اس کے بعد سورہ یوسف ہے، اس سورت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۂ یوسف ہے۔یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ بنی اسرائیل فلسطین سے مصر میں جا کر کیسے آباد ہوئے ؟ ، ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب نہیں دے سکیں گے تو ان کی تکذیب کرنا آسان ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ پوری سورت نازل کر دی ۔اس سورت کی ابتداء میں قرآن کی عظمت اور جامعیت کو بیان کرنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو احسن القصص قرار دیا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ ان کے والد حضرت یعقوبؑ خواب کی تعبیر سمجھ گئے کہ گیارہ ستارے سے مرادگیارہ بھائی، سورج اور چاند سے مراد ماں اور باپ ہیں۔ انہوں نے حضرت یوسف سے کہا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا ،ورنہ وہ تمہارے لئےسازش کر بیٹھیں گے ۔یوسف علیہ السلام کے والد ان سے بہت محبت کرتے تھے، اس لئے ان کے بھائیوں نے مشورہ کیا کہ ان کو قتل کر دیں یا کنویں میں ڈال دیں ۔ چنانچہ کھیل کود کے بہانے سے ان کو جنگل لے گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا اور اپنے والد سے ا ٓکر کہا کہ یوسف کو بھیڑیئے نے کھا لیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اصل حقیقت کو سمجھ گئے ۔وہاں سے ایک قافلہ گزرا ،تو انہوں نے کنویں سے پانی نکالنے کے لئے ڈول ڈالا تو یوسف نکل آئے ، قافلہ کے لوگ یوسف کو مصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لے گئے۔ وہاں عزیز مصر نے ان کو خرید لیا۔ عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کا بہت خیال کرنا ،یہ بڑی صفت والا لگتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں پلے ،بڑھے اور جوان ہوئے تو عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہو گئی، پھر وہ بے قابو ہو گئی۔ یوسف علیہ السلام سے قربت حاصل کرنے کے لئے اندر سے دروازہ بند کر لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو گناہ سے بچا لیا ۔یوسف علیہ السلام بچنے کے لئے وہاں سے بھاگے تو عزیز مصر کی بیوی پکڑنے کے لئے پیچھے سے دوڑی ،کرتا پکڑ کر باہر جانے سے روکنا چاہا، جس سے کرتا پھٹ گیا، دیکھا تو دروازہ پر عزیز مصر موجود تھا۔ چنانچہ عزیز کی بیوی نے فورا ًالزام لگا دیا ،یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت ایک شیرخوار بچے نے دی ،جس سے ثابت ہو گیا کہ عزیز کی بیوی ہی قصوروار ہے، اس کا عزیز مصر کو بھی یقین ہو گیا۔ یہ خبر مصر میں پھیل گئی، مصری عورتیں عزیز مصر کی بیوی پر لعنت ملامت کرنے لگیں ،پھر عزیز کی بیوی نے دعوت پر عورتوں کو بلایا تو وہ سب بھی یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ پھر یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا ،وہاں مزید دو قیدی بادشاہ کو کھانے میں زہر دینے کے الزام میں جیل میں آگئے ۔ دونوں نے خواب دیکھا، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں بادشاہ کو انگور نچوڑ کر شراب پلا رہا ہوں ،دوسرے نے کہا کہ میرے سر پر روٹیوں کا ٹوکرا ہے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، یوسف علیہ السلام سے تعبیر پوچھی ،تو آپ نے تعبیر بتا دی ۔پھر بادشاہ کے خواب کا تذکرہ ہے، جس کی تعبیر کوئی نہیں بتا سکا، تو یوسف علیہ السلام کے قید کے ساتھی نے کہا کہ میں ایک آدمی کو جانتا ہوں جو خواب کی تعبیر میں بہت ماہر ہے، تو بادشاہ نے اس کو لانے کا حکم دیا۔ جب وہ آدمی یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا تو یوسف علیہ السلام نے آنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ بادشاہ سے کہو پہلے ان عورتوں کے معاملات کی تحقیق کرائیں ، بادشاہ نے ان سب کو بلا کر پوچھا تو سبھوں نے یوسف کی بے گناہی کا اقرار کیا، پھر عزیز مصر کی بیوی نے بھی اقرار کیااور کہا کہ غلطی میری تھی، یوسف سچے ہیں ،پھر یوسف علیہ السلام دربار آئے، خواب کی تعبیر بتائی اور عزیز مصر کے مقرب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply