خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۰)
مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
دسواں پارہ،’’واعلموا ‘‘سے شروع ہے۔اس میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بتایا گیا ہے، پھر غزوۂ بدر کے کچھ حالات بیان کیے گئے ہیں، اس کے بعد اہل ایمان کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ،اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو، آپس میں نہ جھگڑو، اگر آپس میں جھگڑو گے تو تمہاری طاقت کمزور ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس کے بعد منافقوں کی حالت کا بیان ہے کہ وہ ہر وقت تذبذب میں رہتے ہیں۔ غزوۂ بدر کے موقع پر بھی ان کا یہی حال تھا اور وہ کہتے تھے کہ مسلمان تھوڑے ہیں، اہل مکہ کے سامنے ٹک نہیں سکیں گے، مگر اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی ۔ پھر کفار و مشرکین کے بارے میں کہا کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، وہ کبھی نہ سوچیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے ،انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کبھی ایمان والوں کو عاجز نہیں کر سکتے ۔پھر غزوۂ بدر کے قیدیوں کے احکام بیان کیے گئے۔

اس کے بعد سورۂ توبہ شروع ہے ،اس سورت میں ان مخلصین صحابہ کی توبہ کا ذکر ہے جو غزوۂ تبوک میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ کی ،تو ان کی توبہ قبول ہو گئی۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۂ توبہ ہے۔ اس میں مشرکین کے احکام بیان کیے گئے ہیں کہ جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہے ، یا ان میں سے کسی کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہوا تھا ، مگر مدت کا تعین نہیں تھا ۔ان میں سے ہر ایک کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کو چار ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو ٹھیک ہے اگر اسلام قبول نہ کریں تو جزیرۂ عرب سے باہر چلے جائیں، ورنہ انہیں جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ، تیسری قسم کے وہ لوگ تھے جن سے صلح کا معاہدہ ایک خاص مدت تک کے لئے ہوا تھا اور وہ اپنے معاہدہ پر قائم رہے۔ ان کے بارے میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان کے معاہدہ میں جتنی مدت باقی ہے، اس کو پورا کرنے دیا جائے ۔اگر ان کے معاہدہ کی مدت ختم ہو جائے تو انہیں مزید مہلت دی جائے ،اسی طرح اور بھی احکام بیان کیے گئے ۔پھر یہ بتایا گیا کہ مشرکین بیت اللہ کی تعمیر کرتے تھے ،حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ،تو وہ اس پر فخر کر کے مسلمانوں سے کہتے تھے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہو سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کی تعمیر اور حاجیوں کو پانی پلانا یقیناً بڑی خدمت ہے ،بشرطیکہ ایمان ہو ،بغیر ایمان کے ایسے نیک کام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پھر کہا گیا کہ مسجد کی تعمیر اور ایسے اچھے کام اہل ایمان کا حق ہے ۔پھر غزوۂ حنین کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو صحابہ کرام کاچودہ ہزار لشکر لے کر حنین کے مقام پر پہنچ گئے، تعدادکی کثرت کی وجہ سے کچھ صحابہ کرام کی زبان سے نکل گیا کہ آج ہم کسی سے مغلوب نہیں ہو سکتے ،یہ بات اللہ کو پسند نہیں آئی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے ،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ صحابہ ثابت قدم رہے۔ پھر صحابہ کرام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پلٹ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا ،تو مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور کفار شکست کھا کر بھاگے۔ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ کبھی اپنی کثرت اور طاقت پر نظر نہیں ہونی چاہیے ،بلکہ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ،مدد، نصرت اور فتح اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
اس کے بعد اہل کتاب کا ذکر ہے کہ اہل کتاب میں سے یہود کہتے ہیں کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ،یہ ان کے غلط خیالات ہیں ۔اللہ ان مشرکانہ باتوں سے پاک ہے، ان کے غلط عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے درویشوں ،پادریوں اور عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا رب بنا لیا ہے، حالانکہ انہیں اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، یہ لوگ اللہ کے نور کو اپنے پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ،یہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ، یہ نور حق پھیل کر رہے گا۔ پھر اس کا ذکر ہے کہ اہل کتاب ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں ،یہ اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں اور اس پر لوگوں سے رقم وصول کرتے ہیں ،تو قیامت کے دن ان کا انجام برا ہوگا اور وہ دردناک عذاب میں ڈالے جائیں گے۔
اس کے بعد غزوۂ تبوک کا ذکر ہےکہ اس زمانہ میں سخت گرمی پڑ رہی تھی ،کھجور کے پکنے کا زمانہ تھا ،دور کا سفر تھا ،جنگ کے ساز و سامان بھی کم تھے، ایسے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ روم کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہو چکا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا اورتیس ہزار صحابہ کو لے کر روانہ ہو گئے۔ جب دشمنوں کو اس کی خبر ملی تو ان پر رعب طاری ہو گیا ،وہ واپس چلے گئے، جنگ کی نوبت نہیں آئی، منافقین حیلے بہانے کرنے لگے اور مدینہ میں رک گئے ،جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ کچھ مسلمان بھی کسی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، بعد میں انہوں نے توبہ کی، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ہجرت کر کے نکلے تو کفار مکہ آپ کا تعاقب کرنے لگے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ غار ثور میں چھپ گئے اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔
اس کے بعد مصارف صدقات کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ مصارف زکوٰۃ و صدقات آٹھ ہیں۔ فقراء، مساکین ،عاملین، مؤ لفۃ القلوب ،فی الرقاب، غارمین ،فی سبیل اللہ ،ابن السبیل۔ فقیر اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ مسکین اسے کہتے ہیں جن کے پاس کچھ مال ہو، مگر اس سے اس کی ضرورت پوری نہ ہوتی ہو، عاملین اسے کہتے ہیں جن کو زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے متعین کیا گیا ہو، ان کی تنخواہ زکوٰۃ سے دی جائے۔ مؤلفۃ قلوب سے وہ نو مسلم مراد ہیں ،جو ضرورت مند ہوں ،ان کو تالیف قلب کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔ فی الرقاب سے مراد غلام کو آزاد کرانا ہے، اس کے لئے بھی زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے ۔غارمین سے مراد مقروض ہیں، کسی مقروض کو ضرورت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے ۔فی سبیل اللہ سے مراد اپنے مجاہدین ہیں ،جن کے پاس اسباب مہیا نہ ہوں، ان کو بھی زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو دینی امور جیسے تعلیم و تعلم کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں، ان کو بھی زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔ ابن سبیل سے مراد ایسا مسافر جس کے پاس اپنے گھر پر پیسے موجود ہوں مگر سفر میں اس کے پاس پیسے نہ ہو اور وہ ضرورت مند ہو گیا ہو تو ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔
پھر اس کے بعد منافقوں کی بُری خصلتوں کو بیان کیا گیا ہے کہ منافقوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں سے تکلیف دیتے ہیں اور آپ کی شان میں بُرے الفاظ استعمال کرتے ہیں ،ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ پھر یہ بتایا گیا کہ منافق مرد اور عورت سبھی برابر ہیں، یہ سب برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو اچھے کاموں سے روکے رکھتے ہیں، یہی لوگ فاسق ہیں ،ان پر اللہ کی لعنت اور ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے ۔ اس کے بعد مومن مرد اور مومن عورتوں کے بارے میں کہا گیا کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ،یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ منافقین کے لئے آپ ستر مرتبہ بھی مغفرت کی دعاء کریں ،تب بھی اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منافق کی نماز جنازہ پڑھانے سے بھی منع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی تو اللہ تعالی نے آئندہ کسی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع کر دیا۔






