خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۱)
مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
گیارہواں پارہ،’’یعتذرون الیکم ‘‘سے شروع ہے۔اس کی ابتدائی آیتوں میں ان منافقین کا تذکرہ ہے ،جو غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں اطلاع دی کہ جب آپ لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو وہ منافقین آپ کے پاس طرح طرح کے عذر پیش کریں گے ،اس وقت آپ ان سے کہہ دیجئے کہ عذر پیش نہ کرو، ہم ہرگز یقین نہیں کریں گے، اللہ ہمیں سب کچھ بتا چکا ہے، نیز وہ آپ کے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ آپ ان کو معاف کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو حکم دیا کہ تم ان سے قطع تعلق کر لو، کیونکہ یہ گندے لوگ ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔اس کے بعد ان اہل ایمان کا بیان ہے جو غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہو سکے، وہ دس تھے، ان میں سے سات ایسے تھے جنہیں اپنی غلطی پر ندامت ہوئی اور انہوں نے غزوۂ تبوک سے واپسی سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا تھا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاف کر کے نہیں کھولیں گے ،اس وقت تک ہم یہیں بندھے رہیں گے۔ پھر ان کی توبہ قبول ہوئی ، اور انہیں کھول دیا گیا ۔پھر منافقین کی ایک سازش کا ذکر ہے، وہ یہ کہ مسجد کے نام پر ایک عمارت تعمیر کی جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف سازش کی جائے اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے منصوبہ سازی کی جائے اور مسلمانوں کی جماعت میں اختلاف پیدا کیا جائے ،اس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اس مسجد میں تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں تاکہ برکت حاصل ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد آؤں گا، پھر جب غزوۂ تبوک سے واپس آئے تو اللہ تعالی نے اس مسجد کی حقیقت واضح کر دی اور اسے مسجد ضرار قرار دے کر اس میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بھیج کر اس عمارت کو منہدم کروا دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی نے مسجد قبا کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد ضرار کے مقابلہ میں وہ مسجد زیادہ مناسب ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، آپ اس میں نماز پڑھیں اور پڑھائیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل قباء کی تعریف کی کہ اس مسجد میں نماز پڑھنے والے ایسے لوگ ہیں جو پاکی اور طہارت کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کو بھی پاک و صاف رہنے والے پسند ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جان اور مال کو جنت کا بدلے خرید لیا ہے ،یہ سودا اہل ایمان کو مبارک ہو ، ایسے لوگ توبہ کرنے والے ،عبادت گزار، حمد و ثناء کرنے والے ،روزہ دار، سجدہ گزار، نیکی کا حکم کرنے والے، برائی سے رکنے والے اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں ،پھر اہل ایمان کو تعلیم دی گئی کہ نبی اور اہل ایمان کے شایان شایان نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے بخشش کی دعاء کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لئے دعاء صرف وعدہ پورا کرنے کے لئے کی تھی۔
غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والےدس صحابہ کرام تھے ،ان میں سے سات نے مسجد نبوی کے ستونوں سے اپنے آپ کو باندھ کر اپنے قصور کو معاف کروا لیا ، ان میں سے تین باقی رہ گئے تھے ،یہاں ان ہی کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا ،لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہیں آتا، اس وقت تک ان کا سماجی بائیکاٹ جاری رہے گا، بالآخر۵۰؍ دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی بھی توبہ کے قبول ہونے کا اعلان کیا ،جس سے وہ سماجی بائیکاٹ سے نجات پا سکے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متقی بننے کا راستہ بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم متقی بننا چاہتے ہو، تو متقی صادقین کے ساتھ رہو ، صادقین سے مراد یہ ہے کہ ان کا ظاہر اور باطن دونوں برابر ہو ،یعنی وہ باطن میں بھی تقویٰ اختیار کرنے والے ہوں اور ظاہر میں بھی متقی ہوں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسا رسول ہم نے تمہیں عطا کیا ہے جو تم میں سے ہیں اور افضل ہیں ، یہ تمہارے خیر خواہ ہیں ،تمہاری دنیا و آخرت کے لئے بہت زیادہ فکر مند رہتے ہیں، وہ تمہارے لئے بڑے مہربان ہیں ۔پھر اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ اگر کفار آپ سے بے توجہی کریں اور دین کو قبول نہ کریں تو آپ صبر کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں اور یہ پڑھتے رہیں’’ حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت و ہو رب العرش العظیم ‘‘یعنی میرے لئے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
اس کے بعد سورہ یونس شروع ہے ،اس سورت میں حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے ،اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ یونس ہے۔ اس کی ابتداء میں قرآن کی عظمت کا ذکر ہے۔ اس کے بعد مشرکین کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف انسانوں کو نبی بنا کر کیوں بھیجا ہے ،کسی فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا، تو اس کا جواب دیا گیا کہ اگر کسی فرشتوں کو نبی بنا کر بھیجا جاتا تو رسالت کا مطلب فوت ہو جاتا ،اس لئے کہ انسان فرشتے کی بات سمجھ نہیں پاتے تو پھر ہدایت کیسے حاصل کرتے ، اسی لئے اللہ نے رہنمائی کے لئے انسانوں میں سے نبی بنا کر بھیجا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے زمین و آسمان کو بنایا ،وہی اس کا انتظام کرتا ہے، اس لئے اسی کی عبادت کرو ۔اس کے بعد بتایا گیا کہ اللہ تعالی رحمت نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے، مگر عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا ۔اگر وہ رحمت کی طرح اپنا عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو سرکش لوگوں کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا ۔پھر اللہ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ انسان کا حال یہ ہے کہ ذرا سی ہماری گرفت ہو جاتی ہے تو وہ لیٹے ،بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس سے تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ اس تو وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اسے کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے کہ اگر مشرکین سے پوچھا جائے کہ یہ سب کس نے پیدا کیا تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے، تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، مگر وہ اپنی عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مشرکین کی ہٹ دھرمیوں کا ذکر کر کے ان کے انجام سے باخبر کیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے ،وہ سب کو دیکھ رہا ہے اور ہر ایک کا عمل اس کے سامنے ہے ،اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
اس کے بعد گزشتہ امتوں میں سے حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے ۔انہوں نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم میں وعظ و نصیحت کی اور توحید کی دعوت دی، مگر ان کی قوم میں چند افراد ایمان لائے ،بقیہ نے انکار کر دیا، تو اللہ نے طوفان میں غرق کر دیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ بیان کیا گیاکہ فرعون اور اس کے لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کیا، تو ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔ پھر حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر کیا، حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے بھی ان کا انکار کیا تو اللہ نے عذاب نازل کر کے ہلاک کر دیا ۔
اس کے بعد سورۂ ہود شروع ہے، اس میں حضرت ہود اور قوم ہود کا تذکرہ ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ ہود ہے۔ اس کی ابتداء میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے ،اس کی ابتدائی آیتوں میں تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ،اسی سے استغفار کرو ،اسی کے سامنے توبہ کرو ،وہ تمہیں ایک خاص مدت تک اپنے فضل سے نوازے گا، پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس لئے آخرت کی زندگی کے لئے تیاری کرو۔






