خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۳)

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

تیرہواں پارہ ’’وماابریء ‘‘ سے شروع ہے، اس پارہ میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جب مصر کی عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو بے قصور کہہ دیا، تو اس موقع پر یوسف علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا ،نفس تو برائی کا حکم دیتا ہی ہے، یہ تو صرف میرے رب کی مہربانی ہوئی کہ میں گناہ سے محفوظ رہا، پھر عزیز مصر نے یوسف علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا، انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی کہ سات سال کھیتی کر کے اناج محفوظ کر لیجئے ، اس کے بعد سات سال قحط سالی کے آئیں گے۔ قحط سالی کے بعد بارش ہوگی، پھر دوبارہ فصلیں پیدا ہوں گی، خواب کی تعبیر سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اور کہا کہ اس کا انتظام کون کرے گا، تو یوسف علیہ السلام نے کہا کہ مجھے ملک کے خزانہ کا مالک بنا دیجئے ،اللہ نے مجھے اس کا علم عطا کیا ہے، پھر کچھ عرصہ کے بعد بادشاہ نے حکومت کے تمام اختیارات سونپ دیئے، پھر مصر میں قحط پڑ گیا۔ قحط سالی کے زمانے میں یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ حاصل کرنے کے لئے مصر آئے، ان کے ساتھ ان کے سوتیلے بھائی بن یامین جو یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے ، نہ آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان بھائیوں کو پہچان لیا، مگر وہ نہ پہچان سکے ۔ یوسف علیہ السلام نے ان کے حال احوال معلوم کئے۔ بات کے دوران یوسف علیہ السلام نے کہا کہ آئندہ آنا، تو اس کو بھی ساتھ لے کر آنا، ورنہ غلہ نہیں ملے گا۔ چنانچہ یہ لوگ جب گھر پہنچے ،تو اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے وہاں کے حالات بتائے اور یہ بھی بتایا کہ اب غلہ اسی صورت میں ملے گا کہ بن یامین بھی ہمارے ساتھ جائے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان لوگوں کو یوسف علیہ السلام کا واقعہ یاد دلایا ، پھر مجبور ہو کر وہ بن یامین کو ساتھ بھیجنے پر آمادہ ہوئے۔ غلہ ختم ہو گیا ،تو یوسف علیہ السلام کے بھائی دوبارہ مصر پہنچے ،تو ان کے ساتھ بن یامین بھی تھے۔ یوسف علیہ السلام نے اس کو اپنے پاس بیٹھایا اور چپکے سے کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ یوسف علیہ السلام نے ایک تدبیر اختیار کی تاکہ بن یامین کو اپنے پاس روک لیں۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے، تو ملازمین نے غلہ ناپنے کا پیمانہ بن یامین کے غلہ کے اندر رکھ دیا، جب وہ لوگ کچھ دور نکل گئے، تو حکومت کی طرف سے ایک شخص نے اعلان کیا کہ ہمارا غلہ ناپنے کا پیمانہ چوری ہو گیا ہے، تم سب کی تلاشی لی جائے گی، وہ لوگ تیار ہو گئے، جب تلاشی لی گئی تو پیمانہ بن یامین کے غلہ سے نکل آیا تو حکومت کے کارندوں نے پوچھا کہ اس کی کیا سزا ہو ، تو ان لوگوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ اسے روک لیا جائے، ہماری شریعت میں یہی حکم ہے ،چنانچہ بنیامین روک لئے گئے ،جب بن یامین کو روکا گیا تو دوسرے بھائیوں کو پریشانی محسوس ہوئی کہ ہم اپنے والد کو کیا جواب دیں گے ۔ان لوگوں نے بن یامین کے بدلے کسی اور کو روک لینے کی بات کی، مگر کارندے راضی نہیں ہوئے اور کہا کہ یہ تو ظلم ہوگا ۔جب یہ لوگ غلہ لے کر گھر پہنچے تو یعقوب علیہ السلام نے بیٹوں کی بات سن کر کہا کہ میرے لئے صبر ہی بہتر ہے ، جب غلہ ختم ہو گیا تو یوسف علیہ السلام کے بھائی تیسری مرتبہ مصر غلہ لانے کے لیے پہنچے، یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمارے گھر کے لوگ سخت مصیبت میں ہیں، ہم معمولی سی رقم لے کر آئے ہیں ،آپ ہمیں پورا غلہ دے کر مہربانی کریں ۔اب یوسف علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یاد ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اس وقت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کوچالیس سال گزر چکے تھے، یہ سن کر بھائیوں نے کہا، کیا آپ ہی یوسف ہیں؟ یوسف علیہ السلام نے کہا کہ ہاں! میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بن یامین ہے،اس طرح یوسف علیہ السلام نے ساری حقیقت بیان کر دی، پھر بھائیوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا، لاتثریب علیکم الیوم آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، پھر یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو قمیص دی کہ اس کو والد کے چہرے پر ڈال دینا ،اس سے ان کی بینائی لوٹ آئے گی۔ پھر اپنے والدین اور پورے خاندان کو مصر لے آنا ، ادھر قافلہ مصر سے نکلا ،ادھر یعقوب علیہ السلام نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا، میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ،سب بھائی مصر سے اپنے وطن کنعان پہنچے اور اور قمیص اپنے والد کے چہرے پر ڈالی ، تو بینائی لوٹ آئی ۔پھر ان لوگوں نے سارا قصہ سنایا ،پھر پورا خاندان کنعان سے مصر کی طرف روانہ ہوا۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کا خاص اکرام کیا۔ انہوں نے اپنے تخت پر بٹھایا، تو وہ سب ان کے سامنے سجدے میں گر پڑے ۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کو سچ کر دکھایا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یوسف علیہ السلام اور ان جیسے واقعات میں عقلمندوں کے لئے عبرت اور نصیحت ہے۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۳)
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۳)

اس کے بعد سورۂ رعد شروع ہے ۔اس سورت میں اللہ کی ایک نشانی رعد یعنی بادلوں کی گرج کا ذکر ہے ۔اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ رعد ہے۔ اس کی ابتدائی آیتوں میں قرآن کریم کے حق ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ،جیسے آسمان، سورج اور چاند وغیرہ کا بیان ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کو مثال کے ذریعہ واضح کیا ہے کہ باطل جھاگ کی طرح ہے، جب سیلاب آتا ہے اور پانی چڑھتا ہے تو اس کے اندر کامیل کچیل جھاگ بن کر اوپر آ جاتا ہے۔ پھر جب جھاگ ختم ہو جاتی ہے تو خالص چیز جو لوگوں کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے، وہ نیچے رہ جاتی ہے، یہی حال باطل کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد متقی لوگوں کے آٹھ اوصاف بیان کئے گئے ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں، معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں ،جن رشتوں کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اس کو جوڑے رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں، حساب و کتاب کے برے انجام سے ڈرتے ہیں۔ اللہ کی رضا کے لئے صبر کرتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں ،جو اللہ نے دیا ہے اس میں سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ بدسلوکی کا دفاع حسن سلوک سے کرتے ہیں۔ پھر کفار مشرکین کی ایک غلط بات کا تذکرہ کیا گیا ہے ،وہ یہ ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائشی معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں،جب وہ پورا نہیں ہوتا ہے،تو وہ کہتے ہیں کہ ان پر اللہ کی طرف سے فلاں نشانی کیوں نہیں اتاری گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اگر ان کے مطالبہ کو پورا کر کے فرمائشی معجزہ بھیج دیا جاتا، پھر بھی یہ ایمان نہیں لاتے ۔

اس کے بعد سورۂ ابراہیم شروع ہے۔ اس سورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کوبیان کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ ابراہیم ہے، اس سورت کی ابتدائی آیتوں میں قران کریم کو نازل کرنے کی حکمتوں کا بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ پھر کفار و مشرکین کے ایک اعتراض کا جواب ہے کہ قرآن عربی زبان میں کیوں نازل کیا گیا ؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ہم نے جب کبھی کسی نبی کو بھیجا ،تو اسی قوم کی زبان والے کو بھیجا، تاکہ ان کی زبان میں اللہ کی دعوت کو سمجھا سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی کہ شکر کرنے سے اللہ کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔پھر کلمۂ طیبہ اور کلمۂ خبیثہ کو مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا کہ کلمۂ طیبہ سے مراد کلمۂ ایمان اور توحید ہے اور کلمۂ خبیثہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کلمۂ طیبہ اس پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں اور کلمۂ خبیثہ اس پودے کی طرح ہے جو زمین کے اوپر ہوتے ہی اکھاڑ دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء کا ذکر ہے کہ جب وہ اپنے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام اور اپنی بیوی ہاجرہ کو کعبہ کے پاس چھوڑ آئے تو یہ دعاء فرمائی، اے اللہ! شہر مکہ کو امن کا گہوارہ بنا اور میری اولاد کو ہمیشہ بت پرستی سے بچا اور انہیں پھلوں کا رزق دے۔

اس کے بعد سورۂ حجر شروع ہے، اس میں قوم ثمود کی بستیوں کا ذکر ہے، جنہیں حجر کہا جاتا تھا، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ حجر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply